توکل، کسبِ معاش اور کوے کے بچے کی پرورش کا عجیب واقعہ

درس نمبر 117، جلد نمبر 1، باب 7 : یقین اور توکل کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • توکل علی اللہ کی اہمیت اور اس کی شرعی حیثیت۔
    • پرندوں کی مثال سے توکل اور حصولِ رزق کی وضاحت۔
      • امام غزالیؒ اور امام قشیریؒ کے اقوال کی روشنی میں توکل اور اسباب (کسبِ معاش) کا باہمی تعلق۔
        • ترکِ اسباب اور ہاتھ پاؤں چھوڑ کر بیٹھ جانے کی ممانعت۔
          • ملا علی قاریؒ کے حوالے سے کوے کے سفید بچوں کی پرورش کا حیرت انگیز واقعہ اور نظامِ قدرت۔
            • ظاہری رنگ و روپ (سفید و سیاہ) اور باطنی پسندیدگی پر ایک عمومی اور دلچسپ تبصرہ۔

              الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ


              پرندوں کا اللہ پر توکل کرنے کی مثال

              (79) السادس : عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللهِ حَقَّ تَوَكُّلِهٖ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ، تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا»

              (رواه الترمذي) وقال حديث حسن.

              معناه تذهبُ أوَّلَ النَّهارِ خِمَاصًا: أى: ضَامِرَةَ البُطُونِ مِنَ الْجُوعِ، وَتَرجِعُ آخِرَ النَّهارِ بِطَانًا، أى: مُمْتَلِئَةَ البُطُونِ.


              حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے اگر تمہارا توکل اللہ پر صحیح ہو جائے تو وہ تم کو اس طرح رزق دے جس طرح پرندوں کو رزق دیتا ہے کہ صبح کے وقت بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر (گھونسلوں) میں آ جاتے ہیں۔

              اسے ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا اور کہا یہ حدیث حسن ہے، اس کے معنی ہیں کہ دن کے آغاز میں پرندے بھوکے نکلتے ہیں یعنی ان کے پیٹ پچکے ہوتے ہیں اور دن کے آخر میں لوٹتے ہیں تو پیٹ بھرے ہوتے ہیں۔

              توکل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پرندوں کی طرح پالتے ہیں۔

              اس حدیث شریف کا مفہوم یہ ہے کہ سعی و جدوجہد اور کسب وعمل حقیقت میں رزق پہنچانے والا نہیں ہے بلکہ رزق پہنچانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ انسان اپنی روزی کمانے کے لئے حرکت و عمل سے باز رہے کیونکہ توکل و اعتماد کا تعلق دل سے ہے جو اعضائے ظاہری کی حرکت و عمل کے مطلقاً منافی نہیں ہے اسی وجہ سے امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جس شخص کا گمان یہ ہو کہ توکل نام ہے کسب و عمل کے ترک کر دینے کا، اور ہاتھ پاؤں کو معطل کر دینے اور اپاہج بن کر پڑے رہنے کا کہ جیسے کسی کپڑے کو زمین پر ڈال دیا جائے، تو وہ غلطی پر ہے۔

              امام قشیری رحمۃ اللہ کا قول یہ ہے توکل کا اصل مقام قلب ہے اور حصول معاش کے لئے معقول اور مناسب طریقہ پر جدوجہد اور سعی کرنا اللہ تعالیٰ پر اعتماد و بھروسہ کرنے کے منافی نہیں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”وَكَأَيِّن مِن دَٓابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ“ یعنی اور کوئی جانور اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتا بلکہ اللہ تعالیٰ ہی اس کو بھی اور تمہیں بھی رزق عطا کرتا ہے۔

              ایک عبرت ناک واقعہ

              ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ اللہ کس طرح پرورش کرتا ہے، فرماتے ہیں جب کوے کے بچے انڈے سے باہر آتے ہیں تو بالکل سفید ہوتے ہیں۔ کوا جب ان بچوں کو دیکھتا ہے تو وہ اسے بہت برے لگتے ہیں وہ ان بچوں کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے اس کے بعد اللہ جل شانہ مکھیاں اور چیونٹیاں اس بچے کے پاس بھیجتا ہے جس کو وہ بچے کھاتے ہیں پھر ایسے ایسے وہ کالے ہوجاتے ہیں پھر جب کوا ان کو سیاہ دیکھتا ہے تو پھر آکر ان کی پرورش کرتا ہے۔

              بالکل صحیح۔ کوے کے جو بچے ہوتے ہیں، وہ جس وقت ابتدا میں انڈے سے نکلتے ہیں تو سفید ہوتے ہیں۔ تو کوا ان کو پسند نہیں کرتا، لہٰذا وہ چلا جاتا ہے۔ پھر اللہ جل شانہٗ مکھیاں اور چیونٹیاں ان کی طرف بھیجتے ہیں، تو جس وقت بچے کھاتے ہیں، پھر جس وقت یہ کالے ہو جاتے ہیں، تو پھر جب کوے ان کو سیاہ دیکھتے ہیں تو آ کر ان کی پرورش کرتے ہیں۔

              یعنی اللہ پاک کا نظام ہے! اول دیکھو، سفید چیز اچھی لگتی ہے،کوے کو اچھی نہیں لگتی۔ تو یہ اس کا مطلب ہے کہ برے آدمی کو بری چیز اچھی لگتی ہے۔ تو یہ بات ہے۔ تو جس وقت یعنی دوبارہ ان کی طرح ہو جاتا ہے، تو پھر وہ یہ میں نہیں کہتا ہوں کہ کالا ہر وقت برا ہی ہوتا ہے، بس صرف یہ ہوتا ہے کہ یعنی نظر آنے کے لحاظ سے بات کر رہا ہوں۔

              اور نظر آنے کے لحاظ سے بھی ضروری نہیں کہ ہر چیز جو کالی ہو وہ بری نظر آتی ہے۔ داڑھی کو لوگ خضاب لگاتے ہیں سیاہ کرنے کے لیے۔ تو ظاہر ہے کہ وہ ایسی چیز نہیں ہے۔ تو بہرحال یہ کہ عمومی طور پر بات کر رہا ہوں۔

              اللہ جل شانہٗ ہم سب کو صحیح معنوں میں توکل نصیب فرما دے۔

              وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ.



              توکل، کسبِ معاش اور کوے کے بچے کی پرورش کا عجیب واقعہ - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور