الحمد للہ رب العالمین
والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین
کیا مردوں سے ان کی بیویوں کے مارنے کے بارے میں سوال ہوگا؟
(68) اَلتَّاسِعُ: وَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: ’’لَا یُسْأَلُ الرَّجُلُ فِیمَ ضَرَبَ امْرَأَتَهٗ‘‘ (رواه ابوداؤد وغيره)
نویں حدیث: ’’حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کسی آدمی سے نہ پوچھا جائے کہ اس نے اپنی عورت کو کیوں مارا‘‘۔یہ بات،
تشریح: مردوں سے ان کی بیویوں کے مارنے کے بارے میں سوال نہیں ہوگا۔ حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے مردوں کو عورتوں پر نگران بنایا ہے کہ ان سے احکامِ شرعیہ کی پابندی کروا کر ان کو ہمیشہ کی آگ سے بچائے جیسے کہ ارشادِ خداوندی ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا
"اے ایمان والو تم اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ"۔
نگرانی کی ذمہ داری اس دوسری آیت سے بھی معلوم ہو رہی ہے۔
الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ
"مرد عورتوں پر نگران ہیں اس فضیلت کی وجہ سے جو اللہ نے بعض (مردوں) کو بعض (عورتوں) پر دی ہے"۔
مطلب یہ ہوا کہ مردوں کے ذمہ ہے کہ اپنے ماتحت جو ہیں بچے، عورتیں وغیرہ ان پر احکامِ شرعیہ پر عمل کروائے اور اس کی خلاف ورزی پر ان کو سزا دے مگر اس مارنے میں شرط یہ ہے کہ اتنا نہ مارا جائے کہ نشان پڑ جائے اس حدیثِ بالا کا مضمون قرآن کی اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے۔
وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا
"اور وہ عورتیں (بیویاں) جن کے سرکش ہو جانے کا تمہیں اندیشہ ہو تو پہلے ان کو نصیحت کرو اور پھر ان کو بستر پر اکیلا چھوڑ دو (اس پر بھی باز نہ آئے) تو ان کی پٹائی کرو اگر وہ تمہارا کہنا ماننے لگیں تو ان کے خلاف (انتقام) کی راہ مت تلاش کرو"۔
تخریج حدیث: ابوداؤد کتاب النکاح باب فی ضرب النساء، و اخرحہ امام احمد فی مسندہ
اب میں آپ کو ذرا تھوڑا سا اس کے بارے میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کیونکہ ظاہر ہے شیطان تو ہمارے ساتھ ہے۔ وہ تو ہر چیز میں اپنا راستہ ڈھونڈتا ہے۔ تو عورتوں کے دل میں یہ بات ڈال سکتا ہے کہ، ایسا کیوں ہے؟ اور ان کے سامنے پھر وہ ظالم مردوں کی تصویریں ہوں گی، کہ ظالم مرد جو عورتوں کو مارتے ہیں، تو پھر ان کو رستہ مل جائے گا۔ اور ایسا ہو جائے گا، ایسا ہو جائے گا۔ تو ظاہر ہے ان کا یعنی ان احادیث شریف کے خلاف جذبات بنانے کی کوشش کرے گا۔ جو بچنا چاہیں گی تو بچ جائیں گی، لیکن بہرحال بہت سی عورتیں آج کل اس جال میں آ جاتی ہیں۔
تو اصل میں بات کیا ہے؟ بچہ، عورت، مرد۔ بچے کی عقل سب سے کم ہوتی ہے۔ کیونکہ ابھی وہ growing period میں ہے۔ اس وجہ سے بچوں کی نگرانی بہت زیادہ کرنی پڑتی ہے۔ آپ نے کبھی عورتوں کو دیکھا ہو گا، سڑک پار کرتے ہوئے جن کے ساتھ بچے ہوں، تو کس tension میں عورت سڑک پار کرتی ہے۔ ایک ہاتھ سے بچے کو پکڑا ہوتا ہے، پھر سامان بھی ہوتا ہے، ادھر ادھر بھی دیکھتی ہے، اور جلدی جلدی ان کو پار کرانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس وقت بچے کو مارتی بھی ہیں۔ بچہ اگر ادھر ادھر وہ کرتا ہے نا، تو اس کو مارتی بھی ہیں اور خوب مارتی ہیں۔ کیونکہ اس کو پتہ ہوتا ہے کہ اگر اس کے نیچے آ جائے گا، تو بچہ وہ تو بچہ ہے، وہ تو نا سمجھ ہے۔
تو چونکہ عورت کی اس وقت کی عقل، اس بچے سے زیادہ ہے۔ تو وہ اپنی اس عقل کو استعمال کر کے، اپنے بچے کی حفاظت کے لیے، اس کی فوری جو مارنا ہے، اس کو ذہن میں نہیں لاتی، بلکہ اس کے اگلے فائدے کو جو بچانا ہے، اس کو سامنے لاتی ہے۔ لہٰذا وہ اس کو مارتی ہے۔
اب یہ بات ہے کہ یہ جو عورت ہے، جس کی عقل بچے سے زیادہ ہے، تو مرد کی عقل عورت سے زیادہ ہے۔ ناقص العقل جو اس کو کہا گیا ہے، یہ نہیں کہ یہ کوئی عیب ہے۔ عیب نہیں ہے، یہ مینیجمنٹ ہے۔ اس کو لوگ عیب سمجھتے ہیں، عیب نہیں ہے یہ مینیجمنٹ ہے۔ کیسے مینیجمنٹ ہے؟
عورت کا جو اصل کام ہے وہ سارے کا سارا جذبات پر مبنی ہے۔ اگر یہ جذبات ان کے پاس نہ ہوں نا تو یہ چل ہی نہیں سکتیں۔ بچے کی تربیت ہے، بچے کی دیکھ بھال ہے، بچے کا پالنا ہے، مرد کے دل کا خیال رکھنا ہے، گھر کی ہر چیز کو own کر کے اس کے بارے میں سوچنا ہے۔ یعنی مرد جو ہوتے ہیں نا ہم نے دیکھا ہے، کہ وہ اپنے برتنوں کا، اپنی تمام چیزوں کا اتنی زیادہ خیال نہیں رکھتے۔ عورتیں بہت خیال رکھتی ہیں۔ ان کا دل ٹوٹ جاتا ہے اگر کوئی سیٹ Incomplete ہو جائے۔ حالانکہ عقل کے مطابق اتنی بات وہ نہیں ہے۔ ظاہر ہے ٹھیک ہے، دوسرا بھی مل جائے گا اور نہیں بھی ملے تو وہ جو اس پہ کڑھن ہے، وہ اس سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ لیکن اس وقت وہ اس کی جذباتی attachment ہے۔
کپڑوں کے ساتھ اس کی جذباتی attachment، گھر کی چیزوں کے ساتھ اس کی جذباتی attachment، گھر کی صفائی کے ساتھ جذباتی attachment۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر یہ جذباتی سوچ اللہ نے ان کے دل میں نہ ڈالا ہوتا نا، تو یہ گھر بالکل ویران پڑے ہوتے۔ لیکن یہ اللہ پاک نے ان کے دل میں ایسا وہ ڈالا ہوتا ہے، یقین جانیے میں تو ان کو بہت زیادہ تعریف کرتا ہوں کہ ہم لوگ جس چیز میں کمزور ہیں، اس میں یہ بہت زیادہ خیال رکھتی ہیں۔ بلکہ ہمارا بھی خیال رکھتی ہیں۔ مثلاً ہمارے اپنے کپڑوں کے بارے میں اتنا خیال نہیں ہوتا۔ لیکن ان کا خیال ہوتا ہے، اوہ! یہ اس طرح کر لو، اس طرح کر لو، اس طرح کر لو۔ تو صحیح کہتی ہیں۔ ظاہر ہے کوئی چیز اس طرح نہیں ہوتی، لیکن ہمارا اس طرف خیال نہیں ہوتا۔
مثلاً یہ ٹوپی ہے۔ یہ میری ٹوپی ہے نا اس کے اوپر یہ لائن ہے۔ تو مجھے خیال نہیں ہوتا، اصل میں اس طرح میں کر لیتا ہوں۔ تو فوراً مجھے بتاتی ہیں کہ اس کو اس طرح پہنو۔ ٹھیک ہے، مطلب ظاہر ہے وہ یہ چیز ہے۔ ان کا خیال اس طرف ہوتا ہے۔ میرا اس طرف نہیں ہوتا ویسے تو مجھے نظر بھی نہیں آتا، لیکن پروا بھی اتنی نہیں ہوتی۔
تو یہ چیزیں جو ہیں ان کے مزاج میں ڈالی گئی ہیں۔ لہٰذا یہ ایک نعمت ہے۔ یہ جذبات، لیکن اس کے کچھ side effects بھی ہیں نا۔ ہر نعمت کے side effects بھی ہو سکتے ہیں۔ تو اس کے کچھ side effects ہیں۔ اور side effects یہ ہیں کہ وہ پھر عاجلہ کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہیں، آجلہ کی پروا اس کو اتنی زیادہ نہیں ہوتی۔ مثلاً پورے گھر کے مقابلے میں ایک چیز اس میں خراب ہے نا، اس کو اپنے سر پہ لے لیا، پورے گھر کا نہیں سوچے گی۔ کہ دیکھو اللہ نے ہمیں اتنا گھر دے دیا ہے، ایسا ہے اور ایسا ہے۔ نہیں، بس اس میں ایک چیز کو دیکھو، نا یہ کیوں خراب ہے۔ مطلب اس کی جذباتی سوچ۔
تو یہ جو جذباتی سوچ کے side effects ہیں، ان side effects کو cover کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے مرد کو اختیار دیا ہے۔ تاکہ اس کے برے نتائج سے، برے اثرات سے اس کو بچا سکے۔ جیسے بچے کی جو بچگانہ حرکت ہے، ناسمجھی کی، جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے، ماں اس سے زیادہ عقلمند ہے، لہٰذا ماں اس کی حفاظت کرتی ہے، اس کو مارتی بھی ہے۔ ماں اس کو مارتی بھی ہے۔ تو اسی طرح جو مرد ہے، جو اس معاملے میں عورت سے فطری طور پر زیادہ عقلمند ہے، تو عورت کی بھلائی کے لیے وہ اس کو مارتا بھی ہے۔
باقی جو ظالم مرد ہیں، ان کا میں نہیں کہتا کہ وہ صحیح کرتے ہیں۔ ظلم تو کسی حال میں بھی نہیں کرنا چاہیے۔ چاہے مرد ہو، چاہے عورت ہو، چاہے بچہ ہو۔ ظلم کسی کو بھی نہیں کرنا چاہیے۔ اور اس کی پھر سزا ہے۔ اور وہ سزا یہ ہے کہ دیکھو میں آپ کو بات بتاؤں۔ بچے کے اوپر نگران ماں ہے زیادہ تر۔ عورت کے اوپر نگران مرد ہے، اور مرد کے اوپر نگران پھر اللہ پاک خود ہے۔ لہٰذا وہ اگر ظلم کرتا ہے، تو ظلم کا بدلہ اس کو دیا جائے گا۔ اس کو اس کی سزا ملے گی۔
لیکن اس معاملے میں ہمیں اللہ پر بھروسہ کرنا ہو گا۔ تو لہٰذا مرد، عورت، بچہ، ان تینوں کے اپنے اپنے احوال ہیں، اور ان کے اپنے اپنے احوال کے مطابق ان کی ذمہ داری ہے۔ اور پھر اللہ پاک کی سب سے زیادہ ان پر نظر ہے۔
"وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللهِ ۚ إِنَّ اللهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ"۔
"اور میں اللہ پر معاملہ چھوڑتا ہوں، کہ اللہ پاک اپنے بندوں کا خوب نگہبان ہے"۔
تو بالآخر ہمیں اللہ پر ہی بھروسہ کرنا پڑے گا۔ اور اس کے احکامات کو دل و جان سے قبول کر کے اس کے تمام فائدوں کو ہم حاصل کر سکتے ہیں اور اس طرح اللہ کی خوشنودی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ اور یہی سب سے بڑی عقلمندی ہے۔ اللہ ہمیں نصیب فرمائے۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم، وتب علینا انک انت التواب الرحیم۔ سبحان ربک رب العزت عما یصفون، وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین برحمتک یا ارحم الراحمین۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: اسلام میں مرد کی قوامیت، عورت کے جذبات اور عائلی نظام کی حکمتمتبادل عنوان: ازدواجی زندگی کا توازن: قرآنی احکامات اور نفسیاتی حقائق
اہم موضوعات:
بیوی کو مارنے کے حوالے سے عدمِ سوال کی حدیث (الحدیث التاسع) کی تشریح۔
مردوں کا عورتوں پر نگران (قوام) ہونا اور اس کی شرعی حدود۔
شیطان کا عورتوں کے ذہنوں میں اسلامی احکامات کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کرنا۔
مرد، عورت اور بچے کی عقل اور نفسیات کا تقابلی جائزہ۔
عورتوں میں جذبات کی اہمیت اور اس نعمت کے ذریعے گھر کے نظام کا چلنا (Management)۔
عورت کے جذباتی پن کے "Side Effects" اور مرد کا بحیثیت محافظ کردار۔
ظلم کی قطعی ممانعت اور ظالم مردوں کا انجام (کہ ان پر اللہ نگران ہے)۔
معاملات کو اللہ کے سپرد کرنے اور اس پر بھروسہ کرنے کی تلقین۔
خلاصہ:اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں مرد کی عورت پر قوامیت (نگرانی) کے تصور کو نہایت خوبصورتی اور نفسیاتی حکمت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے واضح کیا کہ جس طرح ایک ماں اپنے بچے کو حادثات سے بچانے کے لیے بظاہر سختی کرتی ہے، اسی طرح اللہ نے مرد کو گھر کے وسیع تر مفاد اور عورت کو بڑے نقصانات سے بچانے کے لیے نگرانی کا حق دیا ہے۔ آپ نے صراحت فرمائی کہ عورت کا "ناقص العقل" ہونا کوئی عیب نہیں بلکہ اللہ کا بنایا ہوا ایک بہترین عائلی نظام (Management) ہے، کیونکہ عورت کا کردار محبت اور جذبات پر مبنی ہوتا ہے جس کے بغیر گھر کا نظام ویران ہو جائے۔ آخر میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اختیار ہرگز ظلم کی اجازت نہیں دیتا؛ ظالم مردوں کے اوپر اللہ کی ذات نگران ہے جو انہیں سزا دے گی، لہٰذا ہمیں اللہ کے فیصلوں پر بھروسہ کر کے اسی کی خوشنودی طلب کرنی چاہیے۔