تکلیف اور راحت: اللہ کی آزمائش اور غفلت کا انجام

درس نمبر: 296، سورۃ الاعراف، آیات: 94 تا 99

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

مشکلات اور بیماریاں: اللہ کی طرف رجوع کا ذریعہ

خوشحالی اور آسانی: شکر کا امتحان یا غفلت کی ڈھیل؟

برکتوں کی کنجی: ایمان اور تقویٰ

اللہ کی خفیہ تدبیر (ڈھیل) اور اچانک پکڑ سے ڈرنا

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ (94) ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ (95) وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰـكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ (96) اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآىٕمُوْنَ (97) اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ (98) اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ (99)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اور ہم نے جس کسی بستی میں کوئی پیغمبر بھیجا، اُس میں رہنے والوں کو بدحالی اور تکلیفوں میں گرفتار ضرور کیا، تاکہ وہ عاجزی اختیار کریں۔ ﴿94﴾

اس میں یہ

حاشیہ: بتایا یہ جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو اپنے عذاب سے ہلاک کیا، انہیں (معاذ اللہ) جلدی سے غصے میں آکر ہلاک نہیں کر دیا بلکہ انہیں سالہا سال تک راہِ راست پر آنے کے بہت سے مواقع فراہم کئے۔ اوّل تو پیغمبر بھیجے جو انہیں برسوں تک ہوشیار کرتے رہے، پھر شروع میں انہیں کچھ معاشی بدحالی یا بیماریوں وغیرہ کی مصیبتوں سے دوچار کیا، تاکہ اُن کے دل کچھ نرم پڑیں۔ کیونکہ بہت سے لوگ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں، اور تنگی ترشی میں بعض اوقات حق بات کو قبول کرنے کی صلاحیت زیادہ پیدا ہو جاتی ہے۔ جب ایسے حالات میں پیغمبران کو متنبہ کرتے ہیں کہ ذرا سنبھل جاؤ، ابھی اللہ تعالیٰ نے ایک اشارہ دیا ہے، جو کسی وقت باقاعدہ عذاب میں تبدیل ہو سکتا ہے، تو بعض لوگوں کے دل پسیج جاتے ہیں۔ دوسری طرف کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب اُن پر خوش حالی آتی ہے تو اُن کے دل میں اللہ تعالیٰ کے احسانات کا احساس پیدا ہوتا ہے، اور وہ اُس وقت حق بات کو قبول کرنے کے لئے نسبتاً زیادہ آمادہ ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ان لوگوں کو بدحالی کے بعد خوش حالی کی نعمت بھی عطا کی جاتی ہے، تاکہ وہ شکر گزار بن سکیں۔ حالات کی اس تبدیلی سے بعض لوگ بیشک سبق لے لیتے ہیں، اور راہِ راست پر آجاتے ہیں۔ لیکن کچھ ضدی طبیعت کے لوگ ان باتوں سے کوئی سبق نہیں سیکھتے، اور یہ کہتے ہیں کہ یہ دُکھ سکھ اور سرد و گرم حالات تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پیش آچکے ہیں۔ انہیں خواہ مخواہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی اشارہ قرار دینے کی کیا ضرورت ہے؟ اس طرح جب ان لوگوں پر ہر طرح کی حجت تمام ہو چکی ہوتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب آتا ہے، اور اس طرح پکڑ لیتا ہے کہ ان کو پہلے سے اندازہ بھی نہیں ہوتا۔

ترجمہ: پھر ہم نے کیفیت بدلی، بدحالی کی جگہ خوش حالی عطا فرمائی، یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے، اور کہنے لگے کہ دُکھ سکھ تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پہنچتے رہے ہیں۔ پھر ہم نے انہیں اچانک اس طرح پکڑ لیا کہ انہیں (پہلے سے) پتہ بھی نہیں چل سکا ﴿95﴾ اور اگر یہ بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کر لیتے تو ہم اُن پر آسمان اور زمین دونوں طرف سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ لیکن انہوں نے (حق کو) جھٹلایا، اس لئے اُن کی مسلسل بدعملی کی پاداش میں ہم نے ان کو اپنی پکڑ میں لے لیا ﴿96﴾ اب بتاؤ کہ کیا (دوسری) بستیوں کے لوگ اس بات سے بالکل بے خوف ہوگئے ہیں کہ کسی رات ہمارا عذاب اُن پر ایسے وقت آپڑے جب وہ سوئے ہوئے ہوں؟ ﴿97﴾

حاشیہ: ان واقعات کے حوالے سے اب کفار مکہ کو متوجہ کیا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے غضب سے کسی کو بھی بے فکر ہو کر نہیں بیٹھ رہنا چاہئے۔ اور یہ بات صرف کفار مکہ ہی کے لئے نہیں ہے، بلکہ ہر وہ شخص جو کسی گناہ، بدعملی یا ظلم میں مشغول ہو، اُسے ان آیات کریمہ کا ہمیشہ دھیان رکھنا چاہئے۔

تو یہاں پر ہم سب لوگوں کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ کہ ہم لوگ بھی یہ جو عذابات آج کل آرہے ہیں، تکالیف آرہی ہیں، پریشانیاں آرہی ہیں۔ اب دیکھیں یہاں پر صاف بتایا گیا ہے یعنی قرآن پاک کی آیات مبارکہ ہے۔ جس میں فرمایا جا رہا ہے کہ پہلے لوگوں کو کچھ تکالیف ویسے عام سی آ جاتی ہیں۔ یعنی بیماریاں، پریشانیاں، معاشی بدحالیاں پھر آ جاتی ہیں۔ تو اگر وہ لوگ سنبھل جائیں تو اچھی بات ہے۔ اور پھر کچھ لوگوں کی فطرت ذرا نیک ہوتی ہے تو ان کو خوشحالی مطلب پھر دوبارہ ان پر خوشحالی لاتے ہیں۔ تو ان کو شکر کا موقع ملتا ہے۔ تو اگر وہ شکر کر لیتے ہیں تو بچ جاتے ہیں، مطلب دونوں پہ حجت تمام ہو جاتی ہے۔ اب اس کے بعد اگر کچھ لوگ سمجھ گئے اور سوچ سمجھ سے کام لے لیا تو وہ تو بچ جاتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ جو ضدی ہوتے ہیں وہ ان چیزوں سے نیگیٹو اثر لیتے ہیں۔ اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تو ویسے ہی باتیں ہیں کیونکہ یہ تو ہمارے باپ دادوں کے ساتھ بھی ہوئیں، کبھی سختی آئی ہے، کبھی آسانی آئی ہے، کبھی کیا آیا ہے، کبھی کیا آیا ہے۔ تو یہ کوئی خاص بات نہیں ہے۔ اور یہی چیز ہوتی ہے جو کہ نعوذ باللہ من ذلک گویا کہ وہ اللہ پاک کو چیلنج کر رہے ہوتے ہیں۔ اور بعض لوگ تو اس طرح کہہ بھی دیتے ہیں کہ اگر عذاب لا سکتے ہیں تو لے آئیں۔ اللہ اکبر، اللہ پاک ہماری حفاظت فرمادے۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو بچنا چاہیے ایسے حالات میں۔

ترجمہ: اور کیا ان بستیوں کے لوگوں کو اس بات کا (بھی) کوئی ڈر نہیں ہے کہ ہمارا عذاب اُن پر کبھی دن چڑھے آجائے جب وہ کھیل کود میں لگے ہوئے ہوں؟ ﴿98﴾ بھلا کیا یہ لوگ اللہ کی دی ہوئی ڈھیل (کے انجام) سے بے فکر ہو چکے ہیں؟

حاشیہ: یہاں اصل لفظ ”مکر“ ہے جس کے معنی عربی میں ایسی خفیہ تدبیر کے ہوتے ہیں جس کا مقصد وہ شخص نہ سمجھے جس کے خلاف وہ کارروائی کی جا رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی تدبیر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو اُن کی بداعمالیوں کے باوجود دُنیا میں خوش حالی اور ظاہری خوشیاں عطا فرماتے ہیں، جس کا مقصد انہیں ڈھیل دینا ہوتا ہے۔ پھر جب وہ اپنی بدعملی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں تو اُن کو ایک دم سے پکڑ میں لے لیا جاتا ہے۔ لہٰذا عیش و عشرت کے عالم میں بھی انسان کو اپنے اعمال سے غافل ہو کر نہیں بیٹھنا چاہئے، بلکہ اپنی اصلاح کی فکر کرتے رہنا چاہئے، اور یہ خطرہ ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اگر ہم راہِ راست سے بھٹکے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل بھی ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے اپنی پناہ میں رکھے۔

آمین ثم آمین۔ اللہ جل شانہ ہمیں سمجھ بوجھ عطا فرمائے صحیح معنوں میں۔ اور قرآن پاک میں جو اشارے اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں جو مطلب ہمیں پیشین گوئیاں بتائی گئی ہیں۔ تو اس کے مطابق ہم لوگوں کو اس سے اثر لینا چاہیے۔ اور ہم لوگوں کو بدعملیوں سے رجوع کرنا چاہیے، یعنی اچھے اعمال کی طرف اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو یعنی پورا کرنے کی طرف۔ اور ایمان و تقویٰ کی طرف اللہ پاک ہم سب کو نصیب فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔