ترکِ لایعنی: حسنِ اسلام کی دلیل اور نجات کا راستہ

درس نمبر 90، جلد نمبر 1، باب 5 : مراقبہ کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• حدیثِ مبارکہ ”مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ“ کی تشریح• لایعنی (فضول) کاموں اور باتوں سے پرہیز کی اہمیت اور تعریف• خاموشی، خوش خلقی اور ترکِ لایعنی کے فوائد (دنیا اور آخرت کے لحاظ سے)• اعضائے انسانی (زبان، دل، کان، آنکھ) کو اللہ کی مرضی کے تابع رکھنا• دینِ اسلام میں اس حدیث کی مرکزیت اور علامہ نووی رحمة الله عليه کا قول

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰي خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ، اَمَّا بَعْدُ

فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کل جو حدیث شریف بیان ہوئی تھی، اس میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهٗ مَا لَا يَعْنِيهِ“۔ "اسلام کی خوبی یہ ہے کہ آدمی لایعنی باتوں کو چھوڑ دے"۔


اسلام کی خوبی یہ ہے کہ آدمی لایعنی باتوں کو چھوڑ دے

اس حدیث میں ایک نہایت ہی ضروری اصول بیان کیا گیا ہے کہ بے فائدہ اور لایعنی باتوں اور کاموں سے انسان اجتناب کرے اگر آدمی اس اصول کو اپنا لے تو وہ بہت سے گناہوں سے خود بخود بچ جائے گا۔ لایعنی کہتے ہیں اس کو جس کی نہ دینی ضرورت ہو اور نہ ہی دنیاوی۔

ایک دوسری روایت میں آتا ہے آپ ﷺ نے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرمایا کہ میں تجھے ایسا عمل نہ بتاؤں کہ وہ عمل بدن پر تو ہلکا ہو مگر میزان میں بھاری ہو وہ یہ ہے اَلصَّمْتُ وَ حُسْنُ الْخُلُقِ وَ تَرْکُ مَا لَا یَعْنِیْکَ "خاموشی اور خوش خلقی اور لایعنی چیز کا چھوڑنا۔"

یہ بات ہے یا کریم! بس جس پر اللہ پاک فضل فرما دیں، ان تین چیزوں کی توفیق عطا فرماتے ہیں۔ بہت بڑی بات ہے۔ خاموشی یہ انسان کو دنیوی لحاظ سے بھی فائدہ پہنچاتی ہے کیونکہ اس کی غلطیاں ظاہر نہیں ہوتیں۔ اور جو دوسری ہے یعنی دین، کیونکہ گناہ کی بات کوئی زبان سے نکالے تو اس سے بہتر ہے کہ خاموش رہے۔

اور خوش خلقی، یہ جب بھی کسی کے ساتھ برتاؤ ہو وہ اچھا ہو۔ اچھا برتاؤ لوگوں کے ساتھ۔ اور لایعنی چیز یہ کہ اپنے وقت کو ضائع نہ کرنا۔

اپنے اعضاء میں سے کسی عضو کو اللہ کی طرف متوجہ رکھنا۔ مثلاً زبان اب زبان ذکر میں ہو۔ دل اللہ کی طرف ہو۔ اور کان وہی سنے جس کی اللہ نے اجازت دی ہے۔ دیکھے وہ جس کی اللہ نے اجازت دی ہے۔ اس طریقے سے انسان اپنے آپ کو بچا سکتا ہے۔

اس حدیث کی اہمیت کے پیشِ نظر بعض نے اس حدیث کو اسلام کا چوتھا حصہ بعض نے نصف اور بعض نے کل حصہ کہا ہے کہ اسلام نام ہی اس کا ہے کہ آدمی لایعنی چھوڑ دے۔

علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ذخیرہ احادیث میں سے چار احادیث کو اسلام کا دارومدار بتایا ہے ان میں سے ایک یہی حدیث ہے۔

تخریج حدیث: ترمذی ابواب الزہد (باب ما جاء فیمن تکلم فیما لا یعنیہ) و ابن ماجہ ایضاً مع اختلاف یسیر۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ



ترکِ لایعنی: حسنِ اسلام کی دلیل اور نجات کا راستہ - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور