أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ.
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيْمِ.
(7) بَابُ فِي الْیَقِیْنِ وَالتَّوَکُّلِ
یقین اور توکل کا بیان
اللہ کے وعدہ کا ایفاء
قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی: ﴿وَلَمَّا رَاَى الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَمَا زَادَهُمْ اِلَّآ اِيْمَانًا وَّتَسْلِيْمًا﴾ (الأحزاب: 22)
ترجمہ: ارشادِ خداوندی ہے: ”اور جب مومنوں نے (کافروں کے) لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا خدا اور اس کے پیغمبرﷺ نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور خدا اور اس کے پیغمبرﷺ نے سچ کہا تھا اور اس سے ان کا ایمان اور اطاعت اور زیادہ ہو گئی۔“
اس آیت میں غزوۂ احزاب کے واقعے کی طرف اشارہ ہے کہ جب غزوۂ احزاب، مسلمانوں نے کافروں کے لشکر کو آتا ہوا دیکھا تو کہنے لگے، "یہ تو وہی ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا۔" اور یہ وعدہ سورۂ بقرہ کی اس آیت کے ذریعے سے کیا تھا، کیونکہ سورۂ بقرہ نزول کے اعتبار سے سورۂ احزاب سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ وہ آیت یہ ہے:
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِكُم ۖ مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّهِ ۗ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ (البقرة: 214)
اس آیت میں صراحتاً ذکر ہے کہ مسلمانوں کا کڑا امتحان لیا جائے گا، بڑی شدائد ان پر آئیں گی۔
«وَمَا زَادَهُمْ اِلَّآ اِيْمَانًا وَّتَسْلِيْمًا»: اس سے ان کا ایمان اور اطاعت زیادہ ہوگئی۔ یہاں ”ایمان“ سے مراد رسولﷺ کے قول کی تصدیق اور ”تسلیما“ سے مراد اللہ کے حکم اور تقدیر کے سامنے سر جھکا دینا ہے۔
تفسیر مظہری 330/9- زادالمسیر 191/6 تفسیر ابن کثیر 483/3
تفسیر مظہری 330/9- ابن کثیر 483/3
تو یہ بات ہے کہ جو باتیں کی ہیں وہ تو اس طرح ہوں گی۔ تو کتابی بات جس وقت سامنے آ جائے، اس طرح یعنی موجود صورت میں، تو پھر یقیناً کتاب پر جو ہے نا، وہ یقین بڑھ جاتا ہے۔ بالکل ایسی بات جیسے ہم آج کل کہتے ہیں کہ دجال کے بارے میں، جیسے کتابوں میں لکھا ہے کہ اس کے ماتھے پر کافر لکھا ہوگا، لیکن جو ہے نا، لوگ ان کی طرف جوق در جوق جائیں گے اور اپنا ایمان خراب کریں گے۔ تو یہ جو چیزیں آج کل جو حالات پیدا ہو رہے ہیں کہ ایسے لوگوں کے پاس لوگ جاتے ہیں جن کا عقیدہ بھی لوگوں کو معلوم ہے، جن کے اعمال بھی لوگوں کو معلوم ہیں، جن کا شر و فساد بھی لوگوں کو معلوم ہے، اس کے باوجود لوگ ان کے سامنے بچھے جاتے ہیں۔ تو ظاہر ہے ان باتوں پر یقین تو بڑھ جاتا ہے وہ جو کتاب میں لکھا ہے کہ دجال ایسا ہوگا، دجال ایسا ہوگا۔ تو اگرچہ دجال تو نہیں ہے، لیکن دجالیت کو فروغ دینے والے ہیں۔
تو یہ جو ہے نا، مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو یعنی اب یقین ہمارا بڑھ جاتا ہے کہ ہم جب ان کے احوال کو دیکھتے ہیں۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہاں پر بھی قرآن پاک میں جو اللہ پاک نے فرمایا تھا اور آپ ﷺ نے اس کی خبر دی تھی تو صحابہ کرام کو پتا تو تھا لیکن وہ بات صرف اور صرف خبر کے درجے میں تھی۔ لیکن جس وقت وہ جو دشمنوں کا لشکر انہوں نے دیکھ لیا تو جیسے کہ مطلب اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اور آپ ﷺ نے خبر دی تھی، اسی طرح اس کو پایا۔ تو اس پر ان کا ایمان بڑھ گیا اور ظاہر ہے تقدیر پر بھی ایمان ہے، تو تقدیر کے سامنے انہوں نے سر جھکا دیا اور جو اللہ کا حکم تھا اس پر عمل کر لیا۔
تو اصل بات یہ ہے کہ ہم لوگ جیسے مثال کے طور پر موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے ساتھ ہوا تھا کہ ان کو بتایا گیا تھا کہ تم صرف اس شہر میں داخل ہو جاؤ تو تم فتح یاب ہوگے۔ لیکن ان کو اس بات پر یقین نہیں تھا۔ تو اس وجہ سے انہوں نے کہا کہ آپ جائیں اور آپ کا اللہ، ہم تو یہاں پر بیٹھے ہیں۔ تو پھر اللہ پاک نے ان کے اوپر اس کے مقابلے میں جو سخت عذاب مسلط کر لیا۔ تو اب یہ جو بات مطلب ہے نا وہ... یہ جو صورتیں ہیں کہ جو ہے نا وہ... انہوں نے تو انکار کر لیا تھا، تو جس وقت مطلب مسلمانوں کا معاملہ آ گیا تو آپ ﷺ نے جب مشورہ بدر کے موقع پر کیا تو صحابہ کرام نے اسی کا حوالہ دیا کہ ہم لوگ اس طرح نہیں ہیں جیسے موسیٰ علیہ السلام کی قوم تھی، اور موسیٰ علیہ السلام کی قوم جس طریقے سے وہ کہتے تھے ہم ایسا نہیں کہیں گے، بلکہ ہم کیا، دائیں لڑیں گے، بائیں لڑیں گے، آگے لڑیں گے، پیچھے لڑیں گے، مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے ساتھ رہیں گے۔
تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ ایک بات انسان کی خبر کے درجے میں ہوتی ہے اور جو بات انسان کے سامنے آ جائے تو پھر اس کو اسی طریقے سے پائے، اور ساتھ یہ ہے کہ اسی حکم پر عمل کر لے جو اس وقت ان کو دیا گیا، تو اصل یہی ہے اللہ تعالیٰ کے وعدے کا ایفا۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں اور مسلمانوں کو بھی اس پر یقین رکھنا چاہیے اور اللہ پر بھروسہ کر کے اللہ پاک کے احکامات پر عمل کرنا چاہیے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِْيمُ.
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہِ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: غزوۂ احزاب، صحابہ کرامؓ کا توکل اور اللہ کے وعدوں کا ایفا
متبادل عنوان: خبر سے مشاہدے تک: کامل یقین اور اطاعت کی منازل
اہم موضوعات:
یقین اور توکل کی اہمیت۔
غزوۂ احزاب میں دشمن کے لشکر کو دیکھ کر صحابہ کرامؓ کے ایمان اور تسلیم و رضا میں اضافہ۔
کتابی باتوں (خبر) کا حقیقت کا روپ دھارنا اور اس سے ایمان کی پختگی۔
فتنۂ دجال اور موجودہ دور میں دجالیت کو فروغ دینے والوں پر تبصرہ۔
موسیٰ علیہ السلام کی نافرمان قوم اور غزوۂ بدر کے موقع پر صحابہ کرامؓ کے فدائی جذبے کا موازنہ۔
خلاصہ:
اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے یقین، توکل اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے پورے ہونے پر تفصیلی گفتگو فرمائی ہے۔ آپ نے سورۂ احزاب اور سورۂ بقرہ کی آیات کے حوالے سے غزوۂ احزاب کا تذکرہ کیا کہ کس طرح صحابہ کرامؓ نے دشمن کے لشکر کو دیکھ کر گھبرانے کے بجائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے وعدے کی تصدیق کی، جس سے ان کے ایمان اور اطاعت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ موجودہ حالات کی مثال دیتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ جب دجالیت اور برے کردار والے لوگوں کے پیچھے دنیا کو بھاگتے دیکھتے ہیں تو پیش گوئیوں پر یقین مزید پختہ ہو جاتا ہے۔ آخر میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے قومِ موسیٰؑ اور صحابہ کرامؓ (غزوۂ بدر) کے طرزِ عمل کا موازنہ کرتے ہوئے یہ سبق دیا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ ہر حال میں اللہ کے وعدوں پر مکمل یقین رکھیں اور اسی پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے احکامات کی پیروی کریں