اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ
أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ،
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ کی جامع نصیحت
(73) ﴿الخامس: وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ صُدَيِّ بْنِ عَجْلَانَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ: "اتَّقُوا اللهَ، وَصَلُّوْا خَمْسَكُمْ، وَصُوْمُوْا شَهْرَكُمْ، وَأَدُّوْا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ، وَأَطِيعُوْا أُمَرَاءَكُمْ، تَدْخُلُوْا جَنَّةَ رَبِّكُمْ"﴾
(رواه الترمذي، في آخر كتاب الصلاة وَقَالَ: حديث حسن صحيح)
”حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا ڈر رکھو، پانچوں نمازیں ادا کرو، رمضان المبارک کے مہینے کے روزے رکھو، اپنے مال سے زکوۃ ادا کرو، اپنے امیروں کی (اگر معصیت کا حکم نہ دیں) اطاعت کرو، اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“
اس کو امام ترمذی نے کتاب الصلوٰۃ کے آخر میں روایت کیا ہے اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حجۃ الوداع کے خطبہ کی چند باتیں
يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:
آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں فرمایا ”حج الوداع“ کو حج الوداع اس لئے کہتے ہیں کہ وداع کا معنی ہوتا ہے رخصت کرنے کے، تو اس حج کے بعد بھی آپ ﷺ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اس حج کو "حج الاسلام" بھی کہتے ہیں۔
اتقو اللہ: اللہ سے ڈرو کہ تقویٰ ہی تمام اوامر پر آنے اور تمام نواہی سے بچنے کے لئے اکسیر ہے۔
وَأَطِيعُوا أُمَرَاءَكُمْ تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ: اپنے امیروں کی اطاعت کرو اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے، علماء نے لکھا ہے کہ جب امیر کی اطاعت شرعی طریقے سے نافذ ہو جائے تو اب جائز امور میں اس کی اطاعت ضروری ہے البتہ ناجائز بات کا اگر وہ امیر حکم دے تو اس کی بات ماننا جائز نہیں ہوگی اس بات پر علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ نے اجماع نقل کیا ہے۔
اس حدیث سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ جب شرائطِ امارت کے ساتھ امیر بنا دیا جائے تو اب اس کی امارت سے بغاوت یا منازعت جائز نہیں جب تک کہ اس امیر کی طرف سے کفر بواح (یعنی ظاہری کفر) سامنے نہ آجائے۔
سنن ترمذی ابواب الصلوٰۃ (باب صلوٰۃ الجمعة) و آخره جه احمد 8/ 22223
اب ذرا اس کے بارے میں عرض کرتا ہوں کہ اجماع اس پر کیسے ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو صحیح طریقے سے امیر بنائے گئے تھے، ظاہر ہے صحابہ کرام نے ان کو بنایا ہوا تھا۔ اس کے باوجود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب پوچھا لوگوں سے کہ اگر میں تمہیں غلط کاموں کا بتاؤں اور یہ کروں وہ کروں تو پھر کیا کرو گے؟ تو ان میں سے ایک صاحب نے اٹھ کر کہا کہ ہم تلوار سے آپ کو سیدھا کر لیں گے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شکر ادا کیا کہ یا اللہ شکر ہے کہ میرے ساتھیوں میں ایسے لوگ ہیں جو مجھے حق پر قائم رکھنے کی کوشش کریں گے۔ تو اس سے پتہ چلا کہ ناجائز بات کو تو کسی کی بھی نہیں ماننا چاہیے، اور اس کی ایک حدیث شریف بھی ہے اس کے لیے: "لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ" مخلوق کی ایسی اطاعت جو کہ جس سے خالق کی نافرمانی ہو، جائز نہیں ہے۔
پس پتہ چلا کہ اصل میں دیکھو نا، ہر مسلمان کو صحیح کام کرنا چاہیے اور غلط کام سے بچنا چاہیے۔ تو جو انفرادی کام ہے وہ تو ہر ایک اس طرح کرتا ہے، لیکن جو اجتماعی کام ہے اس میں کسی امیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو وہ اجتماعی طور پر ایسا کام ہوتا ہے۔ اور ایسی چیزیں ہوتی ہیں جیسے مثال کے طور پر بعض مباحات ہوتی ہیں، مباحات سے مراد یہ ہے جیسے مثال کے طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ٹریفک کے جو قوانین ہیں۔ اب اگر کوئی امیر ٹریفک کے قوانین بنا دے، اور ہر ایک کہہ دے کہ چونکہ یہ شرعی امر نہیں ہے لہٰذا میں اس کو نہیں مانتا، تو مجھے بتاؤ حکومت چل سکتی ہے؟ ظاہر ہے کوئی کس طرف جائے گا، کوئی کس طرف جائے گا۔ تو اگرچہ امرِ مباح ہے، لیکن لوگوں کے فائدے کے لیے ہے۔ تو اس کے لیے امیر کی اطاعت لازم ہے۔ اگر آپ نہیں کریں گے تو وہ نقصان ہو جائے گا، اس پہ سزا بھی ہو سکتی ہے، تعزیر ہو سکتی ہے۔ تو یہ جو چیز ہے کہ انتظامی امور کے لیے چونکہ امیر کی ضرورت ہے، تو امیر کی اطاعت لازم ہے، مباح امور میں، دنیاوی امور میں، اور ان شرعی امور میں جو جائز ہیں۔ باقی جو شرعی امور ناجائز ہیں، اس میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے۔
البتہ اس کے خلاف یورش کرنے کا، بغاوت کرنے کا، یہ ذرا معاملہ علماء کرام نے اس پر لکھا ہے کہ جس وقت تک کفرِ کلی کا وہ نہ ہو جائے، اس وقت تک اس کے خلاف بغاوت کرنا جائز نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دوسرا جو آئے گا وہ کونسا آئے گا؟ وہ کیا کرے گا؟ تو خواہ مخواہ ملک انتشار کا شکار ہو جائے گا، اور جو رہی سہی چیزیں ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گی۔ لہٰذا اس وجہ سے جب تک کفرِ بواح نہ ہو، اس وقت تک جائز امور میں ان کی بات ماننی چاہیے، ناجائز میں نہیں ماننی چاہیے، لیکن بغاوت نہیں کرنی چاہیے۔ یہ ایک اصول بن گیا۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.