"غزوہ بدر: حق و باطل کا فیصلہ کن معرکہ، الٰہی حکمت اور نصرتِ خداوندی"

درس نمبر: 319، سورۃ الانفال ، آیات: 6 تا 10

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

آسان ہدف کی انسانی تمنا اور حق کو ثابت کرنے کی الٰہی حکمت

مسلمانوں کی فریاد اور ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ

فرشتوں کا نزول محض خوشخبری، حقیقی مدد صرف اللہ کی طرف سے

ظاہری اسباب کے بجائے اللہ کے اقتدار اور حکمتِ کاملہ پر کامل یقین

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ (6) وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآىٕفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ (7) لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ (8) اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ مُرْدِفِیْنَ (9) وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَىٕنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ (10)

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔

ترجمہ: وہ تم سے حق کے معاملے میں اس کے واضح ہوجانے کے باوجود اس طرح بحث کر رہے تھے جیسے اُن کو موت کی طرف ہنکا کر لے جایا جا رہا ہو، اور وہ (اُسے) آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں ﴿6﴾ اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ تم سے یہ وعدہ کر رہا تھا کہ دو گروہوں میں سے کوئی ایک تمہارا ہوگا، اور تمہاری خواہش تھی کہ جس گروہ میں (خطرے کا) کوئی کانٹا نہیں تھا، وہ تمہیں ملے، اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے احکام سے حق کو حق کر دکھائے، اور کافروں کی جڑ کاٹ ڈالے ﴿7﴾ تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت کر دے، چاہے مجرم لوگوں کو یہ بات کتنی ناگوار ہو ﴿8﴾ یاد کرو جب تم اپنے ربّ سے فریاد کر رہے تھے، تو اُس نے تمہاری فریاد کا جواب دیا کہ میں تمہاری مدد کے لئے ایک ہزار فرشتوں کی کمک بھیجنے والا ہوں جو لگا تار آئیں گے ﴿9﴾ اور یہ وعدہ اللہ نے کسی اور وجہ سے نہیں، بلکہ صرف اس لئے کیا کہ وہ خوشخبری بنے، اور تا کہ تمہارے دلوں کو اطمینان حاصل ہو، ورنہ مدد کسی اور کے پاس سے نہیں، صرف اللہ کے پاس سے آتی ہے۔ یقیناً اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک ﴿10﴾

یہاں پر جو چیز سامنے آ رہی ہے وہ ہمیں ذرا سمجھنی چاہیے۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ دو گروہوں میں،

حاشیہ: اس سے مراد ابوسفیان کا قافلہ ہے، اور ’’کانٹے‘‘ سے مراد خطرہ ہے۔ قافلے میں مسلح افراد کی تعداد کل چالیس تھی۔ لہٰذا اس پر حملہ کرنے میں کوئی بڑا خطرہ نہیں تھا۔ لہٰذا طبعی طور پر اس پر حملہ کرنا آسان تھا۔

یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ خواہش تو یہ تھی کہ قافلے کے ساتھ مڈبھیڑ ہو نا، جبکہ دوسرا گروہ جو تھا وہ جو لوگ آرہے تھے وہ جو ابو جہل کے اس میں، تو اس میں خطرہ زیادہ تھا۔ تو اصل بات یہ ہے کہ اللہ پاک نے اپنی طرف سے انتظام کیا تھا کہ ان کی مڈبھیڑ ہو بڑے لشکر کے ساتھ اور حق حق ظاہر ہو جائے۔ کیونکہ ایسی حالت میں جبکہ مسلمانوں کی حالت صرف ایک قافلے کے ساتھ مقابلے کی تھی۔ تو ان کے سامنے ایک بڑا لشکر آ جائے جو ان سے کئی گنا زیادہ ہو۔ اور مسلح بھی ہو، ارادے سے بھی آئے ہوں لڑائی کے۔ تو ایسی صورت میں پھر مطلب بظاہر جو اسباب کے رخ سے جیتنے کا امکان تو نہیں ہوتا۔ لیکن اگر اس کے باوجود بھی جیت جائے تو اس کا مطلب ہے کہ معاملہ کوئی اور ہے۔ تو اب دیکھ لیں یہاں پر ایک اور بات بھی سامنے آئی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ پاک نے ہزار فرشتوں کا وعدہ فرمایا کہ میں بھیجوں گا اور لگاتار آئیں گے۔ تو اللہ پاک نے وعدہ تو فرما لیا لیکن حقیقت بھی اللہ پاک نے بتا دی کہ صرف اطمینان کے لیے تھا۔ ورنہ مدد تو اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ مدد جو اللہ کی طرف سے آتی ہے اس کے لیے کوئی dimension متعین ہونا ضروری نہیں ہے۔ وہ آپ کے ہاتھ میں قوت لا سکتا ہے۔ وہ دشمن پر رعب ڈال کے کر سکتا ہے۔ وہ کسی اور ذریعے سے کر سکتا ہے، مطلب وہ اس کے لیے کچھ ظاہری اسباب اتنے زیادہ اہم نہیں ہوتے۔ لیکن بہر حال اللہ پاک چونکہ اسباب کے ذریعے سے کام کرواتے ہیں لہٰذا اطمینان دلانا تھا، خوشخبری بھیجنی تھی۔ اس کے لیے ہزار فرشتوں کا یہ وعدہ ہو گیا۔ یہ مطلب اس میں بڑی بات ہے۔ ورنہ یہ بات حقیقتاً یہی ہے کہ اللہ پاک اقتدار کا بھی مالک ہے اور حکمت کا بھی مالک ہے۔ اقتدار ایسا کہ کوئی اس کے سامنے پر بھی نہیں مار سکتا۔ اور حکمت ایسی کہ کسی کو اس کا پتا ہی نہیں چل سکتا کہ اللہ پاک کی اس کام میں کیا مطلب وہ ہے، وہ ایسی عجیب حکمت ہوتی ہے۔ کہ انسان سمجھتا ہے کہ کام ختم ہو رہا ہے اور وہ اللہ پاک باقی رکھتا ہے۔ اور جس چیز کو بہت زیادہ لوگ سمجھتے ہیں وہ چیز ختم ہو جاتی ہے۔ تو اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ عطا فرمائے اور قرآن پاک کے اندر غور کرنے کی، قرآن کے مضامین کو سمجھنے کی۔ اور پھر جو احکامات ہیں اس میں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ پاک کو راضی کرنے کا جو سامان ہو سکتا ہے وہ کرے اور اللہ پاک ہم سے راضی ہو جائے۔

"غزوہ بدر: حق و باطل کا فیصلہ کن معرکہ، الٰہی حکمت اور نصرتِ خداوندی" - درسِ قرآن - پہلا دور