اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔اللہ جل شانہٗ بہت بڑے فضل اور احسان والے ہیں۔
وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى:إِن تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
ارشاد باری تعالیٰ ہے، مومنو! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لیے امر فارق پیدا کرے گا۔ یعنی تم کو ممتاز کر دے گا، اور تمہارے گناہ مٹا دے گا، اور تمہیں بخش دے گا، اور خدا بڑے فضل والا ہے۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہم اس پر بات کر رہے تھے کہ مسلمانوں کی پستی کیوں ہے؟ تو یہ بات ہے کہ اگر ہم اللہ سے ڈریں، اور ان احکامات پر عمل کریں جو اللہ پاک نے بھیجے ہیں اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں، تو پھر اللہ جل شانہٗ ہمیں ممتاز کر دے گا۔ جیسے عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اللہ پاک نے ہمیں عزت اسلام کے ذریعے سے دی ہے۔ کسی اور چیز میں ہم عزت نہ ڈھونڈیں، بلکہ اسلام ہی میں ڈھونڈیں۔ پیروی اسلام کی کریں، پھر ہمیں اللہ پاک، اسلام کی جو نعمتیں ہیں، وہ کھول کے دے، کھل کے دے گا۔
اس آیہ کریمہ میں اللہ جل شانہٗ نے تقویٰ پر تین انعامات دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔ فرقان، کفارۂ سیئات اور مغفرت۔
فرقان جو ہے، وہ وہ چیز جو دو چیزوں کے درمیان فرق اور فصل کر دے، اس کو کہتے ہیں۔ اللہ کی مدد کو بھی فرقان کہتے ہیں، کہ جس کے ذریعے سے حق اور باطل میں فرق ہو جاتا ہے۔ غزوۂ بدر کو بھی فرقان کہا گیا ہے کہ اس نے بھی حق اور باطل کو بالکل واضح کر دیا تھا۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ کے نزدیک یہاں فرقان سے مراد اللہ تعالیٰ کی نصرت اور امداد اور حفاظت ایسی ہو کہ دشمن کو کامیابی حاصل نہ ہو سکے۔ تقویٰ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نصرت اور امداد کرتے ہیں۔ ابن زید اور ابن اسحاق نے یہاں بیان کیا ہے کہ فرقان سے مراد عقل و بصیرت ہے جس کے ذریعے سے حق و باطل میں امتیاز آسان ہو جائے۔ کہ تقویٰ اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ فراست و بصیرت عطا فرماتے ہیں جس سے اچھے اور برے میں فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
دیکھو! تقویٰ کا مراد ہی کیا ہے؟ اللہ پاک سے ڈرنا۔ تو اللہ پاک سے ڈرنے کے مقابلے میں کیا چیز ہے؟ غیر اللہ سے ڈرنا۔ تو جو اللہ پاک سے ڈرتا ہے، وہ اللہ کی مانتا ہے۔ ایک بات۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ غیر اللہ سے دبتا نہیں، تو اس کی Immunity برقرار رہتی ہے اور خوف اس پہ طاری نہیں ہوتا۔ نتیجتاً اس کے تمام جو Powers ہیں جسم کے، وہ برقرار رہتے ہیں۔ وہ فیصلہ کرنے میں آزاد ہوتا ہے، پابند نہیں ہوتا۔ مطلب یہ ہے کہ، کسی غیر اللہ کی چیز کی۔ تو اس طریقے سے اس کے ہاتھ پیر کھلے ہوتے ہیں، اور سوچ اور سمجھ اور بصیرت بھی کام کر رہی ہوتی ہے، تو گویا کہ Full supported ہوتا ہے، نتیجتاً اس کو کامیابی ہوتی ہے۔
تو ایک تو یہ بات ہے کہ بصیرت اگر حاصل ہو جائے تقویٰ کے ذریعے سے، اور تقویٰ کے ذریعے سے غیر اللہ کا ڈر ختم ہو جائے، تو یہ رہا بذات خود کامیابی کی طرف لے جانے والے اعمال ہیں، چیزیں ہیں۔
دوسرا انعام کفارۂ سیئات ہے کہ اس سے دنیا میں جو خطائیں، لغزشیں سرزد ہو جاتی ہیں، دنیا میں اس کا کفارہ اور بدل کر دیا جاتا ہے۔ یعنی اس کو ایسے اعمال صالحہ کی توفیق دی جاتی ہے جو اس کی تمام لغزشوں پر غالب آ جاتے ہیں۔
تیسرا انعام یہ ہے کہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کو آخرت کی مغفرت اور اس کے تمام گناہوں کی معافی دی جاتی ہے۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو یہ تینوں نعمتیں نصیب فرمائے۔
تو تقویٰ پر، وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ۔ تقویٰ پر تین انعامات کا وعدہ کیا ہے۔ وہ جزا اور بدلہ کے طور پر ہیں، مگر اللہ تعالیٰ بڑے فضل اور احسان والے ہیں۔ اس کی داد و دہش کسی پیمانے کے ساتھ مقید نہیں ہے، اس کے احسان اور انعام کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ تو تقویٰ پر ان تین انعامات کے علاوہ مزید امیدیں بھی رکھنا چاہیے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ امیدیں رکھنے کا، اچھی امیدیں رکھنے کا اللہ پاک نے خود ہی، اللہ جل شانہٗ نے فرمایا ہے:
أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِيمیں بندے کے گمان کے ساتھ ہوں، جو وہ میرے ساتھ رکھتا ہے۔
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اپنے فضل و کرم سے وہ بنا دے، جیسا کہ وہ ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہم بن جائیں۔ اللہ ہمیں نصیب فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: تقویٰ کے قرآنی ثمرات: فرقان، کفارہِ سیئات اور مغفرتمتبادل عنوان: مسلمانوں کا عروج اور غیر اللہ کے خوف سے آزادی
اہم موضوعات:• مسلمانوں کی موجودہ پستی کا سبب اور اسلام میں عزت کی تلاش۔• تقویٰ کے تین بڑے قرآنی انعامات: فرقان، کفارہِ سیئات اور مغفرت۔• فرقان کا مفہوم (حق و باطل میں امتیاز، نصرتِ الٰہی، اور فراست و بصیرت)۔• تقویٰ کی بدولت انسان کا غیر اللہ کے خوف سے آزاد ہونا اور اس کی جسمانی و روحانی صلاحیتوں (Immunity اور Powers) کی بحالی۔• اللہ تعالیٰ کے وسیع فضل پر یقین اور اس کے ساتھ حسنِ ظن رکھنے کی اہمیت۔
خلاصہ:اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سورۃ الانفال کی روشنی میں تقویٰ کی اہمیت اور اس کے عظیم الشان ثمرات پر مفصل گفتگو فرمائی ہے۔ آپ نے واضح کیا کہ مسلمانوں کی موجودہ پستی کا واحد علاج اللہ سے ڈرنے اور اسلامی احکامات کی مکمل پیروی میں پوشیدہ ہے، کیونکہ حقیقی عزت صرف اسلام میں ہے۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے تقویٰ پر ملنے والے تین انعامات—فرقان (حق و باطل میں تمیز اور نصرت)، کفارہِ سیئات (دنیا میں خطاؤں کا ازالہ)، اور مغفرت (آخرت میں بخشش)—کی نہایت خوبصورت تشریح فرمائی۔ آپ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہ غیر اللہ کے خوف سے آزاد ہو جاتا ہے، جس سے اس کی قوتِ فیصلہ اور صلاحیتیں (Immunity اور Powers) مضبوط رہتی ہیں۔ آخر میں، آپ نے اللہ تعالیٰ کے لا محدود فضل کا ذکر کرتے ہوئے اس کے ساتھ ہمیشہ حسنِ ظن اور اچھی امیدیں وابستہ رکھنے کی تلقین فرمائی ہے۔