دربارِ فرعون میں حضرت موسیٰ علیہ السلام: معجزات کا ظہور اور باطل کا ردِعمل
درس نمبر: 298، سورۃ الاعراف، آیات: 105 تا 112
حق کی دعوت اور فرعون کا نشانی طلب کرنا
دو عظیم معجزات کا ظہور (عصا اور یدِ بیضا)
فرعونیوں کا ہٹ دھرمی پر مبنی رویہ اور جادوگروں کا بلاوا
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ (105) قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ (106) فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ (107) وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ (108) قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ (109) یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ (110) قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآىٕنِ حٰشِرِیْنَ (111) یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ (112)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: میرا فرض ہے کہ میں اللہ کی طرف منسوب کر کے حق کے سوا کوئی اور بات نہ کہوں۔ میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک کھلی دلیل لے کر آیا ہوں، لہٰذا بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو“ ﴿105﴾ اُس نے کہا کہ: ”اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو اُسے پیش کرو، اگر تم ایک سچے آدمی ہو“ ﴿106﴾ اس پر موسیٰ نے اپنی لاٹھی پھینکی، تو اچانک وہ ایک صاف صاف اژدھا بن گیا ﴿107﴾ اور اپنا ہاتھ (گریبان سے) کھینچا تو وہ سارے دیکھنے والوں کے سامنے یکا یک چمکنے لگا۔ ﴿108﴾ فرعون کی قوم کے سردار (ایک دوسرے سے) کہنے لگے کہ: ”یہ تو یقینی طور پر بڑا ماہر جادوگر ہے ﴿109﴾ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہاری زمین سے نکال باہر کرے۔ اب بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟“ ﴿110﴾ انہوں نے کہا کہ: ”ذرا اس کو اور اس کے بھائی کو کچھ مہلت دو، اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دو ﴿111﴾ تاکہ وہ تمام ماہر جادوگروں کو جمع کر کے تمہارے پاس لے آئیں“ ﴿112﴾
تو جیسے کہ پچھلی یعنی کل جو ہے نا وہ بات شروع ہوئی تھی موسی علیہ السلام کی۔ تو فرعون کے پاس وہ آ گیا۔ تو فرعون سے فرمانے لگے کہ مطلب جو ہے نا میں کوئی بات بھی اللہ کی طرف جھوٹی منسوب نہیں کر سکتا۔ تو میں ایک کھلی دلیل تمہارے پاس لے آیا ہوں۔ لہذا بنی اسرائیل میرے پاس بھیج دو۔ تو انہوں نے پھر یہی کہا کہ اچھا تم پھر کوئی نشانی لے کر آؤ۔ تو پھر یعنی معجزہ دیکھا۔ تو موسیٰ علیہ السلام کو دو معجزے دیے گئے تھے، اس وقت جب کلام کا واقعہ ہوا تھا یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمکلام ہوئے تھے۔ تو اس وقت جو دو معجزے دیے گئے تھے وہ موسی علیہ السلام نے دکھا دیے۔ یعنی ایک تو اپنی عصا کو پھینکا تو وہ اژدہا بن گئی۔ اور دوسرا اپنے ہاتھ کو گریبان سے کھینچا تو سارے دیکھنے والوں کے سامنے وہ یکایک چمکنے لگا۔ تو اس پر جو ہے نا وہ جو مطلب فرعونی تھے وہ آپس میں کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے۔ اصل میں جو لوگ مانتے نہیں ہیں نا تو وہ اول تو معجزہ کی فرمائش کرتے ہیں۔ اس بنیاد پر کہ یہ تو کر نہیں سکیں گے۔ اور جب کر لیتے تو ماننا تو تھا نہیں تو پھر کہتے یہ جادو ہے۔ تو یہ سب پیغمبروں کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے۔ تو یہ دو معجزے جو تھے اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کو بھی عطا فرمائے تھے۔ اور چونکہ اس زمانے میں جادوگروں کا بڑا چرچا تھا۔ جادوگر جگہ جگہ موجود تھے۔ تو اس وجہ سے اللہ پاک نے موسی علیہ السلام کو اس کے توڑ کے لیے دو معجزات عطا فرما دیے تھے۔ کہ وہ لوگ چونکہ جادو سے متاثر ہوتے تھے۔ تو اس وجہ سے اللہ پاک نے موسی علیہ السلام کو بھی ایسے معجزے عطا فرما دیے تھے کہ جادوگروں کو یعنی عاجز کر دیں۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ بات پھر آگے بڑھے گی۔ اس میں جیسے بعد میں آئے گا کہ جادوگروں کو جمع کرنے کا مقصد تو یہ تھا کہ موسی علیہ السلام کو شکست دیں۔ لیکن پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو ان پہ غالب کر دیا نہ صرف غالب کر دیا بلکہ وہ جادوگر بھی مسلمان ہو گئے ایمان لے آئے۔ تو یہ بات ان شاء اللہ آگے آئے گی۔ اللہ پاک ہم سب کو اپنے احکامات پر عمل کرنے کی صحیح طریقے سے توفیق عطا فرمائے۔
واخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين