حجۃ الوداع کا پیغام: تقویٰ، عبادات اور حکومتی قوانین کی پابندی

درس نمبر 101، جلد نمبر 1، باب 6 : تقویٰ کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • رسول اللہ ﷺ کے حجۃ الوداع (حجۃ الاسلام) کے خطبے کی بنیادی ہدایات۔
    • تقویٰ، نماز، روزہ اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے ذریعے جنت کا حصول۔
      • امراء اور حکمرانوں کی اطاعت کی شرعی حدود اور شرائط۔
        • مخلوق کی اطاعت میں خالق کی نافرمانی کی سختی سے ممانعت (لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ)۔
          • حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ اور حق بات پر قائم رہنے کی تلقین۔
            • اجتماعی، دنیاوی اور مباح امور (جیسے Traffic قوانین) میں مفادِ عامہ کے پیشِ نظر امیر کی اطاعت کا لازمی ہونا۔
              • مسلم حکمران کے خلاف خروج اور بغاوت کی ممانعت اور اس کے لیے 'کفرِ بواح' (صریح کفر) کی شرط۔
                • ملک و قوم کو انتشار اور طوائف الملوکی سے بچانے کی اہمیت۔

                  الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

                  الْحَدِيثُ الْخَامِسُ: وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ صُدَيِّ بْنِ عَجْلَانَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ: "اتَّقُوا اللَّهَ، وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ، وَصُومُوا شَهْرَكُمْ، وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ، وَأَطِيعُوا أُمَرَاءَكُمْ، تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ فِي آخِرِ كِتَابِ الصَّلَاةِ، وَقَالَ: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

                  حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا ڈر رکھو، پانچوں نمازیں ادا کرو، رمضان المبارک کے مہینے کے روزے رکھو، اپنے مال سے زکوٰۃ ادا کرو، اور اپنے امیروں کی، اگر معصیت کا حکم نہ دیں، اطاعت کرو اور اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ اس کو امام ترمذی نے کتاب الصلاۃ کے آخر میں روایت کیا اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

                  حجۃ الوداع کے خطبہ میں چند باتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں فرمایا، حجۃ الوداع کو حجۃ الوداع اس لیے کہتے ہیں کہ وداع کا معنی ہوتا ہے رخصت کرنے کے، تو اس حج کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تھے۔ اس حج کو حجۃ الاسلام بھی کہتے ہیں۔

                  "اتَّقُوا اللَّهَ" یعنی اللہ سے ڈرو کہ تقویٰ میں، تقویٰ ہی تمام اوامر پر انے اور تمام نواہی سے بچنے کے لیے اکثیر ہے۔ "وَأَطِيعُوا أُمَرَاءَكُمْ، تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ"، اپنے امیروں کی اطاعت کرو، اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ علماء کرام نے لکھا ہے کہ جب امیر کی اطاعت شرعی طریقے سے نافذ ہو جائے تو اب جائز امور میں اس کی اطاعت ضروری ہے۔ البتہ ناجائز بات، اگر وہ امیر حکم دے تو اس بات کا ماننا جائز نہیں ہوگی۔ اس بات پر علامہ نوری رحمۃ اللہ علیہ نے اجماع نقل کیا ہے۔ اس حدیث سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ جب شرائطِ امامت کے ساتھ امیر بنا دیا جائے تو اب اس کی امارت سے بغاوت اور منازعت جائز نہیں، جب تک کہ اس امیر کی طرف سے بواح، کفرِ بواح یعنی ظاہر کفر سامنے نہ آجائے۔

                  اب ذرا اس کے بارے میں عرض کرتا ہوں کہ اجماع اس پر کیسے ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو صحیح طریقے سے امیر بنائے گئے تھے، ظاہر ہے مطلب صحابہ کرام نے ان کو بنایا ہوا تھا۔ اس کے باوجود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب پوچھا لوگوں سے کہ اگر میں تمہیں غلط کاموں کا بتاؤں اور یہ کروں وہ کروں تو پھر کیا کرو گے؟ تو ان میں سے ایک صحابی نے اٹھ کر کہا کہ ہم تلوار سے آپ کو سیدھا کر لیں گے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شکر ادا کیا کہ یا اللہ شکر ہے کہ تیرے، میرے ساتھیوں میں ایسے لوگ ہیں جو مجھے حق پر قائم رکھنے کی کوشش کریں گے۔ تو اس سے پتہ چلا کہ یعنی ناجائز بات کو تو کسی کی بھی نہیں ماننی چاہیے، اور اس کی ایک حدیث شریف بھی ہے اس کے لیے: "لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ" مخلوق کی ایسی اطاعت جو کہ جس سے خالق کی نافرمانی ہو، جائز نہیں ہے۔

                  پس پتہ چلا کہ اصل میں دیکھو نا ہر مسلمان صحیح کام کرنا چاہیے اس کو کرنا چاہیے اور غلط کام سے بچنا چاہیے۔ تو جو انفرادی کام ہے وہ تو ہر ایک اس طرح کرتا ہے، لیکن جو اجتماعی کام ہے اس میں کسی امیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو وہ اجتماعی طور پر ایسا کام ہوتا ہے۔ اور ایسی چیزیں ہوتی ہیں جیسے مثال کے طور پر بعض مباحات ہوتی ہیں، مباحات سے مراد یہ ہے جیسے مثال کے طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ Traffic کے جو قوانین ہیں۔ اب اگر کوئی امیر Traffic کے قوانین بنا دے، اور ہر ایک کہہ دے کہ چونکہ یہ شرعی امر نہیں ہے لہٰذا میں اس کو نہیں مانتا، تو مجھے بتاؤ حکومت چل سکتی ہے؟ ظاہر ہے کوئی کس طرف جائے گا، کوئی کس طرف جائے گا۔ تو اگرچہ امرِ مباح ہے، لیکن لوگوں کے فائدے کے لیے ہے۔ تو اس کے لیے امیر کی اطاعت لازم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ نہیں کریں گے تو وہ نقصان ہو جائے گا اس پہ سزا بھی ہو سکتی ہے، تعزیر ہو سکتی ہے۔ تو یہ، یہ جو چیز ہے کہ مطلب اہ... انتظامی امور کے لیے چونکہ امیر کی ضرورت ہے، تو امیر کی اطاعت لازم ہے، مباح امور میں، دنیاوی امور میں، اور ان شرعی امور میں جو جائز ہیں۔ باقی جو شرعی امور ناجائز ہیں اس میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے۔

                  البتہ اس کے خلاف یورش کرنے کا، بغاوت کرنے کا، یہ ذرا معاملہ علماء کرام نے اس پر لکھا ہے کہ جس وقت تک کفر، کفرِ کلی کا مطلب وہ جو ہے نا وہ نہ ہو جائے، اس وقت تک اس کے خلاف بغاوت کرنا جائز نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دوسرا جو آئے گا وہ کونسا آئے گا؟ وہ... وہ... مطلب وہ کیا کرے گا؟ تو خوامخواہ ملک انتشار کا شکار ہو جائے گا، اور جو رہی سہی چیزیں ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گی۔ لہٰذا اس وجہ سے جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ جب تک کفرِ بواح نہ ہو اس وقت تک جو ہے نا وہ مطلب یہ ہے کہ جائز امور میں ان کی بات ماننی چاہیے، ناجائز میں نہیں ماننی چاہیے، لیکن بغاوت نہیں کرنی چاہیے۔ یہ ایک اصول بن گیا۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔

                  وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.


                  تجزیہ اور خلاصہ:

                  بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)

                  سب سے جامع عنوان: امراء کی اطاعت کے شرعی اصول اور بغاوت کی ممانعت متبادل عنوان: حجۃ الوداع کا پیغام: تقویٰ، عبادات اور حکومتی قوانین کی پابندی

                  اہم موضوعات:

                  رسول اللہ ﷺ کے حجۃ الوداع (حجۃ الاسلام) کے خطبے کی بنیادی ہدایات۔

                  تقویٰ، نماز، روزہ اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے ذریعے جنت کا حصول۔

                  امراء اور حکمرانوں کی اطاعت کی شرعی حدود اور شرائط۔

                  مخلوق کی اطاعت میں خالق کی نافرمانی کی سختی سے ممانعت (لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ)۔

                  حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ اور حق بات پر قائم رہنے کی تلقین۔

                  اجتماعی، دنیاوی اور مباح امور (جیسے Traffic قوانین) میں مفادِ عامہ کے پیشِ نظر امیر کی اطاعت کا لازمی ہونا۔

                  مسلم حکمران کے خلاف خروج اور بغاوت کی ممانعت اور اس کے لیے 'کفرِ بواح' (صریح کفر) کی شرط۔

                  ملک و قوم کو انتشار اور طوائف الملوکی سے بچانے کی اہمیت۔

                  خلاصہ: اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی حجۃ الوداع کی ایک جامع اور اہم حدیثِ مبارکہ کی تشریح فرمائی ہے۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے بیان فرمایا کہ تقویٰ اختیار کرنا اور بنیادی عبادات (نماز، روزہ، زکوٰۃ) کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مسلمان حکمرانوں کی جائز امور میں اطاعت بھی جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔ آپ نے شریعت کا یہ بنیادی اصول واضح کیا کہ جب تک حکمران کسی ناجائز کام یا معصیت کا حکم نہ دے، اس کی بات ماننا فرض ہے؛ تاہم اللہ کی نافرمانی پر مبنی کسی بھی حکم کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ مزید برآں، حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا کہ روزمرہ کے انتظامی اور مباح امور جیسے Traffic قوانین وغیرہ پر عمل کرنا شرعاً ضروری ہے تاکہ معاشرہ منظم رہے۔ آپ نے یہ بھی واضح کیا کہ حکمران کے کسی غلط فعل کی وجہ سے اس کے خلاف بغاوت کرنا اس وقت تک ناجائز ہے جب تک اس سے صریح کفر (کفرِ بواح) سرزد نہ ہو، کیونکہ بغاوت سے ملک میں انتشار پیدا ہوتا ہے جو زیادہ بڑے نقصان کا سبب بنتا ہے۔ آخر میں آپ نے دعائے خیر پر بیان کا اختتام فرمایا۔


                  حجۃ الوداع کا پیغام: تقویٰ، عبادات اور حکومتی قوانین کی پابندی - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور