سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات

مجلس نمبر 591

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ

اَمَّا بَعْدُ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

پچھلی دفعہ میں نے معمولات پر زور دینے کے لئے کچھ بات کی تھی، جس کے جواب میں مجھے میسج آیا کہ جی ان شاء اللہ! آئندہ ضرور معمولات ذکر کرلوں گی، تکلیف پر معذرت خواہ ہوں، خصوصی دعاؤں میں یاد رکھنے کی درخواست ہے۔ جزاکم اللہ خیراً واحسن الجزاء۔

سوال نمبر 1:

السلام علیکم۔ حضرت جی! کچھ کام ایسے ہیں جن میں بہت رکاوٹ آئی ہوئی ہے، please, special دعا کیجئے۔ اور حضرت جی! جو دعا آپ نے تہجد کی بتائی تھی، please وہ مجھے دوبارہ بتا دینا۔

جواب:

میں نے آپ کو کس طرح دعا بتائی تھی یعنی ٹیلی فون پہ بتائی تھی یا اس طرح message کیا تھا؟ کیونکہ مجھے آگے پیچھے بات معلوم ہوگی تو پھر ہی بتاؤں گا۔

نمبر 2:

السلام علیکم۔ شیخ محترم! مجھے اس کا جواب آپ نے کل شام دے دیا تھا، بس اب میں یہ confirm کرنا چاہ رہی ہوں کہ اس سے قبل جو مراقبۂ معیت میں دعا والا عمل اور پانچ پانچ منٹ لطائف کا ذکر تھا، وہ بھی کرنا ہے یا نہیں؟ مراقبۂ معیت کے بعد ہی میری برائیاں مجھے تکلیف دے رہی تھیں، تو پھر آپ نے عرض کیا تھا کہ مراقبہ کی بجائے اپنی برائیوں کی لسٹ بتاؤں، اس کے مطابق میں نے جواب دے دیا، مگر اب بس confusion یہ ہے کہ اپنی حسد کی بیماری کے لئے جو عمل شروع کرلیا ہے، اس کے ساتھ کیا لطائف کا ذکر یا مراقبۂ معیت کے بعد کوئی مراقبہ کرنا ہے یا نہیں؟ شیخ محترم! مجھے اس طرح سمجھ میں آتا ہے کہ مجھ میں حسد ہوتا ہے، لیکن ہر کسی سے نہیں، بس اپنے گھر کی حد تک کہ جب کوئی دوسروں کی پروا کیے بغیر دوسرے کا حصہ بھی لے رہا ہو۔ اس کے علاوہ کبھی کسی کو ملنے والی نعمت پر حسد نہیں کرتی، اور جب خیال آئے کہ کسی کو کوئی نعمت ملی ہے، مجھے نہیں ملی تو اگلا خیال یہ ہوتا ہے کہ میں رب کا ذکر کرکے ان سب سے بڑی نعمت حاصل کرسکتی ہوں، جو کہ رب کا قرب ہے۔

جواب:

پہلی بات کہ آپ نے کون سی زبان بولی ہے کہ آپ نے عرض کیا تھا؟ یہ میرے ساتھ تو بے شک بول لیں، لیکن کسی اور کے ساتھ نہ بولیں، اس طرح کا طریقہ ٹھیک نہیں ہے، اس لئے زبان کو سیکھنا چاہئے۔ دوسری بات کہ آپ پہلے والے جو مراقبات ہیں، وہ کرتی رہیں اور اس کے ساتھ جو لسٹ ہے، وہ آپ مجھے بھیج دیں، اس کے مطابق میں بات کرلوں گا۔ باقی ماشاء اللہ! یہ بالکل اچھی بات ہے کہ کسی کو ملنے والی نعمت پر حسد نہیں کرتیں۔ اور جو دوسروں کی پروا کیے بغیر دوسرے کا حصہ بھی لے رہا ہو، اس پر غصہ آنا یہ حسد والی بات نہیں ہے، بلکہ حسد اس پر ہوتا ہے کہ کسی کے پاس کوئی نعمت ہوتی ہے، تو اس پر اس کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ اس کے پاس یہ نعمت نہ ہو، بلکہ میرے ساتھ ہو، اس کو حسد کہتے ہیں۔

نمبر 3:

جو بھی غلط کرتا ہو میرے ساتھ، تو اس پر غصہ ہوجاتی ہوں، مگر بغیر لڑائی جھگڑے سے دور رہتی ہوں اور ایک ضد سی باندھ لیتی ہوں ایسے بندے سے کہ ان سے خود بھی دور رہوں اور دوسرے بھی اس سے دور رہیں۔

جواب:

دوسروں کی ذمہ داری آپ نہ لیں، خود بے شک اس سے دور رہیں اور لڑائی جھگڑے سے دور رہنا اچھی بات ہے۔

نمبر 4:

routine میں چغلی نہیں کرتی، مگر جب کوئی دوسرا دوست کی صورت میں میری اور کسی دوسرے کی ذات پر حملہ کرے، لیکن منہ پر میٹھا بنے، تو صرف alert کرنے کے لئے تھوڑی بہت زبان سے بات نکل جاتی ہے اس بندہ کے بارے میں، مگر بڑے فساد والی بات نہیں بتاتی، اس کے علاوہ کبھی بھی چغلی نہیں کرتی۔

جواب:

دوسروں کی حفاظت کے لئے اگر کوئی بات انسان کرے، تو باقاعدہ calculate کرلے کہ کہیں کسی کو نقصان نہ ہو، البتہ فائدے کے لئے اس طرح کہہ سکتی ہیں، لیکن اس پر اچھی طرح سوچیں۔

نمبر 5:

جب میرے منہ پر کوئی مجھے کہتا ہے کہ تمھاری صحت اچھی نہیں ہے یا تم ایسی ہو، ویسی ہو، تو میں دکھی ہوجاتی ہوں اور امی وغیرہ کو بتا دیتی ہوں کہ اللہ نے ہمیں ایسا بنایا ہے، اس میں ہمارا کیا اختیار ہے۔ یہ شکایت کرنا بھی میری برائی ہے؟

جواب:

نہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کو جیسا بنایا ہے، اس کے لئے وہی اچھا ہے۔ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدنا بلال تھے، لیکن حبشی تھے، لیکن اللہ پاک نے ان کو اتنا قرب عطا فرما دیا اپنا بھی اور آپ ﷺ کا بھی، اس لئے یہ تو کوئی بات نہیں۔

نمبر 6:

پہلے کسی کی بات سنتی تو دوسروں کو بہت تھوڑا بتا بھی دیتی کہ فلاں ایسا ہے، مگر اب زیادہ نہیں بولتی، نہ ہی ادھر کی بات ادھر کرتی ہوں، اگر کوئی سنائے تو دوسروں کے معاملے میں دلچسپی نہیں لیتی۔ جھوٹ نہیں بولتی، بے شک کسی دشمن کا معاملہ بھی ہو، مگر اس پر بھی ایک لفظ جھوٹا نہیں بولتی، مگر کسی فساد سے بچنے کے لئے مصلحتاً جھوٹ بول جاتی ہوں، جس کا مقصد صرف بچاؤ ہوتا ہے، پر کسی کے نقصان والا جھوٹ کبھی نہیں بولتی۔

جواب:

اس کے لئے باقاعدہ کسی مفتی صاحب سے معلوم کرلیں کہ کس قسم کا جھوٹ آپ سمجھ رہی ہیں اور فساد کس کو کہتی ہیں؟

نمبر 7:

اگر کوئی خیال negative آجائے تو ’’اَعُوْذُ بِاللّٰہِ‘‘ پڑھ لیتی ہوں، جس سے فوراً سوچ پاک ہوجاتی ہے، اَلْحَمْدُ للہ! خلاف مزاج بات کوئی کرے تو منہ پھلا دیتی ہوں، پھر اگر کوئی کام کرنے کا ہو تو ضد سے وہ بھی نہیں کرتی، تاکہ بلاوجہ کوئی روک ٹوک نہ کرے۔

جواب:

اصل میں بات یہ ہے کہ آپ اس سے اثر نہ لیں یعنی خلاف مزاج اگر کوئی بات کرلے تو اس سے اثر نہیں لینا چاہئے، Normal routine میں رہنا چاہئے۔

نمبر 8:

شیخ محترم! آپ کے پوچھنے میں ایسی تاثیر ہے کہ مجھ پر برائیاں واضح نہیں تھیں، مگر اب سب نظر آنے لگی ہیں۔ میری تمام برائیوں کے باوجود کسی کو بھی مجھ سے شکایت نہیں ہوتی، کیونکہ جو بھی غم و غصہ ہوتا ہے دل میں رکھتی ہوں، ظاہر نہیں کرتی، زیادہ تر چپ رہتی ہوں۔ اور اہم بات یہ ہے کہ آپ کے زیر صحبت آنے کے بعد میرا ہر فعل یا عمل فوراً مجھ پر واضح ہوتا ہے کہ میں غلط ہوں یا صحیح۔ غلطی کی صورت میں بہت اذیت کا شکار ہوجاتی ہوں کہ بس ایک جنگ سی چھڑ جاتی ہے میرے اندر کہ میں ایسی کیوں ہوں؟ میں دوسروں کے لئے دعا کرتی ہوں کہ میرے ہر شر سے لوگ محفوظ رہیں۔

جواب:

ٹھیک ہے۔

سوال نمبر 2:

حضرت! call کی تھی، لیکن attend نہیں ہوئی۔ میرا چوتھا ذکر مکمل ہوگیا ہے، اب پانچویں ذکر کے متعلق فرما دیں۔

جواب:

یہ call کس وقت کی تھی آپ نے؟ ہمارا وقت تو دو بجے سے لے کر تین بجے تک ہے۔ کیا اسی دوران کی تھی یا کسی اور وقت کی تھی؟ کیونکہ باقی وقت میرا ٹیلی فون پر ہونا ضروری نہیں ہے۔ باقی چوتھا ذکر مکمل ہوگیا ہے تو ٹھیک ہے، آپ پانچواں ذکر شروع کرلیں۔

سوال نمبر 3:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ میرا ذکر ساڑھے پانچ ہزار مرتبہ زبانی طور پر ’’اَللہ اَللہ‘‘ کرنے کا ہے، اسے مہینہ پورا ہوچکا ہے، مزید رہنمائی کیجئے۔

جواب:

ابھی چھ ہزار شروع فرما لیں۔

سوال نمبر 4:

السلام علیکم۔ میرا نام فلاں ہے، شانگلہ سے تعلق رکھتا ہوں، ایف ایس سی میں ہوں، آپ نے مجھے ذکر دیا تھا، جو آدھا مہینہ ہوا ہے، کیونکہ 2nd year کا result آگیا ہے، جس میں میرے 901 نمبر آئے ہیں، لیکن marks بہت کم تھے میری توقع سے، کیونکہ میں MDCAT کے لئے تیاری کررہا ہوں، اس میں ان marks کے ساتھ پاس ہونا بہت مشکل ہے، اس لئے میں کافی دن اداس رہا اور اس وقت مجھ سے ذکر اور study دونوں رہ گئی۔ آپ میرے لئے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کے لئے دعا کریں۔ آپ نے جو ذکر دیا تھا وہ مندرجہ ذیل ہے۔ دو سو دفعہ ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘، چار سو مرتبہ، ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ‘‘، چھ سو مرتبہ ’’حَقْ‘‘ اور ہزار مرتبہ ’’اَللّٰہ‘‘ اور دس منٹ کا مراقبہ کرنا کہ دل ’’اَللہ اَللہ‘‘ کررہا ہے، لیکن وہ بھی محسوس نہیں ہوا۔

جواب:

اگر آپ یہ ذکر و اذکار اس لئے کررہے ہیں کہ آپ کو نمبر اچھے مل جائیں، تو میرے خیال میں آپ نے غلط جگہ پکڑی ہے، کیونکہ ہمارے ہاں اس قسم کی کوئی بات نہیں ہے، نہ ہی یہ ذکر ہم اس کے لئے دیتے ہیں، نہ ہی ہم عامل ہیں، نہ عملیات سے تعلق رکھتے ہیں۔ باقی اگر آپ اپنی اصلاح کے لئے میرے ساتھ تعلق رکھ سکتے ہیں، تو رکھیں، ورنہ صحیح بات یہ ہے کہ پھر آپ نے غلط جگہ منتخب کی ہے۔ لہٰذا اگر آپ اصلاح کے لئے کرتے ہیں تو آئندہ کے لئے ایسی tension کی حالت میں تو اس کو ضرور کرنا چاہئے، کیونکہ tension کی حالت میں اگر نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ ذَالِکَ شیطان آپ سے کوئی ایسی ویسی بات کرواتا ہے، جو کہ بعد میں آپ کے ایمان سلب ہونے کا باعث بن سکتی ہو، تو یہ اذکار اسی سے بچت کرائیں گے، مگر آپ گویا اپنے آپ کو شیطان کے حوالے کررہے ہیں اگر آپ اس چیز کو چھوڑ رہے ہیں۔ اکثر میں خواتین کو کہا کرتا ہوں کہ جب بعض خواتین شادی بیاہ میں جاتی ہیں تو کہتی ہیں کہ ہم سے ذکر رہ گیا یعنی مراقبہ رہ گیا ہے، تو اس وقت میں ان کو کہتا ہوں کہ جس وقت کرنا تھا، اس وقت آپ نے چھوڑ دیا، کیونکہ اسی وقت میں شیطان کا غلبہ ہوتا ہے اور جو کچھ کیا ہوتا ہے وہ سارا بہہ جاتا ہے۔ مثلاً گند اگر زیادہ ہو تو صفائی ستھرائی کے لئے صابن وغیرہ کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن اس وقت اگر آپ چھوڑ دیں گے تو پھر اس کا مطلب کیا ہے؟ مطلب یہی ہے کہ آپ نے اپنے آپ کو شیطان کے حوالے کردیا ہے۔ اس وجہ سے میں نے کہا کہ آپ اپنی اصلاح کے لئے ذکر کرنا چاہتے ہیں یا آپ اپنے دنیا کے کاموں کے لئے کرنا چاہتے ہیں؟ اگر اصلاح کے لئے کرنا ہے تو پھر اس کی ضرورت تو اس وقت زیادہ تھی۔ اس لئے آئندہ کے لئے ایسا نہ کریں اور ابھی آپ نے جو ذکر کیا تھا، اس ذکر کو آپ جاری کرلیں اور ایک مہینہ کرکے پھر مجھے بتا دیجئے۔ ذکر پہلے والا کریں یعنی دو سو دفعہ ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘، چار سو مرتبہ ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ‘‘، چھ سو مرتبہ ’’حَقْ‘‘ اور ہزار مرتبہ ’’اَللّٰہ‘‘ اور دس منٹ کا مراقبہ کرنا کہ دل ’’اَللہ اَللہ‘‘ کررہا ہے۔ بس اس کو ایک مہینہ کرلیں، پھر اس کے بعد مجھے بتا دیجئے گا کہ کیسے ہو رہے ہیں؟

سوال نمبر 5:

السلام علیکم۔ حضرت! آپ نے جو ذکر بتایا تھا یعنی دو سو دفعہ ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘، چار سو مرتبہ ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ‘‘، چھ سو مرتبہ ’’حَقْ‘‘ اور پانچ سو مرتبہ ’’اَللّٰہ‘‘ اور دس منٹ کے لئے یہ تصور کہ پانچوں لطائف ’’اَللّٰہ اَللّٰہ‘‘ کررہے ہیں اور پندرہ منٹ مراقبہ شیونات ذاتیہ کا ہے، اور اسے دوبارہ ایک مہینہ مزید ہوگیا ہے، آگے guide کرلیں۔ آپ نے اثر کے بارے میں پوچھا تھا، میں غور کرنے کی کوشش کرتا ہوں، مگر کچھ پتا نہیں چلتا، اس کے بارے میں بھی guide کرلیں۔

جواب:

ابھی آپ نے جو فرمایا ہے کہ پندرہ منٹ آپ مراقبہ شیونات ذاتیہ کررہے ہیں، تو اس میں میں نے کیا بتایا تھا؟ کہ یہ کس چیز کا مراقبہ ہے؟ اور اس میں کیا تصور کرنا ہے؟

سوال نمبر 6:

السلام علیکم۔ شاہ صاحب!

I am doing the ذکر that you had told me to but still I am committing the sin. Whenever I am alone, I commit the same sin again and again. Kindly advise me to do the right things and guide me how to avoid or overcome this? شیخ صاحب it’s mainly related to visual sins. I have gotten addicted to this sin. Please advise me how to get rid of this sin. جزاک اللہ

جواب:

بھائی صاحب! آپ نے خود ہی اپنی بات بتا دی کہ addiction آپ کو ہو چکی ہے۔ addiction باقاعدہ ایک میڈیکل بلکہ psychatric بیماری ہے یعنی اس سے دماغ متأثر ہوتا ہے، dopamine جو ہے، وہ level change ہوجاتا ہے، اس وجہ سے آپ اگر واقعی اپنی اصلاح میں interested ہیں، تو پھر میں جو کہوں، اس پر عمل کرنا پڑے گا، کیونکہ باتوں سے یہ چیزیں ٹھیک نہیں ہوا کرتیں، نہ وظیفوں سے یہ چیزیں ٹھیک ہوا کرتی ہیں، جیسے کہ بہت سارے لوگ اس غلطی میں مبتلا ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید یہ چیزیں وظیفوں سے ٹھیک ہوجائیں گی، جبکہ ایسا نہیں ہے، وظیفے دوسری چیزوں کے لئے ہیں یعنی وہ انسان کو ایک راستے پہ ڈالنے کے لئے ہوتے ہیں، تاکہ علاج کرنا آسان ہوجائے، ورنہ سارا کام انسان کو جو طریقہ بتایا جاتا ہے، اس پہ عمل کرنے سے ہوتا ہے۔ لہٰذا addiction ایک بیماری ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ اس کو ایک خاص مدت تک بالکل چھوڑنا ہوتا ہے، مثلاً جو elderly ہوتے ہیں یعنی جو بڑی عمر کے جوان لوگ یا بوڑھے لوگ ہوتے ہیں (اس میں بچوں کی بات الگ ہے) ان کو اگر کسی چیز کی addiction ہوجائے تو تین ہفتے بالکل اس سے غیر متعلق رہیں، اس کو بالکل استعمال نہ کریں۔ لہٰذا آپ سادہ موبائل اس وقت لے لیں اور جو سمارٹ فون ہے، وہ آپ چھوڑ دیں، کسی اور کو دے دیں، کیونکہ اگر آپ میرے قریب ہوتے تو میں آپ سے لے لیتا، میں لیتا ہوں لوگوں سے، لیکن چونکہ میں آپ سے دور ہوں، اس لئے آپ وہاں پر کسی کو دے دیں۔ تین ہفتے کم از کم ہیں اور بہتر ہے کہ پورا مہینہ آپ اس سے بچے رہیں اور صرف سادہ فون استعمال کرتے رہیں، اس کے بعد پھر مجھے ذرا اپنا حال بتائیں گے، پھر اس کے بعد میں مزید بات کرسکوں گا، فی الحال ابتدائی step یہی ہے کہ آپ بالکل اس کو چھوڑ دیں اور ایک مہینہ تک کم از کم آپ اس کو بالکل نہ دیکھیں، کیونکہ آپ کا کام تو سادہ موبائل سے بھی ہوجائے گا، ورنہ تو پہلے لوگوں کے پاس موبائل بھی نہیں ہوتے تھے، landline ٹیلی فون پہ بات کرنی ہوتی تھی، کافی انتظار کرنا ہوتا تھا، بلکہ ہماری زندگی میں تو ہر گھر میں ٹیلی فون بھی نہیں تھے، بعض لوگ ڈاک خانہ جا کے ٹیلی فون کرتے تھے۔ ظاہر ہے اس کے بغیر انسان زندہ رہ سکتا ہے، اس لئے آپ ایک مہینہ اس سے Out of touch رہیں، پھر ان شاء اللہ العزیز! آپ مجھے اپنا حال بتائیں گے، اس کے بعد پھر میں عرض کروں گا، امید ہے کہ آپ ان شاء اللہ! اس سے نجات پا لیں گے۔

سوال نمبر 7:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ میرا نام فلاں، تعلیم فلاں، شہر فیصل آباد ہے، تسبیحات و ذکر تیسرا کلمہ سو بار، ’’اَسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّىْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَيْهِ‘‘ سو بار، درود ابراہیمی سو بار، لسانی ذکر ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘ دو سو مرتبہ، ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ‘‘ چار سو مرتبہ، ’’حَقْ‘‘ چھ سو مرتبہ اور ’’اَللّٰہ‘‘ پانچ سو مرتبہ، قلبی ذکر: لطیفۂ قلب، لطیفۂ روح، لطیفۂ سر، لطیفۂ خفی، لطیفہ اخفیٰ تمام لطائف پر دس دس منٹ کا ذکر اور مراقبہ تجلیات افعالیہ ہے۔ اَلْحَمْدُ للہ! تصور اسم اللہ میں پختگی آگئی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرے اندر روح ہے اور جسم جیسے بالکل خالی ہو، صرف اسم اللہ ہی ہو۔ دماغ میں مختلف خیالات چلتے رہتے ہیں، اب بھی ایسا ہے، لیکن اب مراقبہ کے دوران ایسا بھی ہوتا ہے کہ بس دماغ اور سینہ بلکہ پورے جسم میں ایسا لگتا ہے کہ صرف روح ہی ہے اور اسم اللہ ہے۔ میں نے جمعہ مبارک کو پانچ ہزار مرتبہ درود پڑھا اور میں ہر جمعہ پانچ ہزار بار درود پاک پڑھنے کا ارادہ رکھتا ہوں اور روزانہ ایک ہزار بار، کیا مجھے اجازت ہے؟ ایک گزارش یہ ہے کہ میری والدہ بیمار ہیں، دل کی مرض میں مبتلا ہیں اور لقوہ کا attack ہوا ہے، جس کی وجہ سے زبان میں کچھ لکنت ہے، برائے مہربانی خصوصی دعا کیجئے۔ اللہ پاک جزائے خیر اور بلند مرتبہ عطا فرمائے۔ (آمین)

جواب:

آپ اس طرح کرلیں کہ اب ماشاء اللہ! جو تجلیات افعالیہ کا مراقبہ ہے، اس کی جگہ اب آپ صفات ثبوتیہ کا مراقبہ کرلیں۔ صفات ثبوتیہ کا مراقبہ یہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی آٹھ صفات ہیں کہ اللہ پاک سب کچھ پیدا کرتا ہے، اللہ پاک سنتے ہیں، اللہ پاک دیکھتے ہیں، اللہ جل شانہٗ کلام فرماتے ہیں، اللہ پاک کو ہر چیز پر قدرت ہے، اللہ پاک ارادہ فرماتے ہیں، اس کا ارادہ ہی اصل ہے، تو یہ آٹھ صفات کو صفات ثبوتیہ کہتے ہیں، ان کو آپ ذہن میں رکھ کر ان صفات کا جو فیض ہے اس کے بارے میں آپ یہ تصور کریں کہ ان صفات کا جو فیض ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کی طرف آرہا ہے اور آپ ﷺ کی طرف سے شیخ کی طرف آرہا ہے اور شیخ کی طرف سے آپ کے لطیفۂ روح پر آرہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ آپ کی والدہ صاحبہ کو کامل صحت عطا فرما دے۔

سوال نمبر 8:

السلام علیکم۔ حضرت جی! میرا نام فلاں ہے، والد کا نام فلاں ہے، عمر بائیس سال ہے اور میں سٹوڈنٹ ہوں۔ حضرت جی! جو تیسرا ذکر آپ نے تیس دن کرنے کے لئے دیا تھا یعنی تیسرا کلمہ دو سو مرتبہ، درود شریف دو سو مرتبہ، استغفار دو سو مرتبہ، ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘ دو سو مرتبہ، ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ‘‘ دو سو مرتبہ، ’’حَقْ‘‘ دو سو مرتبہ، ’’اَللّٰہ‘‘ سو مرتبہ، یہ اَلْحَمْدُ للہ! پورا ہوچکا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ مجھے اگلا ذکر دے دیں۔

جواب:

باقی سب تو یہی کریں، لیکن ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘ اور ’’حَقْ‘‘ تین تین سو دفعہ کرلیں۔

سوال نمبر 9:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت جی! میرا موجودہ ذکر مندرجہ ذیل ہے: دو سو، چار سو، چھ سو اور نو ہزار، اسے ایک مہینہ پورا ہوگیا ہے، آگے کے لئے ذکر عنایت فرمائیں۔

جواب:

اب ساڑھے نو ہزار کردیجئے گا۔

سوال نمبر 10:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

نمبر 1: ابتدائی وظیفہ بلاناغہ پورا کرلیا ہے۔

جواب:

ماشاء اللہ! اب اس کو دس منٹ کا لطیفۂ قلب والا ذکر دے دیں۔

نمبر 2: لطیفۂ قلب دس منٹ، لطیفۂ روح دس منٹ، لطیفۂ سر دس منٹ، لطیفۂ خفی پندرہ منٹ ہے۔ قلب اور روح پر محسوس ہوتا ہے، سر اور خفی دونوں پر محسوس نہیں ہوتا۔

جواب:

اس کو فی الحال جاری رکھا جائے۔

نمبر 3:

تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر اور مراقبہ دعائیہ اور عبدیت کو ایک ساتھ کرنا تھا۔ کہتی ہیں کہ بہت سی دعائیں بھی کرلیں اور یہ محسوس ہوتا ہے کہ جسم کا ذرہ ذرہ سجدہ میں ہے۔

جواب:

سبحان اللہ! اس کو ایک مہینہ اور جاری رکھیں۔

نمبر 4: تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر اور مراقبہ صفات ثبوتیہ پندرہ منٹ ہے، یہ محسوس نہیں ہوتا۔

جواب:

یہ دوبارہ کر لیجئے گا۔

نمبر 5: تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر اور مراقبہ شیونات ذاتیہ پندرہ منٹ ہے، ہر دن اللہ کی نئی شان کو محسوس کرتی ہیں، کبھی کبھی مدرسے آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ مدرسے لے آتا ہے اور میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظاہرہ کرتی ہوں۔

جواب:

ماشاء اللہ! ابھی آپ ان کو مراقبہ تنزیہ دے دیجئے۔

سوال نمبر 11:

السلام علیکم۔ حضرت جی! اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے۔ حضرت جی! ایبٹ آباد سے فلاں عرض کررہا ہوں۔ میرا سبق مندرجہ ذیل ہے۔ دو سو مرتبہ ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘، چار سو مرتبہ ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘ چھ سو مرتبہ ’’حَقْ‘‘، سو مرتبہ ’’اَللّٰہ‘‘ اور دس منٹ کا مراقبہ۔ حضرت جی! چھ ماہ سے زیادہ گزر گیا کہ معمولات کی پابندی نہیں ہے، یہاں تک کہ نماز بھی باقاعدگی کے ساتھ ادا نہیں ہوتی۔ برائے کرم میرے لئے خصوصی دعا فرمائیں، کیونکہ میں کوشش اور ارادہ کے باوجود اپنی کاہلی سے نجات حاصل نہیں کرسکا اور اپنی لاپرواہی پر شرمندہ ہوں اور آپ سے معافی کا طلبگار ہوں۔

جواب:

بہتر یہ ہے کہ آپ چھٹی لے کے تین دن کے لئے خانقاہ تشریف لائیں، تاکہ اس کی جڑ لگ جائے، لیکن خانقاہ تشریف لانے سے پہلے مجھے فون ضرور کرلیں، تاکہ پتا ہو کہ میں ادھر ہوں یا نہیں ہوں۔

سوال نمبر 12:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت جی! میں مسجد فلاں سے ہوں، اللہ کے فضل سے میرا ذکر مکمل ہوچکا ہے، جو کہ دو سو، چار سو، چھ سو اور ساڑھے چار ہزار اور پانچوں لطائف پر دس دس منٹ مراقبہ اور مراقبہ شیونات ذاتیہ پندرہ منٹ کا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف متوجہ ہونا ہے کہ فیض اللہ جل شانہٗ کی طرف سے آپ ﷺ کی طرف اور آپ ﷺ کی طرف سے شیخ کی طرف اور شیخ کی طرف سے میرے لطیفۂ سر پر آرہا ہے، اَلْحَمْدُ للہ! فیض محسوس ہوتا ہے، گزارش ہے کہ اگلا ذکر تجویز فرما دیں۔

جواب:

ابھی آپ ان شاء اللہ! جو صفات سلبیہ والا مراقبہ ہے، وہ شروع کرلیں یعنی وہ صفات جو اللہ کی شان کے مطابق نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے پاک ہے، مثلاً اللہ پاک سوتے نہیں ہیں، اللہ پاک کھاتے نہیں ہیں، اللہ پاک کی شادی نہیں۔

سوال نمبر 13:

حضرت! پانچواں ذکر بتا دیں۔

جواب:

چوتھا ذکر کیا تھا؟ وہ بتا دیں، میں پانچویں کا بتا دیتا ہوں۔

سوال نمبر 14:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت جی! اللہ پاک آپ کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم رکھے، علم و تقویٰ میں مزید برکت عطا فرمائے۔ گزارش ہے کہ ’’منزل جدید‘‘ اگر کسی وجہ سے مغرب یا عشاء کے بعد نہ پڑھ سکے تو کیا دن کو بھی پڑھی جاسکتی ہے؟

جواب:

پڑھی جاسکتی ہے، کیوں نہیں پڑھی جاسکتی، قرآن کسی وقت بھی منع نہیں ہے، البتہ یہ بات ضرور ہے کہ اس کا جو اثر ہے، وہ مغرب کے بعد ہی سب سے زیادہ ہوتا ہے، لیکن اگر رہ جائے تو پھر عشاء کے بعد پڑھ لیں، اصل میں اس کا تعلق اندھیرے کے ساتھ ہے۔ لیکن بہرحال اگر نہیں پڑھی گئی تو نہ ہونے سے یہ یقیناً بہتر ہوگا۔

سوال نمبر 15:

دو سو، تین سو، تین سو اور سو کا ذکر ہے، اب آگے بتا دیں۔

جواب:

اگر آپ کا دو سو، تین سو، تین سو اور سو ہے، تو پھر دو سو، چار سو، چار سو اور سو کر لیجئے۔

سوال نمبر 16:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت اقدس! مزاج بخیر و عافیت ہوں گے، بندہ کو جو ذکر ایک مہینے کے لئے دیا تھا، اس کو ایک مہینہ بلاناغہ پورا ہوگیا ہے۔ ذکر یہ ہے کہ دو سو مرتبہ ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘، چار سو مرتبہ ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ‘‘، چھ سو مرتبہ ’’حَقْ‘‘ اور پانچ سو مرتبہ ’’اَللّٰہ‘‘ اور مراقبۂ احدیت پندرہ منٹ کے لئے اور دس دس منٹ سوائے نفس کے تمام لطائف کا مراقبہ۔ یہ سارے محسوس ہو رہے ہیں، ماشاء اللہ!

جواب:

ابھی مراقبۂ احدیت کی جگہ مراقبہ تجلیات افعالیہ کریں۔ مراقبہ تجلیات افعالیہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک ہی سب کچھ کرتے ہیں، اس کا جو فیض ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کی طرف اور آپ ﷺ کی طرف سے شیخ کی طرف اور شیخ کی طرف سے آپ کے قلب پر آرہا ہے۔ یہ مراقبۂ احدیت کی جگہ پندرہ منٹ ہوگا اور اس کا مورد بھی دل ہے۔

سوال نمبر 17:

حضرت! میری فجر کی نماز قضا ہوگئی ہے، کیونکہ مجھے کسی نے جگایا نہیں۔

جواب:

کسی نے جگایا نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگ alarm وغیرہ سے کام نہیں لیتے، alarm وغیرہ کس لئے ہوتے ہیں؟ آج کل تو میرے خیال میں یہ چیزیں بہت زیادہ آسان ہیں کہ موبائل ہر ایک کے پاس ہوتا ہے، اس لئے alarm لگایا جاسکتا ہے، ورنہ پھر alarm خریدنا کوئی مشکل بات نہیں ہے، ایسی گھڑیاں آج کل ملتی ہیں، جس کی آواز کافی اچھی خاصی ہوتی ہے، آپ وہ لے لیجئے گا اور اس پر alarm لگا لیا کریں، کسی کے منتظر نہ رہیں، البتہ لوگوں کو بتا دیجئے کہ آپ مجھے اٹھائیں، لیکن آپ کا ان کے اوپر انحصار نہ ہو، اس لئے alarm کا انتظام کر لیجئے گا۔

سوال نمبر 18:

حضرت جی! یہ بعض دینی محفلوں میں بھی اگر جاتے ہیں تو وہاں پر کافی جمود سا محسوس ہوتا ہے، جیسے مجھے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا، بس اٹھنا چاہئے یعنی اس طرح کی کیفیت ہوجاتی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہوتی ہے؟

جواب:

اصل میں دینی محفل کا ایک ظاہری اثر ہوتا ہے، جیسے قرآن پڑھا جارہا ہے، تو قرآن کا اثر ہوگا، حدیث پڑھی جارہی ہے، تو اس کا اثر ہوگا یا کوئی دینی بات ہو رہی ہے، تو اس کا اثر ہوگا، لیکن اس کے پیچھے جو اخلاص ہے، اس میں اس کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ آج کل چونکہ اخلاص وغیرہ کی کمی بہت پائی جاتی ہے، اس وجہ سے وہ ٹکراؤ شروع ہوجاتا ہے۔ لیکن ایک بات عرض کروں کہ میں اپنے طور پر یعنی جو اپنے لئے کرتا ہوں، وہ یہ ہے کہ بے شک مجھے ٹکراؤ محسوس ہوتا ہو، مگر میں اٹھتا نہیں ہوں، کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ میرے اٹھنے سے محفل متأثر ہوجائے گی، جس سے دوسرے لوگوں کو نقصان ہوجائے گا، کیونکہ بعض لوگوں کو تو فائدہ ہر حال میں ہوتا ہے، کیونکہ وہ اس level پہ ہوتے ہیں کہ ان کو اس کی ضرورت ہوتی ہے، لہٰذا مجھے ان کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس لئے محفل کو چھوڑنا نہیں چاہئے، بلکہ اس میں اگر کوئی ایسی بات ہو اور بات کرنے کا موقع ہو تو اس کمی کو پورا کرنے کے لئے بھی بات کر لینی چاہئے۔ اس پر میں آپ کو مثال دیتا ہوں (یعنی بس مثال ہے واللہ اعلم بالصواب کہ) میں ایک قرأت کی محفل میں اسلام آباد گیا تھا، بڑے مشہور قاری صاحبان تشریف لائے تھے، میں تھا اور مولانا عبدالغفار صاحب بھی تھے اور دیگر حضرات بھی تشریف لائے تھے۔ میں نے دیکھا کہ قرآن پاک کی تلاوت ہو رہی ہے اور قاری صاحبان ایک دوسرے کو گلے مل رہے ہیں، کیونکہ ایک تو ہوتی ہے قرآن پاک کی Tap recorder پر یا سی ڈی پر تلاوت، اس کے احکامات ذرا مختلف ہوسکتے ہیں، اگرچہ اس میں بھی ادب کا تقاضا یہ ہے کہ انسان خاموش رہے، لیکن سجدہ تلاوت اس کے سننے سے واجب نہیں ہوتا، اس کی وجہ سے اس کے احکامات کچھ مختلف ہوجاتے ہیں، لیکن یہاں live تلاوت ہو رہی ہے اور قاری صاحبان آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ گلے مل رہے ہیں اور بات چیت کررہے ہیں اور اس کی طرف متوجہ نہیں ہیں، میں بڑا حیران ہوا، میں نے کہا یہ کیسی عجیب بات ہے کہ اگر یہ قاری صاحبان اس پر عمل نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا، خیر میری بات چیت کا جب موقع آگیا تو میں نے پھر اس پر کافی بات کی اور میں نے کہا کہ مجھے تو امید نہیں تھی کہ آپ حضرات اس پہ عمل نہیں کریں گے یعنی سب سے پہلے آپ کو عمل کرنا ہوگا، پھر آپ سے لوگ سیکھیں گے کہ قرآن کا ادب کیا ہے، کیونکہ قرآن کے بارے میں تو حکم ہے کہ جب قرآن پڑھا جارہا ہو تو خاموش رہو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے اور یہ حکم قرآن ہی میں ہے، لیکن اگر آپ درمیان میں باتیں کررہے ہوں اور گلے لگ رہے ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اس کو وہ اہمیت نہیں دے رہے اور یہ بہت نقصان کی بات ہے۔ خیر اس وقت تو میں نے مختصر سی بات کی ہے، وہ کافی تفصیلی بات تھی۔ مگر جب میں واپس آیا تو مولانا عبدالغفار صاحب قریب ہی بیٹھے ہوئے تھے، وہ کہتے بالکل صحیح کہا ایسا ہی کہنا چاہئے تھا۔ ایسے ہی آج کل نعت خوانی ہوتی ہے، اگرچہ نعت شریف بڑا مقدس کام ہے، لیکن آج کل Musical system آگیا اور گانے کے طرز پر نعتیں ہوتی ہیں، جس سے طبیعت بڑی خراب ہوتی ہے آدمی کی، اس لئے میں تو ایسی محفل میں جاتا ہی نہیں، مجھے سر میں درد ہوتا ہے، لیکن اگر چلا گیا تو پھر اٹھتا نہیں ہوں، تاکہ دوسرے لوگوں کو مسئلہ نہ ہو، لیکن خود کوشش کرتا ہوں کہ جہاں پر اس قسم کی چیزیں ہوں، وہاں پر میں نہیں جاتا، کیونکہ طبیعت پہ واقعی بہت بوجھ آتا ہے اور آج کل یہ مسائل بہت ہیں۔ ایک مرتبہ مولانا سید منیر شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے (جو حضرت صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے) تو میں نے کچھ باتیں اس طرح کیں، جیسے آپ نے بات کی ہے اور کچھ اور باتیں بھی کیں، تو شاہ صاحب نے مجھے کہا شاہ صاحب! اسی ماحول میں کام کرنا ہے، انبیاء کرام کافروں میں آئے تھے، مسلمانوں کے لئے نہیں آئے تھے۔ لہٰذا آج کل حالات ہی ایسے ہیں، اس میں ہم یہ نہیں کرسکتے کہ ہم کام ہی چھوڑ دیں، البتہ یہ بات ہے کہ کام کا technique ذرا تبدیل ہوجائے، طریقۂ کار بدل جائے گا۔

سوال نمبر 19:

بعض لوگ کلام پڑھتے ہیں جو اللہ والوں کا کلام ہوتا ہے، لیکن ساتھ میوزک ہوتا ہے یا اور کوئی آواز بنا لیتے ہیں، اس کے ساتھ کلام ہوتا ہے، جس سے فائدہ بھی ہو رہا ہوتا ہے یقیناً، اب اگر کوئی آدمی اس کو سننا چاہے تو کیا میوزک سے توجہ ہٹا کے کلام سننا صحیح ہے یا نہیں سننا چاہئے؟

جواب:

مقتدیٰ کو تو نہیں سننا چاہئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مقتدیٰ کو لوگ دیکھتے ہیں۔ مثلاً مولانا تقی عثمانی صاحب اگر ایسی محفل میں بیٹھے ہوں، تو کیا خیال ہے لوگ کیا کہیں گے؟ یہی کہیں گے کہ یہ ٹھیک ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس لئے مقتدیٰ کو منع کرنا چاہئے۔ جیسے ہماری آئی ایٹ فور میں مجلس ہوا کرتی تھی، جو کافی عرصہ ہوئی، تو وہاں ایک عالم تھے بنوری ٹاؤن کے فارغ، انہوں نے مجھے کہا شاہ صاحب! میں آپ کے لئے ایک کیسٹ لایا ہوں، اس میں بہت اچھا ماشاء اللہ! ایک بڑے اچھے عالم نے کلام پڑھا ہے، آپ بڑے خوش ہوجائیں گے۔ میں نے بڑے شوق سے وہ لے لی کہ یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔ خیر میں نے وہ رکھ لی، مگر جب بعد میں سنا تو شروع تو ’’اَللّٰہ اَللّٰہ‘‘ کے ساتھ ہوا یعنی ابتدا میں تو ’’اَللّٰہ اَللّٰہ‘‘ محسوس ہوتا ہے، پھر بعد میں طبلے کی آواز محسوس ہوتی ہے اور مسلسل اس انداز میں وہ چل رہا ہوتا ہے جیسے ساتھ طبلہ بج رہا ہے، میں بڑا حیران ہوگیا کہ ایک عالم نے مجھے دی ہے، کم از کم اتنا sense تو ہونا چاہئے کہ یہ کیا چیز ہے، یہ تو بہت ہی بڑی جسارت ہے اور گستاخی ہے، اس کو سننا بھی ممکن نہیں، تو میں اس پہ مضمون لکھنے والا تھا کہ اس پر لکھ دوں گا اور پھر دارالعلوم کراچی یا کسی اور رسالے البیات وغیرہ میں بھیجنے کی کوشش کروں گا، مگر شکر ہے اَلْحَمْدُ للہ! ضرب مومن والوں نے اس کے بارے میں فتویٰ دے دیا، کسی نے ان سے پوچھا تھا تو انہوں نے کہا یہ حرام ہے اور اس سے توبہ کرنی چاہئے، اس کو نہیں سننا چاہئے۔ میں نے کہا چلو اَلْحَمْدُ للہ! کسی نے اس پر action لے لیا۔ لہٰذا آج کل فتنے ہیں، کیونکہ فتنوں کا دور ہے اور فتنے اسی کو کہتے ہیں کہ دین کے رنگ میں آتے ہیں اور آدمی محسوس کرتا ہے کہ دین کا کام ہے، لیکن وہ دین کا کام نہیں ہوتا، وہ دین کے خلاف کام ہوتا ہے۔ دیکھیں! قرآن پاک سے اونچا کلام کیا ہوگا؟ لیکن اس کو میوزک کے ساتھ اگر کوئی پڑھے تو کیا صورتحال ہے، اس لئے یہ بہت بڑی جسارت ہے، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔

سوال نمبر 20:

جیسے آپ نے ابھی موبائل کے بارے میں فرمایا تھا، تو اسی بارے میں تھوڑی سی بات پوچھنی ہے کہ یہ اس وقت ضرورت بن چکی ہے، جیسے Whatsapp ہے یا EMO وغیرہ پہ message جاتے ہیں، تو کیا اس کے لئے کوئی وقت تعین کرسکتا ہے بندہ؟ کہ دوسرے عام وقت میں دوسرا استعمال کرے، اگرچہ اسے چھوڑنا بہت اچھی بات ہے، یہ بات مجھے بہت اچھی لگی، لیکن میں اس میں بہت زیادہ کمزور ہوں، صبح نماز کے لئے اٹھتے ہیں تو message آئے ہوئے ہوتے ہیں، ایسے ہی تہجد میں اللہ توفیق دیتے ہیں یا کبھی رات کو سونے کے وقت تو اس وقت میسجز آتے ہیں، کیونکہ یہ ایک سلسلہ کاروباری ہے، زیادہ تر لوگ اسی پہ انحصار کرتے ہیں اور ہمارے کام کا سلسلہ ایسا ہوتا ہے، مثلاً ٹکٹ آگیا، کسی نے کوئی message بھیج دیا گروپ وغیرہ میں۔ تو اس کے لئے میری رہنمائی فرمائیں، یہ میں صرف اپنے لئے پوچھ رہا ہے۔

جواب:

جی یہ ہوسکتا ہے کہ مثال کے طور پر آپ ایک گھنٹہ اس کے لئے مقرر کرلیں کہ اس میں Whatsapp کو دیکھنا ہے، باقی اوقات آپ عام موبائل سے کام لیں، کیونکہ Whatsapp میں یہ خوبی ہے کہ آپ اس سے sim نکال بھی لیں، پھر بھی Whatsapp چلتا ہے یعنی ایک دفعہ آپ اس کو install کرلیں پھر بے شک آپ sim اس سے نکال کے آپ normal فون میں ڈال دیں، اور آپ سارے فون وغیرہ اس پہ سن لیا کریں اور Whatsapp وغیرہ اسی پر آئے گا، اور وہ آپ کے گھر میں پڑا ہو، تو آپ صرف ایک گھنٹہ اس کو دے دیا کریں، اس میں آپ کی جتنی بھی چیزیں ہوں کاروباری وغیرہ، وہ آپ اس میں کرلیا کریں، مگر ہر وقت ساتھ نہ رکھیں، تو یہ بھی ایک control کا طریقہ ہے۔ باقی اگر addiction کسی کو ہوئی ہو تو پھر علاج کرنا پڑتا ہے۔ اور جس صاحب کو میں نے بتایا تھا، اس کو addiction ہوچکی تھی، وہ خود کہہ رہا تھا۔

سوال نمبر 21:

ہماری بھی تقریباً یہی صورتحال ہے۔

جواب:

پھر علاج کرنا پڑے گا، اس کے لئے بے شک تجارت کا نقصان بھی اٹھانا پڑے پھر بھی علاج کرنا پڑے گا۔ جیسے انسان بیمار ہوجاتا ہے اور ہسپتال میں داخل ہوجاتا ہے، تو اس وقت تجارتی نقصان نہیں ہوتا کیا؟

سوال نمبر 22:

addiction کی کیا علامات ہیں؟

جواب:

addiction یہ ہوتی ہے کہ اس کے بغیر رہ نہ سکے یعنی آدمی کو بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ میں اس کو Screen addiction کہتا ہوں یعنی سب سے پہلے لوگ کیا کرتے ہیں کہ صبح اٹھتے ہی screen دیکھتے ہیں۔

سوال نمبر 23:

میں رات کو silent کرکے سوتا ہوں، صبح اٹھنے کا معمول چار بجے ہے، اٹھ کر دیکھتے ہیں تو پندرہ سولہ Whatsapp آئے ہوتے ہیں، وہ دیکھ لیتا ہوں یعنی جو ضروری ہوں، اس کو دیکھ لیتا ہوں، باقی چھوڑ دیتا ہوں۔

جواب:

Whatsapp دیکھنے میں حرج نہیں ہے، وہ دیکھیں۔ اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ جو اِدھر اُدھر کی چیزیں ہیں، جب آدمی وہ دیکھتا ہے تو وہ غلط ہے یعنی جو نقصان دہ چیزیں ہیں۔ اور آج کل اس سے بچنا اس لئے مشکل ہے کہ یہ چیزیں وہ Whatsapp میں تو نہیں لاتے، مثال کے طور پر اگر کوئی خبریں دیکھتا ہے تو خبروں میں تو یہ چیزیں بہت ہیں۔ مجھ سے کسی نے ٹیلی ویژن کے بارے میں پوچھا، تو میں نے کہا اس کی نجاست کو ختم کرنا مشکل ہے، ناممکن ہے، کہتے وہ کیسے؟ میں نے کہا اکثر لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم صرف خبریں دیکھتے ہیں، تو کیا خبروں میں مرد اور عورت دونوں نہیں ہوتے؟ بالکل ایسا ہی ہے، اور جب دونوں ہوتے ہیں تو عورت کے لئے مرد کا دیکھنا جرم ہے اور مرد کے لئے عورت کا دیکھنا جرم ہے اور جو دیکھنے والا ہوگا یا مرد ہوگا یا عورت ہوگی اور دونوں صورتوں میں گناہ ہوگا، اب اس سے بچنے کے لئے کیا صورت ہوسکتی ہے؟ میں آپ کو اس پر ایک واقعہ سناتا ہوں کہ میں جرمنی سے آیا تھا تو اپنے ساتھ ایک گھڑی بھی لایا تھا اور ایف ایم ریڈیو type چیز تھی جو ایف ایم بڑا صاف پکڑتی تھی اور ٹیلی ویژن بھی ایف ایم کی طرح ہوتا ہے (اس کے waves وغیرہ) تو اس کو بھی پکڑتی تھی۔ خیر میں تو خبریں اس پر سن لیتا تھا، ان دنوں چونکہ خبریں کچھ اہم تھیں، اس لئے سن لیتا تھا، تو ایک دن ہمارے ڈرائنگ روم میں وہ پڑی ہوئی تھی اور خبریں لگی ہوئی تھیں کہ ہماری class-fellow کچھ عورتیں تھیں، جو walk کررہی تھیں، تو انہوں نے ہمارے گھر کے ڈرائنگ روم سے آواز ٹیلی ویژن کی سنی، اگرچہ ٹیلی ویژن تھا نہیں، لیکن آواز اس کی سنی تو حیران ہوگئی کہ شبیر صاحب بھی ٹیلی ویژن دیکھتا ہے۔ بس انہوں نے گھنٹی بجائی تو ہمارے گھر کی عورتوں نے دروازہ کھولا اور ان کو کہا آجائیں، تو وہ کہتیں کہ آپ کے گھر میں ٹیلی ویژن ہے؟ گھر والوں نے کہا ہاں ہے، (مذاق میں) انہوں نے کہا کدھر ہے؟ وہ ان کو ڈرائنگ روم میں لے گئی تو دیکھ کر وہ ہنس پڑیں کہ یہ ٹیلی ویژن ہے۔ واقعی ٹیلی ویژن دیکھنا تو بہت بڑا مسئلہ ہے، اس میں آج کل بچنا ناممکن ہے اور اسی طرح موبائل پہ یہ چیزیں جب ہوجاتی ہیں، تو پھر بچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ تو اس میں اگر addiction ہو تو اس سے بچنا ضروری ہے۔

سوال نمبر 24:

حضرت جی! مولانا سعد احمد کاندھلوی صاحب تبلیغی جماعت والے انہوں نے ایک بیان میں فرمایا (یہ ’’محاسن اسلام‘‘ میں لکھا ہوا ہے) کہ جو بندہ غیر ضروری فوٹو نکالتا ہے اور اسے اس کے ساتھ دلچسپی ہے اور فوٹو خواہ مخواہ سوشل میڈیا پر کرتا ہے یا کسی بزرگ کی تصویر بھیجتا ہے، تو وہ حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ ایک تو یہ استدراج ہے، دوسرا کہا کہ میں قسم کھا کے کہتا ہوں کہ جو بندہ کیمرے والا موبائل رکھتا ہے، اس کے پاس پھر رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔

جواب:

رحمت کے فرشتے تصویر کے ساتھ نہیں آتے، یہ بالکل صحیح بات ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تصویر کا حکم اگر اس پر لگ جائے تو پھر تو یہ بات ان کے اوپر ثابت ہوجائے گی، پھر تو کوئی الگ مسئلہ نہیں ہے۔ مگر اصل میں اختلاف اس میں ہے کہ ڈیجیٹل تصویر کو تصویر کہتے ہیں یا نہیں، یہ مسئلہ اختلافی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ علماء کرام اس کو تصویر کہتے ہیں اور کچھ علماء کرام اس کو تصویر نہیں کہتے۔ تو جو تصویر کہتے ہیں، ان کا تو فتویٰ یہی ہوگا کہ رحمت کے فرشتے نہیں آئیں گے۔ البتہ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ آج کل کے قلوب للٰہیت سے جو دور جارہے ہیں، ان میں اس چیز کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ تو ایسی صورت میں پھر رحمت کے فرشتوں والی بات ٹھیک ہوگئی کہ اگر انسان کے قلوب اس کی وجہ سے دور ہو رہے ہیں تو پھر یہی بات ہے۔ میں آپ کو اس پہ ایک واقعہ سناتا ہوں، واقعہ یہ ہے کہ میرے پاس ایک صاحب آئے جو ہمارے ساتھیوں میں سے ہیں، سید ہیں، انہوں نے خواب دیکھا کہ میں گھر میں ہوں اور کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا گیا، میرے دل میں آیا کہ کہیں آپ ﷺ نہ ہوں، تو میں نے دروازہ کھولا تو واقعی آپ ﷺ تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ بہت سارے لوگ تھے، میں بڑا خوش ہوگیا، میں نے کہا یارسول اللہ! یہ تو میری عید ہوگئی کہ آپ تشریف لائے ہیں، آپ کچھ دیر کے لئے ہمارے گھر تشریف لے آیئے، تاکہ ہمارے گھر میں برکت ہوجائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں کیسے اندر آسکتا ہوں؟ میرے ساتھ بہت سارے لوگ ہیں۔ میں نے عرض کیا حضرت! صرف آپ اندر تشریف لائیے، بس برکت ہوجائے گی، پھر بے شک آپ تشریف لے جائیں، تو آپ ﷺ اندر تشریف لے آئے، جب اندر تشریف لائے تو برآمدے میں ٹیلی ویژن لگا ہوا تھا، آپ ﷺ کی جیسے ہی اس پر نظر پڑی تو فرمایا: دیکھو! یہ چیز آپ کا تعلق قرآن سے کاٹ دے گی اور پھر آپ ﷺ واپس ہوگئے۔ مجھے اس پر بہت افسوس ہوا کہ یہ کیا بات ہے۔ خیر! جب میں جاگ گیا تو میں بڑا پریشان تھا، میں نے گھر والوں کو یہ بتایا تو میرے سب سے چھوٹے بیٹے نے کہا کہ ہم اس کو توڑتے ہیں اور سب سے پہلے پتھر میں ماروں گا۔ پھر جب وہ میرے پاس آئے کہ اس قسم کی بات ہوئی ہے، تو میں نے کہا ماشاء اللہ! آپ لوگوں نے اچھا سوچا ہے اور یہ ایسا ہی ٹھیک ہے۔ پھر پیر کے دن جو ہماری مجلس ہوا کرتی تھی خیابان میں، اس پہ میں نے بیان کردیا، تو پھر اس کے بعد اسی بچے نے سارا start کردیا کہ اس کو پہلا پتھر میں نے مارا، پھر سب نے مارا، پھر اس کو ختم کردیا یعنی اس کو سنگسار کردیا۔ پھر اَلْحَمْدُ للہ! اس کے بڑے اثرات ہوئے یعنی ادھر جو صاحبان تھے، ان کے اوپر بڑے اثرات ہوئے۔ لہٰذا ٹیلی ویژن میں بھی یہی چیز ہوتی ہے اور موبائل میں بھی یہی چیز ہوتی ہے، یہ مختلف نہیں ہیں، دونوں ڈیجیٹل ہیں، اس وجہ سے حکم تو ایک ہی ہوگا۔ چنانچہ اس کے منفی اثرات ہوں گے۔ اگرچہ فتویٰ میں نہیں دیتا اور نہ میں فتویٰ دینے کی position میں ہوں، کیونکہ فتویٰ میں اگر اختلاف ہے تو اللہ کو پتا ہے (واللہ اعلم بالصواب) لیکن اثرات جو ہم دیکھ رہے ہیں، وہ تو اس کے ہیں، لہٰذا اگر کوئی برے اثرات سے بچنا چاہتا ہے تو ان کو اپنا انتظام کرنا پڑے گا۔

سوال نمبر 25:

حضرت! ایک سوال یہ ہے کہ یہ recording جو ہوتی ہے کہ بعض اوقات recording سنتے ہوئے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ recording سے سننے بہتر ہے کہ آدمی خود قرآن پڑھے، یعنی اس طرح کا ذہن میں خیال پیدا ہوتا ہے اور کچھ جمود سا ہوتا ہے کہ بھائی! recording سے اتنا فائدہ نہیں ہوتا، جتنا تلاوت سے فائدہ ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں کچھ بتا دیں۔

جواب:

اس پر حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب نے آج کل ایک فتویٰ دیا ہوا ہے، پتا نہیں آپ کی نظر سے گزرا ہے یا نہیں، انہوں نے بہت معتدل فتویٰ دیا ہے، فرمایا کہ مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ آیا ہم موبائل کے اوپر قرآن پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ تو فرمایا فتویٰ ہے کہ جائز ہے، لیکن بہتر ہے کہ براہ راست قرآن پڑھیں، کیونکہ یہ وقتی طور پہ صرف سکرین پہ آجاتا ہے، پھر ختم ہوجاتا ہے، جبکہ وہ باقاعدہ اس پر چھپ چکے ہیں، اس سے جدا نہیں ہوتے، مستقل ہوتے ہیں، اس لئے اس کے جو اثرات ہوتے ہیں، وہ بھی مستقل ہوتے ہیں۔ لہٰذا اگر آپ اس کو دیکھ رہے ہوتے ہیں تو آپ کی آنکھیں بھی ثواب لیتی ہیں، اگر ساتھ پڑھ رہے ہیں تو آپ کے کان بھی ثواب حاصل کرتے ہیں اور زبان بھی ثواب پاتی ہے، گویا تین طریقوں سے ثواب ملتا ہے اور اگر کوئی غور کررہا ہو تو قلب و دماغ بھی ثواب میں شامل ہوجاتا ہے، گویا کہ ہر طرح سے آپ اس کا ثواب لے سکتے ہیں۔ لیکن اگر سکرین پر پڑھیں گے تو صرف اس میں آنکھوں والا مسئلہ رہ جائے گا۔ یہ بہت معتدل فتویٰ دیا حضرت نے۔

سوال نمبر 26:

حضرت! اِدھر ہم نے بیانات میں بھی سنا ہے اور حضرت تھانوی صاحبؒ کا ملفوظ شریف بھی ہے، جس میں حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ میں طبیعت کو عقل پر حاوی نہیں ہونے دیتا اور عقل کو شریعت سے آگے نہیں جانے دیتا، اس کی تفسیر تھوڑی سی مزید کردیں۔

جواب:

بالکل حضرت کا ذوق یہی ہے، بلکہ یہ ہونا بھی چاہئے۔ چونکہ طبیعت نفس کے ساتھ تعلق رکھتی ہے، جیسے کہتے ہیں کہ یہ طبعی چیز ہے، لہٰذا طبعی طور پر پسند ناپسند میں انسان جذباتی طور پر فیصلہ کرتا ہے اور میرے جذبات ٹھیک بھی ہوسکتے ہیں اور غلط بھی ہوسکتے ہیں یعنی وقتی طور پر جذبات کی وجہ سے میں صحیح بات کو غلط بھی سمجھ سکتا ہوں، غلط کو صحیح بھی سمجھ سکتا ہوں، مثال کے طور پر سب سے آسان بات بتاؤں کہ جو اختلافی معاملہ ہوتا ہے، اگرچہ مفتی صاحب کو اس بارے میں زیادہ صحیح پتا ہوگا کہ آپس میں جب معاملہ مختلف ہوتا ہے تو ہر ایک آدمی اپنے آپ کو صحیح سمجھتا ہے، دلائل اس کے سامنے ہوتے ہیں، حالانکہ ان میں سے ایک ہی حق پر ہوتا ہے۔ لہٰذا انسان کا طبعی طور پر حالات سے متأثر ہونا کوئی انہونی بات نہیں ہے ہوجاتی ہے۔ لیکن عقل کی الگ بات ہے، عقل میں دو دو چار والی بات ہوتی ہے، اس لئے اگر یہ کم از کم impartial ہو یعنی طبیعت کا اس کے اوپر اثر نہ ہو، جیسے حضرت نے فرمایا کہ میں طبیعت کو اس پر غالب نہیں ہونے دیتا، تو اگر اس پہ اثر نہ ہو تو پھر عقل صحیح فیصلہ کرے گی، کیونکہ اس نے قانون پڑھا ہوگا یا شریعت میں پڑھا ہوگا یا وہ جو بھی ہوگا، اس کے مطابق فیصلہ کرے گی اور بالکل صحیح فیصلہ کرے گی۔ اب اگر بات شریعت سے لی ہو یا قانون سے لی ہو، لیکن بنیاد عقل بن گئی ہو، مگر عقل کو اس پر غالب نہیں کرسکتے، ورنہ پھر معاملہ الٹا ہوجائے گا۔ لہٰذا طریقہ یہی ہے کہ طبیعت پر عقل کو غالب کرو، کیونکہ عقل اس کو control کرسکتی ہے اور عقل پر شریعت کو غالب کرو کہ شریعت عقل پر گالب ہوسکتی ہے، کیونکہ میری عقل پہ طبیعت غالب ہوسکتی ہے، لیکن شریعت پر نہیں ہوسکتی، کیونکہ شریعت تو مکمل ہو چکی ہے، جیسے اللہ کا فرمان ہے:

﴿اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ﴾ (المائدہ: 3)

ترجمہ1: ’’آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا، تم پر اپنی نعمت پوری کردی، اور تمہارے لئے اسلام کو دین کے طور پر (ہمیشہ کے لئے) پسند کرلیا‘‘۔

یعنی اسلام تو فائنل ہے، اس کو تو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا، اس وجہ سے یہ قانون بہت بہتر ہے، اس پر ان شاء اللہ! فائدہ ہوگا۔

سوال نمبر 27:

حضرت! ایک بات عرض کرنی تھی کہ جیسے انڈیا میں ہمارے اکابرین کی قبریں وغیرہ ہیں، اب پاکستان سے ایک delegation ہر سال جاتا ہے، تقریباً چھ delegation وزارت مذہبی امور والے جاتے ہیں، تو اگر نیت انڈیا کے سفر کی ہو، کیونکہ ویسے تو قبر پہ جانے کے لئے سفر کرنا جائز نہیں ہے، تو آیا کہ اس میں گنجائش نکلتی ہے کہ ہم لوگ جاسکتے ہیں؟

جواب:

دیکھیں! شَدِّ رِحَالِ والا معاملہ اس میں فِٹ نہیں ہوتا، وہ الگ چیز ہے۔ البتہ کسی کی سمجھ میں قصور ہو تو ان کے لئے یہ فتویٰ ٹھیک ہے، ان کو بچانے کے لئے روک سکتے ہیں، ورنہ شَدِّ رِحَالِ والے مسئلے کا تعلق مساجد کے ساتھ ہے، کیونکہ تین مساجد کا اس میں ذکر ہے اور مساجد کے مقابلہ میں مساجد ہوتی ہیں یعنی جنس جنس کے ساتھ ہوتی ہے، مثلاً دو ٹماٹر اور تین کیلے کتنے ہوتے ہیں؟ پانچ، مگر کیا پانچ؟ صرف تعداد پانچ ہوگی، مگر دو ٹماٹر ہوں گے اور تین کیلے ہوں گے، کیونکہ یہ بالکل الگ جنس ہے، ایسے ہی شَدِّ رِحَالِ والا مسئلہ الگ ہے۔ اس پر مولانا تقی عثمانی صاحب نے ’’درس بخاری‘‘ میں بہت اچھا کلام کیا ہے، حضرت نے یہی مثال دی ہے اور فرمایا کہ اس کا تعلق شَدِّ رِحَالِ سے نہیں ہے، ورنہ پھر تجارت کے لئے ہم جائیں گے تو شَدِّ رِحَالِ ہوجائے گا، علم کے لئے جائیں گے وہ بھی شَدِّ رِحَالِ ہوجائے گا۔ باقی نیت ایک مستقل الگ چیز ہے۔ البتہ یہ دیکھیں گے کہ قبور پر کس لئے جارہے ہیں، اس کا اپنا ایک domain ہے، اس میں دیکھیں گے کہ کس مقصد کے لئے جانا ٹھیک ہے، کس مقصد کے لئے جانا ٹھیک نہیں ہے۔ اس پر میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں کہ شاہ اسحاق رحمۃ اللہ علیہ جو ہمارے بزرگ ہیں، وہ اپنے کام سے پیران پیر جارہے تھے، اس علاقہ میں ان کے ایک شاگرد تھے، تو ان کو خطرہ ہوگیا کہ استاذ جی وغیرہ آئیں گے تو مسئلہ بن جائے گا، اس لئے انہوں نے خط بھیجا کہ حضرت! میں نے شَدِّ رِحَال والی یہاں بات شروع کی ہے اور کچھ فائدہ بھی ہوا ہے، لیکن اگر آپ تشریف لے گئے تو پھر میری ساری کوششوں پہ پانی پھر جائے گا، لہٰذا آپ ادھر نہ جائیں۔ تو حضرت نے جوابی خط لکھا کہ پیران پیر تو ہمارے بزرگ ہیں، میں تو وہاں ضرور جاؤں گا، البتہ آپ کا جو کام ہے، وہ بھی صحیح ہے، اس لئے میں آپ کے پاس ہی پھر آؤں گا اور آپ میرے سامنے میرا رد کرلیں کہ انہوں نے ٹھیک نہیں کیا، اگرچہ میرے استاذ ہیں، لیکن انہوں نے ٹھیک نہیں کیا۔ اور میں کہوں گا یہ صحیح کہتا ہے، اس طریقہ سے آپ کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا اور میرا بھی مسئلہ ہوجائے گا۔ کیونکہ محض اس مقصد کے لئے تو وہ جا نہیں رہے تھے، وہ تو صرف ادھر جا کے پھر وہاں جارہے تھے۔ جیسے میں لاہور اپنے کسی کام سے جاؤں اور پھر وہاں حضرت علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پہ حاضری دے دوں تو کیا ناجائز یا جائز ہے؟ جائز ہے۔


وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ


  1. ۔ (آسان ترجمہ قرآن از مفتی تقی عثمانی صاحب)

    نوٹ! تمام آیات کا ترجمہ آسان ترجمہ قرآن از مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم سے لیا گیا ہے۔

سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات - مجلسِ سوال و جواب - اشاعت اول