اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ!فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
اَلْحَدِيْثُ الرَّابِعُ:وَعَنْ أَبِيْ طَرِيْفٍ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ حَلَفَ عَلٰى يَمِيْنٍ، ثُمَّ رَأٰى، ثُمَّ رَأٰى غَيْرَهَا خَيْرًا مِّنْهَا، فَلْيَأْتِ التَّقْوٰى".
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے: جو شخص قسم اٹھاتا ہے، پھر اس سے کوئی اور چیز کو زیادہ بہتر پاتا ہے، تو وہ بہتر کام کرے۔
مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی کہتا ہے میں نے یہ کام نہیں کرنا۔ تو ایک تو اس میں بالکل ظاہر ایک صحیح بات ہوتی ہے، جیسے نماز پڑھنا ہے، روزہ رکھنا ہے، زکوٰۃ دینا ہے، حج کرنا ہے، تو وہ تو سوال ہی نہیں پیدا ہو سکے گا کوئی کرے، وہ تو اللہ کا حکم ہے۔ تو کوئی قسم کھا بھی لے تو اس سے کوئی فرق تو... وہ صرف قسم ہی... وہ ظاہر ہے توڑے گا اور اس کا کفارہ دے گا۔ لیکن ایسی چیزیں ہوتی ہیں بعض دفعہ کہ سمجھ میں نہیں ہوتیں، تو انسان اپنے اندازے کے مطابق قسم کھاتا ہے کہ میرے لیے یہ بہتر ہے۔ بعد میں پتہ چل جائے کہ بہتر یہ نہیں ہے، بہتر یہ دوسری چیز ہے۔ اس وقت اس دوسری چیز کا، اس... اس حدیث شریف سے جو بظاہر اس... ہمیں سبق ملتا ہے، تو وہ تو یہ ہے کہ اگر ہمیں کوئی بہتر چیز، مزید بہتر چیز مل جائے، تو ہمیں وہ قسم نہیں پورا کرنا چاہیے، بلکہ اس کا کفارہ دینا چاہیے۔
اس طرح، یہ فرمایا کہ: جو شخص قسم کھائے پھر اس سے کوئی اور چیز کو بہتر پائے تو بہتر کام کرے۔ اس بات پر فقہاء کا اتفاق ہے کہ اطاعت کی قسم کو پورا کرنا چاہیے اور معصیت والی قسم کو پورا کرنا جائز نہیں ہے۔ جیسے کہ روایات میں آتا ہے:"فَرَأٰى غَيْرَهَا خَيْرًا مِّنْهَا، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَّمِيْنِهِ، وَلْيَفْعَلْ".
کیا معصیت کی نذر ماننے کے بعد پوری نہ کرنے پر کفارہ ہے یا نہیں ہے؟ تو اس میں فقہاء کے مختلف مذاہب ہیں۔ مثلاً امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس پر کوئی کفارہ نہیں آئے گا۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، اس میں معصیت کو دیکھیں گے کہ وہ معصیت لِعَیْنِھَا ہوگا یا لِغَیْرِھَا ہوگا۔ اگر لِعَیْنِھَا، یعنی اسی کے لیے ہے، مثلاً قتل، زنا وغیرہ، تو اس کو پورا کرنا جائز بھی نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کفارہ ہوگا۔ اور اگر وہ لِغَیْرِھَا ہو، مثلاً وہ کہے کہ میں عید کے دن، ایامِ تشریق میں روزہ رکھے۔ تو اس صورت میں اس کو پورا کرنا تو جائز نہیں ہوگا مگر اس صورت میں کفارہ آئے گا۔
یعنی وہ ایک واقعی معصیت ہے۔ تو اس میں اس کو تو پورا ہی نہیں کرنا، اور لیکن اس کا کفارہ نہیں ہوگا۔ اور دوسرا یہ ہے کہ اس طرح ہے کہ اس کو یعنی، گویا کہ ایک وجہ سے اس کو روک دیا گیا ہے۔ مطلب Special Case ہے۔ تو جیسے ایامِ تشریق میں... ویسے تو روزہ رکھنے کا حکم ہے نا؟ کہ روزہ رکھنا چاہیے، چاہے وہ فرض، فرض ہو جیسے رمضان کا ہے، یا پھر نفل کی کوئی نیت کر لے۔ تو اس کو پورا کرنا پھر لازمی ہے۔ لیکن اگر وہ رکاوٹ پہلے سے ایک موجود ہے، کہ وہ نیت کی ہی نہیں جا سکتی، جیسے ایامِ تشریق میں روزہ رکھنا ہے۔ تو پھر جو ہے نا مطلب ہے کہ... یعنی عام طور پر جیسے... جیسے زنا اور قتل تو کسی بھی وقت میں جائز نہیں ہے نا؟ تو اس کو اگر کوئی قسم کھائے گا تو وہ نہیں کرے گا، اس کا کفارہ نہیں ہے۔ لیکن دوسری جو ہے نا، مطلب ہے وہ لغو قسم میں شمار ہوگا۔
اور جبکہ یہ جو ہے نا یہ چیز چونکہ ممکن تو ہے دوسرے حالات میں، صرف ایک Special Case میں روک دیا گیا ہے، تو اس کا یہ بات ہے کہ اس کو پورا تو نہیں کرے گا، لیکن اس کا کفارہ لازم آئے گا۔
صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب ندب من حلف یمینا فرای غیرھا خیرا منھا، رواہ النسائی، وابن ماجہ ایضا۔
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ.
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: قسم کا شرعی حکم، کفارہ اور معصیت کی اقسام: حدیث و فقہ کی روشنی میںمتبادل عنوان: نیکی میں بہتری اور غلط قسم توڑنے کے شرعی احکام
اہم موضوعات:
قسم توڑنے اور کفارہ ادا کرنے سے متعلق حدیثِ نبوی ﷺ کی تشریح۔
نیکی اور اطاعت کی قسم کے مقابلے میں معصیت (گناہ) کی قسم کا حکم۔
قسم اور نذر کے بارے میں فقہاء (امام مالکؒ، امام شافعیؒ، اور امام ابو حنیفہؒ) کے مذاہب اور آراء کا بیان۔
معصیت لِعَیْنِھَا (بذاتِ خود گناہ، جیسے قتل یا زنا) اور معصیت لِغَیْرِھَا (کسی عارضی شرعی رکاوٹ کی وجہ سے منع، جیسے ایامِ تشریق کے روزے) میں بنیادی فرق۔
لغو قسم کی حقیقت اور کفارے کا وجوب۔
خلاصہ:اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے ایک حدیثِ مبارکہ کی تشریح کی ہے جس میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اگر انسان کوئی قسم کھا لے اور بعد میں اسے کوئی دوسرا راستہ یا عمل اس سے زیادہ بہتر اور خیر والا نظر آئے، تو اسے چاہیے کہ اپنی قسم توڑ کر کفارہ ادا کرے اور وہ بہتر کام سرانجام دے۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے فقہِ حنفی کی روشنی میں گناہ (معصیت) پر کھائی گئی قسم اور نذر کی تفصیلی وضاحت فرمائی ہے۔ آپ نے بتایا کہ اگر قسم کسی ایسے گناہ کی ہو جو بذاتِ خود حرام ہے (معصیت لعینہا جیسے زنا یا قتل)، تو اسے توڑنے پر کوئی کفارہ نہیں ہوتا۔ البتہ، اگر وہ فعل اصلاً نیکی ہو لیکن کسی خاص وقت کی وجہ سے منع ہو (معصیت لغیرہا جیسے ایامِ تشریق میں روزہ رکھنا)، تو ایسی قسم کو پورا تو نہیں کیا جائے گا لیکن اس کا کفارہ ادا کرنا لازم ہوگا۔ گفتگو کے دوران روزمرہ زندگی کے حوالے اور فقہی اصولوں کو نہایت احسن انداز میں بیان کیا گیا ہے۔