دنیا کی دلفریبی اور عورتوں کا فتنہ: وجوہات اور تدارک

درس نمبر 97، جلد نمبر 1، باب 6 : تقویٰ کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • دنیا کی حقیقت، اس کی ظاہری خوبصورتی اور ناپائیداری۔
    • بنی اسرائیل کے پہلے فتنے اور عورتوں کے فتنے کا حقیقی مفہوم۔
      • پاکباز عورتوں (صحابیات، ازواج مطہرات اور حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہن) کا ذکر۔
        • عورتوں میں انفعالیت (Receptivity/جلد اثر قبول کرنے) کا مادہ اور اس کا نفسیاتی پہلو (Psychological Analysis)۔
          • عورتوں کو برائی سے بچانے کے لیے نیک اور صالح ماحول فراہم کرنے کی ضرورت۔

            الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

            دنیا دار عورتوں سے پرہیز کرو۔

            الحديث الثاني: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، وَإِنَّ اللّٰهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا، فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ، فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ، فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ فِي النِّسَاءِ».

            حضرت ابوسعید... ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ رسول کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: دنیا شیریں، ہری بھری چیز ہے، اور اللہ نے تم کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا ہے، وہ دیکھ رہا ہے کہ کس طرح کے اعمال تم کرتے ہو۔ پس دنیا اور عورتوں سے بچاؤ... اب اختیار کرو، اس لیے کہ بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں کا تھا۔

            یہ دنیا کے، اندر جو مزے ہیں، اس کی طرف اشارہ ہے کہ اس دنیا کے اندر دلفریبی بہت زیادہ ہے۔ یعنی انسان کا دل اس میں لگ جاتا ہے۔ اور یہ بہت شیریں اور سرسبز ہے۔ جس طرح تر و تازہ پھل، ذائقے میں میٹھا، اور دیکھنے میں خوش رنگ اور دلوں کو لبھانے والا لگتا ہے، یہی حال دنیا کے مال و اسباب کا بھی ہوتا ہے۔ انسان کو یہ بہت ہی خوش رنگ اور دلوں کو لبھانے والی لگتی ہے، تو جس طرح تازہ پھلوں اور کی چند گھنٹوں بعد اس کی تر و تازگی خراب ہو جاتی ہے، تو اسی طرح یہ دنیا کا حال بھی ہے، آج تو بہت ہی سرسبز معلوم ہوتی ہے، مگر جلد ہی اس کی سرسبزی جو ہے نا وہ ختم ہو جاتی ہے۔

            باقی یہ ہے کہ جہاں تک عورتوں کی بات ہے، تو ظاہر ہے یہ بات کی گئی ہے مردوں سے۔ تو اس میں یہ والی بات ہے کہ عورتوں کے ذریعے سے شیطان فتنہ ڈالتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ساری عورتیں خراب ہیں۔ انہی عورتوں میں بڑی پاک عورتیں بھی موجود ہیں، صحابیات وہ بھی عورتیں تھیں، ہماری مائیں ازواج مطہرات آپ ﷺ کی، وہ بھی عورتیں تھیں، آپ ﷺ کی بنات وہ بھی عورتیں تھیں، فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا سیدۃ نساء اہل الجنۃ، وہ بھی عورت تھی۔ لیکن حکم جو کیا جاتا ہے، وہ کثرت پہ کیا جاتا ہے۔

            مطلب ظاہر ہے کہ... جیسے مثال کے طور پر میں کہتا ہوں کسی علاقے کے لوگ بہت ظالم مشہور ہوں تو سارے ظالم نہیں ہوتے، آخر وہ جو ظلم کرتے ہیں کسی پہ کرتے ہیں نا تو وہاں تو وہ لوگ مظلوم ہوتے ہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ جو بات ہے کہ ساری عورتیں ایک جیسی نہیں ہوتیں، لہٰذا آج... لیکن بہرحال خرابی جو ڈالتا ہے مردوں کے اندر، وہ عورتوں کے ذریعے سے بہت زیادہ ڈالا جاتا ہے۔

            اب بھی ذرا اندازہ کر لیں کہ عورتوں کی فساد کو اگر دیکھو، تو جو بے حیائی جس حد تک مطلب عورتیں اپنے ہاتھ سے اپنے آپ... اپنے آپ میں کرتی ہیں، اس کا اندازہ... اندازہ حیران ہو جاتا ہے کہ آخر وہ کرنا کیا چاہتی ہیں؟ تو مطلب یہ ہے کہ... سردی کو بھی نہیں دیکھتیں، گرمی کو بھی نہیں دیکھتیں۔ ہاں جی! تو یہی اصل میں یہ بے حیائی کے سبب سے ہے۔

            پھر دوسری بات جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ، لڑائی جھگڑے میں بنیادی کردار اکثر مطلب عورتوں کی ہوتی ہے۔ گھروں کے اندر جو مطلب لڑائیاں ہوتی ہیں، زیادہ تر مطلب جو ہے نا وہ عورتوں کی وجہ سے ہوتی ہیں، کیونکہ معمولی معمولی چیزوں کو بہت بڑا سمجھ لیتی ہیں۔ اور بڑی بڑی چیزوں کو چھوٹی سمجھ لیتی ہیں۔ یعنی مثال کے طور پر اگر پورا گھر کوئی بنا کر دے دے، تو اس کو نہیں دیکھتی، بلکہ اس کو دیکھتی ہے کہ فلاں جگہ اس میں خراب ہے۔ ہاں جی! اس پر جو ہے نا وہ شور مچا دیتی ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ جو ہے نا شیطان کے لیے بہت جلدی استعمال ہو جاتی ہیں۔

            ہاں البتہ اگر چونکہ ان کے اندر اللہ پاک نے، اس کا میرا خیال میں اصل analysis اگر میں عرض کرنا چاہوں تو یہ ہو گا، کہ ان کے اندر اللہ پاک نے انفعالیت کا مادہ ڈالا ہوا ہے۔ انفعالیت! اب انفعالیت جو ہوتی ہے وہ ایسی چیز ہوتی ہے کہ متاثر ہوتی ہے چیزوں سے۔ اور جلدی متاثر ہوتی ہیں۔ تو اب یہ ہے کہ اگر اچھا ماحول ہو گا تو اچھا تاثر جلدی لے گی، اور اگر برا ماحول ہو گا تو برے ماحول کا اثر جلدی لے گی۔ تو آج کل زیادہ تر اچھا ماحول ہے یا برا ماحول ہے؟

            برا ماحول ہے۔ تو برے ماحول سے جب اثر لے گی تو پھر کیا ہو گی؟ ظاہر ہے جلدی برائی کھینچے گی۔ تو اسی وجہ سے عورتوں کو اچھے ماحول میں لانے کی زیادہ ضرورت ہے۔ اچھے ماحول میں جو ہے نا ان کو لانے کی بہت زیادہ کیونکہ وجہ یہ ہے کہ اگر تھوڑا سا بھی ان کو برے ماحول میں چھوڑ دیا گیا، تو ساری کیے کرائے سارا کچھ مطلب جو ہے نا ختم ہو جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے مطلب جو ہے نا وہ ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ فتنہ جلدی پکڑتی ہیں، تو اس وجہ سے ان کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے مردوں کو کہا۔

            البتہ مردوں میں جو خراب لوگ ہیں، ان کے لیے پھر اور احادیث شریفیں ہیں۔ مطلب ظاہر ہے مطلب وہ اور قرآن پاک، قرآن پاک کی آیات ہیں، تو اس لحاظ سے پھر ان کو کہا جائے گا۔ لیکن یہ بات ہے کہ یہ جو چیز ہے اس میں چونکہ فرمایا گیا عورتوں... یہ اس وجہ سے ہے کہ ان میں انفعالیت کا مادہ ہے۔ اور انفعالیت کے مادے کی وجہ سے برائی سے بھی جلدی متاثر ہو جاتی ہیں، اور شیطان ان پر محنت کر کے جلدی اپنے راہ پہ لگا لیتا ہے، تو اس وجہ سے وہ، مثال کے طور پر دیکھیں نا یہ فرمایا گیا کہ جو عورت خوشبو لگا کے جو ہے نا مطلب... راستے میں جائے گی تو... تو ظاہر ہے مطلب فرشتے ان کے اوپر لعنت کرتے ہیں۔ اب مجھے بتاؤ کہ کون سی عورت ہے جو، بہت کم ایسی ہوں گی جو خوشبو لگا کے باہر نہیں جاتی ہوگی۔ ہاں جی! تو یہ... یہ جو ہے نا یہ اصل میں بات یہ ہے کہ صرف تأثر کی بات بتائی ہے، کہ یہ اثر جلدی لیتی ہیں، تو اگر ان کو اچھے ماحول میں لایا جائے، تو ان سے اثر دور ہو جائے گا۔

            تو ہمیں بجائے اس کے کہ اس پر جو ہے نا وہ یہ وہ کریں، بلکہ اس پر ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم لوگ ان کو اچھے ماحولوں میں لے آئیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب سے راضی ہو جائے اور ہمیں صحیح معنوں میں، صحیح معنوں میں مومنین بنا دے، اور اس کے لیے جن چیزوں سے ہمیں نقصان ہے، ان چیزوں سے بچنے کی ہمیں توفیق عطا فرما دے۔

            وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔


            تجزیہ اور خلاصہ:

            بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)

            سب سے جامع عنوان: دنیا کی دلفریبی اور عورتوں کا فتنہ: وجوہات اور تدارک متبادل عنوان: عورتوں میں انفعالیت کا مادہ اور صالح ماحول کی اہمیت

            اہم موضوعات:

            دنیا کی حقیقت، اس کی ظاہری خوبصورتی اور ناپائیداری۔

            بنی اسرائیل کے پہلے فتنے اور عورتوں کے فتنے کا حقیقی مفہوم۔

            پاکباز عورتوں (صحابیات، ازواج مطہرات اور حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہن) کا ذکر۔

            عورتوں میں انفعالیت (Receptivity/جلد اثر قبول کرنے) کا مادہ اور اس کا نفسیاتی پہلو (Psychological Analysis)۔

            عورتوں کو برائی سے بچانے کے لیے نیک اور صالح ماحول فراہم کرنے کی ضرورت۔

            خلاصہ: اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں دنیا کی دلفریبی اور عورتوں کے فتنے کے موضوع پر نہایت بصیرت افروز گفتگو فرمائی ہے۔ آپ نے واضح کیا کہ دنیا کی خوبصورتی اور اس کے مزے عارضی ہیں اور یہ انسان کے لیے ایک آزمائش ہیں۔ عورتوں کے فتنے کے حوالے سے حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے وضاحت فرمائی کہ اس کا مطلب تمام عورتوں کی برائی ہرگز نہیں ہے، بلکہ ان کے اندر موجود "انفعالیت" (جلد اثر قبول کرنے کی صلاحیت) کا مادہ ہے۔ اگر عورتوں کو برے ماحول میں چھوڑ دیا جائے تو وہ جلد برائی کا اثر قبول کر لیتی ہیں اور شیطان انہیں آسانی سے گمراہی اور بے حیائی کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔ لہٰذا مردوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محتاط رہیں اور اپنی عورتوں کو پاکیزہ اور دین دار ماحول فراہم کریں تاکہ وہ برائی سے محفوظ رہ کر سچی مومنات بن سکیں اور معاشرہ تباہی سے بچ سکے۔


            دنیا کی دلفریبی اور عورتوں کا فتنہ: وجوہات اور تدارک - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور