قدرتِ الٰہی کا ظہور اور حق و باطل کا فیصلہ

درس نمبر: 321، سورۃ الانفال ، آیات: 17 تا 19

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

فتح و نصرت: محض اللہ کی قدرت اور انعام

نبیِ اُمی ﷺ اور قرآن: قدرتِ خداوندی کی کھلی دلیل

وسائل کی کمی: کمزوروں کے ہاتھوں طاقتور دشمن کو شکست

کفار کو انتباہ: کثرتِ تعداد بے سود، اللہ صرف مؤمنوں کے ساتھ

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ ۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ (17) ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ (18) اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْـًٔا وَّ لَوْ كَثُرَتْ ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ (19)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔

ترجمہ: چنانچہ (مسلمانو! حقیقت میں) تم نے ان (کافروں کو) قتل نہیں کیا تھا ، بلکہ انہیں اللہ نے قتل کیا تھا ، اور (اے پیغمبر!) جب تم نے ان پر (مٹی) پھینکی تھی تو وہ تم نے نہیں ، بلکہ اللہ نے پھینکی تھی (9) ، اور (تمہارے ہاتھوں یہ کام اس لئے کرایا تھا) تاکہ اس کے ذریعے اللہ مؤمنوں کو بہترین اجر عطا کرے ۔ بیشک اللہ ہر بات کو سننے والا ، ہر چیز کو جاننے والا ہے ﴿17﴾ یہ سب کچھ تو اپنی جگہ ، اس کے علاوہ یہ بات بھی تھی کہ اللہ کو کافروں کی ہر سازش کو کمزور کرنا تھا ۔ ﴿18﴾

حاشیہ: یہ در حقیقت ایک سوال کا جواب ہے ۔ سوال یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو اپنی قدرت سے دشمن کو براہِ راست ہلاک کرسکتا تھا ، پھر اُس نے مسلمانوں کو کیوں استعمال کیا ، اور کنکریاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے کیوں پھنکوائیں ؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اوّل تو اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ وہ تکوینی اُمور بھی کسی ظاہری سبب کے ذریعے انجام دلواتا ہے ، اور یہاں مسلمانوں کو اس لئے ذریعہ بنایا گیا کہ ان کو اجر و ثواب حاصل ہو ، اور دوسرے وہ کافروں کو بھی یہ دکھانا چاہتا تھا کہ جن سازشوں اور وسائل پر انہیں ناز ہے ، وہ سب اُن لوگوں کے ہاتھوں خاک میں مل سکتے ہیں جنہیں تم کمزور سمجھتے رہے ہو ۔

دیکھیں۔ بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جن سے عقلمند لوگوں کو کم از کم ساری چیز معلوم ہو جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل امی محض تھے۔ یعنی ان پڑھ تھے، کسی سے نہیں پڑھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآن، مطلب اس پر اتار کے اور پھر قرآن کے مفاہیم اور پھر ایسے وہ یعنی علم کے جو وہ دریا بہا دیے کہ بعد میں لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث شریفہ سے کتنے علوم نکالے، تو اب یہ جو بات ہے کہ اگر ایک پڑھے لکھے شخص سے یہ چیز ظاہر ہو جاتی نا، تو یہ اللہ تعالی کی جو قدرت ہے، اس کا ظہور اتنا نہ ہوتا۔ پھر بھی اللہ ہی کرتا، کیونکہ ظاہر ہے جو پڑھا لکھا ہے اس کو بھی اللہ پاک ہی دیتا ہے۔ لیکن لوگوں کی سمجھ کے مطابق لوگ اس سے دوسرا اندازہ لگا سکتے تھے۔ تو اللہ پاک نے ایک امی سے وہ کروایا۔ دوسرا، قرآن عربی میں اتارا گیا اور چیلنج عربوں کو دیا گیا، کہ اس کے مقابل کا کوئی سورت بنا لو، تو وہ اس سے عاجز، ابھی تک عاجز، نہیں کر سکتے۔ تو پتہ چلا کہ اللہ پاک کی قدرت جو ہے وہ ساری چیزوں پہ حاوی ہے۔ تو اللہ تعالی اگر ایک مضبوط لڑاکا قوم سے قریش کو لڑواتے اور پھر ان کو شکست دلواتے، تو لوگوں کا اندازہ یہ ہوتا کہ وہ تو بہت ہی تگڑے لوگ ہیں، بہت ہی مضبوط لوگ ہیں۔ تو یہ ہے کہ جن کو اللہ تعالی نے طاقت پہلے سے دی ہوئی ہو نا، تو اس وقت یہ بات نہیں کھلتی۔ لیکن جو ظاہری وسائل سے کمزور لوگ ہیں، جن کے بارے میں یہ گمان نہیں ہو سکتا تھا کہ یہ ہمیں شکست دے سکتے ہیں۔ ان سے شکست دلوائیں تو پھر بڑی بات ہے۔ مطلب یہ تو اس سے ظاہر ہو جاتا ہے، اللہ جل شانہ کی وہ جو قدرت ہے، ظاہر ہو جاتی ہے۔ تو اللہ پاک نے اپنی قدرت کا ظہور ان کے ذریعے سے کروایا کہ اللہ تعالی ہی سب کچھ کرتے ہیں۔ لیکن دیکھیں کہاں سے کروا لیا۔ تو اس سے وہ ظاہر ہو گیا، اب اگر کسی کو پھر بھی پتہ نہیں لگتا تو پھر یہ ان کی بہت ہی زیادہ یعنی بیوقوفی کی علامت ہے۔ اچھا، تو

ترجمہ: (اے کافرو!) اگر تم فیصلہ چاہتے تھے ، تو لو! اب فیصلہ تمہارے سامنے آگیا ۔ اب اگر تم باز آجاؤ تو یہ تمہارے ہی لئے بہتر ہوگا ، اور اگر تم پھر وہی کام کرو گے (جو اب تک کرتے رہے ہو) تو ہم بھی پھر وہی کام کریں گے (جو اب کیا ہے) ۔ اور تمہارا جتھہ تمہارے کچھ کام نہیں آئے گا ، چاہے وہ کتنا زیادہ ہو ، اور یاد رکھو کہ اللہ مؤمنوں کے ساتھ ہے ﴿19﴾

تو مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے اپنی قدرت دکھا دی۔ اور کافروں کو یہ بتا دیا کہ تم اب باز آ جاؤ اور یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا۔ اور اگر تم ایسا نہیں کرتے، یعنی پھر وہی کام کرتے ہو جو کہ پہلے کیا ہے، تو جیسے ہم نے پہلے کیا، ہم وہی کام پھر دوبارہ بھی کر سکتے ہیں۔ اور یہ زیادہ والی بات پہ آپ نہ جاؤ کہ مطلب ہم زیادہ ہیں تو ہم جیت جائیں گے۔ نہیں، اللہ پاک جن کو جتوانا چاہے گا تو انہی کو جتوائے گا۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو عقلمندی کے ساتھ ساری چیزیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

قدرتِ الٰہی کا ظہور اور حق و باطل کا فیصلہ - درسِ قرآن - پہلا دور