اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
دانا اور نادان کی پہچان
(66) ﴿السَّابِعُ: عَنْ أَبِي يَعْلَى شَدَّادِ ابْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ: الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهٗ وَ عَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَ الْعَاجِزُ مَنِ اتَّبَعَ نَفْسَهٗ هَوَاهَا وَ تَمَنّٰى عَلَى اللهِ﴾
(رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ قَالَ: حَدِيثٌ حَسَنٌ)
قَالَ التِّرْمِذِيُّ وَ غَيْرُهٗ مِنَ الْعُلَمَاءِ: مَعْنَى دَانَ نَفْسَهٗ: حَاسَبَهَا.
یہ حدیث شریف چونکہ یہ بیان ہوئی ہے۔ جس میں شداد بن اوس رضي الله عنه نقل فرماتے ہیں آپ ﷺ سے کہ سمجھدار آدمی وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے۔ یعنی وہ نفس کو بے قابو نہیں ہونے دیتا۔ اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرتا ہے۔
اور عاجز وہ ہے جو خواہشات کی اتباع کرتا ہے، اور آرزوؤں کو بڑھاتا رہتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ خواہشات کی بھی انتہا نہیں ہے اور آرزوؤں کی بھی انتہا نہیں ہے۔ تو یہ ان چیزوں میں پڑ کے اپنے نفس کی خواہشات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اور جو کام کرنا چاہیے وہ اس سے رہ جاتا ہے۔ یہ بات ہے۔
تو اس کے لیے فرمایا کہ عقلمند کون ہے؟ وہ لوگ عقلمند ہیں جو آدمی اپنا محاسبہ شب و روز کرتا رہے (کہ اس کی نیکیاں غالب ہیں یا برائیاں) اگر نیکیوں کا اس کو غلبہ معلوم ہو تو اس پر اللہ جل شانہ کا شکر ادا کرے کہ اللہ ہی کی توفیق سے یہ ہوا اور اگر برائیوں کا غلبہ معلوم ہو تو توبہ استغفار کرے کہ نفس و شیطان کی وجہ سے یہ ہوا۔ ایک دوسری حدیث میں محاسبہ نفس کی مزید اہمیت اس طرح بیان کی گئی ہے فرمایا کہ: ’’حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا‘‘
"اپنے نفس کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے۔"
تو نادان کون ہے؟ نادان کے بارے میں فرمایا: ’’مَنِ اتَّبَعَ نَفْسَهٗ هَوَاهَا‘‘ جو خواہشات کی اتباع کرتا ہے۔ امام غزالیؒ نے حسن بصریؒ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ باطل آرزوؤں اور جھوٹی امیدوں سے دور رہو، خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ نے کسی بندہ کو محض آرزوؤں کے سہارے نہ دنیا میں کامیاب کیا ہے اور نہ ہی آخرت میں کرے گا
تو اس وجہ سے بیوقوفی سے بچنا چاہیے۔ اور بیوقوفی کیا ہے؟ یہی ہے کہ کام تو کرے نہیں اور آرزوئیں بڑھاتے جائے۔ جو کام کرنا ہو وہ چھوڑ دے اور اِدھر اُدھر کی چیزوں میں لگ جائے۔ یہی اصل میں بیوقوف آدمی ہے۔ مثال کے طور پر، کوئی طالب علم ہے، وہ پڑھنے کے لیے گیا ہے، تو پڑھنے کو چھوڑ دے وہاں کے سیر سپاٹے میں لگ جائے۔ تو ظاہر ہے پڑھ تو نہیں سکے گا۔ فیل ہو جائے گا۔
تو اسی طریقے سے ہم اس دنیا میں آئے ہیں، یہ بھی امتحان گاہ ہے۔ اس امتحان گاہ میں جو کام ہمیں دیا گیا ہے، اس کام کو کرنا چاہیے۔ اور ان کاموں میں نہیں پڑنا چاہیے جو یہاں کی صرف، بس وقت گزارنے کی چیزیں ہیں۔ ایسے کاموں میں پڑ کر انسان اپنے جو مقاصد ہیں اس سے بہت دور ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً آخر میں پچھتاتا ہے۔ لیکن بعد میں پچھتانے سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ جو گزر چکا ہوتا ہے وقت وہ واپس نہیں آتا۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو ہوش کے ساتھ ان چیزوں پر غور کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کا جو طریقہ ہے وہ متعین کرے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔