تقویٰ اور توکل: رزق کی فراخی اور مشکلات کا حل

درس نمبر 94، جلد نمبر 1، باب 6 : تقویٰ کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • رزق کا ضامن اللہ تعالیٰ ہے۔
    • تقویٰ کے دو بڑے فوائد: مخلصی اور غیر متوقع رزق۔
      • حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کا واقعہ اور شانِ نزولِ آیت۔
        • لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِٱللَّهِ کی اہمیت اور اس کا توکل سے تعلق۔
          • رزق کا وسیع مفہوم (دنیاوی و اخروی ضروریات)۔

            الحمدللہ رب العالمین، الصلاۃ والسلام علی خاتم النبیین اما بعد

            فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

            بسم اللہ الرحمن الرحیم۔


            رزق اللہ کے ذمہ ہے

            وَقَالَ اللهُ تَعَالٰی: ﴿وَمَن يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهٗ مَخْرَجًا * وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾ (الطلاق: 2، 3)

            ارشادِ خداوندی ہے۔ ”جو کوئی خدا سے ڈرے گا وہ اس کے لئے (رنج و محن) سے مخلصی کی صورت پیدا کر دے گا اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے وہم و گمان بھی نہ ہو۔“

            عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے لڑکے سالم کو دشمن گرفتار کر کے لے گئے ہیں ان کی ماں سخت پریشان ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تم کو اور تمہارے لڑکے کی ماں کو حکم دیتا ہوں کہ کثرت کے ساتھ ”لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ“ پڑھا کرو دوسری روایت میں آپ ﷺ نے ان کو تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا اور بکثرت ”لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ“ پڑھنے کو بھی فرمایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لڑکا قید سے نکل گیا۔ اور دشمنوں کی چار ہزار بکریاں اور کچھ اونٹوں کو وہ ہنکا کر ساتھ والے کے پاس پہنچ گیا، حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ ﷺ سے جب ان بکریوں اور اونٹوں کے بارے میں مسئلہ معلوم کیا تو اس پر یہ آیت بالا نازل ہوئی۔

            اس آیت بالا میں تقویٰ کی دو برکتیں بیان کی گئی ہے پہلی یہ کہ مصائب اور مشکلات سے اللہ نجات دیگا مفسرین فرماتے ہیں کہ مشکلات سے مراد عام ہے خواہ دنیاوی مشکلات ہوں یا آخرت کی۔

            دوسری برکت یہ بیان کی گئی ہے اللہ اس کو ایسی جگہ سے روزی عطا فرماتے ہیں جہاں سے اس کا خیال و گمان بھی نہیں ہوتا۔ یہاں پر بھی رزق سے مراد دنیا و آخرت دونوں جگہ کا رزق مراد ہے اور رزق سے مراد صرف کھانا پینا نہیں بلکہ ضروریات دنیا کی تمام چیزیں مراد ہے۔

            تو اس سے ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ رزق کے لیے ہم تلاش بہت کرتے ہیں، ہاتھ پاؤں مارتے ہیں، مارنے چاہئیں۔ کوئی غلط بات نہیں ہے۔ محنت کرنی چاہیے، لیکن اس محنت کے اندر قوت کیسے آئے گی؟ وہ ان دو چیزوں سے آئے گی: یعنی تقویٰ سے اور اللہ پر بھروسے سے۔ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِٱللهِ یہ کیا چیز ہے؟ وہ اللہ پر بھروسہ ہے۔

            تو یہ چیز ہمیں کرنی چاہیے کہ اللہ پر بھروسہ ہو، اس کی وجہ سے انسان حرام کام سے بچے گا اور جائز کام کرے گا۔

            اور تقویٰ، جس میں ڈرنا ہے، وہ اس میں بھی یہی بات ہے، تو تقویٰ کی صفت یہی ہے کہ انسان کو اللہ پاک مشکلات سے نکال لیتا ہے، چاہے دنیاوی مشکلات ہوں، چاہے اخروی مشکلات ہوں۔

            اور ساتھ ہی اللہ پاک رزق ایسی جگہ سے عطا فرما دیتے ہیں جہاں سے کسی کو گمان بھی نہیں ہو گا، وہ چاہے دنیاوی رزق ہو، چاہے آخرت کا رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تقویٰ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور کثرت سے ذکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ پاک ہم سے راضی ہو جائے، ہم سے ناراض نہ ہو۔

            سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

            (اختتامِ بیان)


            تجزیہ اور خلاصہ:

            بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)

            سب سے جامع عنوان: تقویٰ اور توکل: رزق کی فراخی اور مشکلات کا حل

            متبادل عنوان: فضیلتِ تقویٰ اور "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِٱللَّهِ" کے ثمرات

            اہم موضوعات:

            رزق کا ضامن اللہ تعالیٰ ہے۔

            تقویٰ کے دو بڑے فوائد: مخلصی اور غیر متوقع رزق۔

            حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کا واقعہ اور شانِ نزولِ آیت۔

            لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِٱللَّهِ کی اہمیت اور اس کا توکل سے تعلق۔

            رزق کا وسیع مفہوم (دنیاوی و اخروی ضروریات)۔

            خلاصہ: اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سورہ طلاق کی آیات کی روشنی میں تقویٰ اور توکل کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔ حضرت والا نے واضح کیا کہ رزق کی تلاش کے لیے محنت کرنا ضروری ہے، لیکن کامیابی اور برکت کا اصل مدار تقویٰ اور اللہ پر بھروسے پر ہے۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ سنایا کہ کس طرح "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِٱللَّهِ" کی کثرت اور تقویٰ کی بدولت ان کا بیٹا دشمن کی قید سے رہا ہوا اور مالِ غنیمت بھی حاصل ہوا۔ آخر میں آپ نے نصیحت فرمائی کہ تقویٰ انسان کو دنیا و آخرت کی تمام مشکلات سے نجات دلاتا ہے اور رزق کے ایسے دروازے کھولتا ہے جس کا انسان کو گمان بھی نہیں ہوتا۔


            تقویٰ اور توکل: رزق کی فراخی اور مشکلات کا حل - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور