واقعۂ کوہِ طور، ستر افراد کی آزمائش اور حضرت موسیٰؑ کا حکیمانہ اندازِ دعا

درس نمبر: 306، سورۃ الاعراف، آیات: 152 تا 155

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

گناہ کے بعد توبہ کرنے والوں کے لیے مغفرت ہے۔

دیدار کے مطالبے پر ستر آدمیوں کو زلزلے نے پکڑا۔

بچھڑے اور بتوں کو خدا بنانا عقل کے خلاف ہے۔

معجزے کبھی کبھار ہوتے ہیں، عام قانون تبدیل نہیں ہوتا۔

حضرت موسیٰ نے واقعے کو ہلاکت کے بجائے امتحان سمجھا۔

دعا میں ظاہری حالات کے ساتھ قدرت پر یقین رکھیں۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ (152) وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (153) وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ ۚ ۖ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ (154) وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ (155)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: (اللہ نے فرمایا:) ”جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا ہے، ان پر جلد ہی ان کے رب کا غضب اور دُنیوی زندگی ہی میں ذلت آپڑے گی۔ جو لوگ افترا پردازی کرتے ہیں، ان کو ہم اسی طرح سزا دیتے ہیں ﴿152﴾ اور جو لوگ بُرے کام کرگزریں، پھر ان کے بعد توبہ کرلیں، اور ایمان لے آئیں، تو تمہارا رب اس توبہ کے بعد (ان کے لئے) بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔“ ﴿153﴾ اور جب موسیٰ کا غصہ تھم گیا تو انہوں نے تختیاں اٹھالیں، اور ان میں جو باتیں لکھی تھیں، اس میں ان لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت کا سامان تھا جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ﴿154﴾ اور موسیٰ نے اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب کئے، تاکہ انہیں ہمارے طے کئے ہوئے وقت پر (کوہِ طور) لائیں ۔

تورات کی تختیاں جو تھیں وہ اصل میں یہاں پر جو گزرا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے پھینک دی تھیں، پھینکنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ واقعی پھینک دیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت جلدی میں رکھی تھیں جس کی وجہ سے محسوس ہوتا تھا جیسے پھینک دی ہیں۔ کیونکہ وہ کام ایسا تھا۔

حاشیہ: ستر آدمیوں کو کوہِ طور پر لے جانے کی کیا وجہ تھی؟ اس کے بارے میں مفسرین نے مختلف رائیں ظاہر کی ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ بچھڑے کی عبادت کا جو عظیم جرم بنی اسرائیل سے سرزد ہوا تھا، اس پر توبہ کرانے کے لئے انہیں کوہِ طور پر بلایا گیا تھا۔ لیکن اگر یہ بات تھی تو ان پر زلزلہ مسلط کرنے کی کوئی معقول توجیہ واضح نہیں ہوتی، اور جو توجیہات کی گئی ہیں، تکلف سے خالی نہیں ہیں۔ لہٰذا زیادہ صحیح بات وہ معلوم ہوتی ہے جو بعض روایات میں آئی ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام تورات لے کر آئے اور بنی اسرائیل کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیا تو ان میں سے بعض نے کہا کہ ہمیں اس بات کا یقین کیسے آئے کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ ہی نے نازل کی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ وہ قوم کے ستر نمائندے منتخب کرکے انہیں کوہِ طور پر لے آئیں۔ اور بعض روایات میں ہے کہ وہاں ان کو اللہ تعالیٰ کا کلام سنا دیا گیا۔ لیکن اب انہوں نے اپنے مطالبے کو بڑھا کر یہ کہا کہ ہمیں تو اس وقت تک یقین نہیں آئے گا جب تک ہم اللہ تعالیٰ کو کھلی آنکھوں نہ دیکھ لیں۔ اس معاندانہ مطالبے کی وجہ سے ان پر بجلی کا کڑکا ہوا جس نے زلزلے کی کیفیت پیدا کردی، اور وہ سب بے ہوش ہوگئے۔ واقعے کی یہ توجیہ خود قرآن کریم کی تصریحات سے مطابقت رکھتی ہے۔ سورۂ بقرہ (2:55 و 56) اور سورۂ نساء (4:153) میں بنی اسرائیل کا یہ مطالبہ بیان فرمایا گیا ہے کہ ہمیں کھلی آنکھوں اللہ تعالیٰ کا دیدار کراؤ، اور یہ کہ ہم اس وقت تک تورات کو نہیں مانیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کو خود نہ دیکھ لیں۔ اور یہ بات بھی ان دونوں آیتوں میں مذکور ہے کہ ان کے اس مطالبے پر انہیں ایک کڑکے نے آپکڑا تھا۔ غالباً اسی کڑکے کے نتیجے میں وہ زلزلہ آیا جس کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے۔ یہاں یہ واضح رہے کہ سورۂ نساء (4:153) میں کڑکے کے ذکر کے بعد جو یہ فرمایا گیا ہے کہ: ”ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ“ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کڑکا بچھڑے کے واقعے سے پہلے پیش آچکا تھا، کیونکہ وہاں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی متعدد بداعمالیاں بیان فرمائی ہیں، ان میں زمانی ترتیب ہونا ضروری نہیں ہے۔ اور ”ثُمَّ“ کا لفظ عربی زبان میں ”اس سے بھی بڑھ کر“ کے معنی میں بھی بکثرت استعمال ہوتا ہے۔

تو یہاں پر جو فرمایا گیا ہے کہ مطلب جو کڑکا ہوا تھا تو کس وجہ سے، تو اس کی بڑی تفصیل اس کی آ گئی۔

ترجمہ: پھر جب انہیں زلزلے نے آپکڑا تو موسیٰ نے کہا: ”میرے پروردگار! اگر آپ چاہتے تو ان کو، اور خود مجھ کو بھی پہلے ہی ہلاک کردیتے، کیا ہم میں سے کچھ بے وقوفوں کی حرکت کی وجہ سے آپ ہم سب کو ہلاک کردیں گے؟

حاشیہ: جیسا کہ سورۂ بقرہ (2:56) میں گزر چکا ہے، اس زلزلے کے نتیجے میں ان ستر آدمیوں پر موت جیسی حالت طاری ہوگئی تھی۔ کم از کم دیکھنے والا یہی سمجھتا تھا کہ یہ سب مرچکے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی خداداد بصیرت سے سمجھ گئے کہ بظاہر اللہ تعالیٰ کو ان کا اس وقت ہلاک کرنا منظور نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ آپ کی قدرت میں تو یہ بھی تھا کہ انہیں، بلکہ مجھے بھی، پہلے ہی اُس وقت ہلاک کردیتے جب ان کی متعدد نافرمانیاں سامنے آئی تھیں۔ نیز یہ بھی آپ کی رحمت اور حکمت سے بعید ہے کہ چند بے وقوفوں کی حرکت پر ہم سب کو ہلاک کرڈالیں، اور اس وقت اگر یہ ستر آدمی واقعی ہمیشہ کے لئے مرگئے تو میری اور میرے مخلص ساتھیوں کی بھی ہلاکت تقریباً یقینی ہے، کیونکہ میری قوم کے لوگ مجھے ان ستر آدمیوں کا قاتل قرار دے کر مجھے بھی ہلاک کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان سب باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کا مقصد اس وقت ان کو ہلاک کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک امتحان ہے جس سے لوگوں کو آزمانا مقصود ہے کہ وہ دوبارہ زندگی پا کر شکر بجالاتے ہیں، یا بدستور ناشکری کر کے اللہ تعالیٰ کا شکوہ کرنے لگتے ہیں۔

موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں بڑی یعنی ورائٹی تھی۔ مطلب بہت نیک لوگ بھی تھے اور اس قسم کے نافرمان لوگ بھی تھے۔ یہ جو نافرمانوں کے واقعات متعدد مشہور ہیں۔ مثال کے طور پر یہ جو بچھڑے کو جو انہوں نے خدا بنایا نا، اب یہ بذاتِ خود عقل سے بھی بعید ہے۔ کہ آدمی صرف ایک بچھڑے کا وہ، جس کو کہتے ہیں وہ جسم، اور پھر اس سے صرف آواز آتی ہے ایک خاص قسم کی۔ اس سے زیادہ اس کے اندر کوئی حرکت نہیں تھی۔ اور اس کی وجہ سے اس کو خدا بنا لیا جائے۔ تو یہ بذاتِ خود عقل کے بھی خلاف ہے، جیسے مشرکین کرتے ہیں، بتوں کو سجدہ کرتے ہیں، تو وہ بالکل عقل کے خلاف ہے۔ اور ابراہیم علیہ السلام نے جیسے ان سے مطلب خود ان کو توڑ کے پھر کہا کہ اس بڑے بت سے پوچھو۔ تو انہوں نے کہا کہ یہ تو کچھ بھی نہیں کہتا، ہاتھ بھی نہیں ہلا سکتا۔ تو پھر ابراہیم علیہ السلام نے ان سے کہا کہ پھر تم ان کو خدا کیسے کہتے ہو؟ اس پر ان لوگوں کو تھوڑا سا ایک آیا خیال کہ اوہ! یہ تو واقعی ہم ہی غلطی پر ہیں۔ اس وقت ان کو سوچا لیکن فوراً پھر شیطان کی وجہ سے واپس ہو گئے۔ انہوں نے کہا جی اپنے خداؤں کو مدد کرنے کے لیے جو آتے ہیں تو آ جاؤ۔ تو مطلب یہ ہے کہ وہ بھی بالکل بیوقوفی کی بات ہوتی ہے، یعنی جو لوگ مشرکین کرتے ہیں۔ یہ بھی ان لوگوں نے بڑی بیوقوفی کی حرکت کی۔ تو موسیٰ علیہ السلام نے ان کا مطلب بتایا کہ یہ تو اس وقت بھی یعنی ہو سکتا تھا۔ لیکن یہ اس وقت اگر ہو جائے تو پھر مسئلہ یہ ہو گا کہ چونکہ میں ہی ان کو لایا تھا، تو کہیں گے کہ انہوں نے قتل کر دیا۔ تو اس طرح تو بہرحال یہ اس میں سارا انداز قدرتی ہے۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ امر بھی چل رہا ہے لیکن ساتھ ساتھ انداز قدرتی بھی چل رہا ہے۔ یعنی امر تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت حکم دے دیا اور وہ ایسے ادھ موئے ہو گئے جیسے بالکل مر گئے ہوں۔ لیکن ساتھ ساتھ موسیٰ علیہ السلام وہ اپنے قدرتی انداز کا بھی کہ یہ لوگ مجھے قاتل سمجھیں گے،اور ایسے، حالانکہ اگر امر کی بات ہو تو نہیں، اگر اللہ پاک کا حکم ہو تو وہ نہ سمجھتے؟ مطلب اس کے لیے مشکل تو نہیں ہے لیکن نہیں۔ یعنی جو واقعات کرامۃً ہوتے ہیں یا معجزے کے طور پر ہوتے ہیں، یا مطلب یہ ہے کہ اس قسم کے کوئی حکمت کی وجہ سے کوئی کام ہوتے ہیں، وہ ہر وقت نہیں ہوتے۔ وہ کبھی کبھی ہوتے ہیں۔ تو اس وجہ سے کوئی ہر وقت معجزے کی طلب بھی نہیں کر سکتا، کرامت کی طلب بھی نہیں کر سکتا۔ مثال کے طور پر ایک شخص ہے، وہ راستے پہ جا رہا ہے۔ اس کو بہت بڑا خزانہ مل گیا، مثال کے طور پر گرا ہوا کوئی سونا تھا یا کوئی اور چیز تھی، اس کو بہت بڑا خزانہ مل گیا۔ تو کیا سب لوگ سوچ سکتے ہیں ہم کام شام چھوڑ دیں، بس ہمیں بھی راستے میں خزانہ مل جائے گا؟ کوئی اس طرح سوچ سکتا ہے؟ کوئی کہے بھی تو نہیں مانتا کوئی۔ کہتے ہیں نہیں جی! کام کرنا پڑے گا کیونکہ عام طریقہ تو یہ نہیں، کبھی کبھی ہو سکتا ہے۔ لیکن عام طریقہ نہیں ہے۔ اس طرح جو معجزہ ہوتا ہے، کرامت ہوتی ہے یا اس قسم کی جو تدابیر ہوتی ہیں وہ کبھی کبھی ہوتی ہیں۔ اس کے لیے عام قانون تبدیل نہیں ہوتا۔ تو باقی چیزیں عام قانون کے مطابق ہوتی ہیں۔ تو اب دیکھ لیں نا اللہ تعالیٰ کا کام ایسا امر کے ذریعے سے ہوا۔ دوسری طرف موسیٰ علیہ السلام جو کہہ رہے ہیں وہ بالکل ایک قدرتی انداز میں بات کر رہے ہیں۔ مطلب جیسے وہ قدرتی دلائل جیسے ہوتے ہیں نا کہ یہ ہو جائے گا، یہ ہو جائے گا، یہ ہو جائے گا۔ تو امر کے لحاظ سے تو فرمایا کہ اگر آپ چاہتے تو ہمیں اس سے پہلے بھی ہلاک کر دیتے۔ لیکن میری پوزیشن یہ ہے کہ اگر اس وقت یہ ہلاک ہو جاتے ہیں تو پھر میرے لیے سختی آ جائے گی۔ اور پھر دوسری بات یہ ہے کہ تیرے انصاف سے یہ بعید ہے کہ تو ان چند بیوقوفوں کی حرکت کی وجہ سے ہم سب کو وہ کر لے۔ جو اس کو نہیں بچاتے، لیکن بہرحال پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ

ترجمہ: (ظاہر ہے کہ نہیں ۔ لہٰذا پتہ چلا کہ) یہ واقعہ آپ کی طرف سے صرف ایک امتحان ہے جس کے ذریعے آپ جس کو چاہیں، گمراہ کردیں، اور جس کو چاہیں ہدایت دے دیں۔ آپ ہی ہمارے رکھوالے ہیں۔ اس لئے ہمیں معاف کردیجئے، اور ہم پر رحم فرمائیے۔ بیشک آپ سارے معاف کرنے والوں سے بہتر معاف کرنے والے ہیں ﴿155﴾

تو اگر ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں بھی آپ دیکھیں۔ تو اس میں بھی قدرتی چیزوں کو سامنے رکھ کر اللہ تعالیٰ کی قدرت کی طرف مطلب جاتے ہیں۔ کہ یہ تو مطلب یہ ہے کہ یہ تو عام باتیں ہیں، لیکن تیری قدرت میں تو سب کچھ ہے۔ میں ان کو وادئ غیر ذی زرع میں چھوڑتا ہوں۔ یہ قدرتی بات ہے۔ میں ان کو ایسی جگہ پہ چھوڑتا ہوں جس میں کچھ بھی نہیں اگتا۔ لیکن تو ان کی طرف لوگوں کو متوجہ کر دے کہ یہ سب قسم کے ثمرات اور یہ ساری چیزیں مطلب آئیں۔ تو یعنی اللہ پاک کی قدرت پر یقین، اور ساتھ ساتھ موجودہ حالات جو اللہ تعالیٰ نے اسباب بنائے ہوئے ہیں، ان کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ پیغمبر دعائیں کرتے ہیں۔ تو ہم جب دعائیں کرتے ہیں تو ہم دعائیں کریں گے اس طریقے سے کہ جو قدرتی چیزیں ہیں ان کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم اللہ جل شانہٗ سے اس کی قدرت کے مطابق سوال کرتے ہیں۔ اور اللہ جل شانہٗ کے ساتھ جو بندہ جو گمان رکھتا ہے، اس کے ساتھ وہی معاملہ فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی سمجھ عطا فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔

واقعۂ کوہِ طور، ستر افراد کی آزمائش اور حضرت موسیٰؑ کا حکیمانہ اندازِ دعا - درسِ قرآن - پہلا دور