غفلت کا انجام، قیامت کی حقیقت اور منصبِ نبوت
درس نمبر: 313، سورۃ الاعراف، آیات: 182 تا 188
گناہوں کے باوجود ملنے والی مہلت (استدراج) اور اچانک پکڑ
کائنات پر غور و فکر اور موت کی تیاری کی دعوت
قیامت کے وقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے
نبی کریم ﷺ کا عاجزانہ مقام، علمِ غیب اور منصبِ رسالت
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ اَمَّا بَعْدُ فَاعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ(182) وَ اُمْلِیْ لَهُمْ ؕ ِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ(183) اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ(184) اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ(185) مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ(186) یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً ؕ یَسْــٴَـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(187) قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِۚ ۛ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُۚۛ-اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (188)
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
ترجمہ: اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے، انہیں ہم اس طرح دھیرے دھیرے پکڑ میں لیں گے کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا ﴿182﴾ اور میں اُن کو ڈھیل دیتا ہوں، یقین جانو کہ میری خفیہ تدبیر بڑی مضبوط ہے۔ ﴿183﴾
حاشیہ: یہ اُن لوگوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے جو مسلسل نافرمانی کئے جارہے ہوں، اور پھر بھی دُنیا کے عیش وعشرت سے لطف اندوز ہورہے ہوں، اور جنہیں کبھی یہ خیال بھی نہ آتا ہو کہ انہیں کسی دن اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ کیونکہ ایسی نافرمانیوں اور ایسی غفلت کے ساتھ جو دُنیوی عیش وعشرت میسر آتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل ہوتی ہے، جس کو قرآن کریم نے ”استدراج“ کا نام دیا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ ایسا شخص اچانک پکڑ لیا جاتا ہے، کبھی تو یہ پکڑ دُنیا ہی میں ہوجاتی ہے، اور اگر یہاں نہ ہوئی تو آخرت میں تو ہونی ہی ہونی ہے۔
یہاں جو لفظ ہے نا "سَنَسْتَدْرِجُهُمْ"، یہ اصل میں وہی استدراج کا لفظ ہے جو کہ قرآن میں آیا ہے۔
ترجمہ: بھلا کیا ان لوگوں نے سوچا نہیں کہ یہ صاحب جن سے ان کا سابقہ ہے، (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) ان میں جنون کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ وہ کچھ اور نہیں، بلکہ صاف صاف طریقے سے لوگوں کو متنبہ کرنے والے ہیں۔
اصل میں جن لوگوں نے کوئی بات نہیں ماننی ہوتی نا، تو وہ اپنے لیے کوئی بہانہ بناتے ہیں۔ تو وہ معاذ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجنون قرار دے کر یا شاعر یا جادوگر کہہ کر اپنی جان چھڑانا چاہتے تھے۔ یا دوسری بات یہ ہے کہ جو لوگ متاثر ہوتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے، تو ان کے اس تأثر کو دور کرنے کے لیے اس قسم کی باتیں بنائی جاتی تھیں۔
حاشیہ: یہ آیت بتارہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایسے بے سروپا تبصرے وہی کرسکتا ہے جو بے سوچے سمجھے بات کرنے کا عادی ہو۔ اگر یہ لوگ ذرا بھی غور کرلیں تو اُن پر اپنے ان الزامات کی حقیقت واضح ہوجائے۔
ترجمہ: اور کیا ان لوگوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت پر اور اللہ نے جو جو چیزیں پیدا کی ہیں اُن پر غور نہیں کیا، اور یہ (نہیں سوچا) کہ شاید اِن کا مقررہ وقت قریب ہی آپہنچا ہو؟ اب اس کے بعد آخر وہ کونسی بات ہے جس پر یہ ایمان لائیں گے؟ ﴿185﴾ جس کو اللہ گمراہ کردے، اُس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور ایسے لوگوں کو اللہ (بے یار ومددگار) چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں ﴿186﴾ (اے رسول!) لوگ تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب برپا ہوگی؟ کہہ دو کہ: ”اُس کا علم تو صرف میرے ربّ کے پاس ہے۔ وہی اُسے اپنے وقت پر کھول کر دکھائے گا، کوئی اور نہیں۔ وہ آسمانوں اور زمین میں بڑی بھاری چیز ہے، جب آئے گی تو تمہارے پاس اچانک آجائے گی۔“
ترجمہ: یہ لوگ تم سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے تم نے اس کی پوری تحقیق کررکھی ہو۔ کہہ دو کہ: ”اُس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، لیکن اکثر لوگ (اس بات کو) نہیں جانتے۔“ ﴿187﴾ کہہ دو کہ: ”جب تک اللہ نہ چاہے، میں خود اپنے آپ کو بھی کوئی نفع یا نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا، اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں اچھی اچھی چیزیں خوب جمع کرتا، اور مجھے کبھی کوئی تکلیف ہی نہ پہنچتی۔
یہ اچھی اچھی چیزیں اس طرح ہیں کہ جو دنیا میں تکلیفیں ہیں، برداشت جو نہیں ہوتیں مطلب تکلیفیں۔ تو کوئی قصداً تو تکلیف نہیں جان بوجھ کر اٹھاتا نا، کیونکہ وہ تو پھر مطلب یہ ہے کہ "وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ" ان کے خلاف ہوتا ہے۔ تو یہ صرف اور صرف جو اضطراری تکلیف آتی ہے، اس کو برداشت کرنا ہوتا ہے، اس کو صبر کی definition میں لے آتے ہیں۔ لیکن یہ بات ہے کہ کوئی قصداً تو، تو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں اپنے لیے تکلیف کو چنتے؟ ہاں یہ الگ بات ہے کہ اللہ پاک لائے ہے تو اس پر صبر۔ یعنی کھانا نہیں ہوتا تھا، فرمایا میرا روزہ ہے، ہوتا تو کھا لیتے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر چیز جو تھی وہ تفویض والی بات مطلب جو تھی۔ باقی یہ ہے کہ علم غیب کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی طور پر فرمایا، اگر مجھے علم غیب ہوتا۔ تو مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی، اور میں اپنے لیے اچھی اچھی چیزیں ڈھونڈ لیتا،
ترجمہ: میں تو بس ایک ہوشیار کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا ہوں، اُن لوگوں کے لئے جو میری بات مانیں۔“ ﴿188﴾
یہ اصل میں بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بنایا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور پیغمبر بنانے کے لیے یہ تھا کہ وہ بشارت بھی دے، یعنی motivation، اور مطلب انذار بھی کرے۔ یعنی جو تنبیہ ہوتی ہے وہ بھی، تو یہ ترغیب و ترہیب جس کو ہم کہتے ہیں، تو یہ پیغمبر کا منصب ہوتا ہے کہ وہ صرف بتاتا ہے، باقی جو کوئی عمل نہیں کرتا تو اس پر کوئی زور نہیں کرتا۔ ہاں البتہ اگر کوئی اور کسی کا حق مارتا ہے، تو پھر وہ معاشرے کو قائم کر رکھنے کے لیے جب اس کے پاس طاقت ہوتی تو اس طاقت کو استعمال کرتا ہے، فیصلے صحیح کرتا ہے، اللہ پاک ہم سب سے راضی ہو جائے اور صحیح طریقے سے قرآن پاک کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے،
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔