معبودانِ باطل کی بے بسی، حسنِ اخلاق اور شیطانی وسوسوں کا قرآنی علاج
درس نمبر: 315، سورۃ الاعراف، آیات: 195 تا 202
جھوٹے خداؤں کی بے بسی اور اللہ کی حفاظت:
عفو و درگزر اور حسنِ اخلاق کی تعلیم:
شیطانی وسوسوں کا علاج (ذکرِ الٰہی):
توبہ میں تاخیر اور شیطان کے دھوکے (طفل تسلیاں):
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ (195) اِنَّ وَلِیِّ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ (196) وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ (197) وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ (198) خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ (199) وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ (200) اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَ (201) وَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ (202)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: بھلا کیا اُن کے پاس پاؤں ہیں جن سے وہ چلیں؟ یا اُن کے پاس ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑیں؟ یا اُن کے پاس آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھیں؟ یا اُن کے پاس کان ہیں جن سے وہ سنیں؟ (ان سے کہہ دو کہ:) ”تم اُن سب دیوتاؤں کو بلا لاؤ جنہیں تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے، پھر میرے خلاف کوئی سازش کرو، اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو۔ ﴿195﴾
حاشیہ: کفارِ مکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈرایا کرتے تھے کہ آپ ہمارے دیوتاؤں کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہیں کہ ان میں کچھ بھی طاقت نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے ہمارے دیوتا آپ کو (معاذ اللہ) سزا دیں گے۔ یہ آیت اس کا جواب دے رہی ہے۔
یہاں پر دیکھیے دو باتیں، اصل میں ان لوگوں نے سمجھا کہ سزا دیں گے۔ دینا، دینا ایک عمل ہے۔ تو جو ظاہری عمل ہے وہ تو کر ہی نہیں سکتے، یعنی آنکھیں وہ نہیں ہیں، آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے، کانوں سے سن نہیں سکتے۔ زبان سے بول نہیں سکتے، پاؤں ہلا نہیں سکتے، ہاتھ ہلا نہیں سکتے، تو پھر یہ کیسے سزا دیں گے؟ مطلب یہ ان کو ایک لاجیکل جواب ہے۔ تو یہ پھر فرمایا کہ اچھا اگر تم ایسے سمجھتے ہو تو پھر لے آؤ سب کو۔ اور پھر مجھے جو سزا بھی دینا چاہتے ہو دے دو، مجھے ذرا برابر بھی مہلت نہ دو۔
ترجمہ: میرا رکھوالا تو اللہ ہے جس نے کتاب نازل کی ہے، اور وہ نیک لوگوں کی رکھوالی کرتا ہے ﴿196﴾ اور تم اُس کو چھوڑ کر جن جن کو پکارتے ہو، وہ نہ تمہاری مدد کر سکتے ہیں، نہ اپنی مدد کرتے ہیں ﴿197﴾ اور اگر تم انہیں صحیح راستے کی طرف بلاؤ تو وہ سنیں گے بھی نہیں۔ وہ تمہیں نظر تو اس طرح آتے ہیں جیسے تمہیں دیکھ رہے ہوں، لیکن حقیقت میں انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا“ ﴿198﴾
مطلب دیکھیے نا، وہ آنکھیں تو ان کی بنائی گئی ہیں۔ یعنی انسان نے بنائی ہوئی ہیں۔ لیکن یہ ہے کہ وہ اس سے دیکھ تو نہیں سکتے، پیچھے بینائی تو نہیں ہے۔
ترجمہ: (اے پیغمبر!) درگزر کا رویہ اپناؤ، اور (لوگوں کو) نیکی کا حکم دو، اور جاہلوں کی طرف دھیان نہ دو ﴿199﴾ اور اگر کبھی شیطان کی طرف سے تمہیں کوئی کچوکا لگ جائے تو اللہ کی پناہ مانگ لو۔
حاشیہ: کچوکے سے مراد وسوسہ ہے۔ اور اس آیت نے ہر مسلمان کو یہ تعلیم دی ہے کہ جب کبھی شیطان دل میں کوئی برے خیال کا وسوسہ ڈالے تو فوراً اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہئے۔ اس بات کا ذکر خاص طور پر درگزر کا رویہ اپنانے کے سلسلے میں کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں درگزر کرنے کی فضیلت ہے، وہاں بھی اگر شیطانی اثر سے کبھی کسی کو غصہ آجائے تو اُس کا علاج بھی اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا ہے۔
ترجمہ: یقیناً وہ ہر بات سننے والا، ہر چیز جاننے والا ہے ﴿200﴾ جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے، انہیں جب شیطان کی طرف سے کوئی خیال آکر چھوتا بھی ہے تو وہ (اللہ کو) یاد کر لیتے ہیں،
حاشیہ: گناہ کی خواہش نفس اور شیطان کے اثرات سے بڑے بڑے پرہیزگاروں کو بھی ہوتی ہے، لیکن وہ اس کا علاج اس طرح کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں، اُس سے مدد مانگتے ہیں، دُعائیں کرتے ہیں، اور اُس کی بارگاہ میں حاضری کا دھیان کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں، یعنی ان کو گناہ کی حقیقت نظر آجاتی ہے، اور اُس کے نتیجے میں وہ گناہ سے بچ جاتے ہیں، اور اگر کبھی غلطی ہو بھی جائے تو توبہ کی توفیق ہو جاتی ہے۔
ترجمہ: چنانچہ اچانک اُن کی آنکھیں کھل جاتی ہیں ﴿201﴾ اور جو ان شیاطین کے بھائی ہیں، اُن کو یہ شیاطین گمراہی میں گھسیٹے لے جاتے ہیں، نتیجہ یہ کہ وہ (گمراہی سے) باز نہیں آتے ﴿202﴾
یہ شیاطین کا جو کام ہے نا، یہ بہت ہی کنٹینیوس ہے۔ یہ جس کو گمراہ کرتے ہیں تو اول تو ان کو عاقبت کا سوچنے نہیں دیتے۔ اور اگر کبھی وہ عاقبت کا سوچ لیتے ہیں تو پھر ان کو طفل تسلیاں دیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ توبہ کر لو گے یہ ہو جائے گا، فلاں تمہارے ساتھ وہ دعا کر لے گا یہ ہو جائے گا، تم تو فلاں ہو۔ پھر طفل تسلیاں دیتے ہیں۔ اور یہ طفل تسلیاں ان کو آخری دم تک دیتے ہیں، موت تک۔ مطلب یہ ہے کہ وہ جب بھی کبھی توبہ کا ارادہ کرتے ہیں تو ان کو اس قسم کی چیزوں میں لگا دیتے ہیں بھئی ابھی تو وقت ہے، یہ ہے، وہ ہے، پھر بعد میں کر لینا۔ یعنی اس قسم کی باتیں کر کے ان کو، جس کو کہتے ہیں، اپنے ارادے پر عمل نہیں کرنے دیتے۔ جو واپس آنے کا ارادہ ہوتا ہے۔ اور اسی طریقے سے وہ چلے جاتے ہیں۔ اسی کو ڈھیل دینا کہتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ڈھیل دی جاتی ہے۔ لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ میرا کام ہو رہا ہے۔ تو اللہ پاک ہم سب کو ایسی کیفیت سے بچائے۔ اور اللہ کی طرف رجوع کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ اور پھر اس پر قائم رہنے کی اور خیر کے ساتھ ہونے کی، اور اس پر جمنے کی اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں اپنا بندہ، خالص بندہ بنائے۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ ٱلْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ۔ وَسَلَامٌ عَلَى ٱلْمُرْسَلِينَ۔ وَٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَآ أَرْحَمَ ٱلرَّاحِمِينَ۔