اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
انسان کی شرافت علم و دین پر ہے۔ اس میں پہلی حدیث شریف جو آئی ہے:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ، مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ؟ قَالَ: «أَتْقَاهُمْ». فَقَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ. قَالَ: «فَيُوسُفُ نَبِيُّ اللّٰهِ ابْنُ نَبِيِّ اللّٰهِ ابْنِ نَبِيِّ اللّٰهِ ابْنِ خَلِيلِ اللّٰهِ». قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ. قَالَ: «فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي؟ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا».
إِذَا فَقُهُوا، وَفَقُهُوا بِضَمِّ الْقَافِ عَلَى الْمَشْهُورِ، وَحُكِيَ كَسْرُهَا أَيْ عَلِمُوا أَحْكَامَ الشَّرْعِ۔
حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ سے سوال ہوا: یا رسول اللہ، کریم انسان کون ہے؟ فرمایا: جس میں اللہ کا ڈر زیادہ ہو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہم نے آپ سے یہ نہیں پوچھا، ﷺ سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر یوسف نبی اللہ، بن نبی اللہ، بن نبی اللہ، بن خلیل اللہ، کریم ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہم اس کے بارے میں بھی سوال نہیں کر رہے۔ فرمایا: اچھا تو آپ عرب کے خاندانوں کے بارے میں سوال کر رہے ہو؟ تو یاد رکھو، جو خاندان جاہلیت میں بہتر شمار ہوتے تھے، وہ اسلام میں بھی بہتر سمجھے جائیں گے جب ان میں فقاہت یعنی عقلمندی، فقاہت، عقلمندی موجود ہوگی۔
تو انسان کا، مطلب اس کا پتا ہے انسان کی شرافت خاندانی شرافت پر نہیں بلکہ علمِ دین پر ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے سوال کہ کریم انسان کون ہے؟ اس کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا جو متقی ہو، جتنا جس میں تقویٰ ہوگا اتنی ہی پرہیزگاری ہوگی، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ۔ تم میں سے زیادہ کریم آدمی اللہ تعالیٰ کے نزدیک... ہاں تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والے۔ آپ ﷺ نے یہ ارشاد اس لیے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنے خاندان اور ذاتی شرافت پر فخر کرتے تھے۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ اسلام میں شرافت تقویٰ کے اعتبار سے ہوگی، نہ کہ خاندانی اعتبار سے۔ ہاں جی۔
صحابہ رضی اللہ عنہم کے سوال میں نسبی شرافت کی طرف اشارہ تھا، اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا انسانوں میں سب سے زیادہ شریف و بزرگ یوسف عليه السلام ہیں، جو خدا کے نبی اور خدا کے نبی کے بیٹے اور خدا کے نبی کے پوتے اور خدا کے دوست حضرت ابراہیم عليه السلام کے پڑپوتے ہیں۔ مسلسل چار پشتوں میں نبوت اس سے بڑھ کر دینی، روحانی اور اخلاقی کمال و شرافت اور کیا ہوگی؟
صحابہ رضی اللہ عنہم نے تیسری مرتبہ مدعا کا اعادہ کیا، تو آپ نے فرمایا تیسری بات کی مدعا... یہ ملائکہ کے ساتھ... فرمایا کہ... کہ جن لوگوں کی ذات اور شخصیت میں ذات، زمانہ جاہلیت میں ایسی امتیازی شان و خصوصیات موجود تھیں جس کی وجہ سے وہ معزز و مکرم سمجھے جاتے تھے، وہ اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو اب بھی وہ معزز و مکرم بن جائیں گے۔ فرق یہ ہوگا کہ زمانہ جاہلیت میں ان کی صلاحیتیں اپنی ذاتی اور خاندانی اعتبار سے استعمال ہو رہی تھیں، مگر اسلام قبول کرنے اور دین سیکھنے کے بعد ان کی اب یہ صلاحیتیں اسلام کے لیے استعمال ہوں گی۔
یہ اصل میں چونکہ یہ سوال ان کے اس وقت کے نظام کے متعلق، کافی سمجھانے میں، اس میں ان کو مشکل پیش... بھئی سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی تھی، تو آپ ﷺ نے پہلے تو اصل چیز بتا دی نا کہ مطلب جو ہے نا وہ... تقویٰ ہے۔ پھر مثالاً فرمایا کہ نبی... مطلب یہ ہے کہ ظاہر ہے تقویٰ سب سے زیادہ نبی میں ہوتا ہے نا؟ ہاں جی۔ تو پھر مثالاً فرما دیا کہ آپ کے پاس Target یہ ہے، معیار یہ ہے۔ ہاں جی۔
پھر تیسری بات یہ فرمایا، جو ان کے سوال کا جواب قریب قریب تھا، ان کی سمجھ کے قریب قریب تھا، وہ یہ تھا کہ اگر کوئی نسبی شرافت رکھتا ہے تو وہ کریم بن سکتا ہے، زیادہ کریم بن سکتا ہے، بشرطیکہ اس کی... یہ تو ایک غیر اختیاری چیز ہے نا نسبی شرافت... اس کی اختیاری چیزیں ساتھ مل جائیں، اور اختیاری چیزیں یہ ہیں کہ وہ علم حاصل کرے۔ فقاہت حاصل کر لے۔ ٹھیک ہے نا جی؟
علم و فقاہت، علم و فقاہت، یہ دونوں چیزیں ذرا اچھی طرح سمجھنی چاہئیں۔ علم تو کافر بھی حاصل کر سکتا ہے، مطلب ظاہری علم، الفاظ والے علم۔ لیکن فقاہت جو ہے، یہ ان لوگوں کے لیے ہے جن کا دل بنا ہوتا ہے، نفس Control میں ہو چکا ہوتا ہے اور عقل فراستِ ایمانی سے بھرپور ہوتا ہے۔ اسی کو پھر فقاہت کہتے ہیں۔
وجہ یہ ہے کہ فقاہت کو نقصان پہنچانے والی چیز نفس کی خواہشات ہیں۔ پھر وہ صحیح فیصلہ نہیں کر سکتا۔ ہاں جی۔ اور دل کی خرابی ہے، اگر دل جو ہے نا مطلب دنیا کی محبت میں مبتلا ہو، تو وہ بھی صحیح فیصلہ نہیں کر سکتا۔ غافل دل، یہ بھی صحیح فیصلہ نہیں کروا سکتا۔ کیونکہ ڈر، تقویٰ، یہ کیا چیز ہے؟ وہ تو مطلب یہ ہے کہ جب ڈر ہوگا، تقویٰ ہوگا تو... پھر مطلب جو ہے نا وہ صحیح فیصلہ کر سکے گا نا، اس کی پہلی، پہلی مثال جو دی۔ اور دوسری مثال، غیر اختیاری والی مطلب مثال دی۔ ہاں جی۔
تو تیسرے میں، تیسرے میں دونوں جمع کر دیں۔ تیسرے میں دونوں جمع کر دیں۔ تو اب دیکھ لیں کہ جو نسبی شرافت رکھنے والے تھے، اگر وہ فقاہت... اور علم و فقاہت حاصل کر لیں تو پھر وہ ان کو وہ نسبی شرافت کام آئے گی اور وہ پھر وہ واقعی کریم کہلائیں گے، مطلب جو ہے نا وہ... یہ بات ہے۔
تو اگر اس بات کو ہم سمجھ گئے ہیں، تو میرے خیال میں بہت زبردست چیز سمجھ میں آ گئی، اور وہ یہ ہے کہ جو حضرات صرف نسبی شرافت پر چلتے ہیں، تو وہ غلطی کرتے ہیں اگر وہ ان کے پاس یہ چیز نہیں ہے۔ اور جو چیز... علم و فقاہت رکھنے والے حضرات نسبی شرافت کا خیال نہیں رکھتے، تو وہ بھی غلطی کرتے ہیں کہ جو جن کو اللہ نے دیا ہے تم کون ان کا انکار کرتے ہو؟ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ کہ جن کو اللہ نے دی ہے تم ان کا انکار کیسے کر سکتے ہو؟ یہ بھی تو فقاہت کے خلاف ہے نا۔
کہ جس کو اللہ نے جو چیز دی ہے اس کو تم مانو نا۔ جیسے نبی، انبیاء کرام کو دیے، نبی کی مثال دی ہے نا؟ تو نبی کو دیا تو آپ کہتے ہیں نہیں، نعوذ باللہ میں ذالک میں نبی سے بڑھ کر ہو جاؤں، تو پھر تو مار پڑے گی۔ ہاں جی۔ تو وہ جو ہے نا مطلب وہ فقاہت ہی نہیں ہوگی۔ تو فقاہت ان دو چیزوں کو جمع کرنے کا ہے۔ اور وہ کیا ہے مطلب یہ ہے کہ وہ... یعنی مطلب جو نسبی شرافت ہے اس کو تسلیم کر لو اور جو نسبی شرافت والے ہیں وہ فہم و عقل کے ذریعے سے علم و جو ہے نا فقاہت حاصل کر لیں۔ ہاں جی۔ تاکہ وہ صحیح اس کا استعمال ہو جائے۔ مطلب یہ بات ہے۔
تو یہ بہت جامع، مطلب جو ہے نا وہ جس کو کہتے ہیں نا بات درمیان میں آ گئی۔ اور دیکھو مِن جانبِ اللہ یہ بات ہے کہ صحابہ کرام نے سوال کیسے کیا؟ پھر تین دفعہ سوال ہوا، ایک ہی بات کا۔ ہاں جی۔ تو پھر آپ ﷺ نے کس طریقے سے جواب دیا؟ پہلے تقویٰ کا بتایا، جو اختیاری چیز ہے۔ ہاں جی۔ دوسرا جو ہے نا مطلب یہ کہ وہ... جو غیر اختیاری چیز ہے، اس کا بتایا۔ ہاں جی، مطلب اس کا بتایا۔ پھر ان کو جمع فرما دیا۔ اور اس کے اندر صحیح اپنی بات جو صحیح Solution ہے، وہ سامنے آ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ عطا فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
یہ صحیح بخاری کتاب الانبیاء، بَاب وَاتَّخَذَ اللّٰهُ إِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلًا، وصحیح مسلم کتاب الفضائل، بَاب مِنْ فَضَائِلِ يُوْسُفَ عَلَيْهِ السَّلَام، وَأَخْرَجَهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ، وَابْنُ حِبَّانَ۔
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
یا اللہ تیرا شکر ہے... استغفراللہ...
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: انسان کی حقیقی شرافت: نسب، تقویٰ اور علم و فقاہت کا باہمی تعلق
متبادل عنوان: خاندانی نجابت اور فہمِ دین: احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
اہم موضوعات:
انسان کی حقیقی شرافت اور عزت کا معیار (تقویٰ)۔
حضرت یوسف عليه السلام کی خاندانی اور نبوی شرافت کی مثال۔
جاہلیت کے معزز خاندانوں کا اسلام میں مقام اور فقاہت کی شرط۔
خاندانی نسب (غیر اختیاری) اور علمِ دین و فقاہت (اختیاری) کا امتزاج۔
فقاہت کی حقیقت: نفس پر قابو، دل کی پاکیزگی اور فراستِ ایمانی۔
محض نسب پر فخر کرنے یا کسی کے نسبی فضل کا انکار کرنے کی ممانعت۔
خلاصہ:اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے انسان کی حقیقی شرافت اور عزت کے معیار پر جامع روشنی ڈالی ہے۔ آپ نے حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه کی روایت کردہ حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ سب سے معزز انسان وہ ہے جس میں اللہ کا ڈر (تقویٰ) سب سے زیادہ ہو۔ مزید برآں، خاندانی شرافت اور نسب اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں، جیسا کہ حضرت یوسف عليه السلام کی مثال دی گئی، لیکن یہ خاندانی شرافت اسی وقت حقیقی اور نفع بخش ثابت ہوتی ہے جب اس کے ساتھ علمِ دین اور فقاہت شامل ہو۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے واضح کیا کہ محض ظاہری علم کافی نہیں بلکہ فقاہت کے لیے نفس پر قابو، دل کی پاکیزگی اور فراستِ ایمانی کا ہونا ضروری ہے۔ آپ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ نہ تو محض خاندانی نسب پر فخر کرنا درست ہے اور نہ ہی کسی کی خدا داد خاندانی فضیلت کا انکار کرنا درست ہے؛ بلکہ کامل انسان وہ ہے جس کی نسبی شرافت علم، تقویٰ اور فقاہت کے ساتھ مل کر اسلام کی خدمت میں استعمال ہو۔