"نعمتوں کا شکر، مال و اولاد کی آزمائش اور محبتِ الٰہی"

درس نمبر: 323، سورۃ الانفال ، آیات: 26 تا 28

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اللہ کی مدد اور نعمتوں پر شکر گزاری

اللہ، رسولؐ اور امانتوں میں خیانت کی ممانعت

مال و اولاد: باعثِ ثواب یا باعثِ وبال؟

محبتِ الٰہی کا معیار اور گمراہی سے بچاؤ

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ (26) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (27) وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ (28)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ

ترجمہ: اور وہ وقت یاد کرو جب تم تعداد میں تھوڑے تھے ، تمہیں لوگوں نے (تمہاری) سرزمین میں دبا کر رکھا ہوا تھا ، تم ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اُچک کر لے جائیں گے ۔ پھر اللہ نے تمہیں ٹھکانا دیا ، اور اپنی مدد سے تمہیں مضبوط بنا دیا ، اور تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق عطا کیا ، تاکہ تم شکر کرو ﴿26﴾ اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے بے وفائی نہ کرنا ، اور نہ جانتے بوجھتے اپنی امانتوں میں خیانت کے مرتکب ہونا ﴿27﴾ اور یہ بات سمجھ لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک آزمائش ہیں،

حاشیہ: مال اور اولاد کی محبت تو انسان کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے ، اور معقول حد تک ہو تو بری بھی نہیں ہے ۔ لیکن آزمائش یہ ہے کہ یہ محبت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر تو آمادہ نہیں کر رہی ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کے ساتھ یہ محبت ہوگی تو نہ صرف جائز ، بلکہ باعثِ ثواب ہے ، لیکن اگر وہ نافرمانی تک لے جائے تو ایک وبال ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کی اس سے حفاظت فرمائیں ۔ آمین

آزمائش ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس میں دونوں صورتیں ممکن ہوں۔ یعنی مثبت بھی، منفی بھی۔ تو چونکہ جو مال اور اولاد ہے، ان میں مثبت صورت بھی ہے، اگر آپ اس کو صحیح طریقے سے استعمال کر لیں تو ثواب ہے۔ اور اولاد کو اگر اچھے کاموں پر لگا دیں، تو ظاہر ہے، ثواب ہے۔ اور ان کی جو محبت ہے، وہ ان کا حق ہے۔ اور مال کی جو حفاظت ہے یہ، سبحان اللہ، یعنی مطلب اللہ کو پسند ہے۔ اب یہ ساری چیزوں کو اگر مثبت انداز میں کیا جائے تو یہ سب چیزیں باعثِ ثواب ہیں۔ لیکن اگر منفی طریقے سے ہو جائے تو پھر یہ باعثِ عذاب ہیں۔ اب مثبت سے منفی کب ہوتا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ کی محبت جو ہے، یہ مثبت ہے۔ اس کے مقابلے میں جو بھی محبت ہو گی، مقابلے میں، اس کے حق میں نہیں۔ مثلاً اللہ پاک نے ہمیں حکم دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کریں۔ تو یہ منفی نہیں ہے کیونکہ ظاہر ہے مطلب اللہ پاک کے منشا کے مطابق ہے۔ سارے پیغمبروں کی محبت، سارے صحابہ کی محبت، بلکہ یوں کہہ سکتے ہیں سارے اولیاء کی محبت۔ کیونکہ اللہ پاک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگا ہے، اَللَّهُمَّ اِنِّي اَسْاَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ۔ تو یہ محبتیں تو چونکہ اللہ پاک سے مانگی گئی ہیں اور اللہ پاک اس پر خوش ہے اور راضی ہوتا ہے۔ تو یہ مثبت ہے۔ لیکن وہ محبت جو اللہ کے حکم سے روکے۔ تو ظاہر ہے، وہ محبت پھر اللہ کی محبت سے بڑھ گئی ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ تو یہ نقصان کی بات ہے۔ وہاں پر معاملہ خراب ہوتا ہے۔ تو اگر اللہ کی محبت کی وجہ سے محبت ہے تو پھر تو مثبت ہے، اور اگر اللہ کی محبت کے مقابلے میں محبت ہے تو پھر وہ منفی ہے۔ تو یہ آزمائش ہے، یہ مطلب پرچہ ہے ہمارا، اس میں دیکھا جائے گا کہ کون کس طرف جا رہا ہے۔

ترجمہ: اور یہ کہ عظیم انعام اللہ ہی کے پاس ہے ﴿28﴾

تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج کل مطلب ایسی چیزیں، دیکھتے ہیں کہ جب انسان کسی غلط سائیڈ کی طرف چلا جاتا ہے تو پھر کیا ہے؟ پھر وہ اس میں بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ پھر اس کے مقابلے میں جو شریعت کے احکامات ہوتے ہیں وہ سمجھ میں نہیں آتے۔ حالانکہ شریعت کے احکامات بڑے کھلے ہوتے ہیں۔ اور کمال کی بات یہ ہے کہ دوسروں کو جب بتاتے ہیں تو بالکل صحیح بتاتے ہیں۔ اپنے طور پر جب ہوتا ہے تو پھر وہ غلط ہوتا ہے۔ اور اس سے بھی آگے superlative degree یہ ہے کہ پھر دوسروں کو بھی غلط بتاتے ہیں۔ تو پھر شیطان کے آلہ کار ہو جاتے ہیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو محفوظ فرما دے اس قسم کے نقصانات سے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

"نعمتوں کا شکر، مال و اولاد کی آزمائش اور محبتِ الٰہی" - درسِ قرآن - پہلا دور