دیدارِ الٰہی کی حقیقت، تجلیِ طور اور چالیس دن کا روحانی راز

درس نمبر: 303، سورۃ الاعراف، آیات: 142 تا 145

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

چالیس دن انسانی احوال بدلنے میں بڑا اثر رکھتے ہیں۔

اعتکاف دنیا سے کٹ کر روحانی استعداد پیدا کرتا ہے۔

دیدار کی درخواست پر تجلی سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوا۔

دنیا میں جاگتے یا خواب میں دیدارِ الٰہی ممکن نہیں۔

خواب میں بایزید بسطامی کو نفس چھوڑنے کا حکم ملا۔

مستحبات پر عمل درجات میں آگے بڑھنے کا ذریعہ ہے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِـعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ (142) وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ (143) قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ (144) وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ (145)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ ٹھہرایا (کہ ان راتوں میں کوہِ طور پر آکر اعتکاف کریں)، پھر دس راتیں مزید بڑھا کر ان کی تکمیل کی، اور اس طرح ان کے رب کی ٹھہرائی ہوئی میعاد کل چالیس راتیں ہوگئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ : ”میرے پیچھے تم میری قوم میں میرے قائم مقام بن جانا، تمام معاملات درست رکھنا، اور مفسد لوگوں کے پیچھے نہ چلنا“ ﴿142﴾ اور جب موسیٰ ہمارے مقررہ وقت پر پہنچے، اور ان کا رب ان سے ہم کلام ہوا، تو وہ کہنے لگے: ”میرے پروردگار! مجھے دیدار کرا دیجئے کہ میں آپ کو دیکھ لوں۔“ فرمایا: ”تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکو گے، البتہ پہاڑ کی طرف نظر اٹھاؤ، اس کے بعد اگر وہ اپنی جگہ برقرار رہا تو تم مجھے دیکھ لوگے۔“ پھر جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو اس کو ریزہ ریزہ کردیا، اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ بعد میں جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے کہا: ”پاک ہے آپ کی ذات! میں آپ کے حضور توبہ کرتا ہوں، اور (آپ کی اس بات پر کہ دنیا میں کوئی آپ کو نہیں دیکھ سکتا) میں سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں۔“ ﴿143﴾ فرمایا: ”اے موسیٰ! میں نے اپنے پیغام دے کر اور تم سے ہم کلام ہوکر تمہیں تمام انسانوں پر فوقیت دی ہے۔ لہٰذا میں نے جو کچھ تمہیں دیا ہے، اسے لے لو، اور ایک شکر گزار شخص بن جاؤ۔“ ﴿144﴾ اور ہم نے ان کے لئے تختیوں میں ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی، (اور یہ حکم دیا کہ:) ”اب اس کو مضبوطی سے تھام لو، اور اپنی قوم کو حکم دو کہ اس کے بہترین احکام پر عمل کریں۔“

یہاں پر جو چالیس راتوں والی بات ہوئی ہے تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چالیس دنوں کو حالات کی تبدیلی میں بڑا دخل ہوتا ہے۔ اور اسی سے یہ چالیس دنوں یعنی چلہ کا سلسلہ چلتا ہے۔ صوفیاء کے نزدیک جو چلہ ہوتا ہے وہ چالیس دن چالیس بلکہ جو بچہ ہوتا ہے پیٹ میں تو اس میں بھی ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ چالیس چالیس دنوں کے لحاظ سے اس میں تبدیلی آتی ہے۔ ہماری تبلیغی جماعت کا جو ہے چار مہینے، یہ بھی تین چلے ہیں۔ یعنی تین چلے لگا کے ہے کہ وہ چار مہینے کہتے ہیں، چار مہینے کی significance نہیں ہے۔ اصل میں تین چلے کی ہے۔ تو یہ مطلب ظاہر ہے اس کے اندر ہمارے سامنے یہ بات آ گئی کہ فرمایا کہ اللہ پاک کے نزدیک جو ٹھہرائی ہوئی مدت تھی چالیس راتیں وہ مکمل ہو گئیں۔

حاشیہ: فرعون سے نجات پانے اور سمندر عبور کر لینے کے بعد کچھ واقعات اس جگہ بیان نہیں ہوئے، ان کی کچھ تفصیل سورہ مائدہ (5:20 تا 26) میں گزر چکی ہے۔ ان آیات کے حواشی میں ہم نے یہ تفصیل بقدرِ ضرورت بیان کردی ہے۔ اب یہاں سے وہ واقعات بیان فرمائے جارہے ہیں جو وادی تیہ (صحرائے سینا) میں پیش آئے جہاں بنی اسرائیل کو ان کی نافرمانی کی وجہ سے چالیس سال تک مقید کر دیا گیا تھا (جس کا واقعہ سورہ مائدہ میں گزرا ہے)۔ اس دوران انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے یہ مطالبہ کیا کہ آپ اپنے وعدے کے مطابق ہمیں کوئی آسمانی کتاب لا کر دیں جس میں ہمارے لئے زندگی گزارنے کے قوانین درج ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ وہ کوہِ طور پر آکر تیس دن رات اعتکاف کریں۔ بعد میں کسی مصلحت سے یہ مدت بڑھا کر چالیس دن کردی گئی۔ اسی اعتکاف کے دوران اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہم کلامی کا شرف عطا فرمایا، اور تورات عطا فرمائی جو تختیوں پر لکھی ہوئی تھی۔

یہاں سے ایک بات ہمیں ملتی ہے۔ کہ ہم لوگ ہیں نا عالمِ ناسوت میں۔ یعنی اس دنیا کے ماحول میں ہیں۔ اس دنیا میں نفس و شیطان کا چکر چلتا رہتا ہے۔ لہٰذا ناپاکی عام ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی ناپاکی، نظر کی حفاظت نہ ہونا، کان کی حفاظت نہ ہونا، دماغ کی حفاظت نہ ہونا، مطلب یہ چیزیں چلتی رہتی ہیں۔ اور جو چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں، عالمِ بالا کی طرف سے آتی ہیں، وہ پاک ہوتی ہیں۔ تو پاکی کے ساتھ ان کی مناسبت ہوتی ہے۔ اس وجہ سے جن کو کچھ دینا ہوتا ہے۔ تو ان کے لیے پھر طریقہ کار یہ بنا دیا جاتا ہے کہ وہ کچھ عرصہ ایک پاکی کے ماحول میں رہیں۔ یعنی disconnect ہو جائیں اس ناپاکی کے ماحول سے۔ یعنی یوں سمجھ لیجیے کہ اس میں استعداد پیدا ہو جائے اس عالم کی باتوں کو لینے کی استعداد پیدا ہو جائے۔ اب چونکہ یہ موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دینا تھا۔ تو اس کے لیے اعتکاف کروایا گیا۔ اور یہ اعتکاف جو ہے، یہ ماشاءاللہ ہمارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی مسنون ہے۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اعتکاف کیا ہے۔ اور لیلۃ القدر پانے کے لیے۔ تو یہ اعتکاف اب بھی ہمارے ہاں بھی ہے۔ کہ جو لوگ مطلب اس راستے پہ چلتے ہیں۔ تو ان کے لیے راستہ یہ ہے کہ کسی پاک جگہ مسجد وغیرہ مسجد کے ماحول میں۔ اور وہ ادھر ادھر تمام چیزوں سے کٹ کٹا کے، وہ اللہ کی طرف متوجہ ہو جائیں، ذکر اذکار میں، نماز میں۔ مطلب روزے میں، ان میں لگے رہیں۔ اب دیکھیں ہمارا اعتکاف مسنون جو ہے وہ روزے کے ساتھ ہے۔ تو روزہ بذاتِ خود نفس کے خلاف مجاہدے کا بہت بڑا source ہے۔ اور پھر مسجد میں ہوتا ہے۔ تو دونوں چیزیں مل کر ماشاءاللہ انسان کے اندر بڑی استعداد پیدا کرتی ہیں۔ اس لیے ہم اکثر کہا کرتے ہیں کہ ان دس راتوں میں جتنی تبدیلی انسان میں ہوتی ہے خیر کی وہ پورے سال میں بہت ہی کم امکان ہوتا ہے۔ پورے سال میں۔ تو اس وجہ سے ہم بھی یہ بات کرتے ہیں کہ جب یہ رمضان شریف میں اعتکاف کا وقت آ جائے تو اس میں انسان کٹ کٹا کے اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے اور اعتکاف کر لے، اور اس میں الحمدللہ جس نے اللہ تعالیٰ کو جو کچھ دینا ہوتا ہے وہ اللہ پاک پھر دے دیتا ہے۔ تو یہاں پر بھی یعنی یہ بات ہوئی کتاب دی گئی۔ اور اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کلام سے مشرف فرمایا۔ اور اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا فرمائی جو تختیوں پر لکھی ہوئی تھی۔ یہاں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اللہ مجھے دیدار کرا دیجیے۔ تو اس سے صوفیائے کرام کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام محبین کے سردار ہیں۔ محبت کرنے والوں کے سردار ہیں۔ کہ مطلب یہ ہے کہ جیسے ان کو ہم کلامی ہوئی، تو ساتھ ہی درخواست کی کہ مجھے دیدار کرا دیجیے۔ تو اللہ تعالیٰ نے حکمۃ یہ ارشاد فرمایا کہ تم مجھے دیکھ نہیں سکتے، تم ذرا اس پہاڑ کو دیکھو۔ اگر یہ ٹھہر گیا تو پھر دیکھنا۔ اب پہاڑ پہ جب تجلی ہوئی تو اللہ کی تجلی کے سامنے کونسی چیز ٹھہر سکتی ہے۔ تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا۔ موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو گئے۔ جب ہوش میں آئے تو فوراً اس بات سے توبہ کر لی کہ میں اس طرح بات پھر نہیں کروں گا، اور میں اس بات پر پہلے ایمان لانے والوں میں ہوں کہ تجھے یہاں نہیں دیکھا جا سکتا۔ تو یہ بات سامنے ہو گئی کہ یہاں پر دیدار نہیں ہو سکتا۔

حاشیہ: اللہ تعالیٰ کا دیدار اس دنیا میں تو ممکن نہیں تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس بات کا مظاہرہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کرا دیا کہ دنیا میں انسانوں کو تو کجا، پہاڑوں کو بھی یہ طاقت نہیں دی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تجلی کو برداشت کرسکیں۔

اس میں اب صوفیاء ہوتے ہیں، ذرا خوش عقیدہ ہوتے ہیں، وہ بعض لوگوں کا ذوق بن جاتا ہے کہ پراسرار باتیں سنیں۔ مطلب پراسراریت پسند ہوتے ہیں۔ تو بعض لوگ یہ بات سمجھتے ہیں کہ نہیں، بندے کو اللہ کا دیدار یہاں بھی ہو سکتا ہے جب وہ اس جہان سے نکلے۔ یعنی اس جہان میں نہ رہے۔ مطلب یوں کہیں space and time یہاں کا نہ رہے۔ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج شریف پہ تشریف لے گئے تو یہاں کے space and time میں نہیں تھے۔ تو یہ خدا کے بندے اتنے بھی نہیں سوچتے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جب کہا تو اللہ تعالیٰ ان کو space and time سے نکال کے ان کو نہیں دیدار کرا سکتے تھے۔ مطلب اگر چاہتے تو سب کچھ ممکن تھا لیکن یہاں پر اللہ پاک نے یہ قانون نہیں بنایا۔ تو اگر موسیٰ علیہ السلام سے یہ کہا گیا تو اور کون ہوتا ہے کون سا ولی اتنا اونچا ہو جائے گا کہ وہ اللہ پاک کو دیکھ سکے گا۔ یہ ایک قسم کی مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی غلطیاں ہیں۔ اور یہ سمجھ نہیں ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ خواب میں بھی نہیں ہو سکتا۔ بعض حضرات کہتے ہیں خواب میں دیدار ہو سکتا ہے۔ وہ دیدار خواب میں اللہ تعالیٰ کا نہیں ہوتا، وہ ایک تمثال کا ہوتا ہے، مطلب اللہ پاک ایک تجلی بھیج دیتے ہیں۔ اس تجلی کا دیدار ہو سکتا ہے خواب میں۔ تو وہ لوگوں کے حالات کے مطابق ہوتا ہے۔ جس کا جس قسم کے حالات ہوتے ہیں اس اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ وہ کر لیتے ہیں۔ تو خواب میں، یعنی جو جس شخص کو پتا چل جائے کہ یہ اللہ پاک ہیں اور اللہ جل شانہ بات فرما رہے ہیں، تو وہ اس کا جس کو کہتے ہیں نا اللہ تعالیٰ اس کے لیے تمثال بھیج دیتے ہیں اور اس کو وہ سمجھ لیتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہے، لیکن وہ بھی اللہ پاک نہیں ہوتے۔ اللہ جل شانہ کی طرف سے تجلی آتی ہے۔ اس کو وہ دیکھتا ہے، خواب میں۔ تو حضرت نے تو مطلب اس کو خواب میں بھی معتبر نہیں سمجھا۔ تو چہ جائے کہ مطلب یہ ہے کہ جاگتے میں، مطلب یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ تو عقائد کی جہاں تک بات ہے نا، اس میں آدمی کو lenient نہیں ہونا چاہیے، اس میں rigid ہونا چاہیے بس۔ ہوتے ہیں نا discrete اور analog، مطلب وہ والی بات ہوتی ہے۔ تو یہ مطلب اس میں بالکل discrete ہوتا ہے، یہ چیز ہے اور یہ چیز ہے اور یہ چیز ہے بس categorization ہے، صحیح بات ہے۔ یہ عقیدہ یہ ہے بس۔ اس میں درمیان میں کوئی اور بات نہیں ہے۔ تو ہمارا عقیدہ ہے کہ اس دنیا میں انسان اللہ پاک کو نہیں دیکھ سکتا۔ نہ جاگتے میں، نہ خواب میں۔ ہاں اللہ جل شانہ خواب میں جس کو کوئی تجلی کرا کر اس کو یہ باور کرا دے کہ بھئی میں اللہ سے بات کر رہا ہوں یا اللہ تعالیٰ مجھ سے بات کر رہے ہیں، تو وہ بات ہو سکتی ہے۔ مطلب اس قسم کی بات جیسے بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ہے کہ انہوں نے خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا، تو وہ یہی تجلی تھی۔ تو اللہ پاک سے پوچھا کہ یا اللہ! تجھ تک پہنچنے کا آسان راستہ کیا ہے؟ تو اللہ پاک نے فرمایا، دَعْ نَفْسَكَ وَتَعَالَ۔ اپنے نفس کو چھوڑ دو اور میرے پاس آ جاؤ۔ تو یہ بات صوفیوں کے ہاں موجود ہے۔ تو اس سے لوگ مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ شاید مطلب خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو سکتا ہے۔ لیکن خواب میں بھی اللہ پاک کا دیدار نہیں ہو سکتا۔ صرف اس کی وہ تجلی مطلب ہو سکتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ کائنات جو ہے یہ اس کے لیے قابل ہی نہیں بنائی گئی ہے۔ اس کائنات میں یہ چیز ممکن نہیں ہے۔ یہ جو عالمِ کون و مکان ہے ادھر۔ یہ چیز اس قابل نہیں ہے۔ بس اس وجہ سے ہم لوگوں کو یہ ماننا پڑے گا۔ یہ جو اخیر میں بات فرمائی۔

ترجمہ: ”اب اس کو مضبوطی سے تھام لو، اور اپنی قوم کو حکم دو کہ اس کے بہترین احکام پر عمل کریں۔“

حاشیہ: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تورات کے تمام ہی احکام بہترین ہیں، ان پر عمل کرنا چاہئے۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جہاں تورات نے ایک کام کو جائز کہا ہو، لیکن دوسرے کام کو بہتر یا مستحب قرار دیا ہو تو اللہ تعالیٰ کے شکر کا تقاضا یہ ہے کہ اس کام کو اختیار کیا جائے جس کو اس میں بہترین قرار دیا گیا ہے۔

بہرحال اصل بات تو یہ ہے کہ اللہ پاک کا جو کلام ہے سارے کا سارا بہترین ہے۔ تو جس پر بھی عمل کرو گے فائدہ ہوگا۔ اور جس پر عمل نہیں کرو گے تو اس میں پھر تفصیل ہے۔ کہ وہ فرض ہے، واجب ہے یا مستحب ہے۔ اگر فرض و واجب ہے چھوڑو گے تو گناہ بھی ہوگا محرومی بھی ہوگی۔ اور فرض و واجب نہیں ہے، مستحب ہے تو گناہ تو نہیں ہوگا، محرومی ہوگی۔ محرومی کا مطلب کیا ہے؟ محرومی کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو یعنی کوئی loss تو نہ ہو لیکن اگر آپ اس کو حاصل کر لیں تو آپ کو gain ہو۔ تو اس gain سے محرومی ہوتی ہے۔ تو مستحب کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا ہے۔ کہ آپ کو کوئی چیز مل رہی ہے اور آپ نہ لیں تو آپ کو محرومی ظاہر ہے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ بھی آپ سے لے لیا جائے تو وہ loss ہے۔ بظاہر مطلب ہے کہ وہ نقصان ہے۔ تو گناہ اس میں یہی ہوتا ہے کہ اس پر سزا ہوتی ہے۔ مستحب کے چھوڑنے پر سزا نہیں ہوتی۔ لیکن جو اس کو دیا جانا تھا یعنی اس کے کرنے پر اس سے وہ محرومی ہو گئی۔ اور یہی وجہ ہے کہ اسی میں مقابلہ ہوتا ہے۔ وَفِي ذَلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ۔ مقابلہ جو مسلمانوں کے اندر آپس میں ہوتا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے آگے بڑھ جائیں وہ مستحبات میں ہے سنن و مستحبات میں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نہ کرنے پر تو وعید تو نہیں ہے نا۔ ہاں البتہ یہ ہے کہ آپ جو جتنا آگے بڑھنا چاہے تو اس ذریعے سے آگے بڑھے۔ اب مثال کے طور پر پانچ نمازیں فرض جس نے پڑھ لیں۔ اور سننِ مؤکدہ بھی جس نے پڑھ لیے۔ Course پورا ہو گیا۔ Course پورا ہو گیا۔ اب یہ ہے کہ اس کے علاوہ اگر وہ نفل پڑھتا ہے۔ تو اس پہ مزید اضافہ ہے۔ جس کی کوئی limit نہیں ہے۔ ان چیزوں کی limit ہے۔ ان میں اگر کوئی زیادہ بھی کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا۔ کوئی پانچ کی جگہ تین نمازیں پڑھنا چاہے تو نہیں پڑھ سکتا۔ کیونکہ limited ہے۔ لیکن نفل میں limit نہیں ہے۔ نفل چاہے سو پڑھ لے، چاہے ڈیڑھ سو پڑھ لے، چاہے دو سو پڑھ لے۔ وہ ہر ایک کی اپنی اپنی ہمت ہے۔ اس طرح ذکر اذکار ہیں۔ کہ جو ہم زبان سے ذکر کرتے ہیں۔ limit نہیں ہے۔ ہاں جتنا بھی ذکر کوئی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ جونسا ذکر بھی کرنا چاہتا ہے تو کر سکتا ہے۔ مطلب جو مستحب ذکر اذکار ہیں۔ limit نہیں ہے۔ لیکن یہ بات ہے کہ اب نماز والا جو ذکر ہے وہ لازمی ہوتا ہے۔ وہ کرنا پڑے گا۔ اَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ جو مستحبات ہیں اس پر جو عمل ہے یہ ماشاءاللہ gain ہے۔ تو دونوں پر عمل کرنا چاہیے۔ مطلب یہ ہے کہ gain ہی ہے نا۔ مطلب چھوڑنا نہیں چاہیے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا انِ اَلْحَمْدُ للهِ رَبِّ اَلْعٰلَمِينَ۔

دیدارِ الٰہی کی حقیقت، تجلیِ طور اور چالیس دن کا روحانی راز - درسِ قرآن - پہلا دور