اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
پرہیزگاری کا پہلا دشمن آپ ﷺ نے بطور نصیحت کے فرمایافَوَاللهِ لَا أَخْشٰى عَلَيْكُمُ الْفَقْرَ وَلٰكِنْ أَخْشٰى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلٰى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَتَنَافَسُوْهَا كَمَا تَنَافَسُوْهَا فَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ
پس خدا کی قسم فقر و افلاس کا مجھے تمہارے متعلق کوئی اندیشہ نہیں لیکن میں تو تمہارے بارے میں اس سے ڈرتا ہوں کہ دنیا کے دروازے تم پر کھول دیئے جائیں جیسے کہ پہلی قوموں پر کھول دیئے گئے تھے پھر تم ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اس کی حرص و ہوس میں ایسے ہی گرفتار ہو جاؤ جیسے وہ گرفتار ہوئے اور پھر وہ دنیا تم کو اسی طرح ہلاک کر ڈالے جیسے ان کو ہلاک کر چکی۔
تو پرہیزگاری کا جو دوسرا دشمن ہے، وہ کیا ہے؟ وہ یہی انسان کو جو مال اور یہ اس قسم کی چیزیں مل جاتی ہیں۔ تو پہلا فتنہ تو عورتوں کا بتایا گیا تھا کہ
عورتوں سے بچے رہنا، کہ عورتوں کی محبت یہ بھی پرہیزگاری کے لئے تباہی کا سبب بن جاتی ہے اور یہ محبت قوموں اور حکومتوں کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔ تاریخ کے صدہا واقعات اس کے شاہد ہیں، یہ ایک ناقابلِ انکار و تردید حقیقت ہے کہ سب سے بڑا فتنہ عورت کی اندھی محبت ہے۔
دیکھیں، محبتوں کے اپنے انداز ہوتے ہیں۔ مثلاً مال کی جو محبت ہوتی ہے، وہ ایک persistent محبت ہوتی ہے، جس میں انسان مبتلا ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے غلط چیزوں میں مبتلا ہوتا رہتا ہے۔ لیکن وہ انسان کے اوپر اتنا کھل کے ظاہر نہیں ہوتی۔ مطلب اس کے اعمال اس سے بن رہے ہوتے ہیں غلط، لیکن یہ ہے کہ وہ ایک planning کے ساتھ وہ چل رہا ہوتا ہے، بس وہ روزانہ کا معمول اس کا ہوتا ہے، وہ کر رہا ہوتا ہے۔ تو یہ حب مال ہے، جن کا میں نے ذکر کیا۔
تو اس کا ذکر بھی آپ ﷺ نے فرما دیا، کہ گزشتہ امتوں میں یہ جو ہوا تھا، کہ ان کے اوپر مال کو وافر انداز میں پیش کیا گیا، تو پھر وہ ان کی مصیبتوں میں مبتلا ہو گئے۔ تو یہ مال کی محبت جو ہوتی ہے وہ اس طرح کرتی ہے۔
دوسری جو محبت ہے، وہ ہے حب باہ یعنی باہ کی محبت، شہوات دنیا جو ہمارے ہیں عورتوں کی اور اونچے مکانوں کی اور اس قسم کی چیزوں کی۔ یہ بھی بڑا سبب ہے انسان کو تباہی کی طرف لے جانے میں۔
تو عورتوں کی جو محبت ہے یہ instant ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک پرہیزگار آدمی بھی فوری طور پر اس میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مال پرہیزگار آدمی مال کی محبت میں فوری طور پر مبتلا مبتلا نہیں ہوگا، آہستہ آہستہ مطلب آ سکتا ہے۔ لیکن عورتوں کی محبت میں ایک پرہیزگار آدمی بھی فوری طور پر مبتلا ہو سکتا ہے۔ بے شک بعد میں توبہ کر لے، لیکن مبتلا ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس کے تدارک کے لیے غضِ بصر کا حکم ہے کہ اپنی آنکھوں کو جھکاؤ۔ مردوں کو بھی حکم ہے، عورتوں کو بھی حکم ہے کہ اپنی آنکھوں کو جھکاؤ۔ کیونکہ یہ دروازہ ہے۔ اس دروازے سے جیسے ہی اس کی صورت دل پہ جائے گی، تو خدانخواستہ اگر دل میں نقش ہو گئی تو پھر اس سے بچنا بہت مشکل کام ہے۔ چونکہ آپ لوگوں کی تو خیر سنی سنائی باتیں ہیں، ہماری تو دیکھی دیکھی باتیں، کیونکہ ہمیں تو لوگ خود اپنے واقعات بتاتے ہیں، کہ بڑے بڑے پارسا اس میں پھنس جاتے ہیں۔ اور ایسے پھنس جاتے ہیں۔ کل ہی مجھے WhatsApp آیا تھا۔ تو اس قسم کے مصائب مطلب پھر شروع ہو جاتے ہیں۔
تو یہ چیز اس سے بچنے کے لیے ایک ہی زبردست حل ہے۔ ایک تو یہ بات ہے کہ کبھی بھی اپنے نفس کے اوپر خوش گمانی نہ کرو۔ کبھی بھی۔ یہ نہ سمجھو کہ میں اب محفوظ ہو گیا ہوں۔ ہر شخص کے لیے اپنی اس کے اندر اپنی کمزوری ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں نا پانی جب آتا ہے نا، تو پانی جب آتا ہے تو کمزور جگہ پہ وہ راستہ بناتا ہے۔ تو وہ کمزوری کسی کی کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ کسی کا مال ہو سکتا ہے، کسی کا جمال ہو سکتا ہے، کسی کا عہدہ ہو سکتا ہے۔ مختلف چیزیں ہوتی ہیں۔ تو اب یہ اگر خدانخواستہ کسی کے اندر یہ کمزوری ہے تو پھر۔۔
اب میں اپنا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ ایک دفعہ مجھے اپنے Director نے بلایا۔ اور مجھے کہا کہ آپ subordinate چاہتے ہیں نا، میں نے کہا جی۔ یہ دو ہیں۔ ایک لڑکی ہے اور ایک یہ بدعقیدہ شخص ہے۔ تو ان دونوں میں سے جو آپ لینا چاہیں تو لے لیں۔ میں اتنا حیران ہو گیا کہ میں نے کہا عجیب آزمائش ہے۔ ایک لڑکی ہے اور ایک بدعقیدہ شخص ہے، اب میں کیا لے لوں؟ میں نے کہا حضرت اس میں مجھے Time دے سکتے ہیں؟ کہتے ہیں ہاں ٹھیک ہے آپ Time لے لیں۔ تین دن میں مجھے جواب دیں۔
تو یہاں local جو ہمارے علمائے کرام تھے جن کے ساتھ میرا اٹھنا بیٹھنا تھا ان سے بات کی، تو انہوں نے کہا بدعقیدہ کو نہ لیں۔ مجھے تسلی نہیں ہوئی۔ میں سیدھا چلا گیا اپنے شیخ کے پاس۔ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس۔ میں نے ساری کارگزاری حضرت کے سامنے پیش کی۔ میں نے کہا حضرت اس قسم کی بات ہے۔ فرمایا یہ جو بدعقیدہ شخص ہے اور یہ جو لڑکی ہے، یہ already ملازم ہیں؟ یعنی آپ کی بنیاد پر تو ملازم نہیں بن رہے؟ میں نے کہا نہیں پہلے سے وہ ملازم ہیں، صرف ہمارے student ہیں، اب ہمارے colleague بن جائیں گے تو subordinate بن جائیں گے۔ تو یہ بات ہے۔ فرمایا: پھر وہ بدعقیدہ شخص لے لو۔ اور reason کیا بتائی؟ فرمایا بدعقیدہ شخص اس وقت فتنہ ہوتا ہے، مصیبت ہوتی ہے، کہ جب وہ آپ کا Boss ہو۔ تو اس کا آپ کے subordinate رہنا اچھا ہے، کم از کم دبا تو رہے گا نا، کچھ کر تو نہیں سکے گا۔ کسی اور کے پاس جائے گا تو اس کا اتنا خیال نہیں کرے گا، کنٹرول نہیں کرے گا۔ اور لڑکی اس وقت زیادہ خطرناک ہوتی ہے جب وہ subordinate ہو۔
یعنی واقعی بصیرت بصیرت ہوتی ہے۔ میں نے آ کر فوراً میں نے کہا وہ پھر ظاہر ہے بس وہی ہمارے ساتھ رہا۔ تو الحمدللہ وہ control بھی رہا۔ تو مقصد میرا یہ ہے کہ یہ جو فتنہ ہے نا، بہت سخت فتنہ ہے۔ اس کو لوگ اتنا نہیں سمجھتے۔ اپنے آپ کو پارسا سمجھنے لگتے ہیں، کہ مطلب یہ ہے کہ وہ تو ہم تو ایسے ہیں اور ہم تو ایسے۔ یقین جانیے کسی کا کچھ پتا نہیں، کسی وقت بھی لڑھک سکتا ہے۔ بڑے بڑے لوگ لڑھک گئے ہیں، یہ معمولی باتیں نہیں ہیں کوئی اس طرح سنی سنائی یہ تو ہماری دیکھی ہوئی باتیں ہیں۔ میں واقعات بیان نہیں کر سکتا، مجبوری ہے۔ ورنہ صحیح بات ہے ایسے عجیب عجیب حالات ہیں میں آپ کو کیا بتاؤں۔
تو اس وجہ سے ہمیں بہت محفوظ رہنا چاہیے۔ اور اپنی حفاظت میں کبھی بھی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہیں جمع ہونا چاہیے غیر محرم عورت کے ساتھ، چاہے کچھ بھی ہو۔ ہمارے ڈاکٹر مشتاق صاحب، امریکہ میں MIT میں PhD کر رہے تھے۔ ان کی جو پروفیسر تھی وہ عورت تھی۔ تو میں ان کے ہاں چلا گیا تھا، تو corridor میں جا رہے تھے۔ تو کھلے دروازے میں کھڑے کھڑے ان سے بات کی۔ ان کے پاس جا کے بیٹھے نہیں۔ ان کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ یا corridor میں ان سے بات کرتے یا چلتے چلتے بات کرتے بات کرتے ان کے ساتھ بیٹھ کے نہیں۔ میں نے کہا سبحان اللہ یہ بڑی بات ہے۔
تو مقصد یہ ہے کہ آ ہم لوگوں کو اپنی حفاظت کرنی چاہیے۔ شیطان تو ہمارے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ وہ تو موقع کی تاک میں ہے۔ اور نفس ہمارے ساتھ موجود ہے۔ اور نفس اس کا ساتھی ہو جاتا ہے۔ تو پھر وہ کچھ بھی کرا سکتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرما دے۔ ایسے فتنوں سے اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرما دے۔
اب دیکھیں نا، اگرچہ یہ میں نے کل کے لیے رکھا تھا، لیکن یہ ہے کہ ان شاء اللہ تشریح تو کل کریں گے، لیکن یہ ہے کہ اس کے لیے ایک جامع دعا ہے۔ اور وہ دعا کیا ہے؟
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدٰى وَالتُّقٰى وَالْعَفَافَ وَالْغِنٰى۔
اور وہ کیا ہے؟ میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری، پاکدامنی، اور غنا کا سوال کرتا ہوں۔ یہ سارے وہ مطلب اس میں آ گئے۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: پرہیزگاری کے دشمن: مال کی حرص، فتنۂ نسواں اور نفس کی کمزوریاںمتبادل عنوان: نامحرم سے اختلاط اور دنیاوی حرص: اسباب، نقصانات اور احتیاطی تدابیر
اہم موضوعات:
پرہیزگاری کے دو بڑے دشمن: حبِ مال اور عورتوں کا فتنہ۔
امتِ مسلمہ پر دنیا کے دروازے کھلنے اور مال کی کثرت کے نقصانات (حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں)۔
مال کی محبت اور عورتوں کی محبت (instant fitnah) کے اثرات میں بنیادی فرق۔
فتنۂ نسواں سے بچنے کے لیے غضِ بصر (نگاہیں نیچی رکھنے) کی شرعی اہمیت۔
اپنے نفس کی پارسائی پر کبھی خوش گمانی نہ کرنے کی تنبیہ۔
ماتحت (Subordinate) کے انتخاب کے حوالے سے مولانا اشرف علی صاحبؒ کی بصیرت افروز رہنمائی۔
نامحرم کے ساتھ تنہائی سے بچنے کے عملی اصول (امریکہ میں MIT کے طالب علم کی احتیاط کا واقعہ)۔
فتنوں سے حفاظت کے لیے جامع مسنون دعا (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى) کی تلقین۔
خلاصہ:اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے پرہیزگاری کو نقصان پہنچانے والے دو بڑے فتنوں—مال کی حرص اور نامحرم عورتوں کے فتنے—پر انتہائی مؤثر انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ آپ نے حدیث مبارکہ کے حوالے سے بتایا کہ نبی کریم ﷺ کو اپنی امت پر مال کی کثرت اور اس کی حرص کا سب سے زیادہ اندیشہ تھا۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا کہ مال کی محبت انسان کو آہستہ آہستہ گمراہ کرتی ہے، جبکہ عورتوں کا فتنہ اتنا فوری اور شدید ہوتا ہے کہ بڑے بڑے پارسا بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں، اسی لیے اسلام نے غضِ بصر کا حکم دیا ہے۔ آپ نے نصیحت فرمائی کہ انسان کو کبھی اپنے نفس پر خوش گمان نہیں ہونا چاہیے۔ اپنی عملی زندگی اور امریکہ میں پڑھنے والے ایک طالب علم کے واقعات سنا کر آپ نے نامحرم سے تنہائی اور ماتحت کے حوالے سے احتیاطی تدابیر بیان کیں اور آخر میں حفاظت کی مسنون دعا سکھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ہدایت، تقویٰ، پاکدامنی اور غنا طلب کرنے کی ترغیب دی۔