أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ.وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَىٰ:الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ فَانقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُوا رِضْوَانَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ
باب فی الیقین والتوکل۔یقین اور توکل کا بیان۔ اللہ کے وعدے کا ایفا۔قَالَ اللَّهُ تَعَالَىٰ:وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَٰذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ۚ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا
ارشادِ خداوندی ہے، اور جب مومنوں نے کافروں کے لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے، یہ وہی ہے جس کا خدا اور اس کے پیغمبر نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔ اور خدا اور اس کے پیغمبر نے سچ کہا تھا۔ ان سے ان کا ایمان اور اطاعت اور زیادہ ہو گئی۔
اس آیت میں غزوہ احزاب کے واقعے کی طرف اشارہ ہے کہ جب غزوہ احزاب مسلمانوں نے کافروں کے لشکر کو آتا ہوا دیکھا تو کہنے لگے یہ تو وہی ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اور یہ وعدہ سورہ بقرہ کی اس آیت کے ذریعے سے کیا تھا کیونکہ سورہ بقرہ نزول کے اعتبار سے سورہ احزاب سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ وہ آیت یہ ہے:أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِكُم ۖ مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّهِ ۗ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ
اس آیت میں صراحتاً ذکر ہے کہ مسلمانوں کا کڑا امتحان لیا جائے گا، بڑی شدائد ان پر آئیں گی۔وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًااس سے ایمان اور اطاعت زیادہ ہو گئی۔ یہاں ایمان سے مراد رسولِ کریم ﷺ کے قول کی تصدیق اور تسلیماً سے مراد اللہ پاک کے حکم اور تقدیر کے سامنے سر جھکانا ہے۔
تو یہ بات ہے کہ جو باتیں کی ہیں وہ تو اس طرح ہوں گی۔ تو کتابی بات جس وقت سامنے آ جائے، اس طرح یعنی موجود صورت میں تو پھر یقیناً کتاب پر جو ہے نا وہ یقین بڑھ جاتا ہے۔ بالکل ایسی بات جیسے ہم آج کل کہتے ہیں کہ دجال کے بارے میں، جیسے کتابوں میں لکھا ہے کہ اس کے ماتھے پہ کافر لکھا ہوگا لیکن جو ہے نا لوگ ان کی طرف جوق در جوق جائیں گے اور اپنا ایمان خراب کریں گے۔ تو یہ جو چیزیں آج کل جو حالات پیدا ہو رہے ہیں کہ ایسے لوگوں کے پاس لوگ جاتے ہیں جن کا عقیدہ بھی لوگوں کو معلوم ہے، جن کے اعمال بھی لوگوں کو معلوم ہیں، جن کا شر و فساد بھی لوگوں کو معلوم ہے، اس کے باوجود لوگ ان کے سامنے بچھے جاتے ہیں۔ تو ظاہر ہے ان باتوں پر یقین تو بڑھ جاتا ہے وہ جو کتاب میں لکھا ہے کہ دجال ایسا ہوگا، دجال ایسا ہوگا۔ تو اگرچہ دجال تو نہیں ہے لیکن دجالیت کو فروغ دینے والے ہیں۔
تو یہ جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو یعنی اب یقین ہمارا بڑھ جاتا ہے کہ ہم جب ان کے احوال کو دیکھتے ہیں۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہاں پر بھی قرآن پاک میں جو اللہ پاک نے فرمایا تھا اور آپ ﷺ نے اس کی خبر دی تھی تو صحابہ کرام کو پتہ تو تھا لیکن وہ بات صرف اور صرف خبر کے درجے میں تھی۔ لیکن جس وقت مطلب جو ہے نا وہ جو دشمنوں کا لشکر انہوں نے دیکھ لیا تو جیسے کہ مطلب اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اور آپ ﷺ نے خبر دی تھی، اسی طرح اس کو پایا۔ تو اس پر ان کا ایمان بڑھ گیا اور ظاہر ہے تقدیر پر بھی ایمان ہے تو تقدیر کے سامنے انہوں نے سر جھکا دیا اور جو اللہ کا حکم تھا اس پر عمل کر لیا۔
تو اصل بات یہ ہے کہ ہم لوگ جیسے مثال کے طور پر موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے ساتھ ہوا تھا کہ ان کو بتایا گیا تھا کہ تم صرف اس شہر میں داخل ہو جاؤ تو تم فتحیاب ہوگے۔ لیکن ان کو اس بات پر یقین نہیں تھا۔ تو اس وجہ سے انہوں نے کہا کہ آپ جائیں اور آپ کا اللہ، ہم تو یہاں پر بیٹھے ہیں۔ تو پھر اللہ پاک نے ان کے اوپر اس کے مقابلے میں جو سخت عذاب مسلط کر لیا۔ تو اب یہ جو بات مطلب ہے نا وہ... یہ جو صورتیں ہیں کہ جو ہے نا وہ... انہوں نے تو انکار کر لیا تھا، تو جس وقت مطلب مسلمانوں کا معاملہ آ گیا تو آپ ﷺ نے جب مشورہ بدر کے موقع پر کیا تو صحابہ کرام نے اسی کا حوالہ دیا کہ ہم لوگ اس طرح نہیں ہیں جیسے موسیٰ علیہ السلام کی قوم تھی اور موسیٰ علیہ السلام کی قوم جس طریقے سے وہ کہتے تھے ہم ایسا نہیں کہیں گے بلکہ ہم کیا، دائیں لڑیں گے، بائیں لڑیں گے، آگے لڑیں گے، پیچھے لڑیں گے، مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے ساتھ رہیں گے۔
تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ ایک بات انسان کی خبر کے درجے میں ہوتی ہے اور جو بات انسان کے سامنے آ جائے تو پھر اس کو اسی طریقے سے پائے اور ساتھ یہ ہے کہ اسی حکم پر عمل کر لے جو اس وقت ان کو دیا گیا، تو اصل یہی ہے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کا ایفا۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہٗ اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں اور مسلمانوں کو بھی اسی کی حالت میں، یعنی مطلب جو ہے نا، وہ اس پر یقین رکھنا چاہیے اور اللہ پر بھروسہ کر کے اللہ پاک کے احکامات پر عمل کرنا چاہیے۔وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين.رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ.سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: غزوہ احزاب، صحابہ کرامؓ کا توکل اور اللہ کے وعدوں کا ایفامتبادل عنوان: خبر سے مشاہدے تک: کامل یقین اور اطاعت کی منازل
اہم موضوعات:
یقین اور توکل کی اہمیت۔
غزوہ احزاب میں دشمن کے لشکر کو دیکھ کر صحابہ کرامؓ کے ایمان اور تسلیم و رضا میں اضافہ۔
کتابی باتوں (خبر) کا حقیقت کا روپ دھارنا اور اس سے ایمان کی پختگی۔
فتنہ دجال اور موجودہ دور میں دجالیت کو فروغ دینے والوں پر تبصرہ۔
موسیٰ علیہ السلام کی نافرمان قوم اور غزوہ بدر کے موقع پر صحابہ کرامؓ کے فدائی جذبے کا موازنہ۔
خلاصہ:اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے یقین، توکل اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے پورے ہونے پر تفصیلی گفتگو فرمائی ہے۔ آپ نے سورہ احزاب اور سورہ بقرہ کی آیات کے حوالے سے غزوہ احزاب کا تذکرہ کیا کہ کس طرح صحابہ کرامؓ نے دشمن کے لشکر کو دیکھ کر گھبرانے کے بجائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے وعدے کی تصدیق کی، جس سے ان کے ایمان اور اطاعت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ موجودہ حالات کی مثال دیتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ جب دجالیت اور برے کردار والے لوگوں کے پیچھے دنیا کو بھاگتے دیکھتے ہیں تو پیش گوئیوں پر یقین مزید پختہ ہو جاتا ہے۔ آخر میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے قومِ موسیٰؑ اور صحابہ کرامؓ (غزوہ بدر) کے طرزِ عمل کا موازنہ کرتے ہوئے یہ سبق دیا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ ہر حال میں اللہ کے وعدوں پر مکمل یقین رکھیں اور اسی پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے احکامات کی پیروی کریں۔