حق کی فتح اور ایمان کی طاقت

درس نمبر: 299، سورۃ الاعراف، آیات: 113 تا 126

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

جادو کی شکست اور حق کی جیت

جادوگروں کا بے ساختہ سجدہ اور ایمان

فرعون کی دھمکیاں اور ایمان پر استقامت

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ (113) قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ (114) قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ (115) قَالَ اَلْقُوْا ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ (116) وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَ (117) فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (118) فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ (119) وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَ (120) قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (121) رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ (122) قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (123) لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ (124) قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ (125) وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ (126)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: (چنانچہ ایسا ہی ہوا) اور جادوگر فرعون کے پاس آگئے (اور) انہوں نے کہا کہ: ”اگر ہم (موسیٰ پر) غالب آگئے تو ہمیں کوئی انعام تو ضرور ملے گا“ ﴿113﴾ فرعون نے کہا: ”ہاں، اور تمہارا شمار یقیناً ہمارے مقرب لوگوں میں (بھی) ہوگا“ ﴿114﴾ انہوں نے (موسیٰ سے) کہا: ”موسیٰ! چاہو تو (جو پھینکنا چاہتے ہو) تم پھینکو، ورنہ ہم (اپنے جادو کی چیز) پھینکیں؟“ ﴿115﴾ موسیٰ نے کہا: ”تم پھینکو!“ چنانچہ جب انہوں نے (اپنی لاٹھیاں اور رسیاں) پھینکیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا، اُن پر دہشت طاری کر دی، اور زبردست جادو کا مظاہرہ کیا ﴿116﴾ اور ہم نے موسیٰ کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ تم اپنی لاٹھی ڈال دو۔ بس پھر کیا تھا، اُس نے دیکھتے ہی دیکھتے وہ ساری چیزیں نگلنی شروع کر دیں جو انہوں نے جھوٹ موٹ بنائی تھیں ﴿117﴾ اس طرح حق کھل کر سامنے آگیا، اور اُن کا بنایا کام ملیا میٹ ہو گیا ﴿118﴾ اس موقع پر وہ مغلوب ہوئے، اور شدید سبکی کی حالت میں (مقابلے سے) پلٹ کر آگئے ﴿119﴾ اور اس واقعے نے سارے جادوگروں کو بے ساختہ سجدے میں گرا دیا۔ ﴿120﴾وہ پکار اٹھے کہ: ”ہم اُس ربّ العالمین پر ایمان لے آئے ﴿121﴾ جو موسیٰ اور ہارون کا ربّ ہے۔“ ﴿122﴾ فرعون بولا: ”تم میرے اجازت دینے سے پہلے ہی اس شخص پر ایمان لے آئے؟ یہ ضرور کوئی سازش ہے جو تم نے اس شہر میں ملی بھگت کر کے بنائی ہے، تاکہ تم یہاں کے رہنے والوں کو یہاں سے نکال باہر کرو۔ اچھا تو تمہیں ابھی پتہ چل جائے گا ﴿123﴾ میں نے بھی پکا ارادہ کر لیا ہے کہ تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالوں گا، پھر تم سب کو اکٹھے سولی پر لٹکا کر رہوں گا“ ﴿124﴾ انہوں نے کہا: ”یقین رکھ کہ ہم (مر کر) اپنے مالک ہی کے پاس واپس جائیں گے ﴿125﴾ اور تو اس کے سوا ہماری کس بات سے ناراض ہے کہ جب ہمارے مالک کی نشانیاں ہمارے پاس آگئیں تو ہم اُن پر ایمان لے آئے؟ اے ہمارے پروردگار! ہم پر صبر کے پیمانے انڈیل دے، اور ہمیں اس حالت میں موت دے کہ ہم تیرے تابع دار ہوں“ ﴿126﴾

یہ قرآن کریم نے جادوگروں کے لیے کہا کہ "اُلْقِيَ" یعنی

حاشیہ: مجہول کا صیغہ ”القی“ استعمال فرمایا ہے، جس کے لفظی معنی ”گر گئے“ نہیں، بلکہ ”گرا دیئے گئے“ ہیں۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ حالات ایسے پیش آئے کہ اُن کے ضمیر نے انہیں بے ساختہ سجدے میں گر جانے پر مجبور کر دیا۔ اوپر ترجمے میں اس پہلو کی رعایت کی کوشش کی گئی ہے۔ یہاں ایمان کی یہ طاقت بھی ملاحظہ فرمائیے کہ جو جادوگر چند لمحوں پہلے اپنے مذہب کی دفاعی کارروائی پر بھی فرعون سے انعام مانگ رہے تھے، اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد اُن میں یہ عظیم حوصلہ پیدا ہو گیا کہ وہ فرعون جیسے جابر حکمران کی دھمکیوں کو ذرا بھی خاطر میں نہیں لائے، اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جانے کا اشتیاق ظاہر کرنے لگے۔

اللہ اکبر۔ ایمان میں بڑی طاقت ہے، اور اگر ہم اپنے ایمان پر محنت کر لیں اور ایمان ہمارا صحیح طور پر بن جائے، یقینِ کامل اس کا حاصل ہو جائے، تو پھراس کے بعد اس کے سامنے کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی۔ جیسے کہ یہ جادوگر جو کچھ دیر پہلے مسلمان نہیں تھے، تو ظاہر ہے انعام مانگ رہے تھے فرعون سے، لیکن بعد میں اس کی بھی پروا نہیں کی۔ اللہ جل شانہ ہمارے ایمانوں کو بھی مضبوط فرمائے، اور ہر قسم کے جو دنیاوی مطلب، جو چیزیں ہیں، ان سے ہم مرعوب نہ ہوں، بلکہ اللہ تعالی کی محبت ہمیں نصیب ہو اور اللہ تعالی کی فرمانبرداری کریں۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

حق کی فتح اور ایمان کی طاقت - درسِ قرآن - پہلا دور