شرک کی ابتدا، معبودانِ باطلہ کی بے بسی اور توحید کی حقیقت

درس نمبر: 314، سورۃ الاعراف، آیات: 189 تا 194

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

شرک کی ابتدا اور بزرگوں کی تعظیم میں غلو

انبیاء و اولیاء کی سچی محبت: پیروی یا من مانی؟

معبودانِ باطلہ کی بے بسی اور قرآنی دلائل

عقل کا غلط استعمال اور شرک کا "ظلمِ عظیم" ہونا

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ اَمَّا بَعْدُ

فَاعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىٕنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ (189) فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ (190) اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَيْـًٔا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ (191) وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ (192) وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ (193) اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (194)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اُسی سے اُس کی بیوی بنائی، تاکہ وہ اُس کے پاس آکر تسکین حاصل کرے۔

حاشیہ: ”ایک جان“ سے مراد حضرت آدم علیہ السلام ہیں، اور ان کی بیوی سے مراد حضرت حواء علیہا السلام۔

ترجمہ: پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو عورت نے حمل کا ایک ہلکا سا بوجھ اٹھا لیا، جسے لے کر وہ چلتی پھرتی رہی۔

حاشیہ: اب یہاں سے حضرت آدم علیہ السلام کی ایسی اولاد کا ذکر ہو رہا ہے جس نے بعد میں شرک کا راستہ اختیار کیا۔

ترجمہ: پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں (میاں بیوی) نے اپنے پروردگار اللہ سے دُعا کی کہ: ”اگر تو نے ہمیں تندرست اولاد دی تو ہم ضرور بالضرور تیرا شکر ادا کریں گے۔“﴿189﴾ لیکن جب اللہ نے ان کو ایک تندرست بچہ دے دیا تو ان دونوں نے اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانا شروع کر دیا، حالانکہ اللہ ان کی مشرکانہ باتوں سے کہیں بلند اور برتر ہے ﴿190﴾ کیا وہ ایسی چیزوں کو (اللہ کے ساتھ خدائی میں) شریک مانتے ہیں جو کوئی چیز پیدا نہیں کرتے، بلکہ خود اُن کو پیدا کیا جاتا ہے؟ ﴿191﴾ اور جو نہ ان لوگوں کی کوئی مدد کر سکتے ہیں، اور نہ خود اپنی مدد کرتے ہیں ﴿192﴾ اور اگر تم انہیں کسی صحیح راستے کی طرف دعوت دو تو وہ تمہاری بات نہ مانیں، (بلکہ) تم انہیں پکارو یا خاموش رہو، اُن کے لئے دونوں باتیں برابر ہیں ﴿193﴾ یقین جانو کہ اللہ کو چھوڑ کر جن جن کو تم پکارتے ہو، وہ سب تمہاری طرح (اللہ کے) بندے ہیں۔ اب ذرا ان سے دُعا مانگو، پھر اگر تم سچے ہو تو انہیں تمہاری دُعا قبول کرنی چاہئے ﴿194﴾

یہاں پر شرک کی ابتدا کی بات شروع ہو گئی۔ اصل میں تھوڑا سا اگر ہم اپنے اردگرد کے ماحول کا جائزہ لیں تو ماحول میں جو لوگ دین والے ہوتے ہیں، ان کی مخالفت کی جاتی ہے۔ لیکن جس وقت ان کے اوپر کوئی افتاد آتی ہے، پریشانی آتی ہے، کوئی مصیبت آتی ہے تو ان کے پاس آتے ہیں، ان سے دعا کے لیے کہتے ہیں۔ تو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اصل میں ان کو ہی حق پر مانتے ہیں۔ ہاں نفس کی وجہ سے عارضی طور پر۔ وہ شر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اور اپنی من مانی کرتے ہیں۔ یہ بات ہے۔ دیکھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت، اولیاء اللہ کے ساتھ محبت صحیح معنوں میں ایسی ہونی چاہیے کہ ان کی بات مان لی جائے۔ یہی ان کی محبت کا صحیح وہ ہے، مظہر ہے۔ لیکن لوگ کیا کرتے ہیں؟ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں اور کرتے ہیں اپنی بات، من مانی کرتے ہیں۔ اولیاء اللہ کی بات کرتے ہیں لیکن اولیاء اللہ کی بات سنتے نہیں ہیں۔ ان کی بات پر عمل نہیں کرتے۔ تو یہ جو شرک کی ابتدا ہوئی تھی نا ابتدا وہ اسی طرح ہوئی تھی کہ جو بزرگ لوگ ہوتے تھے۔ اللہ والے ہوتے تھے۔ تو ان کے لیے۔ ان کی تعظیم کرتے تھے۔ وہ جب فوت ہو گئے تو پھر ان کی مطلب تصویریں بنا لیں۔ اور ان کے سامنے۔ جھکنے لگے اسی طریقے سے، جیسے زندگی میں ہوتے تھے۔ اب چونکہ۔ صحیح راستے سے جب انسان ہٹتا ہے۔ تو پھر اس پر قائم نہیں رہتا بلکہ اور مزید ہٹتا جاتا ہے۔ تو وہ چیز بڑھتے بڑھتے بڑھتے ان کے بت بنانے۔ شروع کر لیے۔ اور پھر ان کو پوجنے لگے۔ اب جب ان کو پوجنے لگے تو ان کے ساتھ ان کے شیطان نے۔ یعنی یہ کر لیا کہ اگر ہم یہ کریں گے تو۔ جیسے وہ اچھے لوگ اس وقت تھے۔ تو ان کی بات سنی جاتی تھی۔ دعا قبول ہوتی تھی تو اب بھی ہماری دعائیں قبول ہوں گی اب یہ بات مطلب انہوں نے، آہستہ آہستہ پھر انہوں نے خود ہی کہا کہ خود ہی قبول کریں گے۔ جیسے ہمارے اولیاء اللہ سے لوگ کہتے ہیں۔ کہ مطلب یہ اس طرح کرتے ہیں۔ ہمارے پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف رحمۃ اللہ علیہ، یہ ان کے پاس، یہ ان کے بڑے پڑپوتے سے سنا ہے، خود ہی سنا ہے۔ کہتے ہیں ایک صاحب آئے اور ہمارے حضرت کو کہا کہ تسی دیسی۔ تو کہتے ہیں حضرت نے کہا کہ اللہ دیسی۔ تو پھر کہتے ہیں تسی دیسی، انہوں نے کہا اللہ دیسی، ہوتے ہوتے ہوتے ہوتے ہوتے۔ یہاں تک وہ حضرت نے فرمایا کہ اچھا پھر نیچے ان کے سر کو لے گئے، سر کو لے گئے، ہوتے ہوتے وہاں بالکل جب نیچے پہنچ گیا تو حضرت نے پوچھا کی نظر آ رہا ہے؟ انہوں نے کہا ککھ نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا اللہ دے سامنے تو میں ککھ بھی نہیں۔ اب یہ بات حضرت خود کہہ رہے ہیں لیکن اس کے سامنے وہ ایسے کرتے ہیں بات، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ لوگ اب کرتے ہیں اپنی مرضی سے۔ ہم دیکھیں ولی اللہ اس کو کہہ رہا ہے کہ میں نہیں کر رہا، لیکن یہ لوگ کہتے ہیں کہ نہیں تو نے کرنا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے کہ اگر اللہ کی بات مانتے ہیں تو پھر پورے دین کو مانیں گے۔ اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔ تو شارٹ کٹ لگانا چاہتے ہیں۔ اب شارٹ کٹ لگانے میں پھر یہی مسائل ہوں گے۔ تو یہ سلسلہ اسی طرح شروع ہوا ہے۔ اور اب اس میں اللہ پاک نے جیسے ان آیات کریمہ میں صاف صاف فرمایا ہے کہ۔ دیکھو یہ،

ترجمہ: کیا وہ ایسی چیزوں کو (اللہ کے ساتھ خدائی میں) شریک مانتے ہیں جو کوئی چیز پیدا نہیں کرتے، بلکہ خود اُن کو پیدا کیا جاتا ہے؟ ﴿191﴾ اور جو نہ ان لوگوں کی کوئی مدد کر سکتے ہیں، اور نہ خود اپنی مدد کرتے ہیں ﴿192﴾ اور اگر تم انہیں کسی صحیح راستے کی طرف دعوت دو تو وہ تمہاری بات نہ مانیں، (بلکہ) تم انہیں پکارو یا خاموش رہو، اُن کے لئے دونوں باتیں برابر ہیں ﴿193﴾یقین جانو کہ اللہ کو چھوڑ کر جن جن کو تم پکارتے ہو، وہ سب تمہاری طرح (اللہ کے) بندے ہیں۔ اب ذرا ان سے دُعا مانگو، پھر اگر تم سچے ہو تو انہیں تمہاری دُعا قبول کرنی چاہئے ﴿194﴾

وہ اپنی زبان بھی نہیں ہلا سکتے، اپنے ہاتھ نہیں ہلا سکتے، اپنے تو کیسے وہ۔ تو یہ ایک بیوقوفی کی ایک انتہا ہوتی ہے شرک۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عقل عطا فرمائی ہے نا۔ اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو عقل عطا فرمائی ہے۔ اب یہ عقل اس کو استعمال کرنا چاہیے۔ تو اب یہ ہے کہ اگر کسی میں اتنی بھی عقل نہ ہو کہ اس چیز کو ہی خدا مانے جو کہ خود مخلوق ہے اور وہ جو ہل بھی نہیں سکتا ان سے چیزیں مانگتے ہیں، تو یہ بیوقوفی کی انتہا ہے۔ اس نے اپنی عقل کو ضائع کر دیا۔ جب اپنی عقل کو ضائع کر دیا تو یہ عقل کو صحیح استعمال نہ کرنا یہ ظلم ہے عقل کا۔ تو اس لیے جو شرک ہے نا یہ ظلم عظیم ہے، اس کو فرمایا اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ۔ ایک تو یہ بات ہے کہ مخلوق کو خالق بنا دیا خالق کو چھوڑ کر، یہ ظلم ہے۔ یعنی اللہ کی شان میں ظلم ہے، ایک اپنے اوپر ظلم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ یعنی انسان اپنی عقل کو ضائع کر لیتا ہے اور اس کے ذریعے سے انسان خود وہ جو سوچ سکتا ہے، سمجھ سکتا ہے وہ نہیں سمجھتا۔ تو دونوں طرح یہ ظلم ہے۔ اس وجہ سے اس کو ظلم عظیم کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس ظلم عظیم سے بچائے اور ہمیں صحیح معنوں میں توحید پر رکھے۔ جو رسالت سے سمجھ میں آتا ہے، جو آخرت پر ایمان رکھنے سے وہ تازہ ہوتا ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو یہی صحیح عقیدے نصیب فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔

شرک کی ابتدا، معبودانِ باطلہ کی بے بسی اور توحید کی حقیقت - درسِ قرآن - پہلا دور