مسجدِ حرام کی تولیت، کفار کی سازشیں اور ان کا عبرتناک انجام

درس نمبر: 325، سورۃ الانفال ، آیات: 34 تا 37

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • مسجدِ حرام کی تولیت (دیکھ بھال) کے حقیقی حقدار
  • بیت اللہ کے پاس کفار کا جاہلانہ طریقہِ عبادت
  • راہِ خدا سے روکنے کے لیے کفار کی مالی سازشیں اور ان کی ناکامی
  • پاک اور ناپاک کی تمیز اور اللہ تعالیٰ کی تکوینی حکمتیں

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (34) وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ (35) اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَ (36) لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ ؕ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ (37)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ

ترجمہ: اور بھلا ان میں کیا خوبی ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے جبکہ وہ لوگوں کو مسجدِ حرام سے روکتے ہیں،

حاشیہ: یعنی اگرچہ مذکورہ بالا دو وجہ سے ان پر دُنیا میں کوئی عام عذاب تو نہیں آیا ، مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ لوگ عذاب کے مستحق نہیں ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ کفر و شرک کے علاوہ ان کی ایک خرابی یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کو مسجدِ حرام میں عبادت کرنے سے روکتے ہیں ، جیسا کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واقعے میں پیچھے گذر چکا ہے ۔ (دیکھئے اس سورت کا ابتدائی تعارف) لہٰذا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے صحابہ مکہ مکرمہ سے نکل جائیں گے تو ان پر جزوی عذاب آئے گا ، جو بعد میں فتح مکہ کی صورت میں سامنے آیا ، اور پھر آخرت میں ان کو مکمل عذاب ہوگا ۔

ترجمہ: حالانکہ وہ اُس کے متولی نہیں ہیں ۔ متقی لوگوں کے سوا کسی قسم کے لوگ اُس کے متولی نہیں ہو سکتے ، لیکن ان میں سے اکثر لوگ (اس بات کو) نہیں جانتے ﴿34﴾

اصل میں جیسے ہوتا ہے نا کہ ایک ہوتی ہے ظاہری چیز اور ایک ہوتی ہے اصل چیز، بعض دفعہ ظاہر میں جو کچھ نظر آتا ہے، اصل میں وہ کچھ نہیں ہوتا۔ مطلب جیسے مستحق خانہ کعبہ کی خدمت کے وہ لوگ تھے جو متقی تھے، ایمان والے تھے، کیونکہ خانہ کعبہ خدا کا گھر ہے۔ تو جو خدا کو پوجتے ہیں اور بتوں کو نہیں پوجتے، تو وہ اس کے متولی ہو سکتے ہیں اور اس کے مستحق ہو سکتے ہیں۔ لیکن چونکہ ان لوگوں نے اس کو آبا و اجداد کے ساتھ جوڑا تھا، تو جو چیزیں انہوں نے مطلب کیں، تو اس کے لحاظ سے وہ بن گئے تھے، اور وہ لوگوں کو روکتے تھے۔ تو فرمایا کہ یہ ان کا بہت بڑا مطلب وہ ہے، عذاب کے مستحق ہیں اس وجہ سے۔ لیکن وہ ظاہری عذاب ان کے اوپر، یعنی کھلم کھلا، اس لیے نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان تھے۔ لہٰذا جب یہ حضرات نکل جائیں گے تو پھر اس کے بعد ان پر عذابِ جزوی آ سکتا ہے، پھر بعد میں کلی بھی آ سکتا ہے۔

ترجمہ: اور بیت اللہ کے پاس ان کی نماز سیٹیاں بجانے اور تالیاں پیٹنے کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ لہٰذا (اے کافرو!) جو کافرانہ باتیں تم کرتے رہے ہو ، ان کی وجہ سے اب عذاب کا مزہ چکھو ﴿35﴾ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ اپنے مال اس کام کے لئے خرچ کر رہے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکیں ۔

حاشیہ: جنگ بدر کے بعد قریش کے بچے کھچے سرداروں نے چندہ جمع کرنا شروع کیا تھا کہ اس سے ایک بڑی جنگ کی تیاری کریں ۔ یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی ۔

ترجمہ: نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ لوگ خرچ تو کریں گے ، مگر پھر یہ سب کچھ ان کے لئے حسرت کا سبب بن جائے گا ، اور آخر کار یہ مغلوب ہو جائیں گے ۔ اور (آخرت میں) ان کافر لوگوں کو جہنم کی طرف اکٹھا کر کے لایا جائے گا ﴿36﴾ تاکہ اللہ ناپاک (لوگوں) کو پاک (لوگوں) سے الگ کر دے ، اور ایک ناپاک کو دوسرے ناپاک پر رکھ کر سب کا ایک ڈھیر بنائے ، اور اس ڈھیر کو جہنم میں ڈال دے ۔ یہی لوگ ہیں جو سراسر خسارے میں ہیں ﴿37﴾

یعنی اللہ تعالیٰ کی تکوینی حکمتیں لوگوں کو سمجھ نہیں آتیں۔ اللہ تعالیٰ ڈھیل بھی دیتے ہیں، گرفت بھی فرماتے ہیں، کب ڈھیل دیتے ہیں، کب گرفت فرماتے ہیں، اللہ پاک نے اپنے پاس رکھا ہوتا ہے۔ لہٰذا لوگ سمجھ نہیں رہے ہوتے کہ ہمیں ڈھیل دی جا رہی ہے یا ہمیں پکڑا جا رہا ہے، یا ہم اپنی مرضی کے مطابق کام کر سکتے ہیں۔ ہاں البتہ جو، یعنی خبر ہے، یعنی اخبارِ صادقہ جو پیغمبر دیتا ہے، جو اس پر یقین کر لیں اور اس کے مطابق عمل کر لیں، وہ اپنے آپ کو بچا دیتے ہیں اور اللہ پاک ان کو نواز دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ پورے قرآن میں اس طرح ہی چلتا رہا ہے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

مسجدِ حرام کی تولیت، کفار کی سازشیں اور ان کا عبرتناک انجام - درسِ قرآن - پہلا دور