عذابِ الٰہی، نفس کی فریب کاری اور اصلاحِ احوال
درس نمبر: 301، سورۃ الاعراف، آیات: 130 تا 135
آلِ فرعون پر پے در پے عذاب اور تنبیہ
-
مشکل میں التجا اور آسانی میں وعدہ خلافی
-
اصل بیماری: خواہشاتِ نفس اور دنیا پرستی
-
موجودہ حالات اور توبہ و استغفار کی ضرورت
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ (130) فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (131) وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ (132) فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِ عَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ (133) وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ ۚ لَىٕنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ (134) فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ (135)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اور ہم نے فرعون کے لوگوں کو قحط سالی اور پیداوار کی کمی میں مبتلا کیا، تاکہ اُن کو تنبیہ ہو۔﴿130﴾
حاشہ: پیچھے آیت نمبر 94 میں اللہ تعالیٰ نے جو اُصول بیان فرمایا تھا، اُس کے مطابق پہلے فرعون اور اُس کی قوم کو دُنیا میں مختلف تکلیفیں دی گئیں، تاکہ وہ کچھ نرم پڑیں۔ ان میں سے پہلا عذاب قحط کا مسلط ہوا، اور اُس کے نتیجے میں پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔
ترجمہ: (مگر) نتیجہ یہ ہوا کہ اگر اُن پر خوش حالی آتی تو وہ کہتے: ”یہ تو ہمارا حق تھا“ اور اگر اُن پر کوئی مصیبت پڑ جاتی تو اُس کو موسیٰ اور اُن کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے۔ ارے (یہ تو) خود اُن کی نحوست (تھی جو) اللہ کے علم میں تھی، لیکن اُن میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں تھے ﴿131﴾ اور (موسیٰ سے) کہتے تھے کہ: ”تم ہم پر اپنا جادو چلانے کے لئے چاہے کیسی بھی نشانی لے کر آجاؤ، ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں“ ﴿132﴾چنانچہ ہم نے اُن پر طوفان، ٹڈیوں، گھن کے کیڑوں، مینڈکوں اور خون کی بلائیں چھوڑیں، جو سب علیحدہ علیحدہ نشانیاں تھیں۔
حاشیہ: یہ مختلف قسم کے عذاب تھے جو یکے بعد دیگرے فرعون کی قوم پر مسلط ہوتے رہے۔ پہلے طوفان آیا جس میں ان کی کھیتیاں بہہ گئیں۔ اس کے بعد جب انہوں نے ایمان لانے کا وعدہ کر کے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دُعا کروائی، اور کھیت بحال ہوئے، اور پھر بھی وہ ایمان نہ لائے تو ٹڈی دل نے کھیتوں کو برباد کر ڈالا۔ پھر وہی وعدے کئے، اور یہ بلا دُور ہوئی اور خوش حالی آنے لگی تو یہ پھر مطمئن ہو کر بیٹھ گئے، اور ایمان نہ لائے، تو ان کی پیداوار کو گھن لگا دیا گیا۔ پھر وہی ساری داستان دُہرائی گئی، اور یہ پھر بھی نہ مانے تو مینڈکوں کی اتنی کثرت ہوگئی کہ وہ کھانے کے برتنوں میں نمودار ہوتے اور سارے کھانے کو خراب کر دیتے، دوسری طرف پینے کے پانی میں ہر جگہ خون نکلنے لگا، اور پانی پینا دو بھر ہوگیا۔
ترجمہ: پھر بھی انہوں نے تکبر کا مظاہرہ کیا، اور وہ بڑے مجرم لوگ تھے ﴿133﴾ اور جب اُن پر عذاب آپڑتا تو وہ کہتے: ”اے موسیٰ! تمہارے پاس اللہ کا جو عہد ہے، اُس کا واسطہ دے کر ہمارے لئے اپنے رَبّ سے دُعا کردو (کہ یہ عذاب ہم سے دُور ہوجائے)۔ اور اگر واقعی تم نے ہم پر سے یہ عذاب ہٹادیا تو ہم تمہاری بات مان لیں گے، اور بنی اسرائیل کو ضرور تمہارے ساتھ بھیج دیں گے“ ﴿134﴾ پھر جب ہم اُن پر سے عذاب کو، اتنی مدت تک ہٹا لیتے جس تک اُنہیں پہنچنا ہی تھا، تو وہ ایک دم اپنے وعدے سے پھر جاتے ﴿135﴾
یہ اصل میں ایک مسئلہ ہوتا ہے۔ جیسے اللہ پاک نے فرمایا قرآن پاک میں کہ كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُونَ الْاٰخِرَةَ۔ ہرگز نہیں تم جو فوری چیز ہے اس کو دیکھتے ہو جو بعد میں آنے والی چیز ہے اس کو چھوڑتے ہو۔ تو یہاں پر جو فوری عذاب آتا تو اس وقت اس کو لیتے اور اس سے ڈر جاتے اور توبہ کرتے اور موسیٰ علیہ السلام سے کہتے کہ بس آپ ہمارے لیے دعا کریں تو ہم تمہاری بات مان لیں گے۔ لیکن جس وقت عذاب ٹل جاتا موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے تو پھر وہی نفس کی خواہشات سامنے آ جاتیں۔ مطلب دیکھیں نا میں آپ کو بتاؤں بات صرف نفس کی ہے اگر دیکھیں۔ پہلے نفس کی تکلیف سے بچنے کے لیے وہ موسیٰ علیہ السلام سے دعا کرواتے۔ اور جس وقت وہ عذاب ٹل جاتا تو پھر نفس کی وہ جو خواہشات ہوتی تھی جس سے موسی علیہ السلام روکتھے تھے تو وہ سامنے آ جاتیں اور موسیٰ علیہ السلام کی بات نہ مانتے۔ تو گویا کہ بنیادی مسئلہ پھر بھی نفس ہی کا تھا۔ پہلے بھی نفس کا تھا، بعد میں بھی نفس کا تھا، تو جس وقت تک نفس کی اصلاح نہ ہو جائے اس وقت تک معاملہ ٹھیک نہیں ہوتا۔ تو آج کل ہم لوگ دیکھ رہے ہیں اس وقت جو عذاب آ رہے ہیں، اس وقت جو مشکلات آ رہی ہیں اس پہ لوگ متوجہ نہیں ہو رہے کہ علاج کر لیں۔ وہ ادھر ادھر کی باتیں ہانک رہے ہیں۔ تو یہ اصل میں شامت اعمال والی بات ہوتی ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرمائے اور ہمیں جلد سے جلد اس کا احساس کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم لوگ اپنے اعمال کو درست کر لیں اور ان چیزوں سے توبہ کر لیں جس سے اللہ پاک ناراض ہوتے ہیں، ان کاموں کو کرنے لگ جائیں جو کہ اللہ پاک کو پسند ہیں۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔