توکل علی اللہ، شجاعت اور کامل یقین کی طاقت

درس نمبر 115، جلد نمبر 1، باب 7 : یقین اور توکل کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • غزوہ ذات الرقاع اور ایک اعرابی کی جانب سے تلوار کھینچنے کا واقعہ
  • نبی کریم ﷺ کا کامل توکل، بے خوفی، عفو و درگزر اور حکمتِ نبوی
  • کافروں میں موجود اچھی صفات (جیسے عہد کی پاسداری اور شجاعت) کی قدر کرنا
  • ظاہری اسباب اور جدید جنگی آلات (kit, protection, facilitation) کے مقابلے میں ایمان اور استقامت کی طاقت (طالبان کی مثال)
  • حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے توکل، بے خوفی اور رعب کا واقعہ
  • اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کے لیے اللہ کی کفایت (وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ) کی تشریح

قَوْلُهُ: قَفَلَ أَيْ رَجَعَ وَالْغَزَاةُ. الشَّجَرُ الَّذِي لَهُ شَوْكٌ. وَالسَّمُرَةُ بِفَتْحِ السِّينِ وَضَمِّ الْمِيمِ الشَّجَرَةُ مِنْ طَلْحٍ وَهِيَ الْعِظَامُ مِنْ شَجَرِ الْعِضَاهِ. وَاخْتَرَطَ السَّيْفَ أَيْ سَلَّهُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا أَيْ مَسْلُولًا وَبِفَتْحِ الصَّادِ وَضَمِّهَا...

یہ بات پرسوں سے چل رہی ہے اس حدیث شریف کی۔ جس میں جو روایت ہے کہ اہ... آپ ﷺ قیلولہ فرما رہے تھے اور اہ... ایک اعرابی آیا اور اس نے تلوار میان سے نکالی۔ اور آپ ﷺ سے کہا کہ اہ... کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں! تو اہ... مجھ... مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ میں نے جواب دیا، اللہ۔ تو تین بار کہا۔

آپ ﷺ نے اس کو کوئی سزا نہیں دی۔ ایک روایت میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا... اچھا یہ دو... ہاں یہ تو، یہ بات ہو گئی کہ اس نے پھر جو ہے نا وہ اہ... آپ ﷺ نے ان پر دعوت پیش کی اسلام کی، تو اس نے کہا کہ میں مسلمان تو نہیں ہونا چاہتا لیکن میں آپ کے خلاف بھی نہیں لڑوں گا... یعنی آپ کے خلاف لڑوں گا نہیں اور کوئی، کسی ایسے group میں شامل نہیں ہوں گا جو آپ کے خلاف لڑ رہا ہو۔ تو آپ ﷺ جب اپنے ساتھیوں کے پاس آئے تو فرمایا، میں بہترین انسان کے پاس... تمہارے پاس آیا ہوں۔ یعنی اس بہترین انسان کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ شخص، یعنی گویا کہ، چاہے مسلمان نہیں ہوا لیکن وہ اپنے عہد کی پاسداری کا وہ کہہ رہا تھا۔ تو عہد کی پاسداری مطلب اس سے اس کا پتہ چلتا ہے کہ کتنی اہم چیز ہے۔ کہ اگر کافر میں بھی ہو تو یہ، مطلب... بڑی جس کو کہتے ہیں نا، یعنی قابلِ تعریف بات ہے۔

اس لیے فرماتے ہیں نا کہ اَلْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ۔ دانائی کی بات مسلمان کی گمشدہ میراث ہے۔ جہاں سے وہ ملے تو وہ لے۔ تو یہ بات بھی ایسی ہے کہ جو صفات کافروں میں بھی اچھی ہیں اور وہ اسلام میں مطلوب ہوں، تو وہ لینی چاہئیں۔ جیسے شجاعت ہے۔ اگر کافر میں بھی شجاعت ہے تو شجاعت تو اچھی بات ہے۔ تو یہ جو ہے نا، مطلب اہ... اس کی طرف ہے۔

آپ ﷺ کی شجاعت اور توکل علی اللہ کا ایک سبق آموز واقعہ۔ یہ اہ... ذات الرقاع، یہ غزوہ چھ ہجری میں ہوا تھا۔ ذات الرقاع ایک پہاڑ کا نام ہے۔ اس وجہ سے اس غزوہ کو بھی ذات الرقاع کہتے ہیں۔ بعض لوگ لغوی معنی کہتے ہیں کپڑے کے ٹکڑے کو، جوتوں کے فقدان کی وجہ سے اصحابِ رضوان نے اپنے پاؤں میں کپڑوں کے جوتے لپیٹے تھے اس لیے اس کا یہ نام پڑ گیا۔ یعنی دیکھیں... ان کے ہاں اس قسم کی جو ہے نا، بہت زیادہ چیزیں نہیں تھیں۔

اس کا اگر تھوڑا سا نمونہ اس دور میں ہے تو یہ افغان اہ... طالبان جو تھے۔ یعنی ان میں بھی بعض کے... مطلب پاؤں میں، ایک پاؤں میں الگ جوتا تھا اور دوسرے پاؤں میں الگ۔ اور چپل پہنے ہوئے وہ لڑائی لڑ رہے ہیں۔ مطلب زیادہ اس قسم کی باتیں بھی ہوئی ہیں۔ یعنی لڑائی کس چیز سے لڑی جاتی ہے؟ یہ اس جنگ نے اس کو بہت کچھ اس، میں بہت کچھ سمجھا دیا۔ مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں بھئی صرف pant میں لڑی جا سکتی ہے تو طالبان کو دیکھو کیا وہ pant پہنے ہوئے تھے؟ اور pant، jacket یہ چیزیں ان کے پاس نہیں تھیں۔ تھیں کدھر، ان کے پاس نہیں تھیں۔ لیکن کن کے ساتھ لڑے؟ جن کے پاس اتنا زبردست kit ہوتا تھا کہ اس میں ہر قسم کی facilitation، دور دیکھنے کی، قریب دیکھنے کی، وہ اہ... قریب سے مارنے کی، دور سے مارنے کی۔ ہاں اور کھانے پینے کی، پتہ نہیں کیا کیا چیزیں، ایسے kit میں کیا کیا چیزیں ہوتی ہیں؟ (مجمع سے آواز: کھانے کی اور dry fruits...) ہاں dry fruits بھی۔ پانی کی بوتل اور شارٹ، وہ تین دن کے لیے نا تھوڑی سی چیز ہوتی، ایک کلو میں ان کا وہ گزارا کر لیتے ہیں۔ بالکل۔ ہاں بالکل۔

اور اس طرح اور حفاظت کے بہت سارے سامان ہوتے ہیں، سامنے کو بچانے کے لیے، سر کو بچانے کے لیے، مطلب اچھا خاصا مطلب ان کی protection ہوتی ہے۔ تو ان کے ساتھ لڑائی تھی۔ اور ادھر یہ لوگ، بے سروسامان۔ لیکن صبر اور استقلال، سبحان اللہ۔ تو آخر میں اتنا رعب آ گیا ان کا، ان کے اوپر، کہ دو آدمی پورے battalion کو روکے ہوئے ہیں۔ تو یہ کیا بات ہے؟ یہی اصل میں... تو...

فرمایا کہ اہ... عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ، اس دیہاتی آدمی کا نام اکثر محدثین نے غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ رضی اللہ عنہ کہا ہے۔ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قُلْتُ: اللَّهُ ثَلَاثًا۔ تجھے میرے ہاتھ سے کون بچائے گا؟ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: اللہ۔ اس حدیث پاک میں محبوبِ رب العالمین کی شان، یقین اور توکل علی اللہ اور شجاعت امت کے لیے ایمان افروز، سبق آموز ہیں۔ غور کریں شدید ترین جان کے خطرے کے باوجود، کہ ظاہری حالات کے اعتبار سے برہنہ تلوار ہاتھ میں لیے خون کا پیاسا دشمن سر پہ کھڑا ہے۔ ان حالات کے باوجود ذرہ برابر خوف اور ہراس اور گھبراہٹ آپ ﷺ کے پاس نہیں پھٹکتی۔ اور نہایت ہی پرامن اور سکون اور جمعیّت کے ساتھ جواب دیا، وہ شخص توکل علی اللہ کے رعب اور صبر و استقلال کے سبب اور ایمان باللہ کے سکون اور اطمینان کی طاقت سے مرعوب ہو کر، وہ خون کا پیاسا خوف کھا کر لرزنے لگا، اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ۔ وہ ایک دفعہ کوئی سفیر ان سے ملنے آیا۔ تو ظاہر ہے وہ تو اپنے بادشاہوں کو دیکھا، دیکھ چکے تھے۔ پوچھا جی آپ کے خلیفہ کون سے محل میں رہتے ہیں؟ انہوں نے کہا ہمارے خلیفہ تو محل میں نہیں رہتے۔ کدھر رہتے ہیں؟ کہتے ہیں جائیں ادھر جائیں کسی درخت کے نیچے شاید سو رہے ہوں یا مطلب وہ... تو وہ حیران ہو گئے یہ کیسا ہو سکتا ہے؟ کہا مجھے لے جاؤ۔ تو ادھر لے گئے۔ تو واقعی وہ کسی پتھر کے اوپر سر رکھ کر جو ہے نا وہ اہ... حضرت عمر رضی اللہ عنہ سو رہے تھے۔ تو وہ ان کے قریب بھی نہیں جا سکے ادھر دور سے لرزنے لگے۔ اب ایک سوئے ہوئے شخص سے لرزنے لگے، لرزنے کا کیا مطلب؟ ایک سویا ہوا شخص ہے جو سویا ہوا ہے اس سے جو ہے نا مطلب ہے، وہ جانا اس سے لرزنے کا کیا مطلب؟ وہ ان کے اس حوصلے سے لرز رہا ہے۔ کہ ان کو اتنا اطمینان ہے کہ کوئی فکر ان کو نہیں اور وہ جو ہے نا، آرام کے ساتھ جو ہے نا وہ سو رہے ہیں۔ تو یہ کیا بات ہے؟

تو وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ۔ تو یہ اس کی بہترین تشریح ہے۔ کہ جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اس کے لیے اللہ کافی ہو جاتا ہے۔ اب اس کے لیے shield اور اس کے لیے کیا اور فلاں فلاں چیزیں، یہ جتنی چیزوں کی requirement ہے لوگوں کی نظروں میں، اللہ پاک اپنی اہ... اس کی طرف سے جو ہے نا، اس کی protection فرماتے ہیں، اس کے لیے وہ کافی ہو جاتے ہیں۔

اچھا... كُنْ خَيْرَ آخِذٍ۔ آپ ﷺ بہترین تلوار اٹھانے والے بن جائیں۔ اس میں آپ ﷺ کی رحمت و عفو و درگزر کا سبق ملتا ہے کہ خون کے پیاسے سے انتقام لینے کے بجائے آپ ﷺ نے معاف فرما دیا۔ وہ اعرابی مسلمان ہو گیا تھا۔ فَقَالَ: تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: لَا۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس اعرابی نے کہا نہیں، اس روایت سے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اعرابی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ مگر علامہ واقدی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ وہ مسلمان ہو گیا تھا، اور پھر وہ اپنی قوم میں گیا، وہاں اس کی برکت سے بہت سارے لوگوں کو ہدایت نصیب ہوئی۔

(صَحِيحُ الْبُخَارِيِّ، كِتَابُ الْجِهَادِ، بَابُ مَنْ عَلَّقَ سَيْفَهُ بِشَجَرٍ فِي السَّفَرِ۔ و کتاب البخاری (باب غزوۃ ذات الرقاع)، وَصَحِيحُ مُسْلِمٍ، كِتَابُ الْفَضَائِلِ، بَابُ تَوَكُّلِهِ عَلَى اللَّهِ وَعِصْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى لَهُ مِنَ النَّاسِ۔ وَأَخْرَجَهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ وَابْنُ حِبَّانَ وَالْبَيْهَقِيُّ)

اللہ جل شانہٗ ہم سب کو جیسا توکل چاہیے وہ نصیب فرما دے۔ آمین۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔