آدابِ قرآن اور ذکرِ الٰہی کی اہمیت

درس نمبر: 316، سورۃ الاعراف، آیات: 203 تا 206

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

قرآن مجید: ہدایت اور رحمت کا سرچشمہ

آدابِ تلاوت: قرآن کو خاموشی اور توجہ سے سننے کا حکم

ذکرِ الٰہی: ذکر کے مختلف طریقے اور ذکرِ بالجہر (بلند آواز سے ذکر) کی وضاحت

عاجزی کی تلقین: غفلت سے بچاؤ اور فرشتوں کی بندگی

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِـعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ ۚ هٰذَا بَصَآىٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (203) وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ (204) وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ (205) اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ یَسْجُدُوْنَ (206)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

معزز خواتین و حضرات! ابھی میں نے جو قرآن پاک کی آیاتِ مبارکہ تلاوت کی ہیں، اس کا ترجمہ یہ ہے:

ترجمہ: اور (اے پیغمبر!) جب تم ان کے سامنے (ان کا منہ مانگا) معجزہ پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ: ”تم نے یہ معجزہ خود اپنی پسند سے کیوں نہ پیش کر دیا؟“ کہہ دو کہ: ”میں تو اُسی بات کا اتباع کرتا ہوں جو میرے رَبّ کی طرف سے وحی کے ذریعے مجھ تک پہنچائی جاتی ہے۔

حاشیہ:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے معجزے ان لوگوں کے سامنے آچکے تھے، لیکن وہ ضد میں آکر نئے نئے معجزات کا مطالبہ کرتے تھے۔ یہ اس کا جواب ہے کہ میں اپنی طرف سے کوئی کام نہیں کر سکتا۔ میں تو ہر بات میں وحی الٰہی کا اتباع کرتا ہوں۔

پیغمبر اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتے بلکہ جو اس کو بتایا جاتا ہے تو وہ کرتے ہیں۔

ترجمہ: یہ (قرآن) تمہارے رَبّ کی طرف سے بصیرتوں کا مجموعہ ہے، اور جو لوگ ایمان لائیں اُن کے لئے ہدایت اور رحمت!“﴿203﴾

حاشیہ: یعنی قرآن کریم بذاتِ خود ایک معجزہ ہے، اس میں جو بصیرتیں ہیں، وہ ایک اُمّی کی زبان پر جاری ہو رہی ہیں جس نے کبھی لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا۔ اس کے بعد کس معجزے کی ضرورت ہے؟

ترجمہ: یہ (قرآن) تمہارے رَبّ کی طرف سے بصیرتوں کا مجموعہ ہے، اور جو لوگ ایمان لائیں اُن کے لئے ہدایت اور رحمت!“﴿203﴾ اور جب قرآن پڑھا جائے تو اُس کو کان لگا کر سنو، اور خاموش رہو، تاکہ تم پر رحمت ہو۔ ﴿204﴾

حاشیہ: اس آیت نے بتا دیا کہ جب قرآن کریم کی تلاوت ہو رہی ہو تو اُسے سننے کا اہتمام کرنا چاہئے۔ البتہ تلاوت کرنے والے کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ ایسے مقامات پر بلند آواز سے تلاوت نہ کرے جہاں لوگ اپنے کاموں میں مشغول ہوں۔ ایسی صورت میں اگر لوگ تلاوت کی طرف دھیان نہیں دیں گے تو اس کا گناہ تلاوت کرنے والے کو ہوگا۔

یہ اصل میں چونکہ اللہ پاک سب کے ہیں، کسی کے ساتھ رشتہ داری نہیں ہے۔ لہٰذا ہر شخص کا اللہ پاک نے وہ رکھا ہے کہ مطلب اس کو کوئی نقصان نہ ہو اور فائدہ ہو۔ اب تو فائدے کے لحاظ سے فرمایا کہ جب قرآن پڑھا جائے تو چونکہ اللہ کا کلام ہے، تو لازم ہے کہ اس کو محبت کے ساتھ اور ادب کے ساتھ خاموش ہو کر سنا جائے۔ اس وقت اپنے کسی اور کام کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ اور جو قرآن پاک کی تلاوت کرنے والا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے موقع پہ نہ پڑھے جب لوگ مشغول ہوں۔ کیونکہ ایسی صورت میں ان کے گنہگار ہونے کا اندیشہ ہے۔ تو ان کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے وقت میں قرآن پاک کی تلاوت نہ کی جائے جب لوگ مشغول ہوں تاکہ ان کو نقصان نہ ہو۔ تو اگر کوئی اس پر اس کی پروا نہیں کرتا تو اس نے چونکہ دوسرے کا نقصان کیا، خیال نہیں کیا، اس کو نہیں بچایا، تو پھر یہ گناہ اس کو ہو سکتا ہے۔ اس مسئلے میں کافی ہمیں غور کرنا ہو گا، اج کل یہ مسائل بہت زیادہ ہیں۔ مثلاً یہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن پاک کی محافل ہوتی ہیں، یہ تو اچھی بات ہے۔ مثلاً کسی بچے نے قرآن حفظ کیا ہے یا کوئی قاری صاحب اگیا ہے، تو یا کوئی قراءت کا مقابلہ ہے، تو اس میں لوگ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں۔ لیکن میں نے دیکھا ہے کہ جو قاری صاحبان ہیں وہ خود قرآن پاک کے ادب کی پروا نہیں کرتے۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ یہ اس وقت چونکہ مجلس ہوتی ہے، لوگ آ رہے ہوتے ہیں، مہمان آ رہے ہوتے ہیں، یا کچھ لوگ جا رہے ہوتے ہیں، تو کسی کو گلے لگ کے مل رہے ہیں، کسی کو رخصت کر رہے ہیں، آپس میں باتیں ہو رہی ہیں، اور قرآن پاک کی تلاوت ہو رہی ہے اور لائیو ہو رہی ہے، مطلب یعنی سامنے ہو رہی ہے۔ تو اب کوئی مطلب اس کو کیا کہے کہ اگر خود ہی انسان، مطلب جس کو کہتے ہیں نا اس کا ادب نہ کرے تو دوسرے کو کیا کہے گا؟ تو قرآن پاک کا ادب بہت ضروری ہے۔ اور جس وقت قرآن پاک کی تلاوت ہو رہی ہو تو خاموش ہونا چاہیے۔ اور یہ ہے کہ جو دوسرے قرآن پاک کی تلاوت کرنے والے ہیں ان کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔

ترجمہ:اور اپنے رَبّ کا صبح و شام ذکر کیا کرو، اپنے دل میں بھی، عاجزی اور خوف کے (جذبات کے) ساتھ، اور زبان سے بھی، آواز بہت بلند کئے بغیر! اور اُن لوگوں میں شامل نہ ہو جانا جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ﴿205﴾

یہاں سے ذکر کے اہتمام کا یہ مطلب آ گیا، قرآن بھی ذکر ہے۔ تو اس میں یہ ہے کہ اپنے رب کا صبح و شام ذکر کیا جائے۔ اپنے دل میں بھی، جو بعض لوگ ذکر دل میں کرتے ہیں۔

ترجمہ: عاجزی اور خوف کے (جذبات کے) ساتھ، اور زبان سے بھی، آواز بہت بلند کئے بغیر! اور اُن لوگوں میں شامل نہ ہو جانا جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ﴿205﴾

یہ تو غفلت سے نکلنے کا راستہ ہے۔ البتہ یہاں پر ذرا تھوڑا سا ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ بہت آواز بلند کیے بغیر، کیا اس سے بعض لوگ یہ مراد لیتے ہیں کہ جو ذکر بالجہر ہے یہ نہیں ہونا چاہیے، ذکر بالسر ہونا چاہیے۔ وہ اصل میں ذکر جو ہے دو قسم کا ہے۔ ایک ذکر ہے جو ثواب کے لیے کیا جائے۔ وہ تو چونکہ اللہ پاک سنتا ہے، اس میں مقصد اللہ کے لیے پڑھنا ہوتا ہے، اللہ کے لیے کرنا ہوتا ہے، تو اللہ پاک تو خاموش کو بھی سنتا ہے، کم آواز والے بھی سنتا ہے۔ طبیعت کی بات ہوتی ہے۔ اب عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جہری تلاوت کرتے تھے، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سری کرتے تھے۔ تو طبیعت کی بات ہے، دونوں ثابت ہو گئیں۔ تو وہ ثوابی کام ہے، ثوابی کام میں یہ ہوتا ہے۔ لیکن جو ذکر کیا جائے علاج کے لیے، تو اس میں علاج کو سامنے رکھا جائے گا کہ علاج کس چیز سے ہو رہا ہے۔ تو اس وقت جو ضرب و جہر ہے، یہ علاجاً ہے، یہ کوئی ثوابی طور پہ نہیں ہے، اور نہ اس میں ثواب کی نیت کی جاتی ہے۔ لہٰذا وہ جس سے یہ کام اچھا ہوتا ہو، جس کے لیے کیا جا رہا ہے، تو اس کو خیال میں رکھنا چاہیے۔ تو اس کا جو ذکر بالجہر ہے اس پر یہ پابندی نہیں ہے۔ ہاں البتہ بہت زیادہ اس کو بلند، اس کو بھی نہیں کرنا چاہیے کہ کہیں انسان کا دماغ ہی نہ پھٹ جائے۔ مطلب یہ ہے نا کہ وہ انسان ہے، کمزور ہے۔ جوش میں آ کر وہ پتا نہیں بہت چیخ کر کر سکتا ہے، لیکن اس سے اعصاب پر، اس کے وہ دماغ پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تو اپنی حالت کو دیکھ کر وہ جس حد تک ہو سکتا ہے تو وہ ٹھیک ہے لیکن اس میں مقصد فوت نہیں ہونا چاہیے۔ وہ مقصد جو اس کو ہو اس کو پورا ہونا چاہیے۔

ترجمہ: یاد رکھو کہ جو (فرشتے) تمہارے رَبّ کے پاس ہیں، وہ اُس کی عبادت سے تکبر کر کے منہ نہیں موڑتے، اور اُس کی تسبیح کرتے ہیں، اور اُسی کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔﴿206﴾

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔

آدابِ قرآن اور ذکرِ الٰہی کی اہمیت - درسِ قرآن - پہلا دور