وسعتِ رحمتِ الٰہی اور شریعتِ محمدی ﷺ کی آسانیاں

درس نمبر: 307، سورۃ الاعراف، آیات: 156 تا 157

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

رحمتِ الٰہی کی وسعت اور اس کے حق دار

پچھلی کتابوں میں نبی کریم ﷺ کی نشانیاں

شریعتِ محمدی ﷺ: بوجھ اتارنے والا آسان دین

دنیا و آخرت میں حقیقی کامیابی کا راستہ

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ ؕ فَسَاَ كْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَ (156) اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (157)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اور ہمارے لئے اس دُنیا میں بھی بھلائی لکھ دیجئے، اور آخرت میں بھی ۔ ہم (اس غرض کے لئے) آپ ہی سے رجوع کرتے ہیں۔“اللہ نے فرمایا: ”اپنا عذاب تو میں اُسی پر نازل کرتا ہوں جس پر چاہتا ہوں۔ اور جہاں تک میری رحمت کا تعلق ہے، وہ ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔

حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے۔ دنیا کا عذاب میں ہر نافرمان کو نہیں دیتا، بلکہ اپنی حکمت اور علم سے جس کو چاہتا ہوں اسے دیتا ہوں۔ آخرت میں بھی ہر گناہ پر میرا عذاب دینا ضروری نہیں، بلکہ جو لوگ ایمان لے آتے ہیں، ان کے بہت سے گناہ میں معاف کرتا رہتا ہوں۔ البتہ جن لوگوں کی سرکشی کفر و شرک کی صورت میں حد سے بڑھ جاتی ہے، ان کو اپنی مشیت اور حکمت کے تحت عذاب دیتا ہوں۔ اس کے برخلاف دنیا میں میری رحمت ہر مؤمن اور کافر، نیک اور بد سب پر چھائی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں انہیں رزق اور صحت وعافیت کی نعمتیں ملتی رہتی ہیں۔ اور آخرت میں بھی کفر و شرک کے علاوہ دوسرے گناہوں کو اسی رحمت سے معاف کیا جائے گا۔

ترجمہ: چنانچہ میں یہ رحمت (مکمل طور پر) ان لوگوں کے لئے لکھوں گا جو تقویٰ اختیار کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، اور جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھیں﴿156﴾

حاشیہ: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی اُمت کے لئے جو دُعا مانگی تھی کہ دُنیا اور آخرت دونوں میں اُن کو بھلائی نصیب ہو، یہ اُس کا جواب ہے، اور مطلب یہ ہے کہ دُنیا میں تو میری رحمت سے سب کو رزق وغیرہ مل رہا ہے، لیکن جن لوگوں کو دُنیا اور آخرت دونوں میں میری رحمت حاصل ہوگی، وہ صرف وہ لوگ ہیں جو ایمان اور تقویٰ کی صفات کے حامل ہوں، اور جنہیں مال کی محبت زکوٰۃ جیسے فریضے کی ادائیگی سے نہ روکے۔ چنانچہ اے موسیٰ! (علیہ السلام) آپ کی اُمت کے جو لوگ ان صفات کے حامل ہوں گے، اُن کو ضرور میری یہ رحمت پہنچے گی کہ دُنیا اور آخرت دونوں میں انہیں بھلائی نصیب ہوگی۔

ترجمہ: جو اُس رسول، یعنی نبیِ اُمّی کے پیچھے چلیں جس کا ذکر وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پائیں گے،

یہ اصل میں واقعی قرآن پاک میں یہ آیا ہوا ہے کہ، یہ بنی اسرائیل کے لوگوں کو پتا تھا اس کا۔

حاشیہ: حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل کو اُن کی وفات کے بعد بھی صدیوں تک باقی رہنا تھا، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دُنیا اور آخرت کی بھلائی کی جو دُعا کی تھی، وہ بنی اسرائیل کی اگلی نسلوں کے لئے بھی تھی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی دُعا قبول کرتے وقت یہ بھی واضح فرمادیا کہ بنی اسرائیل کے جو لوگ نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود ہوں گے، اُن کو دُنیا اور آخرت کی بھلائی اُسی صورت میں مل سکے گی جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاکر ان کی پیروی کریں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے آپ کی کچھ صفات بھی بیان فرمائیں، جن میں سے پہلی صفت یہ ہے کہ آپ نبی ہونے کے ساتھ رسول بھی ہوں گے۔ عام طور سے رسول کا لفظ ایسے پیغمبر کے لئے بولا جاتا ہے جو نئی شریعت لے کر آئے۔ لہٰذا اس لفظ سے اشارہ کردیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نئی شریعت لے کر آئیں گے جس میں کچھ فروعی احکام تورات کے احکام سے مختلف بھی ہو سکتے ہیں، اور بنی اسرائیل کو اس وقت یہ نہ کہنا چاہئے کہ یہ تو ہماری شریعت سے مختلف احکام بیان کررہے ہیں، اس لئے ہم ان پر کیسے ایمان لائیں؟ چنانچہ پہلے سے بتایا جارہا ہے کہ ہر دور کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں، اور جو رسول نئی شریعت لے کر آتے ہیں، ان کے فروعی احکام پہلے احکام سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ آپ اُمی ہوں گے، یعنی لکھتے پڑھتے نہیں ہوں گے۔ عام طور سے بنی اسرائیل اُمی نہیں تھے، بلکہ نسلی عربوں کو اُمی کہا جاتا تھا، (دیکھئے قرآن کریم میں 2:62 و 3:20 اور 2:78) اور خود یہودی یہ لفظ عرب نسل کے لوگوں کے لئے کسی قدر حقارت کے پیرائے میں استعمال کرتے تھے، (دیکھئے سورۂ آل عمران 3:75) اس لئے اس لفظ سے یہ اشارہ بھی دے دیا گیا کہ وہ بنی اسرائیل کے بجائے عربوں کی نسل سے مبعوث ہوں گے۔ آپ کی تیسری صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ آپ کا ذکر مبارک تورات اور انجیل دونوں میں موجود ہوگا۔ اس سے ان بشارتوں کی طرف اشارہ ہے جو آپ کی تشریف آوری سے متعلق ان مقدس کتابوں میں دی گئی تھیں۔ آج بھی بہت سی تحریفات کے باوجود بائبل میں متعدد بشارتیں موجود ہیں۔ تفصیل کے لئے دیکھئے حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ”اظہار الحق“ کا اُردو ترجمہ ”بائبل سے قرآن تک“ مرتبہ راقم الحروف۔

ترجمہ: چنانچہ جو لوگ اُس (نبی) پر ایمان لائیں گے، اُس کی تعظیم کریں گے، اُس کی مدد کریں گے، اور اُس نور کے ساتھ جو نور اُتارا گیا ہے، اُس کے پیچھے چلیں گے، تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہوں گے ﴿157﴾

وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ.

ترجمہ: اور اُن پر سے وہ بوجھ اور گلے کے وہ طوق اُتار دے گا جو اُن پر لدے ہوئے تھے۔

حاشیہ: اس سے اُن سخت احکام کی طرف اشارہ ہے جو یہودیوں پر عائد کئے گئے تھے۔ ان میں سے کچھ احکام تو خود تورات میں تھے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے اُس وقت یہودیوں کو اُن کا پابند کیا تھا۔ بعض سخت احکام اُن کی نافرمانیوں کی سزا کے طور پر نافذ کئے گئے تھے جس کا ذکر سورۂ نساء (4:160) میں گزرا ہے۔ اور بہت سے احکام یہودی علماء نے اپنی طرف سے گھڑ لئے تھے۔ شاید ”بوجھ“ سے پہلی اور دوسری قسم کی طرف اور ”گلے کے طوق“ سے تیسری قسم کے احکام کی طرف اشارہ ہو۔ بتایا جارہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان احکام کو منسوخ کرکے ایک آسان اور معتدل شریعت لائیں گے۔

یہ اصل میں واقعتاً یہود کی چونکہ بہت یعنی حرکات ایسی تھیں جس میں کبھی سخت کوئی ایسے سوال کر لیتے تھے جس کی وجہ سے ان پر کچھ سخت احکام وغیرہ آ جاتے تھے۔ اور کچھ احکام پہلے سے مطلب ان کے لیے موجود تھے۔ اور بعض احکام ان کی نافرمانیوں کی سزا کے طور پر ان پر نافذ کیے گئے تھے۔ اور بعض احکام ایسے تھے جو یہودی علما نے اپنی طرف سے گھڑ لیے تھے۔ تو یہ جو پہلی اور دوسری قسم کے یعنی وہ احکام آ گئے تو وہ بوجھ کی طرف اشارہ ہے کہ وہ بوجھ ہے۔ اور جو دوسری قسم کے وہ گلے کے طوق ہیں وہ تیسری قسم کے احکام کی طرف، تو مطلب یہ ہے کہ یہ سارے احکام جو ہیں جو سخت ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ان کو منسوخ کر لیا جائے گا اور ایک آسان اور معتدل شریعت ان شاءاللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے آئے گی۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔

وسعتِ رحمتِ الٰہی اور شریعتِ محمدی ﷺ کی آسانیاں - درسِ قرآن - پہلا دور