آزمائش میں صبر اور کامیابی کی نوید

درس نمبر: 300، سورۃ الاعراف، آیات: 127 تا 129

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

فرعونی مظالم اور نئی آزمائش

اللہ سے مدد اور صبر کی تلقین

دشمن کی ہلاکت اور فتح کی بشارت

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ (127) قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ (128) قَالُـوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ (129)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے (فرعون سے) کہا: ”کیا آپ موسیٰ اور اُس کی قوم کو کھلا چھوڑ رہے ہیں، تاکہ وہ زمین میں فساد مچائیں، اور آپ اور آپ کے خداؤں کو پسِ پشت ڈال دیں؟“ (56) وہ بولا: ”ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے، اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے، اور ہمیں ان پر پورا پورا قابو حاصل ہے“ ﴿127﴾ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: ”اللہ سے مدد مانگو، اور صبر سے کام لو۔ یقین رکھو کہ زمین اللہ کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، اُس کا وارث بنا دیتا ہے۔ اور آخری انجام پرہیزگاروں ہی کے حق میں ہوتا ہے۔“ ﴿128﴾ انہوں نے کہا کہ: ”ہمیں تو آپ کے آنے سے پہلے بھی ستایا گیا تھا، اور آپ کے آنے کے بعد بھی (ستایا جا رہا ہے)“ موسیٰ نے کہا: ”اُمید رکھو کہ اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا، اور تمہیں زمین میں اُس کا جانشین بنادے گا، پھر دیکھے گا کہ تم کیسا کام کرتے ہو“ ﴿129﴾

حاشیہ: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے ایمان لانے والے جادوگروں کو دھمکیاں تو دی تھیں، لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزے اور جادوگروں کے ایمان اور استقامت کو دیکھ کر حاضرین، اور خاص طور پر بنی اسرائیل کی اتنی بڑی تعداد ایمان لے آئی کہ اُس کو فوری طور سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اُن کے ماننے والوں پر ہاتھ ڈالنے کا حوصلہ نہ ہوا، اور جب مجمع درہم برہم ہوگیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اُن کے ماننے والے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ اس موقع پر فرعون کے سرداروں نے یہ بات کہی جو یہاں مذکور ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے تو ان لوگوں کو آزاد چھوڑ دیا ہے۔ رفتہ رفتہ یہ اپنی طاقت جمع کر کے آپ کے لئے ایک خطرہ بن جائیں گے۔ فرعون نے اپنی خفت مٹانے کے لئے اُن کو جواب دیا کہ فوری طور پر چاہے میں نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، مگر اب بنی اسرائیل کو ایک ایک کر کے ختم کروں گا، البتہ عورتوں کو اس لئے زندہ رکھوں گا کہ وہ ہماری خدمت کے کام آسکیں۔ اُس نے اپنے آدمیوں کو یہ بھی یقین دلایا کہ حالات ہمارے قابو میں ہیں، اور ہماری حکمت عملی ایسی ہے کہ ہمارے لئے کوئی بڑا خطرہ پیدا نہیں ہوگا۔ اس طرح بنی اسرائیل کے مردوں کو قتل کرنے کا ایک نیا دور شروع ہوا جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مؤمنوں کو تسلی دی کہ صبر سے کام لیتے رہو۔ آخری انجام ان شاء اللہ تمہارے ہی حق میں ہوگا۔

تو یہ گویا کہ انسان وہ جو حالات ہوتے ہیں اس میں ڈر تو جاتا ہے، لیکن پیغمبر چونکہ ہر طرف دیکھتا ہے یعنی اوپر بھی اللہ پاک کی طرف سے جو احکامات ہوتے ہیں وہ بھی آ رہے ہوتے ہیں، اور پھر اللہ پاک کے جو تکوینی جو احکامات ہوتے ہیں وہ بھی جانتا ہے، سارا کچھ اس کو نظر آتا ہے۔ اس لحاظ سے وہ اپنی قوم کو تسلی دے رہے تھے کہ انجام کار وہ تمہاری کامیابی ہوگی، اس وجہ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس صرف یہ ہے کہ وقت پر جو ہے وہ صبر کرنا پڑے گا، اور بے شک اللہ پاک صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو تسلی دی، لیکن یہ والی بات ضرور ہے کہ وقتی طور پر، امتحان کے طور پر، کچھ مشکلات وغیرہ آ سکتی ہیں۔ تو اس وقت بھی وہی تھے، تو ان لوگوں نے کہا تھا، ہم تو آپ سے پہلے بھی ستائے گئے تھے اور آپ کے بعد بھی، مطلب، ستائے جا رہے ہیں آپ کے آنے کے بعد بھی، تو پھر موسیٰ علیہ السلام نے ایک تسلی دی۔ اللہ پاک ہم سب کو حق پر جمع ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

آزمائش میں صبر اور کامیابی کی نوید - درسِ قرآن - پہلا دور