عہدِ الست، فتنۂ نفس اور اہل علم کا امتحان

درس نمبر: 311، سورۃ الاعراف، آیات: 172 تا 175

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

عہدِ الست اور انسانی فطرت پر توحید کی گواہی

علم و عبادت کے بعد گمراہی: بلعام بن باعور کا عبرت ناک انجام

مقبولیت و بزرگی کے ساتھ شیطانی حملوں کی شدت

فتنۂ نساء اور اہل دین کے لیے تقویٰ و احتیاط کی ضرورت

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ؕ قَالُوْا بَلٰىۚ ۛ شَهِدْنَا ۚ ۛ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَ ۙ (172) اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ (173) وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(174) وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ (175)

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ

ترجمہ: اور (اے رسول! لوگوں کو وہ وقت یاد دلاؤ) جب تمہارے پروردگار نے آدم کے بیٹوں کی پشت سے اُن کی ساری اولاد کو نکالا تھا، اور اُن کو خود اپنے اوپر گواہ بنایا تھا، (اور پوچھا تھا کہ:) ”کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟“ سب نے جواب دیا تھا کہ: ”کیوں نہیں؟ ہم سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔“

حاشیہ: اس آیت کریمہ میں جس عہد لینے کا ذکر ہے، حدیث میں اُس کی تشریح یہ آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے کے بعد اُن کی پشت سے جتنے انسان پیدا ہونے والے تھے، ان سب کو ایک جگہ اس طرح جمع فرمایا کہ وہ سب چیونٹیوں کے برابر جسم رکھتے تھے۔ پھر اُن سے یہ عہد لیا کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانتے ہیں؟ سب نے اقرار کیا کہ بیشک وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب تسلیم کرتے ہیں، (روح المعانی بحوالہ نسائی وحاکم وبیہقی وغیرہ) جس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کو مان کر ان پر عمل کریں گے، اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو دُنیا میں بھیجنے سے پہلے ہی ان سے اپنی اطاعت کا اقرار لے لیا تھا۔ دُنیا میں ایسے حضرات بھی ہوئے ہیں جن کو یہ واقعہ دُنیا میں آنے کے بعد بھی یاد رہا، مثلاً حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ سے ان کا یہ ارشاد منقول ہے کہ: ”یہ عہد مجھے ایسا یاد ہے گویا اس وقت سن رہا ہوں۔“ (معارف القرآن ج:4 ص: 115) لیکن یہ دُرست ہے کہ چند مستثنیات کو چھوڑ کر باقی انسان اس واقعے کو ایک عہد کی شکل میں تو بھول چکے ہیں، مگر کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ یاد نہ رہنے کے باوجود اپنا طبعی اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ اثر آج بھی دُنیا کے اکثر و بیشتر انسانوں میں موجود ہے کہ وہ اس کائنات کے ایک پیدا کرنے والے پر ایمان رکھتے ہیں، اور اس کی عظمت و کبریائی کے گن گاتے ہیں۔ جو لوگ مادی خواہشات کے گرداب میں پھنس کر اپنی فطرت خراب کرچکے ہوں، اُن کی بات تو اور ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت ہر انسان کی فطرت میں سمائی ہوئی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ جب کبھی فطرت سے دُور کرنے والے بیرونی عوامل دُور ہوتے ہیں تو انسان حق کی طرف اس طرح دوڑتا ہے جیسے اُس کو اپنی کھوئی ہوئی پونجی اچانک مل گئی ہو۔

ترجمہ: اور یہ اقرار ہم نے اس لئے لیا تھا) تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ: ”ہم تو اس بات سے بے خبر تھے“ ﴿172﴾ یا یہ نہ کہہ دو کہ شرک کا آغاز تو بہت پہلے ہمارے باپ دادوں نے کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد انہی کی اولاد بنے، تو کیا آپ ہمیں ان کاموں کی وجہ سے ہلاک کر دیں گے جو غلط کار لوگوں نے کیے تھے؟ اور یہ اقرار ہم نے اس لیے لیا تھا تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم تو اس بات سے بے خبر تھے۔ یا یہ نہ کہہ دو کہ: ”شرک (کا آغاز) تو بہت پہلے ہمارے باپ دادوں نے کیا تھا، اور ہم اُن کے بعد انہی کی اولاد بنے۔ تو کیا آپ ہمیں اُن کاموں کی وجہ سے ہلاک کردیں گے جو غلط کار لوگوں نے کئے تھے؟“ ﴿173﴾ اور اسی طرح ہم نشانیوں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں، تاکہ لوگ (حق کی طرف) پلٹ آئیں ﴿174﴾ اور (اے رسول!) ان کو اُس شخص کا واقعہ پڑھ کر سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں، مگر وہ اُن کو بالکل ہی چھوڑ نکلا، پھر شیطان اُس کے پیچھے لگا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ گمراہ لوگوں میں شامل ہوگیا۔

حاشیہ: عام طور سے مفسرین نے اس آیت کے بارے میں یہ کہا ہے کہ اس میں بلعام بن باعور کی طرف اشارہ ہے۔ فلسطین کے علاقے موآب میں یہ ایک عابد وزاہد شخص تھا، اور اس کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ اُس کی دُعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اُس وقت اس علاقے پر بت پرست قوموں کا قبضہ تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے غرق ہونے کے بعد بنی اسرائیل کا لشکر لے کر اس علاقے پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فوجیں موآب کے دروازے تک پہنچ گئیں تو وہاں کے بادشاہ نے بلعام سے کہا کہ وہ ان کے خلاف بددُعا کرے تاکہ وہ ہلاک ہوجائیں، بلعام نے شروع میں انکار کیا، مگر بادشاہ نے اسے رشوت دی تو وہ بددُعا پر راضی ہوگیا۔ مگر جب دُعا کرنی شروع کی تو الفاظ بددُعا کے بجائے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حق میں دُعا کے نکلے۔ بعد میں بلعام نے بادشاہ کے لوگوں کو یہ مشورہ دیا کہ وہ اپنی عورتوں کو بنی اسرائیل کے خیموں میں بھیج دیں، تاکہ وہ بدکاری میں مبتلا ہوجائیں۔ بدکاری کی یہ خاصیت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قہر کا سبب بنتی ہے، اس لئے بنی اسرائیل اپنی بدکاری کی وجہ سے اللہ کی مدد سے محروم ہوجائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، بنی اسرائیل اس فتنے میں مبتلا ہوگئے جس کی وجہ سے ان میں عذاب کے طور پر طاعون کی وبا پھوٹ پڑی۔ یہ قصہ بائبل میں بھی تفصیل کے ساتھ مذکور ہے (دیکھئے گنتی، باب 22 تا 25، اور 31: 16)۔ قرآن کریم نے یہاں اُس شخص کا نام نہیں لیا جس کی طرف ان آیات میں اشارہ ہے، اور نہ یہ بیان فرمایا ہے کہ اُس شخص نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو چھوڑ کر کس طرح اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کی۔ اور جو قصہ اُوپر بیان کیا گیا ہے، وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں ہے۔ اس لئے یقین کے ساتھ یہ کہنا مشکل ہے کہ ان آیات میں وہی مراد ہے۔ تاہم قرآن کریم کا اصل مقصد اس شخص کی تعیین پر موقوف نہیں ہے۔ سبق یہ دینا مقصود ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے علم اور عبادت کے شرف سے نوازا ہو، اُس کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ احتیاط اور تقویٰ سے کام لینا چاہئے۔ اگر ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی آیات کی خلاف ورزی کر کے ناجائز خواہشات کے پیچھے چل پڑے، تو اس کا انجام دُنیا اور آخرت دونوں میں برا ہوتا ہے۔

اس میں ایک بات میں عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ امتحانات ہوا کرتے ہیں اور شخص پہ تقریباً ہوتے ہیں کہ انسان کو جس وقت اللہ پاک کی طرف راستہ مل جاتا ہے اور اس پہ چلنے لگتا ہے۔ تو دو قسم کی باتیں ہو جاتی ہیں۔ ایک تو لوگوں میں جب یہ مشہور ہوتا ہے تو لوگ اس کی بات ماننے لگتے ہیں۔ لوگ ان کی قدر کرنے لگتے ہیں، گویا کہ دنیا میں اس کے اللہ کے ساتھ تعلق کا، ایک فائدہ ملنا شروع ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف شیطان اور شیطانی قوتیں اس کے بارے میں جاننے لگتی ہیں کہ یہ کام تو ظاہر ہے، مطلب، خراب ہو رہا ہے۔ اور یہ ہمارے ہاتھ سے خود بھی نکل رہا ہے، دوسروں کو بھی نکال رہا ہے۔ تو ایسی صورت میں وہ اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ تاکہ اس کو بھی خراب کر لے۔ اور خراب کرنے کے جو ذرائع ہوتے ہیں وہ پھر شیطان کے اپنے اس پر ہیں، مطلب وہ جو تجربہ ہے اور اس کا جو مطلب اس کو اس طرح چیزوں کا پتہ ہے۔ وہ اس کو استعمال میں لاتا ہے، تو لوگوں کو استعمال کرتا ہے، ذرائع بناتے ہیں، ان کے سامنے مختلف شکلوں میں وہ جاتے ہیں کبھی کیا، کبھی کیا۔ مثلاً سب سے بڑی بات یہ نساء والا فتنہ، عورتوں والا فتنہ، یہ بڑا فتنہ ہے۔ تو یہ بڑا فتنہ جو ہے وہ استعمال کرتا ہے۔ تو ایسی صورت میں ظاہر ہے مطلب عورتیں رقیق القلب بھی ہوتی ہیں۔ اور یہ بھی ہوتی ہیں کہ وہ نرم دل ہوتی ہیں۔ تو ان پہ اثر زیادہ ہوتا ہے۔ لہٰذا ان کے کلام سے، ان کے کاموں سے متاثر ہو کر عورتیں نہ صرف یہ کہ اس لیے آتی ہیں کہ ان سے متاثر ہوں، دوسری اس لیے آتی ہیں کہ ان کے دنیاوی کام کا راستہ مل جاتا ہے۔ مطلب وہ اپنے دنیاوی کام نکالنے کے لیے جوق در جوق آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اب اس میں پھر شیطان اپنا کام چلانے کی کوشش کرتا ہے۔ اور عورتوں کی صورت میں مطلب ظاہر ہے، ان کے اوپر وہ ہے کہ اپنے ڈورے ڈالنے لگتا ہے۔ نتیجتاً اگر کوئی ان میں پھسل گیا تو وہ جو اس کی بزرگی یا جو بھی تھی، وہ جو بھی، وہ بھی سارا داؤ پر لگ جاتا ہے۔ کیونکہ لوگوں کو تو اس سے غرض نہیں ہے، وہ لوگوں کو تو اپنی ذاتی چیزوں کی غرض ہوتی ہے۔ وہ جیسے اس کے اندر وہ کمزوری دیکھ لیتے ہیں تو بس وہ سارے کے سب کے سب مخالف ہو جاتے ہیں۔ تو دنیا کا خسارہ بھی ہو جاتا ہے اور آخرت کا خسارہ تو ہو ہی جاتا ہے۔ تو وہ اس وجہ سے حضرت نے جو فرمایا کہ ایسے لوگوں کو زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔ کیونکہ شیطان اس پہ حملہ آور ہوتا ہے۔ اور لوگ اس کی مانتے رہتے ہیں۔ نتیجتاً وہ خطرے میں بڑھتا رہتا ہے۔ تو اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ ان باتوں میں وہ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ شیطان وہ فارغ نہیں بیٹھا۔ وہ ہر ایک کی کسی بھی نیکی کو ضائع کر سکتا ہے۔ اور کروا سکتا ہے۔ تو اس وجہ سے ہم سب کو محتاط رہنا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرما دے۔

وَاَخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

عہدِ الست، فتنۂ نفس اور اہل علم کا امتحان - درسِ قرآن - پہلا دور