غلطی تسلیم کرنے کی فضیلت اور نبی کریم ﷺ کا عفو و درگزر
درس نمبر 116، جلد نمبر 1، باب 7 : یقین اور توکل کا بیان
- غزوہ ذات الرقاع میں نبی کریم ﷺ اور اعرابی کا واقعہ (تلوار کھینچنے اور پھر معاف کرنے کا تذکرہ)۔
- گزشتہ درس میں حدیث کے ترجمے میں ہونے والی تسامح کی نشاندہی اور اس کی کھلے دل سے تصحیح۔
- لفظ "اصحابہ" (ساتھیوں) کی وضاحت کہ اس سے مراد نبی کریم ﷺ کے صحابہ نہیں بلکہ اعرابی کے ساتھی تھے۔
- حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ایک صحابی کا واقعہ کہ غلطی پر ٹوکنا اور اسے خوش دلی سے قبول کرنا اللہ کی حفاظت کا نظام ہے۔
- نبی کریم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ سے منسوب باتوں میں تحقیق اور احتیاط کی اہمیت۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيِّ فِي صَحِيحِهِ قَالَ: "مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟" قَالَ: "اللَّهُ". قَالَ: فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ السَّيْفَ فَقَالَ: "مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟" فَقَالَ: "كُنْ خَيْرَ آخِذٍ". فَقَالَ: "تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟" قَالَ: "لَا، وَلَكِنِّي أُعَاهِدُكَ أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ، وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ". فَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَأَتَى أَصْحَابَهُ فَقَالَ: "جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ".
اس کا ترجمہ کل ہوا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نجد کے علاقے کی طرف رسول اللہ ﷺ کی معیت میں جہاد کرنے گئے۔ جب لوٹے تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لوٹے۔ کثیر خاردار درختوں کی وادی سے گزر رہے تھے کہ قیلولہ کا وقت آ گیا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ اتر پڑے۔ لوگ درختوں کے سائے میں منتشر ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ ببول کے درخت کے نیچے نازل ہوئے، تلوار کو درخت کے ساتھ لٹکایا اور تھوڑی دیر کے لیے سو گئے۔ اچانک ہم نے سنا رسول اللہ ﷺ ہمیں پکار رہے ہیں اور آپ ﷺ کے پاس ایک اعرابی تھا۔
آپ ﷺ نے بتایا اس نے میری تلوار میرے اوپر میان سے نکالی جبکہ میں سویا ہوا تھا۔ میں نیند سے بیدار ہوا تو میں نے دیکھا تو اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی اور مجھ سے کہہ رہا تھا کہ "مجھے تجھ سے کون بچا سکتا ہے؟" میں نے جواب دیا، "اللہ بچائے گا"۔ تین بار کہا۔ آپ ﷺ نے اس اعرابی کو کوئی سزا نہ دی۔
دوسری روایت میں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ ہم غزوۂ ذات الرقاع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ جب ہم ایک سایہ دار درخت کے پاس سے گزرے تو ہم نے اس کو رسول اللہ ﷺ کے لیے چھوڑ دیا۔ ایک آدمی مشرکوں میں سے آیا، رسول اللہ ﷺ کی تلوار درخت کے ساتھ آویزاں تھی۔ اس نے تلوار کو میان میں سے باہر نکالتے ہوئے کہا، "کیا تم مجھ سے ڈرتے ہو؟" آپ ﷺ نے کہا، "نہیں"۔ پھر اس نے کہا، "تو مجھے... تو مجھ سے کون... مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟" فرمایا، "اللہ"۔ چنانچہ تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی، رسول اللہ ﷺ نے تلوار کو پکڑ لیا اور فرمایا، "کون تجھ کو مجھ سے بچا سکتا ہے؟" اس نے کہا، "آپ بہترین پکڑنے والے بن جائیں۔" آپ ﷺ نے کہا، "کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟" اس نے جواب دیا، "نہیں، لیکن میں تجھ سے معاہدہ کرتا ہوں کہ تم سے جنگ نہیں کروں گا اور نہ ہی کسی ایسی جماعت میں شریک ہوں گا جو تیرے ساتھ جنگ و جدل کر رہی ہو۔" آپ ﷺ نے اس کو رہا فرما دیا اور اپنے ساتھیوں کے پاس آ کر کہنے لگا کہ "میں بہترین انسان کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں۔"
اصل میں یہاں ترجمے میں جو روانی ہے اس میں غلطی ہوئی تھی، جس کی میں نشاندہی کرنا چاہتا ہوں۔ اور یہ مجھے کسی نے بتا دیا۔ سبحان اللہ! اللہ کا شکر ہے، الحمد للہ کہ بتانے والے بتا دیتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ اا... یہ وہ جو ہے نا، یہ آپ ﷺ کی طرف نہیں ہے بلکہ یہ اا... جو ہے نا اس کی طرف ہے۔ یعنی جو اعرابی ہے، کہ اعرابی اپنے ساتھیوں کے پاس آ کر کہنے لگا کہ میں بہترین انسان کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں۔
اور اصحاب کا چونکہ ہمارے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کے اصحاب، تو عربی میں اصحاب کا لفظ ہے۔ تو اس میں یہ بات ہے کہ ذرا مطلب یہ ہے کہ اس کی تصحیح فرمائیں کہ یہ اصل میں آپ ﷺ اا... جو ہے نا، مطلب یہ ہے کہ نہیں، مطلب ان کا قول نہیں ہے، بلکہ اس اعرابی کا قول ہے جس میں اس نے مطلب بتایا تھا کہ میں بہترین انسان کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں۔
تو یہ بات جو ہے نا، مطلب اس کی تصحیح کرنی ضروری تھی۔ چونکہ گزشتہ دو، ان درسوں میں یہ بات آئی تھی تو لہٰذا چونکہ بات آپ ﷺ کے ساتھ ہے، تو اس وجہ سے جو ہے نا، مطلب یہ ہے کہ اس کی تصحیح بہت ضروری ہے۔
اس پر اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جیسے ایک دفعہ پوچھا تھا اپنے ساتھیوں سے، یعنی جو صحابہ تھے کہ اگر میں تمہیں غلط چیز کے بارے میں حکم دوں اور ایسا کروں، ایسا کروں تو تم کیا کرو گے؟ تو ایک صحابی اٹھے کہ ہم تلوار سے تمہیں سیدھا کر لیں گے۔ تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خوشی کا اظہار فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ میرے ساتھیوں میں ایسے لوگ ہیں جو مجھے غلطی پر نہیں رہنے دیں گے۔
کہ مجھے غلطی پر نہیں رہنے دیں گے۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا نظام ہے کہ اللہ پاک جن کو، جن کی حفاظت کرتے ہیں، تو ان کے لیے ذرائع اا... مطلب مہیا فرما دیتے ہیں۔ تو الحمد للہ، اللہ کا شکر ہے کہ ساتھیوں نے اس سلسلے میں اا... نشاندہی فرمائی اور یہ قول جو ہے یہ کہ، "میں اپنے ساتھیوں کے پاس، جو میں بہترین انسان کے پاس سے تمہارے پاس... پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں"، یہ قول اعرابی کا ہے۔
اس کے بعد میں اگر بعض، بعض حضرات نے تو یہاں تک اس کو چھوڑا ہے، لیکن بعد میں، بعض حضرات کا یہ قول ہے کہ اعرابی مسلمان ہو گیا تھا۔ مطلب یہ جیسے مطلب یہ ہے کہ وہ اا... یعنی اا... علامہ واقدی رحمۃ اللہ علیہ جو فرماتے ہیں کہ وہ مسلمان ہو گیا تھا، پھر اپنی قوم میں گیا اور وہاں سے اس کی برکت سے بہت سے لوگوں کو ہدایت نصیب ہوئی۔ لیکن چونکہ ایک تاریخی بات ہے تو اس کا تو ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، وہ تو جو بھی بات ہو گی اللہ تعالیٰ کو پتہ ہے۔ لیکن بہرحال چونکہ معاملہ جہاں تک آپ ﷺ کے ساتھ ہے، اس میں تحقیق مطلب ضروری ہے چونکہ یہ ایک ظاہر ہے آپ ﷺ کی... شخصیت کے ساتھ تعلق رکھنے والی بات ہے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔