مسئلہ جبر و اختیار اور ہدایت و گمراہی کی قرآنی حقیقت
درس نمبر: 304، سورۃ الاعراف، آیات: 145 تا 147
حق بات کو جھٹلانے اور غرور کرنے والوں کا انجام
انسان کی نیت و کوشش اور اللہ تعالیٰ کی توفیق و قدرت کا فرق
ہاروت و ماروت کے واقعے سے آزمائش اور انسانی پسند کی وضاحت
دل کی کجی سے بچاؤ اور استقامت کی دعا
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ (145) سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ (146) وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (147)۔
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اور ہم نے ان کے لئے تختیوں میں ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی، (اور یہ حکم دیا کہ:) ”اب اس کو مضبوطی سے تھام لو، اور اپنی قوم کو حکم دو کہ اس کے بہترین احکام پر عمل کریں۔“ میں عنقریب تم کو نافرمانوں کا گھر دکھا دوں گا۔“﴿145﴾
حاشیہ: بظاہر اس سے مراد فلسطین کا علاقہ ہے جو اس وقت عمالقہ کے قبضے میں تھا، اور دکھانے سے مراد یہ ہے کہ وہ علاقہ بنی اسرائیل کے قبضے میں آجائے گا، جیسا کہ حضرت یوشع اور حضرت سموئیل علیہما السلام کے زمانے میں ہوا۔ بعض مفسرین نے ’نافرمانوں کے گھر‘ کا مطلب دوزخ بتایا ہے، اور مقصد یہ بیان کیا ہے کہ آخرت میں تمہیں نافرمانوں کا یہ انجام دکھا دیا جائے گا کہ جنہوں نے تم پر ظلم کئے تھے، وہ کس برے حال میں ہیں۔
ترجمہ: میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کو برگشتہ رکھوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں، اور وہ اگر ہر طرح کی نشانیاں دیکھ لیں، تو ان پر ایمان نہیں لائیں گے۔ اور اگر انہیں ہدایت کا سیدھا راستہ نظر آئے، تو اس کو اپنا طریقہ نہیں بنائیں گے، اور اگر گمراہی کا راستہ نظر آجائے تو اس کو اپنا طریقہ بنالیں گے۔ یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا، اور ان سے بالکل بے پروا ہوگئے ﴿146﴾ اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو اور آخرت کا سامنا کرنے کو جھٹلایا ہے، ان کے اعمال غارت ہوگئے ہیں۔ انہیں جو بدلہ دیا جائے گا، وہ کسی اور چیز کا نہیں، خود ان اعمال کا ہوگا جو وہ کرتے آئے تھے۔ ﴿147﴾
حاشیہ: اوپر جو یہ فرمایا گیا تھا کہ: ”میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کو برگشتہ رکھوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں“، اس سے کسی کو یہ شبہہ ہو سکتا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے خود ان کو اپنی نشانیوں سے برگشتہ کر دیا تو ان کا کیا قصور؟ اس شبہہ کو اس فقرے کے ذریعے دور فرمایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنے اختیار سے کفر پر اڑے رہنے کا راستہ اختیار کر لیتا ہے، تو ہم وہی راستہ اس کے لئے مقدر فرما دیتے ہیں جسے اس نے اپنی مرضی سے اختیار کیا۔ چونکہ وہ چاہتا ہی یہ تھا کہ ہماری نشانیوں سے برگشتہ رہے، اس لئے ہم اس کو اس کی خواہش کے خلاف کسی بات پر مجبور نہیں کرتے، بلکہ اسے اس کی خواہش کے مطابق برگشتہ ہی رکھتے ہیں۔ لہٰذا اس کو جو سزا ملتی ہے، وہ خود اپنے ہی عمل کی ملتی ہے جو وہ اپنے اختیار سے مسلسل کرتا آیا تھا۔
یہاں پر اصل میں جبر و اختیار والی بات مسلسل چلی آ رہی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ بہت سارے لوگ جو ہوتے ہیں۔ وہ اس پر اشکال کرتے ہیں کیونکہ قرآن پاک میں اس طرح بار بار آتا ہے۔ کہ ہم نے ان کو، مطلب ظاہر ہے، برگشتہ راستہ دکھا دیا، جو وہ کیا تھا ہم نے ان کو یہ کر دیا۔ تو اس پر لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ پاک کا فعل ہے، یہ تو انسان کا فعل نہیں ہے۔ حالانکہ بات یہ ہے کہ اللہ کا فعل بھی ہے اور انسان کا فعل بھی ہے۔ انسان کا فعل بطور کسب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا فعل بطور قدرت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ارادے کے ساتھ جب انسان اپنے بس میں جو اس کے ہے جو کچھ کرنا شروع کر لیتا ہے۔ تو اگر اللہ نہ چاہے تو کر نہیں سکتا۔ ظاہر ہے کیونکہ قدرت تو اللہ تعالیٰ کو ہے، اس کو تو نہیں ہے۔ تو اگر یہ مطلب چاہے گا بھی تو نہیں کر سکتا۔ لیکن جب یہ چاہتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس طرح کر لیتے ہیں۔ میں آپ کو اس کی ایک مثال دے دوں جو کہ میرے خیال میں بہت اس میں، قرآن میں ہی آیا ہے۔ ہاروت و ماروت والا واقعہ۔ کہ ہاروت و ماروت وہ لوگوں کو کہتے ہیں کہ ہم تو آزمائش ہیں۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے، کفر ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر وہ لوگ کہتے ہیں "نہیں ہمیں سکھا دو" تو پھر سکھا دیتے ہیں۔ آزمائش جو تھی۔ تو آزمائش تھی، تو اس طرح کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ منع فرماتے ہیں۔ یعنی ہاروت و ماروت گویا کہ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے تھے۔ اور وہ کام ظاہر ہو گیا جو اللہ کرتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ منع فرماتے ہیں، ہدایت یہی ہے۔ تو یہاں پھر یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم ان کو ہدایت کا راستہ دکھاتے ہیں تو اس کو نہیں مانتے۔ یعنی اب یہ بالکل ہی کھل کے بات آ گئی ہے، میرے خیال میں ہمیں اس کو نوٹ کرنا چاہیے۔ اس پر بہت اچھے یعنی وہ آیا ہوا ہے۔ کہ ہم اس کو جب ہدایت کا راستہ دکھاتے ہیں تو اس کو نہیں لیتے۔ اور جب گمراہی کا راستہ آتا ہے تو اس کو لے لیتے ہیں۔ یہ بالکل صاف وہ یعنی آیت کریمہ ہے۔ اور اس کو ہم لوگ، اس کو اچھی طرح وہ سمجھ لیں۔
وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ (146)
یہ جبر و اختیار کی تشریح کے لیے بہت ماشاء اللہ عمدہ مثال ہے آیت میں۔ کہ وہ یہ ہے کہ جس وقت ان کو نظر آتا ہے وہ ہدایت کا راستہ، تو یہ اس کو نہیں لیتے۔ اور جس وقت کوئی گمراہی کا راستہ دیکھ لے، تو اس کو لے لیتے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ان میں کجی ہے۔ اسی لیے وہ جو ہم دعا کرتے ہیں رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ۔ یہ دعا اسی مقصد کے لیے ہے کہ اگر اللہ پاک ہمیں ہدایت نصیب فرما دے، تو اس کے بعد پھر ہم لوگ کیا کریں، ہمارے دلوں کے اندر کجی نہ ہو۔ تو میرے خیال میں یہ آیت کریمہ اور یہ دعا اس کو ملا کے جب ہم پڑھتے ہیں، تو اس میں بہت سارے علوم منکشف ہو جاتے ہیں۔ اللہ جل شانہ ہمیں صحیح راستے پہ ڈالے اور اس سے جو صحیح مفہوم ہے اس کو لینے کی توفیق عطا فرما دے۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔