اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ،
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
اللہ بہت بڑے فضل و احسان والے ہیں
وَقَالَ اللهُ تَعَالٰی: ﴿إِن تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ﴾ (انفال: 29)
ارشادِ خداوندی ہے۔ ”مؤمنو! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لئے امرِ فارق پیدا کر دیگا یعنی تم کو ممتاز کر دے گا اور تمہارے گناہ مٹا دے گا اور تمہیں بخش دیگا اور خدا بڑے فضل والا ہے۔“
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہم اس پر بات کر رہے تھے کہ مسلمانوں کی پستی کیوں ہے؟ تو یہ بات ہے کہ اگر ہم اللہ سے ڈریں، اور ان احکامات پر عمل کریں جو اللہ پاک نے بھیجے ہیں اپنی زندگی کی تمام چیزوں میں، تو پھر اللہ جل شانہٗ ہمیں ممتاز کر دے گا۔ جیسے عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ پاک نے ہمیں عزت اسلام کے ذریعے سے دی ہے۔ کسی اور چیز میں ہم عزت نہ ڈھونڈیں، بلکہ اسلام ہی میں ڈھونڈیں۔ پیروی اسلام کی کریں، پھر ہمیں اللہ پاک، اسلام کی جو نعمتیں ہیں، وہ کُھل کے دے گا۔
اس آیت کریمہ میں اللہ جل شانہ نے تقویٰ پر تین انعامات دینے کا دعویٰ فرمایا ہے
(1) فرقان
(2) کفارہ سیئات
(3) مغفرت
پہلا انعام: فرقان ہے اور فرقان کہتے ہیں وہ چیز جو دو چیزوں کے درمیان فرق اور فصل کر دے، اللہ کی مدد کو بھی فرقان کہتے ہیں کہ اس کے ذریعہ سے حق اور باطل میں فرق ہو جاتا ہے، غزوہ بدر کو بھی فرقان کہا گیا ہے کہ اس نے بھی حق اور باطل میں فرق کر دیا تھا۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ کے نزدیک یہاں فرقان سے مراد اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد اور حفاظت ایسی ہو کہ دشمن کو کامیابی حاصل نہ ہو سکے تقویٰ کے ذریعہ اللہ نصرت و امداد کرتے ہیں۔
ابن زید، و ابن اسحاق نے کہا یہاں فرقان سے مراد عقل و بصیرت ہے جس کے ذریعہ سے حق و باطل میں امتیاز آسان ہو جائے کہ تقویٰ اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ فراست و بصیرت عطاء فرما دیتے ہیں کہ جس سے اس کو اچھے برے میں فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
دیکھو! تقویٰ کا مراد ہی کیا ہے؟ اللہ پاک سے ڈرنا۔ تو اللہ پاک سے ڈرنے کے مقابلے میں کیا چیز ہے؟ غیر اللہ سے ڈرنا۔ تو جو اللہ پاک سے ڈرتا ہے، وہ اللہ کی مانتا ہے۔ ایک بات۔
دوسری بات یہ ہے کہ وہ غیر اللہ سے دبتا نہیں، تو اس کی Immunity برقرار رہتی ہے اور خوف اس پہ طاری نہیں ہوتا۔ نتیجتاً اس کے تمام جو Powers ہیں جسم کے، وہ برقرار رہتے ہیں۔ وہ فیصلہ کرنے میں آزاد ہوتا ہے، پابند نہیں ہوتا۔ مطلب یہ ہے کہ، کسی غیر اللہ کی چیز کا۔ تو اس طریقے سے اس کے ہاتھ پیر کھلے ہوتے ہیں، اور سوچ اور سمجھ اور بصیرت بھی کام کر رہی ہوتی ہے، تو گویا کہ Full supported ہوتا ہے، نتیجتاً اس کو کامیابی ہوتی ہے۔
تو ایک تو یہ بات ہے کہ بصیرت اگر حاصل ہو جائے تقویٰ کے ذریعے سے، اور تقویٰ کے ذریعے سے غیر اللہ کا ڈر ختم ہو جائے، تو یہ بذات خود کامیابی کی طرف لے جانے والی چیزیں ہیں۔
دوسرا انعام "کفارۂ سیئات" ہے کہ اس سے دنیا میں جو خطائیں، لغزشیں سرزد ہو جاتی ہیں، دنیا میں اس کا کفارہ اور بدل کر دیا جاتا ہے۔ یعنی اس کو ایسے اعمال صالحہ کی توفیق دی جاتی ہے جو اس کی تمام لغزشوں پر غالب آ جاتے ہیں۔
تیسرا انعام یہ ہے کہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کو آخرت کی مغفرت اور اس کے تمام گناہوں کی معافی دی جاتی ہے۔
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو یہ تینوں نعمتیں نصیب فرمائے۔
وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ: تقویٰ پر تین انعامات کا وعدہ کیا گیا۔ وہ جزا اور بدلہ کے طور پر ہے مگر اللہ تعالیٰ بڑے فضل واحسان والے ہیں۔ اس کی داد و دہش کسی پیمانہ کے ساتھ مقید نہیں، اس کے احسان و انعام کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا، تو تقویٰ پر ان تین انعام کے علاوہ مزید امیدیں بھی رکھنی چاہئے۔
اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اچھی امیدیں رکھنے کا اللہ پاک نے خود ہی، فرمایا ہے: اور اللہ پاک اس کے ذریعے سے بہت نوازتے ہیں۔ "أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي""میں بندے کے گمان کے ساتھ ہوں، جو وہ میرے ساتھ رکھتا ہے۔"
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اپنے فضل و کرم سے وہ بنا دے، جیسا کہ وہ ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہم بن جائیں۔ اللہ ہمیں نصیب فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔