واقعۂ بچھڑا: بنی اسرائیل کی گمراہی، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جلال اور توبہ
درس نمبر: 305، سورۃ الاعراف، آیات: 148 تا 151
- حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے ان کے جانے کے بعد عقیدے کی کمزوری کے باعث ایک بے جان بچھڑے کو معبود بنا لیا۔
- قوم کو جب اپنی اس سنگین غلطی اور گمراہی کا احساس ہوا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے رحم اور بخشش کی فریاد کی۔
- حضرت موسیٰ علیہ السلام نے واپس آ کر سخت غصے میں تختیاں ایک طرف رکھ دیں اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام پر خفگی کا اظہار کیا۔
- ہارون علیہ السلام کی مجبوری اور وضاحت سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے اپنے اور بھائی کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی۔
- بچھڑے کو معبود بنانے والوں پر اللہ کا غضب اور ذلت نازل ہوئی، جبکہ سچی توبہ کرنے والوں کے لیے اللہ بہت مہربان ہے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ (148) وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا ۙ قَالُوْا لَىٕنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (149) وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (150) قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ (151)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ : اور موسیٰ کی قوم نے ان کے جانے کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنالیا (بچھڑا کیا تھا؟) ایک بے جان جسم جس سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی!
حاشیہ: اس بچھڑے کا مختصر ذکر سورۂ بقرہ (2:51) میں بھی گزر رہا ہے، اور اس کا مفصل واقعہ سورۂ طٰہٰ (20:88) میں آنے والا ہے کہ کس طرح سامری جادوگر نے یہ بچھڑا بنایا، اور بنی اسرائیل کو یقین دلایا کہ (نعوذ باللہ) تمہارا خدا یہی ہے۔
اصل میں لوگوں کا بڑا ہی یعنی یہ جس کو کہتے ہیں نا، اللہ جل شانہ کے بارے میں ایسا کمزور عقیدہ، کہ ایک بے جان بچھڑا ہے، اس سے آواز نکلتی ہے تو اس کو خدا کہہ دیا۔ حالانکہ وہ ہاتھ پیر بھی نہیں ہلا سکتا، سانس بھی نہیں لے سکتا اور کچھ نہیں کر سکتا، لیکن صرف آواز نکالتا ہے۔ تو یہ شیطان کے وہ ہیں سارے، اللہ تعالی بچائے، چال جو ہے۔ تو یہ ہے کہ
ترجمہ: بھلا کیا انہوں نے اتنا بھی نہیں دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے، اور نہ انہیں کوئی راستہ بتا سکتا ہے؟ (مگر) اسے معبود بنالیا، اور (خود اپنی جانوں کے لئے) ظالم بن بیٹھے ﴿148﴾ اور جب اپنے کئے پر پچھتائے، اور سمجھ گئے کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے: ”اگر اللہ نے ہم پر رحم نہ فرمایا، اور ہماری بخشش نہ کی تو یقیناً ہم برباد ہوجائیں گے۔“ ﴿149﴾ اور جب موسیٰ غصے اور رنج میں بھرے ہوئے اپنی قوم کے پاس واپس آئے تو انہوں نے کہا: ”تم نے میرے بعد میری کتنی بُری نمائندگی کی! کیا تم نے اتنی جلد بازی سے کام لیا کہ اپنے رب کے حکم کا بھی انتظار نہیں کیا؟“ اور (یہ کہہ کر) انہوں نے تختیاں پھینک دیں،
حاشیہ: یہ تورات کی تختیاں تھیں جو وہ کوہِ طور سے لائے تھے۔ ”پھینکنے“ سے یہاں مطلب یہ ہے کہ انہوں نے جلدی میں انہیں اس طرح ایک طرف رکھا کہ دیکھنے والا اسے پھینکنے سے تعبیر کرسکتا تھا، خدانخواستہ ان کی بے حرمتی مقصود نہیں تھی۔
کیونکہ ظاہر ہے، ان کو جو فکر تھی، اس فکر کی وجہ سے وہ بالکل یعنی ٹھہر نہیں سکتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے فوراً یہ کام کر دیا۔
ترجمہ: اور اپنے بھائی (ہارون علیہ السلام) کا سر پکڑ کر ان کو اپنی طرف کھینچنے لگے۔ وہ بولے: ”اے میری ماں کے بیٹے! یقین جانئے کہ ان لوگوں نے مجھے کمزور سمجھا، اور قریب تھا کہ مجھے قتل ہی کر دیتے۔ اب آپ دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دیجئے، اور مجھے ان ظالم لوگوں میں شمار نہ کیجئے“ ﴿150﴾ موسیٰ نے کہا: ”میرے پروردگار! میری اور میرے بھائی کی مغفرت فرمادے، اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کردے۔ تو تمام رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے“ ﴿151﴾ (اللہ نے فرمایا:) ”جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا ہے، ان پر جلد ہی ان کے رب کا غضب اور دُنیوی زندگی ہی میں ذلت آپڑے گی۔ جو لوگ افترا پردازی کرتے ہیں، ان کو ہم اسی طرح سزا دیتے ہیں ﴿152﴾ اور جو لوگ بُرے کام کرگزریں، پھر ان کے بعد توبہ کرلیں، اور ایمان لے آئیں، تو تمہارا رب اس توبہ کے بعد (ان کے لئے) بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔“ ﴿153﴾
تو یہ جو لوگ تھے، ظاہر ہے ان لوگوں نے اپنی کج فہمی کی وجہ سے بچھڑے کو خدا سمجھا۔ پھر بعد میں پشیمان ہو گئے۔ لیکن اس وقت ان لوگوں نے یہ حرکت کی۔ اور موسی علیہ السلام ظاہر ہے، مطلب انہوں نے فوراً اس پر ری ایکشن کا اظہار فرمایا۔ لیکن ہارون علیہ السلام نے یہ کہ ان لوگوں نے مجھے کمزور کر دیا ہے۔ اس وجہ سے میں کچھ نہیں کر سکا، اور اب اگر آپ مجھ پر سختی کریں گے تو یہ دشمن مجھ پر ہنسیں گے۔ تو موسی علیہ السلام نے، بس ظاہر ہے، جو پیغمبر تو یہی کر سکتا ہے کہ اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ تو اللہ پاک کی طرف متوجہ ہوئے اور دعا کی کہ اللہ
ترجمہ: میری اور میرے بھائی کی مغفرت فرمادے، اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کردے۔
تو بہرحال یہ ہے کہ جن لوگوں نے ایسی حرکت کی، ان کے لیے بہت غضب کے وہ احکامات آ گئے۔ اور بعد میں جو سامری تھا، اس کو تو ایک خاص قسم کی بیماری لگ گئی۔ جس کی وجہ سے، مطلب وہ ڈرتا تھا، کوئی اس کو چھو نہیں سکتا تھا۔ تو یہ بات ہے کہ اللہ تعالی نے اس کو اسی طرح بیماری میں ہلاک کر دیا۔ اور یہ جو ہے، مطلب جو باقی لوگ تھے، ان کی تفصیل ان شاء اللہ آگے آئے گی۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو برے انجام سے محفوظ فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا انِ اَلْحَمْدُ للهِ رَبِّ اَلْعٰلَمِينَ۔