اطاعتِ خدا و رسول ﷺ : حقیقی زندگی اور ہماری ذمہ داریاں

درس نمبر: 322، سورۃ الانفال ، آیات: 20 تا 25

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

احکامِ الٰہی سے غفلت: بے عمل انسان جانوروں سے بدتر

طلبِ حق کی اہمیت: ہدایت صرف سچے متلاشی کو ملتی ہے

دین پر عمل: پُرسکون اور حقیقی زندگی کی ضمانت (اور نیکی میں جلدی)

معاشرتی ذمہ داری: برائی کو نہ روکنے کا اجتماعی وبال

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ (20) وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ (21) اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ (22) وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ (23) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ (24) وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (25)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ اور اُس کے رسول کی تابع داری کرو ، اور اس (تابعداری) سے منہ نہ موڑو ، جبکہ تم (اللہ اور رسول کے احکام) سن رہے ہو ﴿20﴾ اور اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو کہتے تو ہیں کہ ہم نے سن لیا ، مگر وہ (حقیقت میں) سنتے نہیں ہیں ﴿21﴾ یقین رکھو کہ اللہ کے نزدیک بدترین جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے ۔﴿22﴾

حاشیہ: پچھلی آیت میں سننے سے مراد سمجھنا ہے ، اور مطلب یہ ہے کہ کافر لوگ کانوں سے تو سننے کا دعویٰ کرتے ہیں ، مگر سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ اس لحاظ سے وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں ، کیونکہ بے زبان جانور اگر کسی کی بات کو نہ سمجھیں تو اتنی بری بات نہیں ہے ۔ اُن میں یہ صلاحیت پیدا ہی نہیں کی گئی ، اور نہ اُن سے یہ مطالبہ ہے ۔ لیکن انسانوں میں تو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی گئی ہے ، اور اُن سے یہ مطالبہ بھی ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر کوئی راستہ اپنائیں ۔ اگر وہ سمجھنے کی کوشش نہ کریں تو جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔

ترجمہ: اور اگر اللہ کے علم میں ان کے اندر کوئی بھلائی ہوتی تو وہ اُن کو سننے کی توفیق دے دیتا ، لیکن اب (جبکہ ان میں بھلائی نہیں ہے) اگر اُن کو سننے کی توفیق دے بھی دے تو وہ منہ موڑ کر بھاگ جائیں گے ۔﴿23﴾

حاشیہ: بھلائی سے یہاں مراد حق کی طلب اور جستجو ہے ، اور جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ، سننے سے مراد سمجھنا ہے ۔ اس طرح اس آیت میں یہ اہم نکتہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ حق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق اُس کو دیتا ہے جس کے دل میں حق کی طلب ہو ۔ اگر کسی میں حق کی طلب ہی نہ ہو ، اور وہ غفلت کی حالت میں اس طرح زندگی گزار رہا ہو کہ بس جو کچھ میں کر رہا ہوں ، ٹھیک کر رہا ہوں ، اور مجھے کسی سے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے ، تو اوّل تو وہ حق بات کو سمجھنے ہی سے محروم رہتا ہے ، اور اگر سمجھ بھی جائے تو اُس کا نوٹس ہی نہیں لیتا ، اور حق سے بدستور منہ موڑے رہتا ہے ۔

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی دعوت قبول کرو ، جب رسول تمہیں اُس بات کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے ۔

حاشیہ: اس مختصر جملے میں بڑی عظیم حقیقت بیان فرمائی گئی ہے ۔ اوّل تو اسلام کی دعوت اور اُس کے احکام ایسے ہیں کہ اگر اُن پر تمام انسان پوری طرح عمل کرنے لگیں تو اسی دُنیا میں وہ پُرسکون زندگی کی ضمانت دیتے ہیں ۔ عبادات کے علاوہ ، جو روحانی سکون کا بہترین ذریعہ ہیں ، اسلام کے تمام معاشرتی ، معاشی اور سیاسی احکام دُنیا کو نہایت خوشگوار زندگی فراہم کر سکتے ہیں ۔ دوسری طرف زندگی تو اصل میں آخرت کی ابدی زندگی ہے ، اور اُس کی خوشگواری تمام تر اسلامی احکام کی پیروی پر موقوف ہے ۔ لہٰذا اگر کسی کو اسلام کا کوئی حکم مشکل بھی محسوس ہو ، تو اُسے یہ سوچنا چاہئے کہ میری خوشگوار زندگی کا دارو مدار اس پر ہے ۔ جس طرح انسان زندگی کی خاطر بڑے سے بڑے اور مشکل آپریشن کو منظور کر لیتا ہے ، اسی طرح شریعت کا ہر وہ حکم جس میں محنت یا مشقت معلوم ہوتی ہو ، یا نفسانی خواہشات کی قربانی دینی پڑتی ہو ، اُس کو بھی خندہ پیشانی سے منظور کرنا چاہئے ، کیونکہ اس کی حقیقی زندگی کا دارو مدار اس پر ہے ۔

ترجمہ: اور یہ بات جان رکھو کہ اللہ انسان اور اُس کے دل کے درمیان آڑ بن جاتا ہے ،

حاشیہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے دل میں حق کی طلب ہوتی ہے ، اگر اُس کے دل میں کبھی گناہ کا تقاضا پیدا ہو ، اور وہ طالب حق کی طرح اللہ تعالیٰ سے رجوع کر کے اُس سے مدد مانگے تو اللہ تعالیٰ اُس کے اور گناہ کے درمیان آڑ بن جاتے ہیں ، اور وہ گناہ کے ارتکاب سے محفوظ رہتا ہے ، اور اگر کبھی غلطی ہو بھی جائے تو اُسے توبہ کی توفیق ہو جاتی ہے ۔ اسی طرح اگر کسی کے دل میں حق کی طلب نہ ہو ، اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہ کرتا ہو تو اگر کبھی اُس کے دل میں نیک خیال آ بھی جائے ، اور وہ اُسے ٹلاتا چلا جائے تو اُسے نیکی کی توفیق نہیں ملتی ، کچھ نہ کچھ اسباب ایسے پیدا ہو جاتے ہیں کہ اُس کے دل میں جو خیال آیا تھا ، وہ کمزور پڑ جاتا ہے ، یا اُس پر عمل کا موقع نہیں ملتا ۔ اسی لئے بزرگوں نے فرمایا ہے کہ جب کسی نیکی کا خیال آئے تو اُسے فوراً کر گزرنا چاہئے ، ٹالنا خطرناک ہے ۔

ترجمہ: اور یہ کہ تم سب کو اسی کی طرف اکٹھا کر کے لے جایا جائے گا ﴿24﴾ اور ڈرو اُس وبال سے جو تم میں سے صرف اُن لوگوں پر نہیں پڑے گا جنہوں نے ظلم کیا ہوگا ،

حاشیہ: اس آیت کریمہ میں ایک اور اہم حکم بیان فرمایا گیا ہے ۔ اور وہ یہ کہ ایک مسلمان کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی ذات کی حد تک شریعت پر عمل کرلے ۔ اُس کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اگر معاشرے میں کوئی برائی پھیل رہی ہے تو اپنی طاقت کی حد تک اُس کو روکنے کی کوشش کرے ۔ اگر لوگ اپنے اس فریضے میں کوتاہی کریں اور اُس برائی کا کوئی وبال آئے تو وہ وبال صرف اُن لوگوں کی حد تک محدود نہیں رہے گا جو اُس بُرائی میں براہِ راست ملوث تھے ، بلکہ جو لوگ اُس برائی کا خود تو ارتکاب نہیں کر رہے تھے ، مگر دوسروں کو اُس سے روکتے بھی نہیں تھے ، وہ بھی اُس وبال کا شکار ہوں گے ۔

ترجمہ: اور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے ﴿25﴾

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے عذاب سے محفوظ فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔

اطاعتِ خدا و رسول ﷺ : حقیقی زندگی اور ہماری ذمہ داریاں - درسِ قرآن - پہلا دور