اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
مسلمان کو فضول لایعنی کام کو چھوڑنا چاہئے
(67) اَلثَّامِنُ: عَنْ اَبِیْ هُرَیْرَةَ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ سَلَّمَ: مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُهٗ مَا لَا یَعْنِیْهِ، حَدِيْثٌ حَسَنٌ، (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ غَیْرُهٗ)
اس حدیث شریف میں ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اچھے اسلام کی علامت ہے فضول لایعنی کام کو چھوڑ دینا‘‘۔
اصل میں لایعنی وہ ہے جس کا نہ دین میں فائدہ ہو، نہ جائز دنیا میں فائدہ ہو۔ اب مثال کے طور پر آپ تفریح کر رہے ہیں، ڈاکٹر نے بتایا ہے، tension ہے، بیماری ہے، تو اس کے لیے اگر آپ تفریح کر رہے ہیں تو یہ لایعنی میں نہیں آئے گا۔ اگر وہ علاج کے لحاظ سے ہے۔ اور اس طریقے سے صبح کی walk جو ہے، اگر ڈاکٹر بتائے blood pressure کی وجہ سے، sugar کی وجہ سے یا کسی اور بیماری کی وجہ سے تو لایعنی میں نہیں آئے گا۔ لایعنی بس اس وقت آتا ہے جیسے ویسے سیر سپاٹا، اپنے وقت کو ضائع کرنا۔ اور فضول چیزوں میں اپنے آپ کو مصروف رکھنا۔
ایک دفعہ ایسا ہوا تھا کہ ایک صحافی جو باہر سے آیا تھا۔ تو وہ پاکستان میں مختلف جگہوں پہ visit کر رہا تھا۔ تو اس نے دیکھا ایک پھاٹک بند ہے۔ تو پھاٹک کے ساتھ جو چرخی لگی ہوتی ہے تو ایک شخص نے اپنی cycle کو اٹھایا تھا اور اس چرخی کے اندر اس طرح بڑی مشکل سے اپنے cycle کو بھی پار کیا خود بھی پار ہو گیا۔ تو اس نے کہا بڑا یہ dutyful آدمی ہے اور اپنی duty پہ پہنچنے کے لیے دیکھو اتنی محنت کر رہا ہے، اس کے لیے اس کے بڑے جذبہ قدر کا پیدا ہوا۔ لیکن جس وقت پھاٹک کھل گیا تو جب آگے گیا تو وہاں آگے کوئی ڈگڈگی والا تھا۔ تو اس میں وہ آدمی کھڑا تھا دیکھ رہا تھا تماشہ۔ تو کہا: اچھا اس تماشے کے لیے اس نے اتنی بڑی محنت کی۔ تو یہ لایعنی ہے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ یہ لایعنی ہے، اس نے اپنے وقت کو بلاوجہ ضائع کر دیا۔
ایسے لوگ بلاوجہ سیر سپاٹے کرتے ہیں۔ ہمارے ایک وہ colleague تھے۔ ہم وہاں رہتے تھے colony میں۔ تو بسیں چلتی تھیں چار چالیس پہ اور پھر سوا سات بجے واپس۔ تو وہ آدمی اس کی duty تھی کہ بس وہ جا کے گھر میں جو ہے نا اپنی چیز رکھ کر پھر فوراً آتا اور کسی بس میں بیٹھ جاتا اور بازار پہنچ جاتا۔ چاہے satellite town ہو یا چاہے راجہ بازار جو بھی ہے۔ اور پھر ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک چکر لگاتا اور اپنا time جب پورا ہو جاتا آ کر سوا سات بجے بس میں بیٹھ کر پھر واپس جاتا۔ اس کا کوئی کام نہیں ہوتا تھا، نہ کوئی خرید و فروخت نہ کوئی اس قسم کا۔
اب یہ لایعنی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ایسی چیزوں میں اپنے آپ کو مصروف۔۔۔ یہ نہیں ہوتا digest وغیرہ یا اس قسم کی ایسی چیزیں ہوتی ہیں۔ جس میں صرف وقت ہی ضائع ہوتا ہے۔ یہ ludo۔۔ بھئی آپ کوئی ایسا game کھیلیں جو آپ کے لیے ورزش ہو، آپ کے جسم کو فائدہ ہو۔ تو وہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ ludo کیا ہو گیا اور یا اس قسم کے جو دوسرے جو ہیں carrom board اور یا اس قسم کی چیزیں۔ یہ خوامخواہ اپنے وقت کو ضائع کرنے والی باتیں ہیں۔
تو اپنے آپ کو، اپنے اوقات کو بھی بچانا چاہیے، اپنے مال کو بھی بلاوجہ ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اور اپنے جسم کو بھی غلط طریقوں سے خرچ نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ساری چیزیں اللہ کی دی ہوئی امانتیں ہیں۔ ان امانتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اللہ جل شانہ ہم سب سے راضی ہو جائے۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
تجزیہ اور خلاصہ:بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع اور بہترین عنوان: لایعنی (فضول) کاموں سے اجتناب: اچھے مسلمان کی پہچانمتبادل عنوان: وقت، مال اور جسم: اللہ کی امانتیں اور ان کا صحیح استعمال
اہم موضوعات:
اچھے اور کامل اسلام کی علامت (حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں)۔
لایعنی (فضول) کاموں کی جامع تعریف اور حدود۔
طبی مقاصد (Walk، ورزش، Tension کا علاج) اور فضول کاموں کے درمیان فرق۔
وقت ضائع کرنے کی عملی مثالیں (بلاوجہ بازاروں کے چکر، Ludo، Carrom board وغیرہ)۔
وقت، مال اور جسم کا اللہ کی امانت ہونا اور قیامت کے دن ان کی بازپرس۔
خلاصہ:اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں ایک اچھے مسلمان کی علامت بتائی ہے کہ وہ لایعنی (فضول) کاموں کو ترک کر دیتا ہے۔ آپ نے لایعنی کاموں کی تعریف کرتے ہوئے واضح کیا کہ جس کام کا نہ دین میں فائدہ ہو اور نہ جائز دنیا میں، وہ فضول ہے۔ تاہم، اگر کوئی تفریح یا Game جسمانی فائدے، Tension یا کسی بیماری کے علاج کی غرض سے ہو تو وہ لایعنی نہیں ہے۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے روزمرہ زندگی کی مختلف مثالیں دے کر سمجھایا کہ بلاوجہ بازاروں کے چکر لگانا، محض تماشے دیکھنا، یا ایسے کھیل کھیلنا جن سے صرف وقت کا ضیاع ہو، یہ سب لایعنی کام ہیں۔ آخر میں آپ نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارا وقت، ہمارا مال اور ہمارا جسم اللہ کی طرف سے دی گئی امانتیں ہیں، جن کا قیامت کے دن حساب لیا جائے گا، لہٰذا ان کا محتاط اور درست استعمال کرنا بے حد ضروری ہے۔