اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ
وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ
اَمَّا بَعْدُ،
فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
غیرت اللہ کی صفت ہے
(64) اَلْخَامِسُ: عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللّٰهَ تَعَالَى يَغَارُ، وَ غَيْرَةُ اللّٰهِ تَعَالَى أَنْ يَأْتِيَ الْمَرْءُ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
"وَالْغَيْرَةُ" بِفَتْحِ الْغَيْنِ وَ اَصْلُهَا الْاَنَفَةُ.
پانچویں حدیث: "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ غیرت مند ہے اور اللہ کو غیرت اس وقت آتی ہے جب انسان ایسے کاموں کا ارتکاب کرے جس کو اس نے حرام کیا ہے۔"
اور غیرت غین کے زبر کے ساتھ ہے اس کے معنی ہیں خودداری۔
کیونکہ اصل میں یہ عربی ہے بہت وسیع زبان ہے تو اس میں اس کا جس چیز سے مشتق ہوتا ہے اس کو ساتھ بتایا جاتا ہے تاکہ اس کے معنی میں کوئی غلطی انسان نہ کرے۔
غَارَ يَغَارُ غَيْرَةً۔ حَرَّمَ يُحَرِّمُ تَحْرِيْمًا، إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰی يَغَارُ۔
تشریح: اللہ کی غیرت کا مطلب
"إِنَّ اللّٰهَ تَعَالَى يَغَارُ" غیرت کا لفظ اردو زبان میں دو معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
اول یہ کہ کوئی شخص یہ سمجھ کر کہ مجھے کوئی دیکھ نہیں رہا، اس وجہ سے وہ کوئی برا کام کرے یا ایسا کام کرے جو خود اگرچہ برا نہ ہو مگر دوسروں کے سامنے وہ کام کرنا عیب دار ہو، اس حالت میں کوئی دیکھ لے یا کوئی سامنے سے آ جائے تو وہ فوراً اس کو چھوڑ دے یا چھپنے کی کوشش کرے۔
دوسرا معنی غیرت کا یہ ہے کہ کوئی باپ یا کوئی آقا اپنے ماتحت کو سختی سے کسی کام کے کرنے سے منع کرے اس منع کرنے کے باوجود وہ ماتحت اپنے باپ یا آقا کے سامنے اس کام کو کرے۔
یہاں پر زیادہ مناسب معنی دوسرا والا ہے کہ خالق کائنات نے اپنی مخلوق پر بعض کاموں کو حرام کیا انہی کے فائدے کے لئے۔ اب مخلوق کی بیباکی اور بے غیرتی یہ ہے کہ جس کام سے منع کیا ہے وہ اس کو کرے، اس پر اللہ جل شانہ کو غصہ آتا ہے، کبھی کسی مصلحت سے اسی وقت سزا بھی دے دیتے ہیں مگر عموماً حق تعالیٰ شانہ اپنی شفقت و رحمت سے فوراً سزا نہیں دیتے، مہلت دے دیتے ہیں تاکہ مخلوق توبہ کر لے پھر وہ توبہ کرے تو وہ اپنی رحمت و شفقت سے دوبارہ نوازنا شروع کر دیتے ہیں۔
توبہ فوراً کرنا چاہیے۔ اول تو غلط کام نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہ تو تباہی ہے۔ اور پھر فوراً توبہ کرنا چاہیے۔ اگر وہ غلط کام ہو جائے، فوراً توبہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہی سب سے بڑی عقلمندی ہے۔ کیونکہ حالات کا کچھ پتہ نہیں چلتا، اللہ تعالیٰ کا عذاب اسی وقت بھی آ سکتا ہے۔ ایک ہوتا ہے Local عذاب، ایک ہوتا ہے ذرا عمومی عذاب۔ عمومی عذاب تو پورے علاقے پہ آتا ہے۔ لیکن Local عذاب تو کسی پر بھی آ سکتا ہے۔ کسی وقت بھی آ سکتا ہے۔ تو وہ اگر کسی پر آ جائے تو، تو بہت خطرناک بات ہے۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کی حفاظت فرما دے۔
تخریج حدیث: بخاری کتاب النکاح (باب الغیرة)، مسلم کتاب التوبة (باب غیرة اللہ تعالیٰ و تحریم الفواحش) و اخرجه امام احمد فی مسنده 3/ 8527 ، الطیالسی و ابن حبان 293۔
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ہر قسم کی حرام چیزوں سے منع ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور شریعت پر خلوص دل کے ساتھ چلنے کی ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ،
وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ،
وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ،
بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔