تقویٰ کا اعلیٰ درجہ: حقِ تقویٰ، شکر گزاری اور غفلت سے بیداری

درس نمبر 92، جلد نمبر 1، باب 6 : تقویٰ کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • تقویٰ اور اس کے اعلیٰ ترین درجے کا مفہوم۔
    • آیت {حَقَّ تُقَاتِهِ} کی تفسیر اور صحابہ کرام و تابعین کے اقوال۔
      • گناہ، غفلت اور ناشکری سے بچنے کی تاکید۔
        • زندگی کے قیمتی وقت (Time) کا صحیح استعمال اور نیکیاں کمانا۔
          • روزمرہ کی عام نعمتوں (جیسے ٹیکنالوجی، لباس، بجلی اور اعضاء) پر شکر ادا کرنے کی اہمیت۔
            • گناہ والی ناشکری اور غفلت والی ناشکری کے درمیان فرق۔
              • زبان کی حفاظت اور حق و انصاف پر ثابت قدم رہنے کی ضرورت۔

                اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ،

                بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

                تقویٰ کا بیان

                اعلیٰ درجے کا تقویٰ کیا ہے؟

                قَالَ تَعَالٰی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهٖ﴾ (آل عمران: 102)

                ترجمہ: ارشادِ خداوندی ہے ”مؤمنو! خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔“

                اس آیت میں ایمان والوں کو خطاب ہے کہ تقویٰ اختیار کرو، تقویٰ کہتے ہیں بچنے کو، اس تقویٰ کے بہت سے درجات ہیں سب سے اعلیٰ درجہ تقویٰ کا یہ ہے کہ اپنے دل کو غیر اللہ سے بچانا اور اللہ کی یاد اور اس کی رضامندی میں مشغول رکھنا اسی اعلیٰ درجہ کو حاصل کرنے کے لئے اس آیت میں ”حَقَّ تُقَاتِهٖ“ کا اضافہ کیا گیا ہے کہ تقویٰ کا وہ درجہ حاصل کرو جو حق ہے تقویٰ کا۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، قتادہ، ربیع، حسن بصریؒ وغیرہ سے یہ منقول ہے جو مرفوعاً خود نبی کریم ﷺ سے بھی منقول ہے۔

                "حَقُّ تُقَاتِهٖ هُوَ أَنْ يُطَاعَ فَلَا يُعْصَى وَيُذْكَرَ فَلَا يُنْسَى وَيُشْكَرَ فَلَا يُكْفَرَ"۔

                حقِ تقویٰ یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت ہر کام میں کی جائے کوئی کام طاعت کے خلاف نہ ہو اور اس کو ہمیشہ یاد رکھیں کبھی بھولیں نہیں اور اس کا شکر ہمیشہ ادا کریں کبھی ناشکری نہ کریں۔

                مسئلہ یہ ہے کہ دیکھیں ہمیں اللہ پاک نے ٹائم دیا ہوا ہے۔ ٹائم بالغ ہونے سے لے کر موت تک ہے۔ اس میں اگر ساٹھ سال میں کوئی تیس سال کرتا ہے تیس سال نہیں کرتا تو اتنی کمی ہے۔ کوئی پچاس سال نہیں کرتا تو اتنی کمی ہے۔ کوئی دس سال نہیں کرتا تو اس سے کمی ہے۔ کوئی پانچ سال نہیں۔۔ تو مطلب یہ ہے کہ ایک تو {حَقَّ تُقَاتِهٖ} میں آئے گا کہ پورے ٹائم۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہر وقت جتنا ڈرنے کا حق ہے اتنا ڈرو۔ جتنا شکر ادا کرنے کا حق ہے اتنا کرو۔ مطلب یہ ہے کہ کبھی بھولیں نہیں، غفلت نہ ہو۔ طاعت کے خلاف نہ ہو، گناہ کا کام نہ ہو، اور اللہ کا شکر کریں، کبھی ناشکری نہ کریں۔ تو جس کو کہتے ہیں گناہ نہ ہو، غفلت نہ ہو، ناشکری نہ ہو۔

                یہ تین چیزیں مطلب یہ ہے کہ ان کے بارے میں... گناہ نہ ہو، غفلت نہ ہو۔ ایک آدمی گناہ نہیں کرتا اتنا تو ہے، لیکن یہ بات ہے کہ وہ مثال کے طور پر اللہ پاک کو ایسے ہر وقت یاد نہیں رکھتا، تو وہ کمی ہے۔

                تو اللہ کو ہر وقت یاد رکھنا چاہیے خیر کے ساتھ۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ناشکری بالکل نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ ہر وقت اللہ پاک کے انعامات برس رہے ہیں، نعمتیں برس رہی ہیں۔ اس وقت جو میں بات کر رہا ہوں، میرے بات جو زبان سے نکل رہی ہے یہ بھی اللہ کی نعمت ہے۔

                آپ کے کان جو سن رہے ہیں یہ بھی اللہ کی نعمت ہے۔ اللہ پاک نہ سننے دیتا تو آپ کیسے سن سکتے تھے؟ اور اللہ پاک نہ بولنے دیتا تو میں کیسے بول سکتا تھا؟ اب دیکھو میرے سامنے الحمد للہ یہ ٹیبلٹ پڑا ہوا ہے، اس میں سارا کچھ جمع ہو چکا ہے، تو یہ اللہ کی نعمت ہے۔

                تو اس پر میں اللہ کا شکر ادا کروں۔ یعنی جو چیز مجھے چاہیے وہ چیز میسر ہے، تو اس پر میں اللہ کا شکر ادا کروں۔ Light on ہے، بجلی نہیں گئی ہے، اس پر میں اللہ پاک کا شکر ادا کروں۔ اس وقت موسم کے لحاظ سے کپڑے میسر ہیں، اس پر میں اللہ پاک کا شکر ادا کروں۔ یہ ساری چیزیں شکر کرنے کی ہیں۔

                تو بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان گناہ تو نہیں کرتا لیکن ان چیزوں پر خیال نہیں کرتا، لہذا وہ شکر بھی نہیں کرتا۔ یہ نہیں کہ وہ ناشکری گناہ والی ناشکری ہے، یہ غفلت والی ناشکری ہے۔ غفلت والی ناشکری ہے مطلب شکر کر کے وہ کما سکتا تھا، اس نے ناشکری تو نہیں کی لیکن شکر بھی نہیں کیا۔

                یعنی جیسے zero والی بات ہوتی ہے، تو ایسی صورت میں وہ جو کما سکتا تھا وہ نہیں کمایا۔ بھئی ایک سونے کی کان پر کسی کو کھڑا کر دو اور آرام سے بیٹھا رہے، تو پھر اس کو کیا۔۔ بھئی گناہ تو نہیں کر رہا لیکن اپنا فائدہ بھی نہیں کر رہا۔

                دکان پورا بھرا پڑا ہوا ہے، shutter ڈالا ہوا ہے، آرام سے بیٹھا ہوا ہے، تو بس ٹھیک ہے وقت گزر رہا ہے، نقصان کر رہا ہے۔ تو یہ بات ہے۔ نقصان اس طرح ہے کہ مزید کما نہیں رہا۔ اللہ جل شأنه ہم سب کو اس کی سمجھ عطا فرمائے۔

                اسی مضمون کو دوسرے مفسرین نے اس طرح بیان فرمایا کہ حق تقویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی کی ملامت اور برائی کی پرواہ نہ کرے اور ہمیشہ انصاف پر قائم رہے اگرچہ انصاف کرنے میں خود اپنے نفس یا اپنی اولاد یا ماں باپ ہی کا نقصان ہوتا ہو۔

                بعض مفسرین نے فرمایا کہ حق تقویٰ آدمی کو حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنی زبان کو محفوظ نہ رکھے۔

                اللہ پاک ہم سب کو ان تمام باتوں پر اعلیٰ درجے کا عمل عطا فرمائے، اور قبول بھی فرما دے، ہم سے راضی ہو جائے۔ ایسے راضی ہو کہ پھر ناراض نہ ہو۔

                سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔



                تقویٰ کا اعلیٰ درجہ: حقِ تقویٰ، شکر گزاری اور غفلت سے بیداری - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور