سب سے جامع عنوان: نبی کریم ﷺ کی جامع اور مسنون دعا کی تشریح (ہدایت، تقویٰ، عفاف اور غنیٰ)

درس نمبر 99، جلد نمبر 1، باب 6 : تقویٰ کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• مسنون دعا (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى) کا تفصیلی مفہوم۔• ہدایت اور سورہ فاتحہ میں صراطِ مستقیم کی طلب۔• تقویٰ کی فضیلت اور اس کا ولایت کے درجے سے تعلق۔• عفاف (پاک دامنی) کا مفہوم اور گناہوں و ذلت سے بچاؤ۔• غنیٰ کا اصل مقصد (دل کا غنی ہونا) اور اللہ کے سوا مخلوق سے بے نیازی۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم

نبی کریم ﷺ کی ایک جامع دعا (71) الثَّالِثُ: عَنْ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُوْلُ: ”اللّٰهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُكَ الْهُدٰى وَ التُّقٰى وَ الْعَفَافَ وَ الْغِنٰى“ (رواه مسلم) "حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے اے اللہ میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری، پاکدامنی اور غنا کا سوال کرتا ہوں۔‘‘

اس میں سے جو ہر لفظ ہے نا: ہدایت، پرہیزگاری، پاک دامنی اور غنیٰ۔ اگر اس کی تفصیلات دیکھنی ہیں تو پھر "سیرت النبی ﷺ" وہ جو حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی تالیف ہے، اس کو اچھی طرح پڑھا جائے تو آپ کو پتہ چلے کہ ما شاء اللہ! کیا چیزیں اللہ، آپ ﷺ نے مانگی ہیں۔

ہدایت وہ چیز ہے جو آپ کی دنیا میں ایک ایک لمحے، ایک ایک پیسے، ایک ایک بال جسم کا اور ساری اولاد، اس کو صحیح طور پر آخرت کے لیے استعمال کرنے کی جو توفیق ہے، وہ ہدایت ہے۔ یعنی اس میں علم بھی آتا ہے، اس میں عمل بھی آتا ہے۔ تو یہ ہدایت ہے۔ اب مجھے بتاؤ، اگر کسی کو ہدایت مل جائے، تو پھر اس کو کتنی بڑی سعادت مل گئی۔ اور یہی تو ہم مانگتے ہیں سورۂ فاتحہ میں: ﴿اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ ۙ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ەۙ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ﴾۔ تو ہمیں جو سکھائی گئی دعا، پہلی دعا جو سکھائی گئی جو نماز میں ہر رکعت میں مانگتے ہیں، وہ کون سی دعا ہے؟ وہ یہی ہدایت کی دعا ہے نا۔

هدی: ہدایت اسی کی دعا ہر مسلمان ہر نماز کی ہر رکعت میں اللہ جل شانہ سے درخواست کرتا ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ ”اے اللہ تو ہم کو سیدھے راستہ پر چلا۔‘‘

التقیٰ یعنی تقویٰ۔ تقویٰ وہ چیز ہے کہ جو کسی کو ایمان کی حالت میں مل جائے تو وہ ولی اللہ بن جاتا ہے۔ کیونکہ ایمان کے ساتھ تقویٰ ولایتِ خاصہ ہے۔ اور بدرجۂ تقویٰ انسان ولی بنتا ہے۔ یعنی جتنا بڑا متقی، اتنا بڑا ولی اللہ ہے۔ کیونکہ اللہ جل شانہ نے فرمایا: ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقٰكُمْ﴾۔

تم میں سے زیادہ معزز، مکرم اللہ کے نزدیک وہ ہے جو زیادہ متقی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ درجہ بدرجہ۔

تقویٰ، یہ تمام امور کی جڑ ہے یہ ایک جامع لفظ ہے اس میں تمام اسلام کی تعلیمات آجاتی ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی تمام منہیات سے اپنے آپ کو روکے اور تمام اوامر پر عمل کرے۔

العفاف، پاک دامنی۔ یہ پاک دامنی جو ہے نا، "پاک" جس کا دامن پاک ہو۔ یعنی کسی عیب سے پاک ہو۔ پاک دامنی، یعنی ایسے کام جو شریعت میں منع ہیں، ان سے وہ پاک ہو۔ تو تمام اعمالِ سیئہ سے جو انسان بچتا ہے، جو مطلب یہ ہے

خصوصاً کسی سے سوال کرنے اور کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ذلت اٹھانے سے بچے۔عفاف

الغنیٰ، سبحان اللہ! بہت بڑی صفت ہے۔ اللہ ہمیں نصیب فرما دے۔

الغنی: مخلوق سے بے نیازی، یعنی ضروریات پورا کرنے کی بقدر روزی میسر آنے کی صورت میں حق تعالیٰ شانہ کے سوا کسی کے سامنے بھی اپنی حاجت و ضرورت کا اظہار نہ کرے اور جو کچھ اللہ کی طرف سے میسر ہو اسی پر قناعت کرے۔ اسی کو ایک دوسری روایت میں اس طرح فرمایا کہ بہترین دولت مندی ﴿اَلْغِنٰى غِنَى النَّفْسِ﴾، دل کا غنی ہونا ہے۔ اسی وجہ سے ایک مسنون دعا میں فرمایا: ﴿اَللّٰهُمَّ أَغْنِنِيْ بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ﴾ اے اللہ! تو مجھے اپنے فضل و انعام سے اپنے ماسوا سے غنی کر دے۔

صحیح مسلم کتاب الذکر، باب التعوذ من شر ما عمل و شر مالم یعمل، اخرجه احمد و الترمذی و ابن ماجة ايضاً

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔


سب سے جامع عنوان: نبی کریم ﷺ کی جامع اور مسنون دعا کی تشریح (ہدایت، تقویٰ، عفاف اور غنیٰ) - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور