بنی اسرائیل کے احوال سے عبرت: دنیا پرستی اور جھوٹی امیدوں کا انجام
درس نمبر: 310، سورۃ الاعراف، آیات: 168 تا 171
دین کے بدلے دنیا کی لالچ اور بخشش کی جھوٹی تسلیاں
فوری فائدے (نفس کی غلامی) کے مقابلے میں آخرت کی بربادی
کتابِ الٰہی پر مضبوطی سے عمل اور نماز قائم کرنے والوں کا اجر
پہاڑ کے اٹھائے جانے کا عبرتناک واقعہ اور احکامِ خداوندی
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ (168) فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (169) وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ (170) وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (171)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ
ترجمہ: اور ہم نے دُنیا میں اُن کو مختلف جماعتوں میں بانٹ دیا۔ چنانچہ ان میں نیک لوگ بھی تھے، اور کچھ دوسری طرح کے لوگ بھی۔ اور ہم نے انہیں اچھے اور بُرے حالات سے آزمایا، تاکہ وہ (راہِ راست کی طرف) لوٹ آئیں ﴿168﴾ پھر ان کے بعد اُن کی جگہ ایسے جانشین آئے جو کتاب (یعنی تورات) کے وارث بنے، مگر ان کا حال یہ تھا کہ اس ذلیل دُنیا کا ساز و سامان (رشوت میں) لیتے، اور یہ کہتے کہ: ”ہماری بخشش ہوجائے گی“ حالانکہ اگر اُسی جیسا ساز و سامان دوبارہ اُن کے پاس آتا تو وہ اُسے بھی (رشوت میں) لے لیتے۔ اور یہ کہتے کہ ہماری بخشش ہو جائے گی۔ حالانکہ اگر اسی جیسا ساز و سامان دوبارہ ان کے پاس آتا تو وہ اسے بھی رشوت میں لے لیتے۔
یہ اصل میں ان لوگوں کی جو بعد میں آئے تھے بنی اسرائیل میں تو ان کے حالات کچھ ایسے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اس کی باتوں کو تبدیل کر کے، غلط تفسیر کر کے اس پہ پیسے لیتے تھے۔
حاشیہ: یہ ان کی اس بدعنوانی کا ذکر ہے کہ وہ رشوت لے کر اللہ کی کتاب کی غلط تفسیر کر دیتے تھے، اور ساتھ ہی بڑے یقین کے ساتھ یہ بھی کہتے کہ ہمارے اس گناہ کی بخشش ہو جائے گی۔ حالانکہ بخشش تو توبہ سے ہوتی ہے، جس کا لازمی حصہ یہ ہے کہ آئندہ اس گناہ سے پرہیز کیا جائے، لیکن ان کا حال یہ تھا کہ اگر انہیں دوبارہ رشوت کی پیشکش کی جاتی تو وہ دوبارہ لینے کو بے تکلف تیار رہتے تھے۔ اور یہ سب کچھ وہ دُنیا کی خاطر کرتے تھے، حالانکہ اگر عقل ہوتی تو یہ دیکھتے کہ آخرت کی زندگی کہیں بہتر ہے۔
اصل میں یہ اگرچہ بنی اسرائیل کا واقعہ ہے لیکن ہمارے لیے اس میں بڑا سبق ہے کہ ہم لوگ دنیا کے پیچھے اپنی آخرت کو برباد نہ کریں۔ عموماً یہی ہوتا ہے کہ انسان کے سامنے جو چیز ہوتی ہے وہ بہت زیادہ attract کرتی ہے۔ اس وقت وہ اس کو نہیں دیکھتا کہ اس کا بعد میں مجھے کیا نقصان ہوگا۔ مثلاً کوئی آدمی بیمار ہے تو اس کو پرہیز کا کہا جاتا ہے، تو وہ پرہیز جو چیز ہوتی ہے وہ اس کا جو فائدہ ہوتا ہے وہ بعد میں ہوتا ہے۔ اور جو مثلاً ایسی چیز ہے جو کہ اس کو پسند ہے لیکن اس کو منع کیا گیا ہے تو اس کی طلب وہ فوری ہوتی ہے۔ تو اس فوری چیز کے لیے وہ وہ بعد والی چیز کو قربان کر لیتے ہیں۔ یہ طریقہ کار چلا رہا ہے۔ تو ایسی صورت میں ظاہر ہے نقصان تو ہوگا پھر۔ تو یہاں پر بھی یہ بات ہے کہ دنیا کے شائقین لوگ جو ہوتے ہیں وہ دنیا کی خاطر سود بھی کھا لیتے ہیں، رشوت بھی لیتے ہیں، دھوکہ بھی کر لیتے ہیں، اور پھر طفل تسلیاں بھی۔۔ ہاں کہ ہماری بخشش ہو جائے گی۔ اور یہ جو حدیث شریف ہے جس میں آپ فرماتے ہیں کہ عقلمند ہے وہ شخص جس نے اپنے نفس پہ قابو کر لیا اور آخرت کے لیے کام کیا۔ اور بے وقوف ہے وہ شخص جس نے اپنے نفس کو کھلا چھوڑ دیا، جو کرنا چاہتا تھا کرنے دیا، پھر بعد میں بس جھوٹی امیدیں باندھے رہے تمنائیں کر رہے تھے۔ تو اصل میں وہ یہی والی بات ہوتی ہے کہ انسان اپنے نفس کے وار کو سہہ نہیں سکتا وہ بس کرتا جاتا ہے جو کہ نفس چاہتا ہے، تو ایسی صورت میں نقصان پہ نقصان ہو رہا ہوتا ہے۔ اور اس کو طفل تسلیاں وہ اپنے آپ کو دینی پڑتی ہیں کہ کوئی بات نہیں یہ ٹھیک ہے، یہ بھی مسئلہ ہے، وہ کوئی پرابلم نہیں ہے، مطلب یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا، اس طریقے سے وہ اپنے آپ کو دھوکہ دیتا رہتا ہے۔ تو یہ مطلب یہاں پر ہم لوگوں کے لیے اس بات میں عبرت ہے۔
ترجمہ: کیا ان سے کتاب میں مذکور یہ عہد نہیں لیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسوب نہ کریں؟ اور اُس (کتاب) میں جو کچھ لکھا تھا، وہ انہوں نے باقاعدہ پڑھا بھی تھا۔ اور آخرت والا گھر اُن لوگوں کے لئے کہیں بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ (اے یہود!) کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ ﴿169﴾ اور جو لوگ کتاب کو مضبوطی سے تھامتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں، تو ہم ایسے اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے ﴿170﴾ اور (یاد کرو) جب ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر اس طرح اٹھا دیا تھا جیسے وہ کوئی سائبان ہو،
حاشیہ: یہ واقعہ سورۂ بقرہ (2: 63) اور سورۂ نساء (4: 154) میں بھی گزرا ہے، اور سورۂ بقرہ کی متعلقہ آیت کے تحت ہم نے اس کا خلاصہ بیان کیا ہے۔ وہاں ہم نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ عربی زبان کے لحاظ سے اس آیت کا یہ ترجمہ بھی ممکن ہے کہ: ”ہم نے پہاڑ کو اُن کے اوپر اس طرح زور زور سے ہلایا کہ انہیں یہ گمان ہو گیا کہ وہ ان کے اوپر گرنے والا ہے۔“ مطلب یہ بات بھی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ اب جیسے زلزلہ آ جائے تو وہ وہ مکان ہلنے لگتا ہے۔ تو آدمی محسوس کرتا ہے یہ مکان تو ابھی گر جائے گا۔ تو اس طرح یہ بات ہے کہ اگر کوئی پہاڑی علاقے میں ہو اور پہاڑ پر کھڑا ہو یا وہ تو وہ پہاڑ وہ ظاہر ہے زلزلے میں تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تو گرنے کو ہوتا ہے۔ تو ایسی بات مطلب یہ ہے کہ ان کے لیے کوئی اس مطلب وہ ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں کہ اس کا کیا ہے، اللہ تعالیٰ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ پہاڑ کو ان کے اوپر ہی اس طرح سائبان بنا دیں اور اس طرح وہ، لیکن بہرحال جو بھی صورتحال تھی، ڈراؤنی صورتحال تھی۔
ترجمہ: اور انہیں یہ گمان ہو گیا تھا کہ وہ ان کے اوپر گرنے ہی والا ہے، (اُس وقت ہم نے حکم دیا تھا کہ:) ”ہم نے تمہیں جو کتاب دی ہے، اُسے مضبوطی سے تھامو، اور اُس کی باتوں کو یاد کرو، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرسکو“
تو یہ جو اس آیت کریمہ میں جو مطلب یعنی بتایا گیا ہے تو اس کو یہ ہے کہ گویا کہ اللہ پاک چونکہ ان لوگوں نے مطلب مختلف طریقے سے اس قسم کے کام کیے تھے جس کی وجہ سے ان کو یعنی اس طرح بتایا گیا، ورنہ اللہ پاک زبردستی تو کسی کو وہ نہیں وہ اس طرف لاتے، لیکن یہ لوگ چونکہ ایسے ہو گئے تھے کہ ان کے لیے بس وہ حجت تمام کرنے کے لیے ایسا کر لیا گیا۔ بہرحال یہ ہے کہ جتنے بھی مطلب یہود کے جو کام تھے اس میں یہ پتہ چلتا ہے کہ بہت ہی زیادہ بہت ہی زیادہ ٹیڑھے خیالات تھے ان کے اور بہت جلدی یعنی سب چیزوں کو بھول جاتے تھے اور جو جس کو كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ والی بات ہے۔ یعنی جو فوری چیز ہے اس کا اثر لیتے ہو اور جو بعد میں آنے والی چیز ہے اس کا اثر چھوڑتے ہو۔ تو یہ بات ان میں بہت زیادہ تھی۔ بہت جلدی یعنی گمراہی کا ان میں ہوتا تھا۔ ہاں اچھے لوگ بھی ان میں تھے جیسے کہ بتایا گیا ہے لیکن بہرحال جو لوگ اس طرح پھسل جاتے تھے تو ان کے لیے کبھی تو عذاب آ جاتا تھا، کبھی وہ اگر مطلب سمجھ لیتے تو پھر ان کو اللہ تعالیٰ معاف کر لیتے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ایسی بیوقوفیوں سے محفوظ فرما دے۔ یہ جو عبرت کے واقعات ہوتے ہیں ان عبرت کے واقعات کو اس لیے بیان کیا جاتا ہے تاکہ لوگ اس سے عقل سیکھیں اور اس قسم کی باتیں نہ کریں۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔