گزشتہ قوموں کا انجام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت
درس نمبر: 297، سورۃ الاعراف، آیات: 99 تا 104
اللہ کی ڈھیل اور غفلت کا انجام
تاریخ اور پچھلی قوموں سے عبرت
بنی اسرائیل اور فرعون کا تاریخی پس منظر
فرعون کی سرکشی اور حضرت موسیٰؑ کی آمد
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ (99) اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ (100) تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآىٕهَا ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ (101) وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ (102) ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ (103) وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ (104)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: (اگر ایسا ہے) تو (یہ یاد رکھیں کہ) اللہ کی دی ہوئی ڈھیل سے وہی لوگ بے فکر ہو بیٹھتے ہیں جو آخر کار نقصان اٹھانے والے ہوتے ہیں ﴿99﴾ جو لوگ کسی زمین (کے باشندوں کی ہلاکت) کے بعد اُس کے وارث بن جاتے ہیں، بھلا کیا اُن کو یہ سبق نہیں ملا کہ اگر ہم چاہیں تو اُن کو (بھی) اُن کے گناہوں کی وجہ سے کسی مصیبت میں مبتلا کر دیں؟ اور (جو لوگ اپنی ضد کی وجہ سے یہ سبق نہیں لیتے) ہم اُن کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ کوئی بات نہیں سنتے ﴿100﴾ یہ ہیں وہ بستیاں جن کے واقعات ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ان سب کے پاس اُن کے پیغمبر کھلے کھلے دلائل لے کر آئے تھے، مگر جس بات کو وہ پہلے جھٹلا چکے تھے، اُس پر کبھی ایمان لانے کو تیار نہیں ہوئے۔ جو لوگ کفر کو اپنا چکے ہوتے ہیں، اُن کے دلوں پر اللہ اسی طرح مہر لگا دیتا ہے ﴿101﴾ ہم نے ان کی اکثریت میں عہد کی کوئی پاسداری نہیں پائی، اور واقعہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگوں کو ہم نے نافرمان ہی پایا ﴿102﴾ پھر ہم نے ان سب کے بعد موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا، تو انہوں نے (بھی) ان (نشانیوں) کی ظالمانہ ناقدری کی۔ اب دیکھو کہ ان مفسدوں کا انجام کیسا ہوا ﴿103﴾ موسیٰ نے کہا تھا کہ: ”اے فرعون! یقین جانو کہ میں ربّ العالمین کی طرف سے پیغمبر بن کر آیا ہوں ﴿104﴾
یہ جو آیات بار بار آتی ہیں اس سلسلے میں کہ لوگوں پر عذاب آ جاتا ہے ان کے اعمال کی وجہ سے گزشتہ امتوں کے واقعات بیان کیے جا رہے ہیں۔ تو بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک قوم کو تباہ کر دیا جاتا ہے عذاب آ جاتا ہے۔ اس کے بعد انہی کی نسل سے جو بچے ہوتے ہیں مطلب ان سے اور قوم آباد کر لیا جاتا ہے۔ اور ان کو ان سارے واقعات کا پتہ ہوتا ہے۔ مطلب جیسے آ رہے ہوتے ہیں نا جیسے ہمیں اپنے انڈیا کی ہسٹری معلوم ہے کہ کون آیا کون بادشاہ اور کیا ہوا کیا ہوا مطلب ظاہر ہے پڑھتے بھی ہیں اور ویسے بھی۔ تو معلوم ہوتے ہیں ساری چیزیں۔ لیکن وہی والی بات ہے کہ انسان جب دوسرے کو مصیبت میں دیکھتا ہے تو یہ نہیں سمجھتا کہ یہ مجھ پر بھی آ سکتا ہے۔ اپنے بارے میں وہ ہمیشہ optimistic ہوتا ہے۔ اور دوسروں کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ تو ایسے ہیں یہ تو ایسے ہیں۔ تو جن لوگوں کو ڈھیل دی جاتی ہے ڈھیل سے مراد یہ ہے کہ فی الحال ان پر عذاب نہیں لایا جاتا ان کو موقع دیا جاتا ہے۔ تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بچے ہوئے ہیں۔ تو اس طرح تو پہلے والے بھی سمجھتے تھے کہ ہم بچے ہوئے ہیں لیکن اچانک پر عذاب آ گیا۔ ایسی صورت میں گویا کہ ہمیں دوسروں سے عبرت پکڑنی چاہیے۔ کہتے ہیں کہ ایک شخص جو اپنے اوپر تجربہ کرتا ہے پھر عقل سیکھتا ہے تو یہ بے وقوفی کی بات ہے۔ اور جو دوسروں پر جو گزرا ہوتا ہے اس سے سبق سیکھتا ہے تو یہ ہوشیار لوگ ہوتے ہیں۔ مطلب ایک اپنے آپ کو جو سنبھالتے ہیں۔ تو یہاں فرمایا کہ
حاشیہ: بعض لوگوں کو اُن کی بداعمالیوں کے باوجود دُنیا میں خوش حالی اور ظاہری خوشیاں عطا فرماتے ہیں، جس کا مقصد انہیں ڈھیل دینا ہوتا ہے۔ پھر جب وہ اپنی بدعملی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں تو اُن کو ایک دم سے پکڑ میں لے لیا جاتا ہے۔ لہٰذا عیش و عشرت کے عالم میں بھی انسان کو اپنے اعمال سے غافل ہو کر نہیں بیٹھنا چاہئے، بلکہ اپنی اصلاح کی فکر کرتے رہنا چاہئے، اور یہ خطرہ ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اگر ہم راہِ راست سے بھٹکے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل بھی ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے اپنی پناہ میں رکھے۔
اللہ جل شانہ ہمیں ایسے حالات میں عقل سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور وہ کام نہ کریں جس کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو نقصان ہوا ہے۔ اور ہم اپنے آپ کو اس سے بچائیں۔
حاشیہ: یہاں سے آیت نمبر 162 تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے کے کچھ اہم حصے تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ اس سورت میں فرعون کے ساتھ آپ کی گفتگو اور مقابلے اور اُس کے غرق ہونے کی تفصیل، نیز حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات عطا ہونے کے واقعات آرہے ہیں۔ آپ حضرت یعقوب علیہ السلام کی چوتھی پشت میں آتے ہیں۔ سورۂ یوسف میں قرآن کریم نے بتایا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام جب مصر کے وزیر خزانہ بن گئے تو انہوں نے اپنے والدین اور بھائیوں کو فلسطین سے مصر بلا لیا تھا۔ اسرائیلی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی ساری اولاد جو ”بنو اسرائیل“ کہلاتی ہے، پھر وہیں آباد ہو گئی تھی، اور مصر کے بادشاہ نے اُن کو شہری آبادی سے الگ ایک علاقہ دے دیا تھا۔ مصر کے ہر بادشاہ کو فرعون کہا جاتا تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی وفات کے بعد رفتہ رفتہ مصر کے بادشاہوں نے بنی اسرائیل کو اپنا غلام سمجھنا شروع کر دیا۔ اور دوسری طرف تکبر میں آکر انہی میں کا ایک فرعون (جس کا نام جدید تحقیق کے مطابق منفتاح تھا) خدائی کا دعوے دار بن بیٹھا۔ ان حالات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پیغمبر بنا کر اُس کے پاس بھیجا گیا۔ اُن کی پیدائش، مدین کی طرف ہجرت اور پھر نبوت عطا ہونے کے واقعات تو ان شاء اللہ سورۂ طٰہٰ (سورت نمبر 20) اور سورۂ قصص (سورت نمبر 28) میں آئیں گے۔ اس کے علاوہ مزید 35 سورتوں میں آپ کے واقعات کے مختلف حصے بیان فرمائے ہیں۔ لیکن فرعون کے ساتھ اُن کے جو واقعات پیش آئے، ان کا تذکرہ یہاں ہو رہا ہے۔
موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ساری بات ہو رہی تھی۔ کہ موسیٰ علیہ السلام یعقوب علیہ السلام ہی کی اولاد میں تھے یعنی بنی اسرائیل میں تھے اور ان کی چوتھی پشت میں تھے۔ یعنی یوسف علیہ السلام نے سب کو بلا لیا تو وہیں پر آباد ہو گئے۔ تو چوتھے پشت میں مطلب جو ہے نا وہ دوسری طرف جو عزیز مصر والی بات تھی وہ سلسلہ چل رہا تھا تو اس وقت ان بادشاہوں کو فرعون کہا جایا کرتا تھا۔ تو ان کا اپنا نام بھی ہوتا تھا اور بطور جیسے مطلب یہ ہے کہ مغل emperor ہوتے ہیں مغل بادشاہ جس طرح ان کے اپنے وہ نام بھی ہوتے۔ تو یہ فرعون جو تھا جو موسیٰ علیہ السلام کے وقت تھا اس وقت اس کو اس کا نام جاتا منفتاح تھا۔ اس نے اپنے آپ کو رب الاعلی کا وہ دے دیا تھا کہ میں سب سے بڑا رب ہوں۔ اور ان کے لیے پھر موسیٰ علیہ السلام کو پیغمبری عطا فرمائی کہ ان کے پاس جاؤ ان کو نصیحت کرو شاید وہ نصیحت مان جائے۔ پھر وہ پوری تفصیل ان شاءاللہ دوسری سورتوں میں آ رہی ہے۔ اللہ جل شانہ ہمیں ان واقعات سے عبرت لینے کی اور اپنی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔