نافرمانی کے حیلے، فریضۂ امر بالمعروف اور عذابِ الٰہی: اصحابِ سبت کا عبرت ناک انجام

درس نمبر: 309، سورۃ الاعراف، آیات: 163 تا 167

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

حکمِ سبت، الٰہی آزمائش اور گناہ کے حیلے

معاشرتی بگاڑ میں امر بالمعروف اور داعی کی ذمہ داری

برائی سے روکنے والوں کی نجات اور نافرمانوں کا مسخ ہونا

سرکشی کی دائمی سزا اور تاریخی عبرت

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَسْـَٔلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ ۚ كَذٰلِكَ ۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ (163) وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمًا ۙ اللّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ (164) فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَىٕیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ (165) فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِىٕیْنَ (166) وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ ۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (167)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ

ترجمہ: اور ان سے اُس بستی کے بارے میں پوچھو جو سمندر کے کنارے آباد تھی، جب وہ سبت (سنیچر) کے معاملے میں زیادتیاں کرتے تھے،

حاشیہ: یہ واقعہ بھی اختصار کے ساتھ سورۂ بقرہ (2:65-66) میں گزرا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ سنیچر کو عربی اور عبرانی زبان میں ”سبت“ کہتے ہیں۔ یہودیوں کے لئے اسے ایک مقدس دن قرار دیا گیا تھا جس میں ان کے لئے معاشی سرگرمیاں ممنوع تھیں۔ جن یہودیوں کا یہاں ذکر ہے وہ (غالباً حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں) کسی سمندر کے کنارے رہتے تھے، اور مچھلیاں پکڑا کرتے تھے۔ سنیچر کے دن مچھلیاں پکڑنا ان کے لئے ناجائز تھا، مگر شروع میں انہوں نے کچھ حیلے کرکے اس حکم کی خلاف ورزی کرنی چاہی، اور پھر کھلم کھلا مچھلیاں پکڑنی شروع کردیں۔ کچھ نیک لوگوں نے انہیں سمجھایا، مگر وہ باز نہ آئے۔ بالآخر ان پر عذاب آیا اور ان کی صورتیں مسخ کرکے انہیں بندر بنادیا گیا۔ سورۂ بقرہ میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اگرچہ موجودہ بائبل میں موجود نہیں ہے، لیکن عرب کے یہودی اس سے خوب اچھی طرح واقف تھے۔

اصل میں یہ لوگ اپنی باتوں کو چھپاتے ہیں۔ تو یہ تو ایسی بات تھی جو کہ ان کے لیے بہت بدنامی کے باعث تھی۔ تو ان لوگوں نے اس کو آگے نہیں چلنے دیا۔ اس وقت یہ بات معلوم تھی سب لوگوں کو۔

ترجمہ: جب اُن (کے سمندر) کی مچھلیاں سنیچر کے دن تو اُچھل اُچھل کر سامنے آتی تھیں، اور جب وہ سنیچر کا دن نہ منارہے ہوتے، تو وہ نہیں آتی تھیں۔ اس طرح اُن کی مسلسل نافرمانیوں کی وجہ سے ہم انہیں آزماتے تھے۔ ﴿163﴾

حاشیہ: جب کوئی قوم نافرمانی پر کمر باندھ لیتی ہے تو بعض اوقات اللہ تعالیٰ اُسے ڈھیل دیتے ہیں، جیسا کہ آگے آیت نمبر 182 میں خود اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ سنیچر کے دن معاشی سرگرمیوں سے باز رہنا اپنی ذات میں کچھ اتنا ناقابلِ برداشت نہیں تھا، لیکن جس قوم کی سرشت ہی میں نافرمانی تھی، اُس نے جب کسی معقول وجہ کے بغیر احکام کی خلاف ورزی شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ ڈھیل دی کہ سنیچر کے دن مچھلیاں اتنے افراط کے ساتھ نظر آنے لگیں کہ دوسرے دنوں میں اتنے افراط کے ساتھ نظر نہیں آتی تھیں۔ اس سے ان کو نافرمانی کا اور حوصلہ ہوا، اور وہ یہ نہ سمجھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل اور آزمائش ہے۔ اور انہوں نے پہلے ایسے حیلے کئے کہ سنیچر کے دن مچھلی کی دُم میں رسّی اٹکا کر اسے زمین کی کسی چیز سے باندھ دیا، اور اتوار کے دن اُسے پکا کھایا۔ جب ان حیلوں سے نافرمانی کا حوصلہ بڑھا تو کھلم کھلا شکار شروع کردیا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر کسی شخص کو گناہ کے وافر مواقع میسر آرہے ہوں تو اُسے ڈرنا چاہئے کہ یہ کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل نہ ہو جس کے بعد وہ ایک دم پکڑلیا جائے۔

ایسا ہی ہوتا ہے اللہ بچائے بس۔

ترجمہ:اور (وہ وقت انہیں یاد دلاؤ) جب انہی کے ایک گروہ نے (دوسرے گروہ سے) کہا تھا کہ: ”تم اُن لوگوں کو کیوں نصیحت کررہے ہو جنہیں اللہ یا تو ہلاک کرنے والا ہے، یا کوئی سخت قسم کا عذاب دینے والا ہے؟“

حاشیہ: دراصل ان لوگوں کے تین گروہ ہو گئے تھے۔ ایک گروہ مسلسل نافرمانی پر کمر باندھے ہوئے تھا۔ دوسرا گروہ شروع میں انہیں سمجھاتا رہا، اور جب وہ نہ مانے تو مایوس ہوکر بیٹھ گیا۔ تیسرا گروہ مایوس ہونے کے بجائے بدستور انہیں نصیحت کرتا رہا۔ اب دوسرے گروہ نے تیسرے گروہ سے کہا کہ جب یہ لوگ مسلسل نافرمانی پر کمر باندھے ہوئے ہیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آنے والا ہے، اس لئے ان کو سمجھانا وقت ضائع کرنا ہے۔

ترجمہ: دوسرے گروہ کے لوگوں نے کہا کہ: ”یہ ہم اس لئے کرتے ہیں تاکہ تمہارے ربّ کے حضور بری الذمہ ہوسکیں، اور شاید (اس نصیحت سے) یہ لوگ پرہیزگاری اختیار کرلیں۔“﴿164﴾

مطلب یہ ہے کہ جو گروہ بچانے والا تھا تو انہوں نے جو جواب دیا

حاشیہ: بڑا عارفانہ جواب ہے۔ انہوں نے اپنی کوششیں جاری رکھنے کی دو وجہیں بیان کیں۔ ایک یہ کہ ہمارے نصیحت کرتے رہنے کا پہلا مقصد تو یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے سامنے ہماری پیشی ہو تو ہم یہ کہہ سکیں کہ یا اللہ! ہم اپنا فریضہ ادا کرتے رہے تھے، اس لئے ہم ان کے جرائم سے بری الذمہ ہیں۔ اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ ہم اب بھی یہ اُمید رکھتے ہیں کہ شاید کوئی اللہ کا بندہ ہماری بات سن لے، اور گناہ سے باز آجائے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کا یہ جواب خاص طور پر نقل فرماکر ہر مسلمان کو متنبہ فرمایا ہے کہ جب معاشرے میں نافرمانی کا دور دورہ ہو جائے تو ایک مسلمان کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو بچالے، بلکہ دوسروں کو راہِ راست کی دعوت دینا بھی اُس کی ذمہ داری ہے۔ جس کے بغیر وہ مکمل طور پر بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔ اور دوسرا نکتہ یہ ہے کہ حق کے ایک داعی کو کبھی مایوس ہوکر نہیں بیٹھنا چاہئے، بلکہ اس اُمید کے ساتھ اپنا پیغام پہنچاتے رہنا چاہئے کہ شاید کوئی اللہ کا بندہ بات سمجھ جائے۔

ترجمہ: پھر جب یہ لوگ وہ بات بھلا بیٹھے جس کی انہیں نصیحت کی گئی تھی تو بُرائی سے روکنے والوں کو تو ہم نے بچالیا، اور جنہوں نے زیادتیاں کی تھیں، اُن کی مسلسل نافرمانی کی بنا پر ہم نے انہیں ایک سخت عذاب میں پکڑلیا ﴿165﴾ چنانچہ ہوا یہ کہ جس کام سے انہیں روکا گیا تھا، جب انہوں نے اس کے خلاف سرکشی کی تو ہم نے اُن سے کہا: ”جاؤ، ذلیل بندر بن جاؤ۔“ ﴿166﴾

حاشیہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی صورتیں مسخ کرکے انہیں واقعی بندر بنادیا گیا۔ ہمارے دور کے بعض لوگ اس قسم کی باتوں پر یقین کرنے کے بجائے قرآن کریم میں تاویلات بلکہ تحریفات کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ جب ڈارون کی قطعی دلیل کے بغیر یہ کہے کہ بندر ترقی کرکے انسان بن گیا تھا تو اُسے ماننے میں انہیں تامل نہیں ہوتا، لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنے قطعی کلام میں یہ فرمائیں کہ انسان تنزل کرکے بندر بن گیا تو یہ حضرات شرما کر اُس میں تاویل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اصل میں واقعی یہ apologizing Islam والے جو لوگ ہوتے ہیں نا یہ اس طرح ہی کرتے ہیں کہ یہ شرماتے ہیں کہ او ہو پتہ نہیں ہم اس کا کیا جواب دیں۔

ترجمہ: اور (یاد کرو وہ وقت) جب تمہارے ربّ نے اعلان کیا کہ وہ ان پر قیامت کے دن تک کوئی نہ کوئی ایسا شخص مسلط کرتا رہے گا جو ان کو بری بری تکلیفیں پہنچائے گا۔

حاشیہ: یہود کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ واقعی ہر تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ان پر کوئی نہ کوئی جابر مسلط ہوتا رہا ہے جس نے ان کو اپنا محکوم بناکر طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں۔ البتہ ظاہر ہے کہ ہزاروں سال کی تاریخ میں ایسے وقفے بھی آتے رہے ہیں جن میں وہ خوش حال رہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آگے خود یہ فرمایا ہے کہ: ”ہم نے ان کو اچھے اور برے حالات سے آزمایا“ جس سے واضح ہے کہ ان پر خوش حالی کے دور بھی آتے رہے ہیں، مگر مجموعی تاریخ کے مقابلے میں وہ کم ہیں۔

ترجمہ: بیشک تمہارا ربّ جلد ہی سزا دینے والا بھی ہے، اور یقیناً وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان بھی ہے ﴿167﴾

اللہ جل شانہ ہم سب پر رحم فرمائے اور ہمیں اپنے فرمانبردار بندے بنائے اور کسی قسم کی یعنی اس قسم کی گمراہی کے لیے ہمیں وہ آزاد نہ ہونے دے بلکہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے عافیت کے ساتھ حق کے ساتھ چمٹائے رکھے۔

وَاخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

نافرمانی کے حیلے، فریضۂ امر بالمعروف اور عذابِ الٰہی: اصحابِ سبت کا عبرت ناک انجام - درسِ قرآن - پہلا دور