مالِ غنیمت کے احکام اور مؤمنین کی صفات
درس نمبر: 318، سورۃ الانفال ، آیات: 1 تا 5
مالِ غنیمت کا اختیار اور باہمی تعلقات کی اصلاح
فہمِ قرآن کے لیے شانِ نزول اور احادیث کی اہمیت
سچے مؤمنین کی صفات اور اُن کے انعامات
اللہ کے فیصلوں میں پوشیدہ حکمت اور اس پر رضامندی
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ ۪وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (1) اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ (2) الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ (3) اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ (4) كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ ۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَ (5)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
سورۂ انفال جو مدنی سورت ہے۔ 75 آیات پر مشتمل اور 10 رکوعات پر۔
وہ آج شروع ہو رہی ہے۔
ترجمہ: شروع اللہ کے نام سے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے (اے پیغمبر!) لوگ تم سے مالِ غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ مالِ غنیمت (کے بارے میں فیصلے) کا اختیار اللہ اور رسول کو حاصل ہے۔ لہٰذا تم اللہ سے ڈرو، اور آپس کے تعلقات درست کرلو، اور اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم واقعی مؤمن ہو ﴿1﴾
حاشیہ: جنگ بدر کے موقع پر جب دشمن کو شکست ہوگئی تو صحابہ کرامؓ تین حصوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔ ایک حصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے آپ کے ساتھ رہا۔ دوسرا حصہ دشمن کے تعاقب میں روانہ ہو گیا، اور تیسرا حصہ دشمن کے چھوڑے ہوئے مالِ غنیمت کو جمع کرنے میں مشغول ہو گیا۔ یہ چونکہ پہلی جنگ تھی، اور مالِ غنیمت کے بارے میں مفصل ہدایات نہیں آئی تھیں، اس لئے اس تیسرے حصے نے یہ سمجھا کہ جو مال اُنہوں نے اکٹھا کیا ہے، وہ انہی کا ہے۔ (اور شاید زمانہ جاہلیت میں معمول ایسا ہی رہا ہوگا) لیکن جنگ ختم ہونے کے بعد پہلے دو گروہوں کو یہ خیال ہوا کہ وہ بھی جنگ میں برابر کے شریک تھے، بلکہ مالِ غنیمت اکٹھا ہونے کے وقت زیادہ اہم خدمات انجام دے رہے تھے، اس لئے اُن کو بھی اس مال میں حصہ دار ہونا چاہئے۔ یہ ایک فطری تقاضا تھا جس کی بنا پر ان حضرات کے درمیان بحث کی بھی نوبت آئی۔ جب معاملہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو یہ آیات نازل ہوئیں جن میں بتا دیا گیا کہ مالِ غنیمت کے بارے میں فیصلے کا مکمل اختیار اللہ اور اُس کے رسول کو ہے۔ چنانچہ بعد میں اسی سورت کی آیت نمبر 41 میں مالِ غنیمت کی تقسیم کے بارے میں مفصل احکام آگئے۔ زیر نظر آیت نے ہدایت دی کہ اگر مسلمانوں کے درمیان کوئی رنجش ہوئی ہے تو اس وضاحت کے بعد اُسے دُور کر کے باہمی تعلقات دُرست کر لینے چاہئیں۔
اب دیکھیے اگر کسی کو شانِ نزول کا پتا نہ ہو قرآن پاک کے، یعنی یہ پتا نہ ہو کہ کس موقع پر یہ آیت اتری ہے تو اس کا صحیح معلوم کرنا بڑا مشکل ہے۔ کیونکہ دیکھیے نا اب یہ بظاہر آپ دیکھیں
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ۔
اب مالِ غنیمت کی بات ہو رہی ہے۔ تو مالِ غنیمت کے بارے میں تو ظاہر ہے پوچھتے ہیں تو
ترجمہ: کہہ دو کہ مالِ غنیمت (کے بارے میں فیصلے) کا اختیار اللہ اور رسول کو حاصل ہے۔
یہاں بات پوری ہو گئی۔
ترجمہ: لہٰذا تم اللہ سے ڈرو، اور آپس کے تعلقات درست کرلو ،
یہ کیسے سمجھ میں آئے گا؟ مطلب اب جب آپ نے سیاق و سباق پڑھ لیا تو پھر فوراً پتا چل گیا کہ چونکہ اس پر ان کا آپس میں اختلاف ہو گیا تھا اور اس اختلاف کو دور کرنے کے لیے یہ بات فرما دی گئی۔ اس وقت صرف اتنا کہنا کافی تھا کہ فیصلہ تم لوگ نہیں کرو گے، فیصلہ اللہ اور رسول کریں گے۔ یعنی تم اپنی بحث کو چھوڑ دو کہ تمہارا کام نہیں ہے۔ کہ جس کا کام ہے وہ کر لے گا۔ تو یہ بات مطلب گویا کہ پکی ٹکی ہو گئی۔ کہ شانِ نزول کے بغیر قرآن کا سمجھنا بہت مشکل ہے۔ تو اس وجہ سے یہ جو لوگ براہِ راست عربی سے سارا کچھ احکام نکالتے ہیں نا، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ یہ احادیث شریف کو درمیان سے نکال کے اگر کوئی معلوم کرنا چاہے تو یہ کام ٹھیک نہیں ہے۔ بغیر ۔۔۔کیونکہ شانِ نزول آپ کو احادیث شریف سے معلوم ہوگا، وہ تو قرآن میں نہیں آئے گا۔ اب دیکھو یہاں پر کیا قرآن میں یہ واقعہ آیا ہوا ہے کہ اس طرح وہ ہو گیا؟ نہیں، یہ تو احادیث شریف سے پتا چلا ہے۔ تو بغیر احادیث شریف کے سمجھے، بغیر احادیث شریف کو پڑھے، سیاق و سباق کو سمجھے قرآن کو سمجھا نہیں جا سکتا۔
ترجمہ: مؤمن تو وہ لوگ ہیں کہ جب اُن کے سامنے اللہ کا ذکر ہوتا ہے تو اُن کے دِل ڈر جاتے ہیں، اور جب اُن کے سامنے اُس کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ آیتیں اُن کے ایمان کو اور ترقی دیتی ہیں، اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں ﴿2﴾ جو نماز قائم کرتے ہیں، اور ہم نے اُن کو جو رزق دیا ہے، اُس میں سے (فی سبیل اللہ) خرچ کرتے ہیں ﴿3﴾ یہی لوگ ہیں جو حقیقت میں مؤمن ہیں۔ اُن کے لئے اُن کے رَبّ کے پاس بڑے درجے ہیں، مغفرت ہے، اور باعزت رزق ہے ﴿4﴾ (مالِ غنیمت کی تقسیم کا) یہ معاملہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے تمہارے ربّ نے تمہیں اپنے گھر سے حق کی خاطر نکالا، جبکہ مسلمانوں کے ایک گروہ کو یہ بات ناپسند تھی ﴿5﴾
حاشیہ: جن لوگوں نے مالِ غنیمت جمع کیا تھا، اُن کی خواہش یہ تھی کہ یہ مال انہی کے پاس رہے، لیکن فیصلہ اُس کے برعکس ہوا، اب اُن کو تسلی دی جا رہی ہے کہ انسان کی ہر خواہش انجام کے اعتبار سے درست نہیں ہوتی۔ اُسے بعد میں پتہ چلتا ہے کہ جو واقعہ اُس کی خواہش کے خلاف ہوا، بہتری اُسی میں تھی۔ اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ابوجہل سے جنگ کرنے کے معاملے میں ہوا۔ مدینہ منورہ سے نکلتے وقت چونکہ صرف ابوسفیان کے قافلے پر حملہ کرنا پیش نظر تھا، اور کوئی باقاعدہ لشکر تیار نہیں کیا گیا تھا، اس لئے جب یہ بات سامنے آئی کہ ابوجہل ایک بڑا لشکر لے کر مقابلے پر آگیا ہے تو بعض صحابہؓ کی خواہش یہ تھی کہ ابوجہل سے جنگ کرنے کے بجائے فی الحال واپس چلے جائیں، کیونکہ اس بے سروسامانی کی حالت میں ایک مسلح فوج کا مقابلہ موت کے منہ میں جانے کے مرادف ہوگا۔ لیکن دوسرے صحابہ نے بڑی پرجوش تقریریں کیں جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے، اور جب آپ کی مرضی معلوم ہوگئی تو سب نے جنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کرلیا، اور بعد میں ثابت ہوا کہ مسلمانوں کا عظیم فائدہ اسی میں تھا کہ اس طرح کفر کی کمر توڑ دی گئی۔
مطلب یہ ہے کہ یہ سمجھایا گیا کہ ضروری نہیں ہے کہ تم جس چیز کو مفید سمجھو وہ تمہارے لیے مفید ہو۔ بلکہ اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے۔ یہ قرآن پاک کی ایک اور جگہ پر بڑے سے واضح انداز میں فرمایا گیا ہے، عَسَى اَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى اَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔ بارہا تم سمجھتے ہو، کسی چیز سے کراہت کرتے ہو وہ تمہارے لیے خیر ہوتا ہے اس میں۔ اور بارہا تم مطلب کسی چیز میں خیر سمجھتے ہو وہ تمہارے لیے اس میں نقصان ہوتا ہے۔ اللہ کو پتا ہے اور تمہیں پتا نہیں۔ تو یہاں پر بھی اس قسم کی بات ہے۔ کہ جو لوگ حق مطلب یعنی ڈھونڈنا چاہتے ہیں، معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ تو ظاہر ہے مطلب اللہ اور اللہ کا حکم اگر معلوم ہو تو بس اس پہ عمل کرنا چاہیے۔ اپنے justification، اپنے وہ interrogation اور اس قسم کی چیزوں پہ پھر وہ نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اگر معلوم نہ ہو اور اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے تو پھر خوب تلاش کر لو پھر صحیح ہے۔ مطلب اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن اگر اللہ کا حکم موجود ہو تو پھر اس کے بعد پھر درمیان میں کوئی اور بات نہیں کرنی چاہیے۔ اور مومنوں کی جو شان کی باتیں بتائی گئیں۔ جو نماز قائم کرتے ہیں، رزق میں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا ہوتا ہے خرچ کرتے ہیں۔ تو ان کے بارے میں فرمایا کہ ان کے رب کے پاس ان کے بڑے درجات ہیں۔ اور مغفرت ہے۔ اور باعزت رزق ہے۔ جو
ترجمہ: (مالِ غنیمت کی تقسیم کا) یہ معاملہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے تمہارے ربّ نے تمہیں اپنے گھر سے حق کی خاطر نکالا، جبکہ مسلمانوں کے ایک گروہ کو یہ بات ناپسند تھی۔
یعنی وہ گروہ جو کہ سمجھتا تھا اور اخلاص کے ساتھ کر رہا تھا، یہ نہیں کہ مطلب، مثلاً ان کی observation یہ تھی کہ اتنے سارے لوگ مقابلہ نہیں کر سکیں گے اور خواہ مخواہ موت کے منہ میں جانے کی بات ہوگی۔ تو ابھی چلے جائیں پھر طاقت کو اکٹھا کر کے وہ کر لیا جائے۔ لیکن اس وقت اللہ پاک کا فیصلہ تھا کہ نہیں، مڈبھیڑ اب ہو جائے۔ تاکہ کفر پر بات کھل جائے کہ اس حالت میں اگر تمہیں شکست دے تو پھر بعد میں تم کیا کر سکو گے۔ صحیح ہے؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔