بنی اسرائیل کے تین افراد کا عبرتناک قصہ: شکرِ نعمت اور کفرانِ نعمت کا انجام

درس نمبر 86، باب المراقبہ، حدیث نمبر 65

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

حدیثِ مبارکہ میں مذکور تین افراد (برس زدہ، گنجا اور اندھا) کا واقعہ۔

فرشتے کے ذریعے انسانی روپ میں آزمائش کا طریقہ کار۔

صحت اور مال و دولت کی فراوانی پر شکر گزاری کی اہمیت۔

نعمت ملنے کے بعد اپنی سابقہ حالت (غربت و بیماری) کو بھول جانے کی مذمت۔

اللہ کی رضا کا مدار سخاوت اور اعترافِ بندگی پر ہے۔

بخل اور جھوٹ کا انجامِ بد (نعمتوں کی واپسی)۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

اَلْحَدِيثُ السَّادِسِ۔

اس کا کچھ حصہ پڑھا گیا تھا کل، آج اس کا باقی حصہ پڑھیں گے۔

ثُمَّ إِنَّهٗ أَتَى الْأَبْرَصَ فِي صُورَتِهٖ وَ هَيْئَتِهٖ فَقَالَ: رَجُلٌ مِّسْكِينٌ قَدِ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سفری فَلَا بَلَاغَ لِيَ الْيَوْمَ إِلَّا بِاللهِ ثُمَّ بِكَ اَسْأَلُكَ بِالَّذِي أَعْطَاكَ اللَّوْنَ الْحَسَنَ وَالْجِلْدَ الْحَسَنَ وَالْمَالَ بَعِيرًا أَتَبَلَّغُ بِهٖ فِي سَفَرِي؟ فَقَالَ: الْحُقُوقُ كَثِيرَةٌ. فَقَالَ: كَأَنِّي أَعْرِفُكَ، أَلَمْ تَكُنْ أَبْرَصَ يَقْذَرُكَ النَّاسُ فَقِيراً فَأَعْطَاكَ اللهُ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا وَرِثْتُ هَذَا الْمَالَ كَابِرًا عَنْ كَابِرٍ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللهُ إِلَى مَا كُنْتَ.

وَ أَتَى الْأَقْرَعَ فِي صُورَتِهٖ وَ هَيْئَتِهٖ فَقَالَ لَهٗ مِثْلَ مَا قَالَ لِهَذَا وَ رَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَ مَا رَدَّ هَذَا. فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللهُ إِلَى مَا كُنْتَ.

وَأَتَى الْأَعْمَى فِي صُورَتِهٖ وَ هَيْئَتِهٖ فَقَالَ: رَجُلٌ مِّسْكِينٌ وَابْنُ سَبِيلٍ اِنْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي فَلَا بَلَاغَ لِيَ الْيَوْمَ إِلَّا بِاللهِ ثُمَّ بِكَ اَسْأَلُكَ بِالَّذِي رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ شَاةً اَتَبَلَّغُ بِهَا فِي سَفَرِي؟ فَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللهُ إِلَيَّ بَصَرِي فَخُذْ مَا شِئْتَ وَ دَعْ مَا شِئْتَ فَوَ اللهِ لَا أَجْهَدُكَ الْيَوْمَ بِشَيْءٍ أَخَذْتَهُ لِلّٰهِ عَزَّ وَ جَلَّ. فَقَالَ: أَمْسِكْ مَا لَكَ فَإِنَّمَا ابْتُلِيتُمْ فَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنْكَ وَ سَخِطَ عَلَى صَاحِبَيْكَ﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

چھٹی حدیث میں چونکہ ایک فرشتے کا قصہ آیا ہے کہ جو کہ امتحان کے طور پر تین قسم کے لوگوں کے سامنے آیا تھا۔ ایک برس والا تھا اور گنجا تھا اور تیسرا اندھا تھا۔ ان تینوں سے پوچھا کہ تمہیں کیا چاہیے؟ تو جو برس والا تھا اس نے کہا کہ میری جلد صحیح ہو جائے یعنی بیماری دور ہو جائے، گنجے نے کہا کہ اچھے بال مل جائیں، اور اندھے نے کہا کہ آنکھیں مل جائیں۔ تو انہوں نے ان پر ہاتھ پھیرا اور اس سے ان کی بیماری ختم ہوگئی۔ اور پھر اس کے بعد ان سے پوچھا کہ تمہیں کونسی چیز محبوب ہے؟ تو جو چیزیں انہوں نے بتائی تھیں وہ ان کو دے دی گئیں۔ اس طرح ان کو مال بھی مل گیا، ان کو چیزیں بھی مل گئیں اور ان کو صحت بھی مل گئی۔ یہ بات تو اس وقت ہو گئی۔

اس کے بعد فرشتہ برص زدہ انسان کے پاس اس کی اپنی پہلی شکل و ہیئت میں آزمائش کے لئے آیا کہا کہ میں فقیر آدمی ہوں سفر میں میرے وسائل ختم ہو گئے ہیں اب میرے لئے اللہ کی مدد اور تیری کرم نوازی کے بغیر گھر پہنچنا ممکن نہیں، میں تجھ سے اس ذات کے نام سے سوال کرتا ہوں جس نے تجھے سنہری رنگ اور مال دیا ہے کہ تو مجھے ایک اونٹ عطا کر دے تاکہ میں اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ جاؤں۔ اس نے جواب دیا کہ مجھ پر ذمہ داریوں کا انبار ہے، فرشتے نے کہا کہ شاید میں تجھے جانتا ہوں، کیا تو پہلے برص زدہ نہیں تھا؟ لوگ تجھ سے نفرت کرتے تھے، تو فقیر تھا اللہ نے تجھے مالدار بنایا۔ اس نے کہا میں تو آبا واجداد سے وافر مال دیا گیا ہوں۔ فرشتے نے کہا اگر تو جھوٹ کہہ رہا ہے تو اللہ تجھے ویسا ہی کر دے جیسا کہ تو پہلے تھا۔ پھر گنجے کے پاس پہلی شکل و صورت میں آیا اور اس سے وہی باتیں کیں جو پہلے سے کی تھیں اس نے بھی وہی جواب دیا جو پہلے نے دیا تھا، فرشتے نے کہا اگر تو جھوٹ کہہ رہا ہے تو اللہ تجھے پہلے کی طرح کر دے۔ پھر فرشتہ اندھے کے پاس پہلی شکل و صورت میں آیا اور کہا میں ایک مفلس نادار مسافر انسان ہوں، سفر میں سفر کے وسائل ختم ہو گئے ہیں، اب میں اللہ کی مدد اور تیری کرم نوازی کے بغیر منزلِ مقصود پر نہیں پہنچ سکتا، لہذا میں تجھ سے اللہ کے واسطے کے ساتھ سوال کرتا ہوں جس نے تجھے دوبارہ نظر دی ہے کہ تو ایک بکری میرے حوالہ کرتا کہ میں منزل پر پہنچ سکوں۔ اس نے کہا واقعی میں اندھا تھا، اللہ نے مجھے نظر عطا فرمائی، جتنا مال چاہو اٹھا لو اور جتنا چاہو چھوڑ دو، اللہ کی قسم آج مجھے کوئی تکلیف نہیں، جو بھی اللہ کے نام پر تو چاہے اٹھا لے۔ فرشتے نے کہا اپنے مال کو اپنے پاس ہی رکھو، تمہاری آزمائش مقصود تھی، پس تجھ سے اللہ راضی ہوا اور تیرے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوا۔"

یہ اصل میں عبرتناک واقعہ ہے اور اس واقعے سے ہمیں عبرت حاصل کرنی چاہیے۔

اس واقعہ کو آپ ﷺ نے اپنی اُمت محمدیہ کی عبرت کے لئے بیان فرمایا ہے کہ مال و دولت کی فراوانی ایک امتحان و آزمائش ہوتی ہے اس آزمائش میں اگر انسان اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہیں بھولا بلکہ اس مال و دولت کو اللہ کی امانت سمجھ کر اللہ کی ضرورت مند مخلوق پر خرچ کر کے خوش ہوتا ہے اور اس پر اللہ کا شکر بھی ادا کرتا ہے جیسا کہ اندھے نے کیا تو اللہ اس سے خوش ہو کر مزید انعامات سے نوازتا ہے۔ اور اگر اس مال کی آزمائش میں وہ مال کے گھمنڈ میں مبتلا ہو گیا اور پھر اس نے اسے ضرورت مندوں پر خرچ نہ کیا اور بخل سے کام لیا تو اس سے اللہ کی ناراضگی بھی ہوتی ہے اور اللہ اس نعمت کو چھین بھی لیتے ہیں جیسے کہ ابرص اور گنجے کے ساتھ ہوا۔

علامہ کرمانیؒ فرماتے ہیں برص اور قرع اس سے آدمی کے مزاج میں فساد واقع ہو جاتا ہے بخلاف اندھا پن کے اس میں ایسا نہیں ہوتا اسی اعتبار سے ان لوگوں نے جواب دیا کہ اندھے آدمی نے نرمی کا ثبوت دیا بخلاف ان دونوں کے کہ انہوں نے سختی کا جواب دیا۔

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کو غریبوں اور مسکینوں کو صدقہ دیتے رہنا چاہئے اور بخل سے بچنا چاہئے جیسے ان دونوں نے کیا۔

اس میں یہ بھی ترغیب ہے کہ آدمی اللہ کی نعمتوں کا انکار نہ کرے جیسا کہ ان دونوں نے کیا۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو ایسی چیزوں سے محفوظ فرمائے۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔ ربنا تقبل منا إنک أنت السمیع العلیم وتب علینا إنک أنت التواب الرحیم، سبحان ربک رب العزة عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین برحمتک یا أرحم الراحمین۔


بنی اسرائیل کے تین افراد کا عبرتناک قصہ: شکرِ نعمت اور کفرانِ نعمت کا انجام - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور