سونے کے مسنون آداب اور ایک تہائی زندگی کو عبادت بنانے کا نبوی ﷺ نسخہ

درس نمبر 118، جلد نمبر 1، باب 7 : یقین اور توکل کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • سونے سے قبل کی مسنون دعا، وضو کی اہمیت اور دائیں پہلو پر لیٹنا۔
    • نیند (جو زندگی کا ایک تہائی حصہ ہے) کو فطرت اور عبادت میں تبدیل کرنے کا طریقہ۔
      • روزمرہ کے معمولات (جیسے کھانا اور سونا) میں سنت پر عمل کرنے کی برکات۔
        • مختصر وقت کے مسنون اعمال کے ذریعے طویل وقت کو کارآمد اور باعثِ اجر بنانا۔

          اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ

          فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

          بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

          سونے کے مسنون آداب وعمليات

          (80) السابع: عَنْ أَبِیْ عُمَارَةَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”يَا فُلَانُ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَقُلْ: «اللّٰهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِيْ إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِيْ إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِيْ إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِيْ إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِيْ أَنْزَلْتَ، وَنَبِيِّكَ الَّذِيْ أَرْسَلْتَ» فَإِنَّكَ إِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَأَصَبْتَ خَيْرًا“ (متفق عليه)

          وفی رواية فی الصحيحين عن البراء قال: قال لِیْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوْئَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ وَقُلْ: وَذَكَرَ نَحْوَهُ، ثُمَّ قَالَ: وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَقُوْلُ“

          حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ جب تم اپنے بستر پر آؤ تو کہو ”اے اللہ میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا اور میں نے اپنے چہرہ کو بھی تیری طرف کر دیا اور اپنے تمام معاملات تیری طرف تفویض کر دیے اور میں نے اپنی پیٹھ کو تیری طرف جھکا دیا، تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے، تیرے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں اور نہ کوئی نجات گاہ ہے، تیری نازل کردہ کتاب پر ایمان لے آیا اور تیرے نبی مرسل ﷺ کو تسلیم کر لیا۔“

          آپ ﷺ نے فرمایا: اگر اس رات تو فوت ہو جائے تو تیرا فوت ہونا فطرت پر ہو گا اور تو بھلائی کو پہنچا۔

          صحیحین کی ایک روایت میں حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: جب تو سونے کا ارادہ کرے تو نماز والا وضو کر، پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹ، مذکورہ کلمات کہہ، پھر فرمایا ان کلمات کو بالکل آخر میں کہہ۔

          تو اس کا مطلب ہے کہ یہ اللہ پاک نے آپ ﷺ کے ذریعے ہمیں ایک بہت بڑا نسخہ بھیجا ہے۔ ہماری زندگی کا تقریباً ایک تہائی جو زندگی ہے، اس کو فطرت کے مطابق کرنے کا یعنی دیکھیں نیند تقریباً ایک تہائی حصہ ہوتی ہے زندگی کا۔ اور اس میں مزید کوئی کام نہیں ہوتا، سوتا ہے۔ دو تہائی جو زندگی ہے، اس میں تو آپ کو کام کرنے پڑیں گے، ہر کام میں آپ کو سنت کے مطابق چلنا ہوگا اگر کامیابی چاہتے ہیں۔ تو اس میں تو مشقت بھی ہے، اس میں تو حرکت بھی ہے، اس میں تو کافی استقامت ان تمام چیزوں کو کرنا پڑے گا۔

          لیکن یہ نیند والا مسئلہ ایسا ہے کہ جو سبحان اللہ! یعنی ابتداء میں اور انتہاء میں بس کچھ عمل ہے، اس کے بعد کوئی عمل نہیں۔ اس کے درمیان میں تو سونا ہی ہے اور سونے میں تو انسان سوتا ہی ہے۔ تو یہ بہت ہی نفع کا سودا ہے، بہت ہی نفع کا سودا ہے۔ تو اگر کوئی شخص ان الفاظِ مبارک کو یاد کر لے، دعا ہے، اور وضو کر کے سوئے، تو ان شاء اللہ العزیز اس کی جو ایک تہائی زندگی ہے، یہ فطرت کے مطابق ہو جائے گی۔ اور اگر اس حالت میں فوت ہو گیا، تو ما شاء اللہ کامیابی کامیابی ہے۔ یہ طلب ایک بہت بڑا نسخہ ہے۔

          ویسے ہم نے دیکھا ہے، اگر سنت کے مطابق کوئی عمل کرنا چاہے تو بہت مختصر مختصر اعمال ایسے ہیں جن سے بہت بڑا وقت انسان کا صحیح گردانا جائے گا۔ مثلاً کھانا ہے، تو ابتداء میں ہاتھ دھو لیں، کھانے کی دعا سے شروع کر لیں، اور سنت کے مطابق کھا لیں، اور یہ ہے کہ پھر اخیر میں آپ وہ دعا پڑھ لیں جو کہ کھانے کے ختم ہونے کی ہے۔ اب کھانے کے دوران جتنا ٹائم آپ کا زندگی میں لگ رہا ہے، وہ سارے کا سارا سنت کے مطابق ہو رہا ہے۔

          اچھا جو نماز ہے اور یہ ہے کہ وہ تو انسان کرے گا ہی سنت کے مطابق، ظاہر ہے اس میں تو فرائض، واجبات، سنن، مستحبات، ان چیزوں کا انسان خیال رکھتا ہی ہے۔ تو وہ تو ہے ہی۔ اب دیکھیں نمازوں پہ اور ان تمام چیزوں پہ تقریباً گھنٹہ لگتا ہے، گھنٹے کے لگ بھگ، اور آٹھ گھنٹے وہ ہو گئے، نو ہو گئے۔ اور مطلب یہ ہے کہ بعد میں اور بھی اس قسم کے اعمال ہیں جو کہ ابتداء اور انتہاء کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ تو اگر کوئی ان چیزوں کو سمجھے تو بہت، ما شاء اللہ، نفع کما سکتا ہے۔

          اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ان تمام، جو مطلب بہترین طریقے ہیں، ان کو اختیار کرنے کی اور صحیح نیت کے ساتھ ان کو کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

          وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ.