پرندوں جیسے دل اور توکل کی حقیقت

درس نمبر 112، جلد نمبر 1، باب 7 : یقین اور توکل کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں توکل کی اہمیت اور پرندوں جیسی نرم دلی۔
  • پرندوں کی طرح اللہ کی رزاقیت پر کامل بھروسہ۔
  • توکل واجب اور توکل مستحب میں فرق اور ان کے درجات۔
  • حضرت بابا فرید گنج شکر رحمة الله عليه کا واقعہ اور توکل کا اعلیٰ معیار۔
  • حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه کی عاجزی اور آخرت کی فکر۔
  • کشفِ اولیاء: ایک تحصیلدار کے ہدیے کا واقعہ۔
  • حقوق، فرائض اور واجبات (جیسے زکوٰۃ) کی ادائیگی کی اہمیت۔
  • اللہ کی دی ہوئی نعمتوں (وقت، صحت، مال، زبان، ذہن) کا اس کی رضا کے لیے استعمال۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

الْحَدِيثُ الرَّابِعُ: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَقْوَامٌ أَفْئِدَتُهُمْ مِثْلُ أَفْئِدَةِ الطَّيْرِ».

یعنی یہ گزشتہ حدیث شریف کے بارے میں ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا، جنت میں کچھ ایسے لوگ داخل ہوں گے جن کے دل پرندوں کے دلوں کی مانند ہوں گے۔ یعنی بعض کہتے ہیں اس کے معنی ہیں کہ اللہ پر بھروسہ کرنے والے، بعض کہتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ پرندوں کی طرح نرم دل والے ہوں گے۔

پرندے جو ہیں یہ صبح سویرے اٹھتے ہیں اپنے گھونسلوں سے، اور شام کو جب آتے ہیں تو ان کے پوٹے بھرے ہوتے ہیں۔ مطلب ان کو کیا پتہ کہ مجھے کیا ملے گا اور کیا نہیں ملے گا۔ ظاہر ہے کچھ پتہ تو نہیں ہوتا، لیکن وہ اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے نکلتے ہیں اور پھر واپس آ جاتے ہیں تو ان کو اپنی چیز ملی ہوتی ہے۔

تو یہ مطلب ہے کہ یعنی جن کے دل پرندوں کی طرح ہوں گے یعنی وہ، جس کو کہتے ہیں نا کوئی خاص ان کے لیے کوئی چیز نہیں ہوگی جس پر بھروسہ کریں کہ بھئی یہ ہمارے پاس ہے۔ جیسے ہماری تنخواہ ہوتی ہے، اب تنخواہ کے بارے میں کہنے لگے، کہتے ہیں تنخواہ ملتی ہے مہینے کے بعد، اور ہم اس کے انتظار میں رہتے ہیں، اور یہ ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ دیکھو ایک مہینہ ہماری زندگی کا کم ہو گیا۔ یعنی ہم گویا کہ زندگی کو کم کرنے کے انتظار میں ہوتے ہیں کہ جلدی گزر جائے اور ہمیں تنخواہ مل جائے۔ تو تنخواہوں پر بھروسہ کرنے والے کا تو یہ معاملہ ہوتا ہے۔

لیکن جن کا معاملہ، بھروسہ اللہ پر ہوتا ہے، تو پھر وہ ایسے ہوتے ہیں۔ تو حضرت بابا فرید گنج شکر رحمة الله عليه، ان کے بارے میں ہے کہ ان کی خانقاہ میں وہ جو ہدایا آتے تھے، تحفے آتے تھے، ان کو جمع نہیں کیا جاتا تھا، اسی وقت خرچ کیا جاتا تھا۔ تو ایک دن وہ جو مطبخ کے انچارج تھے، وہ پیسے ان کے پاس جو تھے، ان سے ایک سکہ گر گیا۔ تو وہ بعد میں استعمال تو ہو گئے باقی پیسے، تو جب بعد میں وہ سکہ جو مل گیا ان کو واپس، تو اس نے کہا چلو کل استعمال کر لیں گے۔

تو اس پر حضرت بابا صاحب جب نماز پڑھا رہے تھے، تو ایک دفعہ سہو ہو گیا، پھر دوسری دفعہ سہو ہو گیا۔ جب تیسری دفعہ بھی سہو ہو گیا نا تو پیچھے مڑ کے دیکھا، کہ مطبخ والے کو بھئی کیا مسئلہ ہے؟ کوئی آپ نے گڑبڑ تو نہیں کی، مجھے نماز میں رکاوٹ آ رہی ہے، کیا مسئلہ ہے؟ تو اس نے کہا کہ اس طرح بات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا آپ کو اللہ پاک کی رزاقیت پر یقین نہیں رہا؟ تو اب یہ جو بات ہے، یہ وہ توکل کا مقام ہے۔ اس کو توکل مستحب کہتے ہیں۔ یہ توکل واجب نہیں ہے۔

ہم لوگ توکل واجب کے مکلف ہیں۔ ہم لوگ توکل واجب کے مکلف ہیں۔ میں اس لیے یہ مسئلے بیان کرتا ہوں کہ ورنہ لوگ پھر صرف قصے کہانیاں رہ جاتی ہیں، عمل والی بات درمیان سے نکل جاتی ہے۔ مثلاً میں توکل مستحب کے بڑے لمبے چوڑے واقعات بیان کر لوں، تو عوام تو کہیں گے یہ تو ہم عمل ہی نہیں کر سکتے۔ جب عمل نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب ہے کہ بس پھر سن ہی رہے ہیں مزے اٹھا رہے ہیں، باقی اس کا کوئی عملی فائدہ نہیں ہے۔

تو یہ واقعات جو ہیں نا، توکل مستحب کے ہیں اور یہ بزرگوں کے واقعات ہیں۔ ظاہر ہے ہم بزرگ نہیں ہیں۔ لہٰذا ہم سے تو یہ توقع نہیں مطلب ظاہر ہے وہ کی جائے گی۔ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔ البتہ اس کو ہم یقیناً ایک Target سمجھیں گے، ہم ایک اونچا مقام سمجھیں گے۔ ہم کہیں گے واقعی جن کا یہ مقام ہے تو وہ بہت آگے ہیں۔ یہ بات تو ہم اپنے ذہن میں رکھیں گے۔ لیکن جیسے Target کی طرف چلنا ہوتا ہے، تو اب اگر Target کی طرف ایک قدم بھی چلیں تو اس کے قریب ہو جائیں گے، دو قدم چلیں گے تو اور زیادہ قریب ہو جائیں گے، پانچ قدم چلیں گے تو اور قریب ہو جائیں گے۔ تو جتنا ہمارے بس میں ہے اس میں تو ہم سستی نہ کریں۔

تو جو توکل واجب ہے، جو ہر شخص کے اوپر لازم ہے، وہ یہ ہے کہ کم از کم جو فرائض اور واجبات ہیں، جس میں پیسے لگتے ہوں، جس میں ہماری کوشش لگتی ہو، اس میں ہم کمی نہ کریں۔ مثلاً زکوٰۃ ہے، اس کو لازماً دے دیں۔ اگر زکوٰۃ کوئی نہیں دے، اس کا مطلب ہے اس کو توکل واجب بھی حاصل نہیں ہے۔ کیونکہ یہ اللہ پاک کا حکم ہے، اور اللہ پاک اپنی ذمہ داری پہ وہ کرتا ہے۔ مطلب یعنی اللہ پاک اس کا ذمہ لیتے ہیں۔ لہٰذا جو ہے نا مطلب جو توکل واجب بھی نہیں کرتا وہ گنہگار ہوگا۔

اسی طریقے سے جو یعنی کوئی نذر ہے، یا کوئی اور اس قسم کی بات ہے، جو واجب ہو، اور اگر کوئی اس کو ادا نہیں کرتا، تو کیا ہے؟ وہ توکل واجب اس میں نہیں ہے۔ تو توکل واجب کا تو ہر ایک مکلف ہے جو بھی مسلمان ہے۔ ہاں البتہ جو توکل مستحب ہے وہ پھر اونچے لوگوں کی بات ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اگر کسی کو عطا فرما دے تو واقعی ان کے بارے میں فرمایا اللہ پر بھروسہ کرنے والے جنت میں داخل ہوں گے۔ وہ بے حساب جنت میں داخل ہونے والے جو ہیں نا، وہ ستر ہزار کا جو فرمایا تھا گزشتہ جو حدیث شریف، تو وہ اس میں یہ ہے کہ وہ بے حساب جنت میں داخل ہوں گے۔

تو اب اگر کوئی ظاہر ہے بے حساب جنت میں، اور حساب سے بھی داخل ہو گیا تو وہ بھی تو سبحان اللہ بڑی بات ہے۔ معاملہ تو اس وقت خراب ہے کہ حساب سے بھی داخل نہ ہو سکے۔ تو اس وجہ سے ہم مانگیں گے تو اللہ تعالیٰ سے کہ بے حساب اللہ پاک ہمیں جنت میں داخل کر دے۔ یعنی ہم تو اللہ پاک سے مانگیں گے، اللہ ہمیں نصیب فرمائے۔ لیکن یہ والی بات ہے کہ اگر حساب سے بھی کوئی داخل ہو جائے، حضرت تھانوی رحمة الله عليه نے تو یہ ارشاد فرمایا کہ میں تو جنتی ہونے کا مجھے وسوسہ بھی نہیں آتا۔ ہاں جنتیوں کے جوتوں کی جگہ بھی مل جائے، تو یہ بھی بڑی بات ہے۔ فرمایا یہ بھی بطور استحقاق نہیں کہتا ہوں، یہ اس لیے کہتا ہوں کہ دوزخ کے عذاب کا تحمل نہیں ہے۔ اب دیکھو یہ بات ہے اتنے بڑے بزرگ، جن کو توکل مستحب کس درجے کا حاصل تھا۔ کہ ہدایا بھی نہیں لیا کرتے تھے آسانی کے ساتھ۔ لوگ مطلب بڑے وہ شوق سے دیا کرتے تھے۔

وہ ایک تحصیلدار صاحب آئے تھے، اس نے پچیس روپے ہدیہ کیے۔ تو پچیس روپے اس وقت کے دور کی یعنی اس زمانے میں دس روپے تنخواہ تھی۔ تو پچیس روپے آپ اندازہ کر لیں کہ کتنا ہو گیا، ظاہر ہے اس سے ڈبل سے زیادہ۔ تو پچیس روپے ہدیہ کیے، تو حضرت نے اس سے دس روپے لے لیے اور پندرہ روپے واپس کر دیے۔ تو وہ صاحب اب بعد میں اپنے ساتھی سے کہنے لگے، یار کمال ہو گیا، میری دس روپے دینے کی نیت تھی۔ لیکن میں نے کہا اتنے بڑے آدمی کو میں دس روپے کیسے دے دوں، تو میں نے پندرہ روپے ساتھ اور ملا دیے۔ تو حضرت نے اس میں سے دس روپے لے لیے اور باقی واپس کر دیے۔

ہاں تو ظاہر ہے مطلب ان کی بات اور ہے وہ اللہ والے تھے۔ اللہ والے، اللہ والے ہوتے ہیں۔ تو ان کی حیثیت بہت اونچی تھی اور ماشاءاللہ۔ ہمیں ان کے نقش قدم پہ چلنا چاہیے، کم از کم واجب اور فرض کی حد تک۔ اور سنت مؤکدہ کی حد تک۔ باقی اس کے بعد، کوشش کرنی چاہیے کہ انسان آگے بڑھے۔ حضرت مجدد صاحب رحمة الله عليه کسی کو بھی، کسی کو بھی وہ رکنے کے لیے نہیں اجازت دیتے۔ بھئی جتنا حاصل ہوا ہے اس سے مزید آگے بڑھو، اس سے مزید آگے بڑھو، Time ہے اللہ پاک نے دیا ہے اس Time کو استعمال کرو۔ صحت اللہ نے دی ہے، صحت کو استعمال کرو، مال اللہ نے دیا ہے، مال کو استعمال کرو۔ زبان اللہ نے دی ہے، زبان کو استعمال کرو، مطلب ذہن اللہ نے دیا ہے، ذہن کو استعمال کرو۔ جو چیز بھی پاس ہے اس کو استعمال کرو اور اللہ پاک کو زیادہ سے زیادہ راضی کرو۔ تو محنت تو ہماری اس کے حساب سے ہو۔ باقی جو مل جائے اس پر شکر، اور جو رہ جائے اس پر استغفار۔ اللہ پاک ہم سب کو زیادہ سے زیادہ اپنا تعلق نصیب فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.