غفلت اور دنیا پرستی کا انجام اور ذکرِ الٰہی کے ذریعے نجات
درس نمبر: 312، سورۃ الاعراف، آیات: 176 تا 181
دنیا پرستی اور نفسانی خواہشات کی پیروی کا انجام
غفلت کے نقصانات اور انسانی صلاحیتوں کا ضیاع
غفلت کا علاج: اسمائے حسنیٰ کے ذریعے دعا اور ذکر
حق کی رہنمائی اور انصاف قائم کرنے والا بہترین گروہ
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(176) سَآءَ مَثَلَا الْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ(177) مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(178) وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا ؕاُولٰٓىٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ ؕ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ(179) وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآىٕهٖ ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(180) وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ (181)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
ترجمہ: اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں کی بدولت اُسے سربلند کرتے، مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا، اور اپنی خواہشات کے پیچھے پڑا رہا، اس لئے اُس کی مثال اُس کتے کی سی ہوگئی کہ اگر تم اُس پر حملہ کرو تب بھی وہ زبان لٹکا کر ہانپے گا، اور اگر اُسے (اُس کے حال پر) چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکا کر ہانپے گا۔
حاشیہ: عام جانور اُسی وقت ہانپتے ہیں جب کوئی بوجھ اٹھائیں، یا کوئی اُن پر حملہ کرے۔ لیکن کتا ایسا جانور ہے جسے سانس لینے کے لئے ہر حال میں ہانپنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ جن حضرات نے اس واقعے کو بلعام بن باعور کا واقعہ قرار دیا ہے، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اُس کی بدعملی کی سزا میں اُس کی زبان کتے کی طرح باہر نکل پڑی تھی، اس لئے اُسے اس آیت میں کتے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ دراصل یہ تشبیہ اُس شخص کی نفسانی حرص کی ہے۔ اگر کتے پر کوئی چیز پھینکی جائے تو خواہ وہ اُسے مارنے کے لئے پھینکی گئی ہو، کتا اپنی زبان نکال کر اُس پر اس حرص میں لپکتا ہے کہ شاید یہ کوئی کھانے کی چیز ہو۔ اسی طرح جو شخص دُنیا کی حرص میں گرفتار ہو وہ ہر واقعے سے دُنیا کا مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اُس کے لئے ہر حال میں ہانپتا ہی رہتا ہے۔
ترجمہ: یہ ہے مثال اُن لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے۔ لہٰذا تم یہ واقعات ان کو سناتے رہو، تاکہ یہ کچھ سوچیں ﴿176﴾ کتنی بُری مثال ہے اُن لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے، اور جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے ہیں! ﴿177﴾ جسے اللہ ہدایت دے، بس وہی ہدایت یافتہ ہوتا ہے، اور جسے وہ گمراہ کردے، تو ایسے ہی لوگ ہیں جو نقصان اُٹھاتے ہیں ﴿178﴾ اور ہم نے جنات اور انسانوں میں سے بہت سے لوگ جہنم کے لئے پیدا کئے۔
حاشیہ: یعنی اُن کی تقدیر میں یہ لکھا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے ایسے کام کریں گے جو انہیں جہنم تک لے جائیں گے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ تقدیر میں لکھنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ جہنم کے کام کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، بلکہ بلا تشبیہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اُستاد اپنے کسی شاگرد کے حالات کے پیش نظر یہ لکھ کر رکھ دے کہ یہ فیل ہوگا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اُستاد نے اُسے فیل ہونے پر مجبور کردیا، بلکہ اُس نے جو کچھ لکھا تھا اُس کا مطلب یہی تھا کہ یہ شاگرد محنت کرنے کے بجائے وقت ضائع کرے گا، اور اس کے نتیجے میں فیل ہوگا۔
ترجمہ: اُن کے پاس دِل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، اُن کے پاس آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، اور اُن کے پاس کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں، بلکہ وہ اُن سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ﴿179﴾
یہ بہت مکروہ صورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے۔ یہ انسان کہ علم ہو، لیکن علم سے اس کو پتا نہ چلے کہ حق کیا ہے، باطل کیا ہے۔ اور انہیں آنکھیں ہوں، لیکن نظر نہ آئے، صحیح بات۔ سننے کو کان ہوں، لیکن اس سے حق بات نہ سنے۔ اور دل، دماغ موجود ہو فیصلہ کرنے کے لیے، سوچنے کے لیے، لیکن اس سے سوچے نہیں۔ تو ان کا پھر یہ حال ہو جاتا ہے۔
ترجمہ: اور اسمائے حسنیٰ (اچھے اچھے نام) اللہ ہی کے ہیں۔ لہٰذا اُس کو انہی ناموں سے پکارو
حاشیہ: اس سے پہلی آیت میں نافرمانوں کی بنیادی بیماری یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اُس کے سامنے جواب دہی کے احساس سے غافل ہیں۔ اور غور کیا جائے تو اس دُنیا میں ہر قسم کی برائی کا اصل سبب ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ اس لئے اب اس بیماری کا علاج بتایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے، اور اپنی ہر حاجت اُسی سے مانگی جائے۔ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کو پکارنے کا جو لفظ یہاں استعمال ہوا ہے، وہ دونوں باتوں کو شامل ہے، اُس کی تسبیح و تقدیس کے ذریعے اُس کا ذکر کرنا، اور اُس سے دُعائیں مانگنا۔ غفلت کے دُور ہونے کا یہی راستہ ہے کہ بندہ اپنے پروردگار کو دونوں طریقوں سے پکارے۔ البتہ اُس کو پکارنے کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو اچھے اچھے نام (اسمائے حسنیٰ) خود اللہ تعالیٰ نے یا اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتادیے ہیں، انہی ناموں سے اُس کو پکارا جائے۔ ان اسمائے حسنیٰ کی طرف قرآن کریم نے کئی مقامات پر اشارہ فرمایا ہے صحیح بخاری وغیرہ میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں۔ یہ ننانوے نام ترمذی اور حاکم نے روایت کئے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر انہی اسمائے حسنیٰ میں سے کسی اسم مبارک کے ساتھ کرنا چاہئے، اور اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کا کوئی نام نہیں گھڑ لینا چاہئے۔
یہ بات ہے۔
ترجمہ: اور اُن لوگوں کو چھوڑ دو جو اُس کے ناموں میں ٹیڑھا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
حاشیہ: بہت سے کافروں کے ذہن میں اللہ تعالیٰ کا جو ناقص، ادھورا یا غلط تصور تھا، اُس کے مطابق انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کوئی نام یا کوئی صفت بنالی تھی، یہ آیت متنبہ کررہی ہے کہ مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے کہ اُن لوگوں کی پیروی میں وہ بھی اللہ تعالیٰ کا وہ نام یا صفت استعمال کرنا شروع کردیں۔
ترجمہ: وہ جو کچھ کررہے ہیں، اُس کا بدلہ انہیں دیا جائے گا ﴿180﴾ اور ہماری مخلوق میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو لوگوں کو حق کا راستہ دکھاتی ہے، اور اُسی (حق) کے مطابق انصاف سے کام لیتی ہے ﴿181﴾
تو ہر دو کا ذکر آ گیا، وہ لوگ جو باغی لوگ ہیں، جن کا سننا، دیکھنا اور سوچنا ان کو فائدہ نہیں دیتا۔ اور ایسے بھی لوگ ہیں جو کہ انصاف سے کام لیتے ہیں اور حق پر قائم ہوتے ہیں۔ تو ظاہر ہے، مطلب، انسان کو کوشش کرنی چاہیے اور یہ جو غفلت سے نکلنے کا راستہ اللہ پاک نے بتا دیا ذکر کا، اور ذکر بھی اس طریقے سے جو کہ مسنون ہے، مامور ہے۔ یعنی وہ نام جو کہ اللہ پاک نے اپنے لیے خود بتائے ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر کیا ہے، ان ناموں سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا چاہیے۔ مثلاً اللہ، یہ تو اسم ذات ہے۔ رحمٰن، کریم، رحیم، غفور، یہ سب نام جو ہیں نا وہ یعنی اللہ پاک کے ننانوے نام بتائے ہیں۔ تو ان ناموں کے ذریعے سے اللہ پاک کو یاد کرنا چاہیے۔
اور ان کی پھر بڑی فضیلت آئی ہے، ذکر کی، اور جو بہت ساری فضیلتیں ہیں وہ اس میں شامل ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ذاکرین میں سے کر دے۔ ذکر اتنی بڑی دولت ہے کہ اس میں اللہ پاک فرماتے ہیں، فَاذْكُرُونِي اَذْكُرْكُمْ۔ پس مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ تو جس کو اللہ یاد رکھے، ان کی بات کیا ہے، بھئی اس کا تو کوئی مطلب ہم نظیر نہیں پا سکتے۔ اللہ پاک ہم سب سے راضی ہو، اور ایسے کاموں کی توفیق عطا فرمائے جس سے اللہ پاک راضی ہوتے ہیں۔