الحمدللہ رب العالمین، الصلاۃ والسلام علی خاتم النبیین اما بعد
فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
تقویٰ کے بارے میں بات چل رہی تھی۔ خوفِ خدا ایمان کی بنیاد ہے۔
خوف خدا ایمان کی بنیاد ہے
وَقَالَ اللهُ تَعَالٰی: ﴿فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾ (التغابن: 16)
ارشادِ خداوندی ہے: ”سو جہاں تک ہو سکے اللہ سے ڈرو۔“
یہ آیت پہلی آیت کے مطلب کو واضح کر رہی ہے۔
فَاتَّقُوا:
مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی پوری کوشش اور طاقت تقویٰ کو حاصل کرنے میں صرف کرے۔
علامہ آلوسیؒ نے فرمایا کہ جب آیت ”اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهٖ“ نازل ہوئی کہ اللہ سے ایسا تقویٰ اختیار کرو جیسا کہ اللہ کا حق ہے تو صحابہ کرام کو یہ آیت بہت بھاری معلوم ہوئی کہ یہ کس کے بس کی بات ہے کہ تقویٰ کا حق ادا کرے اس پر پھر یہ آیت بالا نازل ہوئی کہ ”فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ“ کہ جتنا تم میں طاقت ہو اتنا تو اللہ سے ڈرو کہ حق تعالیٰ شانہ انسان کو اس کی طاقت اور قدرت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ”لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔“
اب مطلب یہ ہوا کہ حصولِ تقویٰ میں اپنی پوری توانائی اور کوشش کر لو اس سے اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کے حق ادا ہو جائے گا۔
یہی بات تقریباً حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے منقول ہے وہ فرماتے ہیں کہ ”فاتقوا اللہ مااستطعتم“ یہ درحقیقت ”حَقَّ تُقَاتِهٖ“ کی تفسیر و تشریح ہے مطلب یہ ہے کہ معاصی اور گناہوں سے بچنے میں اپنی پوری توانائی اور طاعت صرف کر دے تو حق تقویٰ ادا ہو جائے گا اگر کوئی شخص اپنی پوری توانائی صرف کرنے کے بعد بھی کسی ناجائز کام میں مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ حقوقِ تقویٰ کے خلاف نہیں۔
مطلب ہے کہ انسان پوری طرح وہ کر لے۔ مثال کے طور پر بھئی کہ آپ نے تین چار قسم کے الارم لگائے ہیں اور کوئی اور ہے نہیں جو آپ کو اٹھائے، اس کی وجہ سے آپ کی نماز رہ جائے تو آپ پہ گناہ نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا نا؟ وہ اٹھ کے قضا نماز پڑھ لے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے پوری جتنی استطاعت تھی وہ کر لی، اس کے بعد پھر نہیں ہو سکا تو ظاہر ہے نیند نہیں کھلی تو ایک علیحدہ بات ہے۔ ہاں اگر آپ کی نیند کھل گئی، الارم بند کر دیا تو معاملہ گڑبڑ ہو گیا۔ پھر معاملہ گڑبڑ ہو گیا۔ پھر اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ تو اس کے لیے ترتیب اس طرح بنانی پڑے گی کہ پوری طرح انسان کوشش کر لے۔ پوری طرح انسان کوشش کر لے اور اس کے باوجود بھی اگر کوئی چیز رہ جائے تو پھر ظاہر ہے اس کے بس میں نہیں ہے۔ "لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا" جو انسان کے بس میں نہیں اس پر اللہ پاک نہیں پکڑتے۔ تو یہ بات ہے مراد۔
صحیح بات کرنے کی تلقین
وَقَالَ اللهُ تَعَالٰی: ﴿يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا﴾ (الاحزاب: 70)
ارشادِ خداوندی ہے: ”مؤمنو! خدا سے ڈرو اور بات سیدھی کہا کرو۔“
تقویٰ کے حکم کے بارے میں کثرت کے ساتھ آیات موجود ہیں۔
قَوْلًا سَدِيدًا: اس کی متعدد تفسیریں منقول ہیں۔ ابن عباسؓ نے فرمایا اس کا ترجمہ ہے صحیح بات۔ قتادہؒ نے کہا کہ انصاف کی بات، حسن بصریؒ نے کہا کہ سچی بات، بعض نے کہا سیدھی بات، بعض نے کہا کہ حق تک پہنچنے کا مقصد رکھنے والی بات۔
لفظ سدید: ان تمام کو شامل ہے، اسی وجہ سے علامہ کاشفؒ فرماتے ہیں کہ قول سدید وہ قول ہے جو سچا ہو جھوٹ کا اس میں شائبہ نہ ہو، صواب ہو جس میں خطاء کا شائبہ نہ ہو، ٹھیک بات ہو مذاق و دل لگی نہ ہو، نرم کلام ہو دلخراش نہ ہو۔
یہ میرے خیال میں یہ آخری بات بہت اہم ہے جو اس میں کی گئی ہے: نرم کلام ہو دل خراش نہ ہو۔ کیونکہ "سدید" کا لفظ "شدید" کے قریب قریب ہے نا الفاظ میں، آواز میں۔ تو لوگوں نے سمجھا کہ سختی کے ساتھ بات کرنا، مطلب حق بات کرنا لیکن سختی کے ساتھ کرنا۔ تو یہ نہیں ہے۔ یہ شدید نہیں ہے، سدید ہے۔ سدید کا مطلب، یہاں دیکھیں نا یہاں پر کیا بہت اچھی بات کہی کہ
قولِ سدید وہ ہے جو سچا ہو، جھوٹ نہ ہو، صواب ہو خطا نہ ہو، ٹھیک ہو مذاق نہ ہو، نرم ہو دل خراش نہ ہو۔
یعنی آپ نرمی سے مضبوط بات، سچی پکی بات کسی کو بتا دیں تو یہ کیا ہے؟ یہ ہے قولِ سدید۔ بالخصوص آپ سے اگر کوئی مشورہ کر لے پھر تو بہت ہی لازم ہے۔ مثلاً شادی کوئی کرنا چاہتا ہے آپ سے مشورہ کر لے کہ میں کیسے کروں؟ تو آپ اس کو بہت نرمی کے ساتھ صحیح ترین طریقہ سنت کے مطابق بتا دیں۔ یہ قولِ سدید ہے کہ شادی اس طرح کی جاتی ہے۔ کوئی آپ سے کہہ دے یار پیسے نہیں ہیں قرض میں نے لیا ہوا ہے اب ادا کرنے کی طاقت نہیں ہے تو کیا کروں؟ اور آپ دیکھ رہے ہیں اس کے گھر میں سامانِ تعیش موجود ہے اور صبح پراٹھے اور انڈوں کے ساتھ ناشتہ کر رہے ہیں، تو قولِ سدید کیا ہو گا؟ آپ اس کو نہایت نرمی سے سمجھائیں کہ جب انسان قرض دار ہو تو عیش اس پر بند ہے۔ بس قوتِ لایموت پر زندگی گزارہ کر کے پہلے قرض کو ادا کرے، پھر اس کے بعد جو ہے تو ٹھیک ہے۔ بس یہ قولِ سدید اس کا یہ ہو گا۔ اور اگر آپ نے اس کے اپنے خیال میں کہ اوہ یار یہ ناراض ہو جائے گا، آپ کہہ دیں نہیں وہ ٹھیک ہے جی وہ جب تک انسان کے پاس نہ ہو تو پھر کیا دے، ٹھیک ہے جی مجبوری ہے، یہ قولِ سدید نہیں ہے۔ یہ قولِ سدید نہیں ہے۔
تو یہ بات ہے کہ انسان قولِ سدید کہا کرے اس طریقے سے کہ اس میں بات تو سچی پکی ٹھکی ہو لیکن ہو آرام کے ساتھ، حکمت کے ساتھ، بصیرت کے ساتھ، نرم۔ تاکہ اس پر عمل ہو سکے۔ مقصود عمل کروانا ہے، مقصود کسی کو تنگ کرنا نہیں ہے۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اس پر عمل کی توفیق عطا فرما دے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ
وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۔سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ وَسَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔