الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
الْحَدِيثُ الثَّالِثُ: عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى".
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے، اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری، پاک دامنی اور غنیٰ کا سوال کرتا ہوں۔
اس میں سے جو ہر لفظ ہے نا ہدایت، پرہیزگاری، پاک دامنی اور غنیٰ۔ اگر اس کی تفصیلات دیکھنی ہے تو پھر سیرت النبی... مطلب جو ہے نا وہ جو حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی تالیف ہے، اس کو اچھی طرح پڑھا جائے تو آپ کو پتہ چلے کہ ماشاء اللہ! کیا چیزیں اللہ آپ ﷺ نے مانگی ہیں۔
ہدایت وہ چیز ہے جو آپ کی دنیا میں ایک ایک لمحے، ایک ایک پیسے، ایک ایک بال جسم کا اور ساری اولاد، اس کو صحیح طور پر آخرت کے لیے استعمال کرنے کی جو توفیق ہے، وہ ہدایت ہے۔ یعنی اس میں علم بھی آتا ہے، اس میں عمل بھی آتا ہے۔ تو یہ ہدایت ہے۔ اب مجھے بتاؤ اگر کسی کو ہدایت مل جائے، تو پھر اس کو... یعنی کتنی بڑی سعادت مل گئی۔ اور یہی تو ہم مانگتے ہیں سورہ فاتحہ میں: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔ تو ہمیں جو سکھائی گئی دعا، پہلی دعا جو سکھائی گئی جو نماز میں ہر رکعت میں مانگتے ہیں، وہ کون سی دعا ہے؟ وہ یہی ہدایت کی دعا ہے نا۔ تو ہدایت، اس کی دعا ہر مسلمان ہر نماز کی ہر رکعت میں اللہ جل شانہٗ سے درخواست کرتا ہے: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ اے اللہ! تو ہم کو سیدھے راستے پر چلا۔
التقیٰ یعنی تقویٰ۔ تقویٰ وہ چیز ہے کہ جو کسی کو ایمان کی حالت میں مل جائے تو وہ ولی اللہ بن جاتا ہے۔ کیونکہ ایمان کے ساتھ تقویٰ ولایتِ خاصہ ہے۔ اور بدرجہ تقویٰ انسان ولی بنتا ہے۔ یعنی جتنا بڑا متقی اتنا بڑا ولی اللہ ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ۔ تم میں سے زیادہ معزز مکرم اللہ کے نزدیک وہ ہے جو زیادہ متقی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ درجہ بدرجہ۔ تو یہ بھی ایک بہت جامع لفظ ہے۔ اس میں تمام اسلام کی تعلیمات آ جاتی ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی تمام منہیاتِ شرع سے اپنے آپ کو روکنے اور تمام اوامر پر عمل کرنے کے قابل ہو جائے۔
العفاف، پاک دامنی۔ یہ پاک دامنی جو ہے نا، پاک... جس کا دامن پاک ہو۔ یعنی کسی عیب سے پاک ہو۔ پاک دامنی، یعنی ایسے کام جو شریعت میں منع ہیں، اس سے وہ پاک ہو۔ ہاں جی! تو تمام اعمالِ سیئہ سے جو انسان بچتا ہے، جو مطلب یہ ہے خصوصاً کسی سے سوال کرنے اور کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی... حدِ ذلت سے بچ جائے۔ عفاف۔
الغنیٰ، سبحان اللہ! بہت بڑی صفت ہے۔ اللہ ہمیں نصیب فرما دے۔ مخلوق سے بے نیازی۔ یعنی ضروریات کو پورا کرنے کی بقدر روزی میسر آنے کی صورت میں حق تعالیٰ شانہٗ کے سوا کسی کے سامنے بھی اپنی حاجت اور ضرورت کا اظہار نہ کرے۔ اور جو کچھ اللہ کی طرف سے میسر ہو، اسی پر قناعت کرے۔ اسی کو ایک دوسری روایت میں اس طرح فرمایا کہ بہترین دولت مندی، الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ، دل کا غنی ہونا ہے۔ اسی وجہ سے ایک مسنون دعا میں فرمایا: اللَّهُمَّ أَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ اے اللہ! تو مجھے اپنے فضل و انعام سے اپنے ماسوا سے غنی کر دے۔ صحیح مسلم، کتاب الذکر، باب التعوذ من شر ما عمل و شر ما لم یعمل۔ اخرجہ احمد والترمذی وابن ماجہ۔ احسن۔
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: نبی کریم ﷺ کی جامع اور مسنون دعا کی تشریح (ہدایت، تقویٰ، عفاف اور غنیٰ)متبادل عنوان: کامیابی کے چار ستون: ہدایت، پرہیزگاری، پاک دامنی اور مخلوق سے بے نیازی
اہم موضوعات:• مسنون دعا (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى) کا تفصیلی مفہوم۔• ہدایت اور سورہ فاتحہ میں صراطِ مستقیم کی طلب۔• تقویٰ کی فضیلت اور اس کا ولایت کے درجے سے تعلق۔• عفاف (پاک دامنی) کا مفہوم اور گناہوں و ذلت سے بچاؤ۔• غنیٰ کا اصل مقصد (دل کا غنی ہونا) اور اللہ کے سوا مخلوق سے بے نیازی۔
خلاصہ:اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے نبی کریم ﷺ کی ایک انتہائی جامع مسنون دعا کی تشریح فرمائی ہے۔ آپ نے دعا کے چار بنیادی اجزاء — ہدایت، تقویٰ، عفاف (پاک دامنی) اور غنیٰ — کی تفصیل بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہدایت دراصل دنیا کے ہر لمحے اور وسائل کو آخرت کے لیے صحیح استعمال کرنے کی توفیق کا نام ہے۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے مزید فرمایا کہ تقویٰ انسان کو اللہ کا ولی بناتا ہے اور اللہ کے ہاں عزت کا معیار بھی تقویٰ ہی ہے۔ اسی طرح عفاف کا مقصد انسان کو گناہوں اور دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ذلت سے بچانا ہے، جبکہ غنیٰ کا حقیقی مطلب دل کی تونگری اور اللہ کی عطا پر قناعت کرتے ہوئے مخلوق سے پوری طرح بے نیاز ہو جانا ہے۔