نبی کریم ﷺ کی عالمگیر نبوت اور اتباع کا حکم
درس نمبر: 308، سورۃ الاعراف، آیات: 158 تا 162
تمام انسانیت کے لیے آخری سہارا اور واحد راستہ
بگڑے ہوئے معاشرے میں حق پر ڈٹ جانے والے لوگ
صحرا میں نعمتوں کی برسات اور انسان کی احسان فراموشی
توبہ کے بجائے تمسخر اور آسمانی عذاب کی گرفت
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ ۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ (158) وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ (159) وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰـكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ (160) وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓــٴٰـتِكُمْ ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ (161) فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ (162)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: (اے رسول! ان سے) کہو کہ: ”اے لوگو! میں تم سب کی طرف اُس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں،
حاشیہ: چونکہ پیچھے یہ ذکر آیا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دُعا قبول کرتے وقت اُن کو یہ بتادیا گیا تھا کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا اُن کی آئندہ نسلوں کے لئے ضروری ہوگا، اس لئے اس موقع کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے جملہ معترضہ کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت عطا فرمائی کہ وہ بنی اسرائیل سمیت تمام انسانوں کو اپنی نبوت پر ایمان لانے اور اپنی اتباع کی دعوت دیں۔
ترجمہ: جس کے قبضے میں تمام آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے۔ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی زندگی اور موت دیتا ہے۔ اب تم اللہ پر اور اُس کے رسول پر ایمان لے آؤ جو نبی امی ہے، اور جو اللہ پر اور اُس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے، اور اُس کی پیروی کرو، تاکہ تمہیں ہدایت حاصل ہو ﴿158﴾ اور موسیٰ کی قوم میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو لوگوں کو حق کا راستہ دکھاتی ہے، اور اُسی (حق) کے مطابق انصاف سے کام لیتی ہے۔﴿159﴾
حاشیہ: یہودیوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی جو دعوت دی گئی، اور اس سے پہلے اُن کی بہت سی بدعنوانیاں بیان ہوئیں، اُس سے یہ شبہہ ہو سکتا تھا کہ تمام بنی اسرائیل ان بدعنوانیوں کے مرتکب ہیں، اس لئے اس جملہ معترضہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت فرمادی کہ سارے بنی اسرائیل ایک جیسے نہیں ہیں، بلکہ اُن میں حق کو ماننے والے، اُس پر عمل کرنے والے اور اُس کی طرف لوگوں کو ہدایت دینے والے بھی موجود ہیں۔ اس میں وہ بنی اسرائیل بھی داخل ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دینِ حق پر قائم رہے، اور وہ بھی جو آپ پر ایمان لائے، مثلاً حضرت عبداللہ بن سلامؓ وغیرہ۔ اس وضاحت کے بعد آگے پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے بنی اسرائیل کا جو واقعہ دور سے چلا آرہا ہے، اس کو دوبارہ شروع کیا جارہا ہے۔
ترجمہ: اور ہم نے اُن کو (یعنی بنی اسرائیل کو) بارہ خاندانوں میں اس طرح تقسیم کر دیا تھا کہ وہ الگ الگ (انتظامی) جماعتوں کی صورت اختیار کر گئے تھے۔ اور جب موسیٰ کی قوم نے اُن سے پانی مانگا تو ہم نے اُن کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ اپنی لاٹھی فلاں پتھر پر مارو۔
حاشیہ: (79) آیات 160 تا 162 میں جن واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہ سورۂ بقرہ (2:57 تا 61) میں گزر چکے ہیں۔ تشریح کے لئے ان آیتوں کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔
واقعی بڑی تفصیل کے ساتھ وہاں پر ذکر ہوا ہے۔
ترجمہ: چنانچہ اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔ ہر خاندان کو اپنی پانی پینے کی جگہ معلوم ہوگئی۔ اور ہم نے اُن کو بادل کا سایہ دیا، اور ہم نے اُن پر من و سلویٰ (یہ کہہ کر) اُتارا کہ: ”کھاؤ وہ پاکیزہ رزق جو ہم نے تمہیں دیا ہے۔“ اور (اس کے باوجود انہوں نے جو ناشکری کی تو) انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔ ﴿160﴾ اور وہ وقت یاد کرو جب اُن سے کہا گیا تھا کہ: ”اس بستی میں جاکر بس جاؤ، اور اُس میں جہاں سے چاہو کھاؤ، اور یہ کہتے جانا کہ (یا اللہ!) ہم آپ کی بخشش کے طلب گار ہیں، اور (بستی کے) دروازے میں جھکے ہوئے سروں کے ساتھ داخل ہونا، تو ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے، (اور) نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ (ثواب) بھی دیں گے۔“ ﴿161﴾ پھر ہوا یہ کہ جو بات اُن سے کہی گئی تھی، اُن میں سے ظالم لوگوں نے اُسے بدل کر دوسری بات بنالی۔ تب ہم نے اُن کی مسلسل زیادتیوں کی وجہ سے اُن پر آسمان سے عذاب بھیجا ﴿162﴾
اصل میں بات یہ ہے کہ واقعتاً کیسے عجیب لوگ تھے کہ جیسے کلنڈر ٹائپ لوگ نہیں ہوتے، مطلب ہمارے ہاں بھی، مطلب کوئی بھی سیریس بات وہ نہیں کرتے۔ تو اس طرح بعض لوگ ایسے تھے جو کہ اچھے خاصے ایک سیریس بات کو مذاق بنا لیتے تھے۔ تو ان کو کہا جائے کہ جھکے ہوئے سروں کے داخل ہو۔ تو اکڑ اکڑ کے داخل ہو گئے۔ اس طرح مطلب ہے کہ جو بھی کام ان کو بتایا جاتا، اس کا الٹ۔ تو پھر اللہ پاک کی طرف سے ان کے اوپر عذاب آیا۔ اللہ پاک ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔