سورۂ انفال کا تعارف اور غزوہ بدر کا پس منظر

درس نمبر: 317، سورۃ الانفال

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

کفارِ مکہ کی سازشیں اور دھمکیاں (ہجرت کے بعد مکہ والوں کی عداوت)

قریش کا تجارتی قافلہ (ابو سفیان کا قافلہ اور مسلمانوں کا اقدام)

قافلے پر حملے کے اعتراض کا جواب (جنگی اور دفاعی حالات کی وضاحت)

معرکۂ بدر اور شاندار فتح (ابو جہل کے لشکر سے مقابلہ اور کامیابی)

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

معزز خواتین و حضرات، آج ان شاء اللہ سورۂ انفال شروع کی جا رہی ہے۔ اس سورت کا تعارف یہ ہے کہ

تعارف یہ سورت تقریباً 2 ہجری کے آس پاس مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے، اور اس کے بیشتر مضامین جنگِ بدر اور اس کے واقعات اور مسائل سے متعلق ہیں۔ یہ جنگ اسلام اور کفر کے درمیان پہلے باقاعدہ معرکے کی حیثیت رکھتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح مبین عطا فرمائی، اور قریشِ مکہ کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا۔ چنانچہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات بھی یاد دلائے ہیں، اور مسلمانوں نے جس جاں نثاری کے ساتھ یہ جنگ لڑی اس کی ہمت افزائی کے ساتھ بعض اُن کمزوریوں کی بھی نشان دہی فرمائی ہے جو اس جنگ میں سامنے آئیں۔ اور آئندہ کے لئے وہ ہدایات بھی دی گئی ہیں جو ہمیشہ مسلمانوں کی کامیابی اور فتح و نصرت کا سبب بن سکتی ہیں۔ جہاد اور مالِ غنیمت کی تقسیم کے بہت سے احکام بھی بیان ہوئے ہیں، اور چونکہ جنگِ بدر اصل میں کفارِ مکہ کے ظلم و ستم کے پس منظر میں پیش آئی تھی، اس لئے ان حالات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ سے ہجرت کا حکم ہوا۔ نیز جو مسلمان مکہ مکرمہ میں رہ گئے تھے، ان کے لئے بھی ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ جائیں۔ ہجرت کی وجہ سے میراث کی تقسیم سے متعلق کچھ احکام عارضی طور پر نافذ کئے گئے تھے۔ سورت کے آخر میں اسی وجہ سے میراث کے کچھ مستقل احکام دیئے گئے ہیں۔

جنگ بدر جو ہے، یہ جیسا کہ ابھی کہا گیا کہ یہ پہلی پہلا معرکہ ہے۔ جو قریش مکہ کے ساتھ آیا تھا۔

اس لئے ان کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لئے اس جنگ کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات یہاں پیش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے، تاکہ اس سے متعلق آیات کو اُن کے صحیح پس منظر میں سمجھا جاسکے۔

ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ اسلام، یہ جیسے قرآن تدریج سے آیا ہے۔ یعنی تھوڑا تھوڑا کر کے، تھوڑا تھوڑا کر کے، اس طرح پورے اسلامی احکامات بھی بڑی تدریج کے ساتھ آئے ہیں۔ واقعات آتے تھے، واقعات کے مطابق وہ احکامات آتے تھے۔ تو تربیت ظاہر ہے، اس میں ساتھ ساتھ ہوتی تھی صحابہ کرام کی۔ اس میں وہ یکبارگی سارے احکامات نہیں آئے، بلکہ جتنی جتنی جگہ بنتی گئی اتنے اتنے احکامات آتے گئے۔ اور تکوینی جو حالات ہوتے ہیں ان کے مطابق جو احکامات آتے ہیں، تو وہ اصل میں تربیت کا حصہ ہوتے ہیں۔ یعنی جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے، صلاحیت بڑھتی جاتی ہے، احکامات میں مزید ہے تفصیل آتی جاتی ہے، اور اس کے مطابق تربیت ہو رہی ہوتی ہے۔

مکہ مکرمہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے بعد تیرہ سال مقیم رہے۔ اس دوران مکہ مکرمہ کے کفار نے آپ اور آپ کے جاں نثار صحابہ (رضی اللہ عنہم) کو طرح طرح سے ستانے اور ناقابلِ برداشت تکلیفیں پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہاں تک کہ ہجرت سے ذرا پہلے آپ کو قتل کرنے کا باقاعدہ منصوبہ بنایا گیا، جس کا ذکر اسی سورت میں آنے والا ہے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو کفارِ مکہ مسلسل اس فکر میں رہے کہ آپ کو وہاں بھی چین سے بیٹھنے نہ دیا جائے۔ انہوں نے عبد اللہ بن اُبی کو مدینہ منورہ میں خط لکھا کہ تم لوگوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کے ساتھیوں کو پناہ دی ہے، اب یا تو تم انہیں پناہ دینے سے ہاتھ اٹھالو، ورنہ ہم تم پر حملہ کریں گے۔ (دیکھئے سنن ابوداؤد، کتاب الخراج، باب 23، حدیث نمبر: 3004) انصار میں سے اوس کے قبیلے کے سردار حضرت سعد بن معاذؓ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ گئے، تو عین طواف کے دوران ابوجہل نے ان سے کہا کہ تم نے ہمارے دشمنوں کو پناہ دے رکھی ہے، اور اگر تم ہمارے ایک سردار کی پناہ میں نہ ہوتے تو زندہ واپس نہیں جاسکتے تھے، جس کا مطلب یہ تھا کہ آئندہ اگر مدینہ منورہ کا کوئی آدمی مکہ مکرمہ آئے گا تو اُسے قتل کردیا جائے گا۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں ابوجہل سے کہہ دیا کہ اگر تم ہمارے آدمیوں کو مکہ مکرمہ آنے سے روکو گے تو ہم تمہارے لئے اس سے بھی بڑی رکاوٹ کھڑی کردیں گے، یعنی تم تجارتی قافلے لے کر جب شام جاتے ہو تو تمہارا راستہ مدینہ منورہ کے قریب سے گذرتا ہے۔ اب ہم تمہارے قافلوں کو روکنے اور ان پر حملہ کرنے میں آزاد ہوں گے۔ (دیکھئے صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب 2، حدیث نمبر: 3950) اس کے بعد کفارِ مکہ کے کچھ دستے مدینہ منورہ کے آس پاس آئے، اور مسلمانوں کے مویشی لوٹ کر لے گئے۔ حالات کے اس پس منظر میں ابوسفیان (جو اُس وقت کفارِ مکہ کا سردار تھا) ایک بڑا بھاری تجارتی قافلہ لے کر شام گیا۔ اس قافلے میں مکہ مکرمہ کے ہر مرد وعورت نے سونا چاندی جمع کر کے تجارت میں شرکت کی غرض سے بھیجا تھا۔ یہ قافلہ شام سے سونی صد نفع کما کر واپس آ رہا تھا۔ یہ قافلہ ایک ہزار اونٹوں پر مشتمل تھا، اور پچاس ہزار دینار (گنیوں) کا سامان لا رہا تھا، اور اس کے ساتھ چالیس مسلح افراد اس کی حفاظت پر متعین تھے۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قافلے کی واپسی کا پتہ چلا تو حضرت سعد بن معاذؓ کے چیلنج کے مطابق آپ نے اس قافلے پر حملہ کرنے کا ارادہ فرمایا۔ اس کے لئے باقاعدہ سپاہیوں کی بھرتی کا موقع نہیں تھا، اس لئے وقت پر جتنے صحابہ تیار ہو سکے، ان کی تعداد تین سو تیرہ تھی، کل ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے، ساٹھ زرہیں تھیں۔ اس مختصر سامان کے ساتھ آپ مدینہ منورہ سے نکلے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بعض غیر مسلم مصنفین نے اس واقعے پر یہ اعتراض کیا ہے کہ ایک پُر امن تجارتی قافلے پر حملہ کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ ہمارے زمانے کے بعض مسلمان مصنفین نے اس اعتراض سے مرعوب ہو کر یہ دعویٰ کرنے کی کوشش کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ قافلے پر حملہ کرنے کا نہیں تھا، بلکہ ابوسفیان نے اپنے طور پر خطرہ محسوس کر کے ابوجہل کے لشکر کو دعوت دی تھی۔ لیکن واقعے کی یہ تشریح صحیح احادیث اور قرآنی اشارات کی روشنی میں درست نہیں ہے۔ درحقیقت یہ اعتراض اُس وقت کے حالات اور اُس دور کے سیاسی، دفاعی اور معاشرتی ڈھانچے سے بے خبری پر مبنی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جو واقعات ہم نے اوپر بیان کئے ہیں، اُن کی روشنی میں فریقین کے درمیان ایک مسلسل جنگ کی حالت موجود تھی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو نہ صرف چیلنج دے رکھے تھے، بلکہ کفار کی طرف سے عملی طور پر چھیڑ چھاڑ بھی شروع ہو چکی تھی۔ دوسرے حضرت سعد بن معاذؓ پہلے سے انہیں متنبہ کر آئے تھے کہ وہ ان کے قافلوں پر حملہ کرنے کے لئے آزاد ہوں گے۔ تیسرے اُس دور میں شہری اور فوجی افراد کی کوئی تفریق نہیں ہوتی تھی۔ کسی معاشرے کے تمام بالغ مرد "مقاتلہ" یعنی لڑنے والے کہلاتے تھے۔ چنانچہ قافلے کی سرکردگی ابوسفیان کے ہاتھ میں تھی جو اُس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کھلا دشمن تھا، اور اُس کے ساتھ چالیس مسلح افراد میں سے ہر ایک قریش کے اُن لوگوں میں سے تھا جو مسلمانوں کو ستانے میں پیش پیش رہے تھے، اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاری کر رہے تھے، اور یہ قافلہ بھی اگر کامیابی سے مکہ مکرمہ پہنچ جاتا تو قریش کی جنگی طاقت میں بڑے اضافے کا سبب بنتا۔ ان حالات میں اس کو ایک پُر امن تجارتی قافلے پر حملہ قرار دینا اُس وقت کے حالات سے ناواقفیت یا محض عناد کا کرشمہ ہے، اور اس کی وجہ سے ان واقعات کا انکار کرنا کسی طرح درست نہیں ہے جو صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔ بہر حال! جب ابوسفیان کو آپ کے ارادے کا اندازہ ہوا تو اُس نے ایک طرف تو ایک تیز رفتار ایلچی ابوجہل کے پاس بھیج کر اس واقعے کی اطلاع دی، اور اسے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ آپ پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا، اور دوسری طرف اپنے قافلے کا راستہ بدل کر بحرِ احمر کے ساحل کی طرف نکل گیا تاکہ وہاں سے چکر کاٹ کر مکہ مکرمہ پہنچ سکے۔ ابوجہل نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر ایک بڑا لشکر تیار کیا، اور لوہے میں غرق ہو کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب پتہ چلا کہ ابوسفیان تو قافلہ لے کر نکل چکا ہے، اور ابوجہل کا لشکر آ رہا ہے تو آپ نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا۔ سب نے یہی رائے دی کہ اب ابوجہل سے ایک فیصلہ کن معرکہ ہو جانا چاہئے۔ چنانچہ بدر کے مقام پر دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا۔ مسلمانوں کی تعداد اور ساز و سامان ابوجہل کے لشکر کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مسلمانوں کو شاندار فتح حاصل ہوئی۔ ابوجہل سمیت قریش کے ستر سردار جو مسلمانوں کی دشمنی میں پیش پیش تھے، مارے گئے، اور دوسرے ستر افراد گرفتار ہوئے، اور باقی لوگ میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دیکھیں، واقعتاً اگر حالات کا پتا نہ ہو، تو پھر تاریخی روایات سے صحیح اندازے لگانے مشکل ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے ایسے موقعے پہ یا تو بات نہیں کرنی چاہیے، یا پوری تحقیق کر کے بات کرنی چاہیے۔ تاکہ مطلب صحیح بات انسان کر سکے۔ تو ان شاء اللہ العزیز اس موضوع پر مزید بات ہوگی، کیونکہ سورت ہی اس کے لیے ہے۔ تو اس میں ساتھ ساتھ اس کے بارے میں بات ہوگی۔ آج کے لیے اس میں یہ کافی ہے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

سورۂ انفال کا تعارف اور غزوہ بدر کا پس منظر - درسِ قرآن - پہلا دور